آئی اے رحمٰن: ایک روشن دماغ تھا، نہ رہا

کچھ منظر ہیں جن سے ایک نامکمل کہانی ترتیب پاتی ہے۔

سنہ 1980 ء کی دہائی کے آخری اور 1990 ء کے ابتدائی چند سال۔ ایک طالبعلم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے دفتر واقع گلبرگ میں بطور والنٹیر اپنا نام درج کروانے کے لئے فارم حاصل کرنے جاتا ہے۔ کچھ دنوں بعد کسی دوست سے ذکر ہونے پر اس کی خاطر فارم کے حصول کے لئے دو ایک بار پھر اسی دفتر میں جانا ہوتا ہے۔ نسبتاً بھاری جسامت اور متین چہرے والی ایک شخصیت اپنے میز پر بیٹھے ہمیشہ کچھ لکھتی یا کسی ضخیم رپورٹ کی ورق گردانی میں مصروف نظر آتی ہے۔

Read more

ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی: بن ٹھن کے کہاں چلے!

 ”بھئی یہ بندش کون سے راگ میں ہے؟ “  ”کون سی بندش، ڈاکٹر صاحب؟ “  ”بن ٹھن کے کہاں چلے! ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم نے گائی ہے۔ مدت ہوئی سنی تھی۔ اب یاد نہیں آرہا۔ آپ آئے تو خیال آیا کہ پوچھ لوں۔ آپ نے تو ضرور سنی ہوگی! “  ”نہیں سر، اتفاق سے میں نے یہ بندش نہیں سنی! آپ نے توجہ دلائی ہے تو کھوجتا ہوں۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ موسیقی سے اس قدر

Read more

پندرہ منٹ حضور، صرف پندرہ منٹ!

میراقصور کیا ہے حضور؟ دوسرے پروگراموں کے مقابلے میں اخراجات زیادہ کراتی ہوں اور نہ ہی وقت زیادہ مانگتی ہوں۔ ریڈیو پاکستان کے انہی سٹوڈیوز میں کبھی میرا دورانیہ اوسطاً ڈیڑھ سے دو گھنٹے روزانہ ہوا کرتا تھاجو 2003ء تک گھٹتے گھٹتے پندرہ منٹ تک آ چکا تھا اور وہ بھی باقاعدہ نہیں۔ جب بھی قومی نشریاتی رابطے پر کسی پروگرام یا کسی مذہبی تہوار کے لئے شیڈول سے وقت منہا کرنا مقصود ہوتا، تو نخل دار پر مجھ غریب

Read more

آصف صاحب!

اول اول کی محبت کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے، چاہے انسان سے ہو یا کتاب سے۔ انسان سے ہو تو معاملہ عموماً ً یوں ہوتا ہے کہ تیرا ہی تذکرہ کرے ہر شخص یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے لیکن محبت اگر کتاب سے ہو تو اسے پڑھنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے تبادلہ خیال کا موقع ملے جس نے یہ کتاب پڑھی ہو۔ عرصہ ہوا نوبل انعام یافتہ ادیب ہرمن ہیسے کی

Read more

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

لیہ سے واپسی پر شہر سے باہر نکلتے ہوئے اگرچہ گاڑی کی رفتار مناسب حد تک تیز تھی لیکن مسافر کو یوں لگا جیسے بائیں طرف والی دیوار پر کوئی مانوس نام نظر سے گزرا ہے۔ اس نے ڈرائیور کو گاڑی واپس موڑنے کا کہا اور رفتار قصداً ہلکی رکھائی تاکہ اندازہ ہو سکے کہ یہ کس عمارت کی دیوار تھی۔ محرابی انداز میں بنی اس طویل دیوار کے درمیانی حصوں کو اینٹوں سے پاٹ کر پلستر کر دیا گیا

Read more