آصف فرخی کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب آصف فرخی نے دنیا زاد کے نام سے سے ایک منفرد ادبی جریدے کا آغاز کیا تو جلد ہی اس کی خوش بو ادبی دنیا میں چار سو پھیل گئی۔ مجھ جیسے نو آموز لکھنے والے نے بھی ہمت کی اور ایک نظم جو کہ مشہور لوک فنکار علن فقیر کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں تحریر کی تھی دنیازاد کے لیے بھیجی۔

ایک روز کراچی میں، مبین مرزا کے آفس میں آصف فرخی سے ملاقات ہوئی انھوں نے دنیا زاد کا دوسرا تازہ شمارہ مجھے بہت محبت کے ساتھ پیش کیا اور یہ دیکھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کہ میری نظم ’علن فقیر کی یاد میں‘ کتاب تعزیت کے عنوان سے دنیازاد کی زینت بنی تھی۔ حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ آئندہ آنے والے کئی شماروں میں، میری غزلیں بھی شامل اشاعت کیں۔

آصف فرخی، ہمیشہ نئے اور نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور انھیں لکھنے کے ساتھ ساتھ جدید ادب پڑھنے کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔ جب انھوں نے ”شہر زاد“ کے نام سے اپنا پبلشنگ ہاؤس قائم کیا تو میں نے اپنے کالج کے لیے ان سے خصوصی رعایت پر بہت ساری کتابیں خریدیں۔ انھوں نے اپنے ادارے کی شائع کردہ کئی کتابیں مجھے تحفتاً بھی دیں۔ لیکن چند کتابوں کے بعد میں نے ان سے گزارش کی کہ میں خرید کر پڑھنا چاہتا ہوں جس پر وہ اور بھی خوش ہوئے۔

جب ہم دوستوں نے ”روایت“ کتابی سلسلہ کا آغاز کیا اور پہلی کتاب انھیں دینے ان کے گھر گیا تو روایت کے لیے انھوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور ہماری حوصلہ افزائی کے لیے اپنی کئی تحریریں جو مختلف ادیبوں کے انٹرویوز پر مشتمل تھیں عنایت فرمائیں۔

ان انٹرویوز کی اشاعت سے روایت کے اعتبار میں اضافی ہوا۔

آصف فرخی سے آخری ملاقات حبیب یونی ورسٹی میں ہوئی جہاں میں ان سے اپنے دوسرے شعری مجموعے ’پانی کا لمس‘ پر مضمون لکھنے کی درخواست کرنے کے لیے گیا تھا۔ وہ مجھے یونی ورسٹی کیفے ٹیریا لے گئے جہاں انھوں نے نہایت خوش ذائقہ کافی پلوائی۔ کتاب پر مضمون نہ لکھنے پر انھوں نے طبیعیت کی نا سازی کی بنا پر معذرت کی اور بتایا وہ ان دنوں ’شولڈر فرزون‘ میں مبتلا ہیں اور ان کی شوگر بھی آؤٹ آف کنٹرول ہے۔ وہ دیکھنے میں بھی خاصے کم زور لگ رہے تھے۔

یکم جون، سہ پہر تک ایک نارمل دن تھا۔ میں دیر سے سو کر اٹھا تھا کہ اچانک میرے سیل فون کی گھنٹی پر ماجد کا نام جگمگانے لگا۔ میں نے خوشی خوشی فون ریسیو کیا دوسری جانب سے قدرے گھبرائی ہوئی آواز میں ماجد نے پوچھا ایک بری خبر سنی ہے، آصف فرخی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ میں اور مصطفی ارباب واک پر نکلے ہوئے ہیں۔ تم تصدیق کر کے بتاؤ۔ میں نے فیس بک کھولی تو عقیل عباس جعفری اپنی وال پر اس خبر کی تصدیق کر رہے تھے۔

آصف فرخی کی اردو ادب کے کے لیے خدمات بے پناہ ہیں۔ وہ جتنے بڑے ادیب میں اتنے ہی بڑے انسان بھی تھے۔ اللہ تعالٰی انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آخر میں ایک نظم آصف فرخی کے لیے

تعزیتی نظم
(آصف فرخی کے لیے )
تالا بندی کا روزنامچہ لکھنے والا
اپنی تنہائی کے ہاتھوں مارا گیا
ایک کمرے کا سفر نامہ پڑھتے ہوئے
ہم اس کی اذیت کو
محسوس نہ کر سکے
اس نے
دنوں کا شمار کرنا چھوڑ دیا تھا
تنہائی بھرا ایک دن
اسے پوری زندگی پر محیط نظر آنے لگا تھا
وہ خود کو
چیخوف کی ایک کہانی کا کردار سمجھنے لگا تھا
وہ سوال کرتا ہے
” مجھے اس حال تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا،
کیا اس کے بھی انجام کا آغاز ہو رہا ہے ”
وہ مارکیز کے نام خط لکھ کر اپنی تنہائی کا مداوا کرتا ہے
لیکن اسے بھی کرنل کی طرح کوئی خط نہیں لکھتا
وہ عظیم ناولوں کا سبق دہراتا ہے
دنیا کے عظیم ادب کو پڑھتے ہوئے
ہم بھول جاتے ہیں
شہر میں ادبی میلوں کو سجانے والا
خود کلامی کی کس اذیت میں مبتلا ہے

Latest posts by محمد علی منظر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد علی منظر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *