شہید پائلٹ کے بستر پر بڑے بھائی کی ایک رات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

استاد نے اپنی چادر جھاڑی، کئی یادیں نکل کر باہر آپڑیں۔  وہ ان یادوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہتا تھا مگر یادیں بھاگ کر پھر واپس آجاتیں۔  اس نے سوچا یہ یادیں بھی کیا بومرنگ ہیں، جتنی زور سے دور پھینکو، اتنی تیزی سے واپس آجاتی ہیں۔  آسٹریلین مقامی لوگوں نے صدیوں پہلے لکڑی سے شکار کی خاطر یہ ہتھیار بنانا سیکھا تھا، ہوا میں گھومتا تیرتا جاتا ہے اور جانور کے سر پر لگتا ہے۔  کیا خوبصورت سادہ سا ہتھیار ہے، ایک خم دار لکڑی جس کی ایک سطح رگڑ کے ہموار کر دی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف کی سطح کو ایسے بنایا جاتا ہے کہ آہستہ سے ڈھلوان لیتی نیچے کو آتی ہے بعین جیسے کسی ہوائی جہاز کے پر کی اوپری جانب ہوتی ہے۔  بیس ہزار سال کا ہتھیار آج کے جہاز کا جدامجد کہا جاسکتا ہے۔  ایروفوائل ہوا میں اٹھتی، گھومتی، تیرتی، بیٹھتی شکار کرتی یا بے آواز واپس کو لوٹتی۔ استاد نے سوچا یاد بھی بومرنگ کی طرح گھوم کر آتی ہے ؛ بے آواز، ہوا میں تیرتی، دور جاتی نظر آتی اور پھر دائرے میں گھومتی واپس آجاتی ہے، بے آواز شکار کرتی، فرق صرف یہ ہے کہ یاد کا شکار کوئی اور نہیں بلکہ پھینکنے والا ہوتا ہے۔

پی آئی اے کا جہاز کراچی میں پچھلے ہفتے گرا اور مسافروں میں شامل جوان، خوب رو سکواڈرن لیڈر زین العارف خان کی تصویر سامنے آئی تو استاد کو تقریباً ایک دہائی قبل کا ایک نوعمر یاد آ گیا جسے اس نے پڑھایا تھا۔ کالج آف ایروناٹیکل انجینئرنگ کے ایک کمرہ جماعت میں استاد کھڑا تھا اور سامنے تراشیدہ بالوں، شیو شدہ چہروں، چمک دار آنکھوں کے ساتھ بیس کے قریب کیڈٹس بیٹھے تھے۔  استاد جانتا تھا کہ یہ سب ایک سفر کی کڑی ہیں۔

سفر، جس کی ایک کڑی وہ خود بھی تھا کہ پندرہ سال قبل وہ بھی اسی طرح کسی رنگ اترتے ڈیسک کے سامنے بیٹھا تھا۔ انہیں طالبعلموں میں زین العارف بھی تھا؛ لمبا قد، ذہین چہرہ، نازک چشمے کا فریم لگائے وہ درمیان کی قطار میں بیٹھا تھا۔ استاد کا اس کورس سے تعلق رہا کہ اس نے دو تین مضامین اس جماعت کو پڑھائے۔  اس جماعت میں مختلف پس منظر سے آئے طالبعلم تھے جن کے اطوار مختلف تھے۔  استاد کی یاد میں زین ایک نرم گو، خوب اطوار کا ذہین طالبعلم تھا جو بڑوں کا احترام کرنا جانتا تھا۔

اس کا لہجہ کراچی کا تعلق بتاتا تھا، اور اس کا طرزعمل نفاست کا رنگ دیتا تھا۔ استاد اور شاگرد اس مقام سے اپنے اپنے سفر کو چل نکلے۔  استاد سات سمندر پار ایک یونیورسٹی میں طالبعلموں کی ایک نئی نسل کو پڑھانے چل نکلا اور زین ایروناٹیکل انجینئرنگ مکمل کرکے اس سفر پر چل نکلا جس کا اختتام ماڈل کالونی کی ایک تنگ گلی میں ہوا۔ استاد کا ماڈل کالونی سے ایک تعلق رہا تھا، کسی زمانے میں ملیر کینٹ میں رہتا استاد ماڈل کالونی سے گزر کر آئی۔بی۔ اے کے صدر کیمپس میں پڑھنے جاتا تھا۔ وہ دور ایک دہشت کا دور تھا کہ بوری بند مسخ شدہ لاشیں روشنیوں کے شہر میں گمنام ملتی تھیں۔  ماڈل کالونی کی ایک گلی میں استاد کے موٹر سائیکل کو جب روکا گیا تھا، تو دہشت اس کے جسم میں برق کی مانند گزری تھی۔ وہی گلی یا اس کے آس پاس کی کسی گلی میں پی۔ آئی۔ اے کے گرتے جہاز کے مسافروں میں بھی در آئی دہشت کچھ ویسی ہی ہوگی۔

انٹرنیٹ پر استاد کی نظر سے زین العارف کا سبز پرچم میں لپٹا تابوت گزرا اور ایک یاد گھوم کر استاد کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ استاد ایروناٹیکل انجینیئر تھا اور اس کا چھوٹا بھائی پائلٹ تھا۔ آج سے اکیس سال قبل استاد نے اپنے بھائی کا پرچم میں لپٹا تابوت سپرد خاک کیا تھا؛ تابوت، بند تابوت جو سبز پرچم میں لپٹا تھا۔ تابوت جس کے تمام تختے کیلوں سے ٹھکے تھے اور اسے ایک وردی پہنے دستہ اٹھائے لایا تھا۔ گھر کے صحن میں ایک چارپائی پر وہ تابوت آدھے گھنٹے کے لیے رکھا گیا کہ ماں اور بہن اس تابوت پر ہاتھ پھیر لیں کہ یہی ان کا اپنے پیارے کو خداحافظ ہوگا۔ رخصت ہوتے کا چہرہ نہیں دیکھا جاسکتا تھا، ماں اس کے ماتھے کو چوم کر الوداع نہیں کہہ سکتی تھی، بہن آخری دفعہ نظر بھر کر بھائی کے چہرے کو محفوظ نہیں کر سکتی تھی، بڑا بھائی چھوٹے بھائی کی لاش سے بغلگیر نہیں ہو سکتا تھا کہ اڑتے جہاز زمین پر آئیں تو چہرے، ماتھے، جسم سب اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔

پرچم میں لپٹا تابوت بند پارسل کی مانند تھا، گھر پر ڈلیور کیا گیا اور آدھے گھنٹے بعد اگلی منزل کی جانب لے جایا گیا۔ قبرستان میں لیفٹیننٹ ضرار کو فوجی اعزاز سے دفن کیا گیا۔  ”دستہ ہوشیار، دستہ سلام فنگ، دستہ فائر“۔

اگلے ہفتے استاد اپنے بھائی کا ذاتی سامان لینے کراچی عازم سفر ہوا۔ شہید کا افسر ز میس کے بی۔ او۔ کیوز [بیچلزر آفسزر کواٹرز] کا کمرہ مقفل کر دیا گیا تھا۔ استاد نے درخواست کی کہ وہ گیسٹ روم میں نہیں ٹھہرے گا، وہ اسی کمرے میں ٹھہرنا چاہتا ہے جہاں سے اس کا چھوٹا بھائی اس صبح تیار ہو کر ہوابازی کے لیے گیا تھا۔ وہ صبح جو اس دوپہر میں ڈھلی جب اس کے بھائی کے اٹلانٹک جہاز کو بھارتی جنگی جہازوں نے میزائل مار کر تباہ کیا تھا۔ استاد کو کہا گیا کہ وہ یہ نہ کرے۔  استاد نے کہا کہ وہ ایک بند تابوت کو دفنا کر ایک لمبا سفر کرکے آیا ہے۔  وہ اپنے چھوٹے بھائی کا چہرہ نہیں دیکھ سکا، وہ آج رات اس بستر پر سونا چاہتا ہے جس پر اس کے بھائی نے اپنی زندگی کی آخری رات بسر کی تھی، شاید یہ چہرہ نہ دیکھنے کی تلافی ہو۔

وہ بند کمرہ استاد کے لیے کھول دیا گیا۔ استاد نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسے اکیلا چھوڑ دیا جائے۔

کمرے میں زمین پر گدا بچھا تھا کہ رزق خاک ہونے والے نے پہلے ہی بستر زمین پر کر لیا تھا۔ ایک طرف دروازے کی کھونٹی پر پائلٹ کا استری شدہ یونیفارم لٹکا تھا، پالش سے چمکتا جوتوں کا جوڑا ساتھ رکھا ہوا تھا۔ میز پر فریم شدہ والدہ کی تصویر رکھی تھی، جس کے ساتھ رخصت ہونے والے کی یونیفارم میں تصویر مسکرا رہی تھی۔ میز پر پرفیومز کی بوتلیں ترتیب سے لگی تھیں۔  الماری میں کپڑے تہہ شدہ پڑے تھے۔  کمرے کے اٹیچیڈ باتھ میں ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ ایک شیشے کے گلاس میں رکھے تھے، دھلا تولیہ اسٹینڈ پرلٹک رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 53 posts and counting.See all posts by atif-mansoor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *