آرزوئیں۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی
لیکن تب وہاں سربلندی کے سلسلے میں پیسوں اور مال و دولت نہ تھے بلکہ زیادہ تر پند و نصیحت تھی۔ میں اس سر بہ زیری کو ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ چنانچہ ایک بار بالوں میں لگانی والی پن ملی جو بی بی کے لیے مناسب تھی۔ اور ایک بار بالکل نئی نپل ملی جو میں نے ہمسائیوں کے بچے کو دی۔ وہ سب میرے بہت ممنون ہوئے۔
بہت عرصے تک سر بہ زیر رہا کہ بی بی نے میرے پیچھے لگ کر مجھے اس حالت سے نکال کر ’سر بہ ہوا‘ کیا۔
اس سے پچھلی رات کی بات تھی۔ میں اور بی بی صحن میں حوض کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ستاروں سے بھرے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ گاؤں میں رات کے وقت چھت پر لیٹے ہوئے، بی بی ستاروں میں سے میرے ستارے کی طرف اشارہ کر کے کہتی، ”مجید! یہ تمھارا ستارہ ہے۔ اچھی طرح سے دیکھتے رہے کہ کہیں گم نہ ہو جائے۔“
میں اپنے ستارے کی طرف دیکھتے دیکھتے سو جاتا۔ خواب میں دیکھتا کہ میرا ستارہ آسمان سے اتر کر نیچے آ گیا ہے۔ میں اس کے ساتھ کھیل رہا ہوں۔ ستارہ اخروٹ کی طرح کا ہے۔ وہ گھاس میں گم ہو گیا ہے۔ صبح جب میں بیدار ہوتا تو میں روتا اور اپنا ستارہ مانگتا۔ بی بی کہتی، ”تمھارا ستارہ آسمان میں واپس چلا گیا ہے۔ رات کو دوبارہ نظر آئے گا۔“
میں ستاروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ تاکہ ان میں سے اپنا ستارہ ڈھونڈوں۔ کرمان کا آسمان، ستاروں سے بھرا ہوا، پر نور تھا۔ بی بی نے کہا، ”مجید کبھی دن کے وقت بھی آسمان میں اپنا ستارہ ڈھونڈا ہے؟“
”مذاق کر رہی ہو بی بی۔ دن کی روشنی میں ستارہ کہاں نظر آتا ہے۔“
بی بی نے ہنس کر کہا، ”اگر اچھی طرح سے دیکھنے کی کوشش کرو گے تو دن کے وقت بھی اپنا ستارہ تلاش کر لو گے۔ ہر بڑا آدمی اپنا ستارہ خود تلاش کرتا ہے۔ کل صبح جب نان لینے جاؤ گے تو آسمان کی طرف دیکھتے رہنا۔ جب اسی تلاش کر لیا تو مجھے آ کر بتانا میں دیکھوں گی کہ تمھارا ستارہ بلند ہے یا نہیں۔ اگر ستارہ بلند ہوا تو خود ہی مالدار ہو جاؤ گے۔ دوبارہ پیسوں کے پیچھے یوں پھرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔“
اس طرح ہوا۔ اگلے دن سے میں اپنا ستارہ تلاش کرنے لگا۔ مالدار ہونے کی اس خواہش میں ’سر بہ ہوا‘ ہو گیا۔ گلیوں اور سڑکوں پر، گھر کے صحن میں ہر جگہ میرا دھیان آسمان کی طرف رہتا تاکہ اپنا ستارہ تلاش کروں۔ اپنا ستارہ ڈھونڈے کا شوق، جو بچپن میں تھا، دوبارہ بیدار ہو گیا۔
تقریباً ایک ہفتہ تک میں ستارے کی تلاش میں ’سر بہ ہوا‘ رہا۔ بی بی رات کے ستارے کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھی۔ سر بہ ہوا ہونے بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔ گلی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا۔ کبھی کبھی لوگوں کے ساتھ سینہ بہ سینہ بھی ہونا پڑتا۔ ٹکرانے پر معذرت کرنا پڑتی۔ کوئی بہانہ بنانا پڑتا۔ اور خود کو برا بھلا کہلوانا پڑتا۔ کئی بار پاؤں دوہرا ہوا اور دو تین روز لنگڑا کر چلنا پڑا۔ لیکن آسمان کی طرف دیکھنا اور ستارہ ڈھونڈنا نہ چھوڑا۔ مجھے ہر صورت ستارہ تلاش کرنا تھا۔ دوبارہ ہمسائیوں اور محلے والوں کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں کہ، ”بابا! اس بندے کا اوپر والا خانہ بالکل خالی ہے۔ ایک دن سر بہ زیر، اگلے دن سر بہ ہوا ہوتا ہے۔ نہ جانے کب یہ ’سر بہ راہ‘ ہو گا۔ عجیب بے وقوف بچہ ہے۔“
بی بی بھی پریشان ہو گئی لیکن وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتی تھی۔ وہ کہتی، ”جب تھک جائے گا تو چھوڑ دے گا۔ بڑا ہو کر خود ہی سمجھدار ہو جائے گا۔ تب سمجھ میں آئے گی مفت پیسے کہیں سے بھی نہیں ملا کرتے۔ تب آہستہ آہستہ ’سر بہ راہ‘ ہو جائے گا۔ میں کیا کر سکتی ہوں؟“
یہ سر بہ ہوا ہونا ایک طرف، مش اسد اللہ کی ناراضگی ایک طرف۔
جب میں سر بہ زیر تھا اور ستارے کو تلاش نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ خدا کی زمین پر پیسے تلاش کرتا پھرتا تھا تو میرے حواس قائم تھے۔ جب مش اسد اللہ کی دکان پر پہنچتا تو سلام اور احوال پرسی کرتا۔ دکان کے سامنے زمین کو اچھی طرح سے دیکھ کر آگے بڑھ جاتا۔ وہ اس خالی سلام دعا سے ہی بہت خوش تھا۔ کہتا، ”خدا تمھیں لمبی عمر دے۔ ساتھ ہی عقل بھی دے۔ اپنی بی بی کو میرا سلام کہنا اور بتانا کہ تمھارا حساب بڑھتا جا رہا ہے۔
” لیکن جب میں سر بہ ہوا ہو گیا تو مجھ اسے سلام کرنے کا خیال ہی نہیں تھا۔ میرے تمام حواس آسمان پر ستارہ تلاش کرنے میں مصروف ہوتے۔ مش اسد اللہ کو تاؤ چڑھ گیا۔ ہمیشہ جب اس سے ادھار پر چیزیں لیتے تھے تو ادھار پر چیزیں لینے والے گاہک پر یہ لازم تھا کہ دن میں کم از کم تین سے چار بار سلام دعا بھی کرے۔ چنانچہ جب میں سر بہ ہوا ہو کر سلام کرنا چھوڑا تو مش اسد اللہ کی طرف سے چیزیں ادھار دینے کا سلسلہ بند ہو گیا۔
اس نے کاغذ کے ایک صفحے پر کافی بڑا، لیکن بد صورت لکھائی میں لکھا۔ ’ادھار بند ہے۔ حتی کہ آپ کے لیے بھی!‘ اور دکان کے باہر دیوار پر لگا دیا۔ اگر وہ آسمان کے سینے پر چپکاتا تو میرے لیے اسے دیکھنا آسان ہوتا۔ اس نے بی بی سے بھی کہا کہ، ”آئندہ اس بے تربیت، سر بہ ہوا بچے کو میری دکان ہر نہیں بھیجنا کہ کہیں مجھے گھونسا مار کر اس کے دانت ہی برابر کرنے پڑ جائیں۔“
ہم آہستہ آہستہ بے چارے ہو چکے تھے یہاں تک کہ ایک روز دوپہر کے قریب سر بہ ہوا سے نجات حاصل کر کے میں سر بہ راہ ہو گیا۔
ہوا یوں کہ دوپہر کے وقت نان خریدا۔ اس کو کناروں سے توڑ توڑ کر کھاتے ہوئے میں گھر کی طرف آ رہا تھا۔ میں اسی طرح سر بہ آسمان، اپنے گمشدہ ستارے کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک آسمان پر ایک طرف، ایک بادل کا ٹکڑے کے ایک چھوٹی سی کم روشن چیز نظر آئی۔ وہ چنے کے دانے کے برابر تھی۔ بادل کا ٹکڑا اسے بس ڈھانپنے ہی والا تھا۔ میں خبردار ہو گیا کہ یہ ہو نہ ہو میرا گمشدہ ستارہ ہی ہے۔ میرا ستارہ! خوشی میں دل چاہا کہ ایک چھلانگ لگا کر اسے اپنی مٹھی میں دبوچ لوں اور گھر لے جا کر بی بی کو دکھاؤں۔ لیکن یہ کہاں ممکن تھا۔ ستارہ بہت دور تھا اور میرا قد چھوٹا۔ جتنی بھی کوشش کر کے اچھلتا، اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ میرا ہاتھ اس تک پہنچ پاتا۔ پھر میں نے وہیں خالی نان بغل میں دبوچ لیا۔
بہرحال، میں ستارے کی طرف ہی دیکھ رہا تھا اور کوشش کر رہا تھا کہ میرا دھیان کہیں دوسری چیز کی جانب نہ بھٹکے اور وہ ستارہ نظروں سے گم نہ ہو جائے۔ مزید یہ کہ اس بادل کا ٹکڑا اسے ڈھانپنے ہی والا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا کروں۔ اگر تیزی سے دوڑ کر گیا تو وہ نظروں سے گم ہو جائے گا اور اگر آہستہ آہستہ گیا تو بادل اس پر چھا جائے گا میں میں بی بی کو نہیں دکھا پاؤں گا۔ میں آسمان میں اس طرح پہنچا ہوا تھا کہ مجھے یہ بالکل ہی یاد نہ رہا کہ میں زمین پر خاک آلود اونچی نیچی اور کھڈوں والی گلی پر نان اٹھائے گھر کی طرف جا رہا ہوں۔ فقط اس بات کی طرف دھیان تھا کہ پاؤں اوپر اٹھا اٹھا کر چلوں تاکہ پاؤں کسی نوکیلے یا بڑے پتھر سے نہ ٹکرائے۔
اسی حالت میں چلتے ہوئے، ایک دفعہ میرا بایاں پاؤں کسی ایسی چیز میں جا پڑا جس میں پانی تھا۔ مزید یہ کہ وہ چیز میرے پاؤں میں پھنس چکی تھی اور میرے ساتھ ساتھ ہی آ رہی تھی۔ میں ستارے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ کہیں گم ہی نہ ہو جائے کہ ایک آدمی کی پاٹ دار آواز، مجھے اپنے پیچھے سے سنائی دی۔
”کیا تم اندھے ہو بچے؟“
اس کے ساتھ بہت زور کی ضربیں میری پاؤں، ٹانگوں اور کمر پر پڑیں۔ یہ ضربیں بہت شدید تھیں۔ جس سے میرے پاؤں اور کمر سن سے ہو گئے۔ لیکن میں نے کوئی توجہ نہ کی۔ میرا سر آسمان کی طرف تھا۔ میں ان معمولی مشکلات اور وقتی ناراحتی کے سبب اپنا ستارہ گم نہیں کرنا چاہتا تھا۔
لیکن یہ ضربیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ آخر میری ہمت جواب دے گئی اور میں نے ستارے سے، جسے میں بہت شوق و ذوق سے دیکھ رہا تھا، منہ موڑ کر زمین پر اپنے ارد گرد دیکھا تاکہ معلوم ہو کہ یہاں نیچے کیا افتاد پیش آئی ہے کہ مجھے اس قدر شدید ضربوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ جب میں آسمان کی طرف دیکھا رہا تھا اور میرا سارا دھیان ستارے کی طرف تھا، میرا پاؤں سیدھا اس تربوز کے آدھے حصے میں جا پڑا تھا جو ایک گداگر گلی کے کنارے بیٹھا مزے سے کھا رہا تھا۔ تو اب وہ موٹی گردن والا گداگر، انتقام پر اتر آیا تھا۔ وہ اپنی لاٹھی کی مدد سے حساب برابر کر رہا تھا اور آب دار اور سخت نامناسب گالیوں سے نواز رہا تھا۔
میں نے کہا، ”معاف کرنا بابا۔ مجھے پتا نہ چل سکا۔ میرا دھیان آسمان کی طرف تھا۔ میں نے دیکھا نہیں کہ میرا پاؤں آپ کے تربوز میں جا پڑا۔ مت مارو۔ غلطی ہو گئی۔“
گداگر کو میری حالت پر کچھ رحم آیا۔ اس نے اپنا ہاتھ روکا اور پوچھا، ”تم آسمان میں کیا ڈھونڈ رہے تھے؟ کبوتر پر اپنی نظریں جمائی ہوئی تھیں؟“
میرے بدن میں درد ہو رہا تھا۔ میں نے کہا، ”نہیں۔ میں نے اپنے ستارے پر نظریں جمائی ہوئی تھیں۔ میں نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔ لیکن جب تم نے میری کمر پر لاٹھی ماری تو گم کر بیٹھا ہوں۔“
میری بات اس کے پلے نہ پڑی۔ بولا، ”خدا تمھیں عقل دے۔ جاؤ اپنا کام کرو۔ بڑے ہو کر ایسی عقل کے ساتھ پتا نہیں کون کون سے کام کرو گے۔“
اس کی بات ہنسنے والی تھی۔ میں نے کہا، ”بالآخر خدا کریم ہے۔ میں اپنا سبق یاد کرتا ہوں۔ سکول جاتا ہوں۔ میں کوشش کر رہا ہوں کی آخر سرکاری ملازم لگ جاؤں۔ شعر کہتا ہوں۔ کہانیاں بھی لکھتا ہوں۔ تم کیا ہو؟ ایک عمر گداگری میں بتائی اور ان لوگوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہو جو اپنا ستارہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔“
میری بات سن کر گداگر وہاں سے ہٹ گیا۔
میں نے مڑ کر آدھے تربوز کی طرف دیکھا۔ میرا پاؤں تربوز کے ٹھیک درمیان میں پھنسا ہوا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

