آرزوئیں۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

تحریر: ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی
ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے بارے میں ہے۔
—————-
ایک وقت تھا کہ میں بہت ’سر بہ زیر‘ رہتا تھا۔ گلیوں اور سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے اگر کوئی اونٹ بھی اپنی بڑی جسامت کے ساتھ، میرے قریب سے گزرتا تو میری آنکھیں اسے نہ دیکھ پاتی تھیں کیوں کہ میرا سر جھکا ہوا ہوتا تھا۔ جب میں گھر پہنچتا تو گردن کے پچھلی جانب کی رگیں اکڑ چکیں ہوتیں اور ان میں درد ہونے لگتا۔ میں گردن کی اچھی طرح سے مالش کرتا تاکہ رگوں میں خون گردش کرے اور گردن کو تھوڑا دائیں بائیں کر سکوں۔
بی بی نے بہت سمجھایا، اس بارے میں کتنی نصحیتیں کیں۔ کس قدر ملامت اور سرزنش کی تھی لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے یہ کام نہ چھوڑا۔ عادت ہو چکی تھی کہ سر جھکاؤ اور راہ چلتے وقت ایک سے ڈیڑھ میٹر سے زیادہ دور نہ دیکھو۔ بعض لوگوں نے مجھے جب اس حالت میں دیکھا تھا تو انہیں میری اس حالت پر بہت رحم آیا۔ انھوں نے سمجھا کہ میری نظر کمزور ہو چکی ہے۔ بی بی کو اس بارے میں فکر کرنی چاہیے۔ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔
جو مجھے نظر تیز کرنے کی دوا دے یا پھر عینک لگائے اور اس طرح کے دوسرے کام۔ لیکن بی بی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس سب کا آنکھوں کی روشنی کی کمی بیشی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس نے ان باتوں کی طرف بالکل دھیان نہ دیا۔ کچھ عورتوں اور ہمسائے میں رہنے والی لڑکیوں کا خیال تھا کہ میں بہت شرمیلا ہوں اور اسی وجہ سے میں سر کو اوپر نہیں اٹھاتا ہوا تاکہ خدا نخواستہ میری نظریں کسی نامحرم کی نظروں سے دوچار نہ ہو جائیں اور یوں میں شرم کے مارے پسینہ پسینہ نہ ہو جاؤں۔
لیکن یہ سب ان پڑھ لوگ تھے۔ نہ میں شرمیلا تھا اور نہ میری آنکھوں کی نظر، خدا کا شکر ہے، کمزور تھی۔ یہ مجھے معلوم تھا کہ یہ مرض ہے کیا یا پھر خدا کو۔ میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی تھی یہاں تک کہ ایک روز اسی طرح ’سر بہ زیر‘ ہوا زمین کو ہر جگہ سے دیکھتا جا رہا تھا۔ میرا سارا دھیان گلی کے کھڈوں اور کونوں کھدروں کی طرف تھا کہ اچانک، خدا برے دنوں سے بچائے، ایک گھوڑا گاڑی سامنے سے آ رہی تھی۔ گھوڑا بالکل سیدھا میرے سینے کی طرف اور اس کے پیچھے ریڑھا۔
اس کے ساتھ کوئی آدمی نہیں تھا۔ جب گھوڑا مجھ سے ایک قدم کے فاصلے پر پہنچا تو اس کی شبیہ کی ایک جھلک پڑی۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ اب کون سا حادثہ ہونے والا ہے۔ اس سے پہلے کے میں خود کو بچانے کی کوشش کرتا، میری پیشانی گھوڑے کے سینے سے ٹکرائی اور میں گلی کے ایک جانب جا گرا۔ اگر اس کے پاؤں کے نیچے یا ریڑھے کے ٹائروں کے نیچے گرا ہوتا تو پھر مجید کی کچھ خبر نہ ہوتی اور نہ ہی یہ قصہ سنانے والا کوئی ہوتا۔
بہرحال، میں گلی کے کنارے پر گرا اور یہ گھوڑا گاڑی میرے قریب سے تیزی سے گزری۔ میں بہت بری طرح سے گرا تھا۔ ڈرا ہوا تھا۔ میرا سر اور بدن کی ہڈیاں درد سے دکھ رہی تھیں۔ خدا کی کرنی کہ دو تین محلے والے پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنی گردنیں میری بازوؤں کے نیچے حائل کیں اور پھر مجھے پکڑ کر بی بی کے سامنے لے گئے۔ بی بی نے مجھے جب اس حال میں دیکھا تو ڈر گئی۔ میری جانب لپکی۔ میرے ہاتھ پاؤں، گردن سر اچھی طرح سے دیکھے۔
پھر اچھی طرح اطمینان کرنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ میری حالت ہرگز نازک نہیں ہے اور میں زندہ ہوں۔ ایک پر سکون سانس لیا۔ سمجھ گئی کے یہ وہی سر بہ زیر ہونے کی وجہ سے ہی ہوا ہے تو شروع ہو گئی نصیحت ملامت کرنا اور رونا پیٹنا کہ، ”اپنے آپ پر رحم کیوں نہیں کرتے ہو؟ آخر ایک دن خود ہی اپنا کام تمام کر بیٹھو گے۔“
بی بی مجھے نصیحت کر رہی تھی اور ابھی ملامت کرنا شروع نہیں کیا تھا کہ میری حالت خراب ہو گئی۔ شاید درد یا ڈر کی شدت سے، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ مجھے فقط یہ معلوم ہے کہ میری حالت خراب ہو گئی اور میرا بدن لرزنے لگا۔ بالکل بید کی مانند۔ وہیں صحن کی دیوار کے قریب ہی میں زمین پر بیٹھ گیا۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی اور کہا، ”بی بی میں جانے والا ہوں۔ میری حالت ٹھیک نہیں۔ نصیحت نہ کرو۔ میری حالت کے بارے میں فکر کرو۔“
بیچاری نے، خدا اس کی مغفرت فرمائے، نصیحت کرنا چھوڑا اور تیزی کے ساتھ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کمرے میں لے گئی۔ کمرے میں جا کر میں لیٹ گیا۔ بی بی نے میرے سر کے نیچے تکیہ رکھا۔ پھر وہ شربت بنانے چلی گئی۔ رضا و رغبت کے ساتھ دو گلاس شربت پینے سے میری حالت کچھ بہتر ہوئی۔ پھر بی بی، اسفند لائی اور میرے سر کے گرد گھما کر دعا کی اور اسے آگ میں ڈال دیا۔ جیسے ہی اسفند کو آگ میں پھینکا تو لمبے لمبے شعلے بلند ہوئے۔
”مجید کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تم ایسے کس وجہ سے ہو گئے ہو؟ راستے میں چلتے ہوئے کیوں سر اتنا جھکا لیتے ہو کہ اس طرح کے حادثے تمھارے ساتھ ہونے لگے ہیں؟“
میں نے روتے ہوئے کہا، ”بی بی! اگر میری جگہ تم ہوتی تو خود کو، مجھ سے زیادہ، اس بات پر مجبور کرتی کہ زمین پر سے نظریں نہ اٹھائی جائیں۔ میں خود اس حالت سے تنگ ہوں اور اب تھک چکا ہوں۔ لیکن کیا کروں؟ اصل میں اس بارے میں بات نہ کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔“
میری اس بات سے بی بی کو یہ جاننے کی خواہش زیادہ ہوئی کہ وہ کون سی بلا میرے سر نازل ہوئے ہے کہ میں اس طرح سر بہ زیر ہو چکا ہوں۔ وہ آ کر میرے قریب بیٹھ گئی۔ میرے ہاتھوں کو اپنے دبلے پتلے، لرزتے ہاتھوں میں پکڑا۔ اس کے ہاتھوں کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ پھر میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ منہ میں جمع شدہ تھوک نگل کر کہا:
”مجھے بتاؤ۔ پتا تو چلے کہ ایسا کیا ہوا ہے۔ اگر تم نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہ کی تو پھر کس کے سامنے کرو گے۔ میں نے تمھیں پالا پوسا ہے۔ بڑا کر کے یہاں تک پہنچایا ہے۔ میں یہ نہیں دیکھ سکتی کہ تم پریشان ہو اور اس بارے میں کسی کو بتاؤ بھی نہ۔ میری جان۔ بتاؤ تاکہ پتا تو چلے کہ کیا ہوا ہے،“
بات کرتے ہوئے بی بی کا دل بھر آیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ التماس کرتے ہوئے کہا، ”بتاؤ بھی کہ کیا ہوا ہے۔ کیوں گلیوں اور سڑکوں پر چلتے وقت زمیں پر سے نظریں نہیں اٹھاتے ہو۔ سر کو اوپر کیوں نہیں اٹھاتے ہو؟“
حقیقت تو یہ ہے کہ میرا دل اس کے کباب ہو گیا۔ اس بار میں نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر کہا، ”جب میں یہ بات بتانے لگوں تو میرے چہرے کی طرف مت دیکھنا۔ دیوار کی طرف دیکھنا مجھے شرم آ رہی ہے۔“
کہا، ”ٹھیک ہے۔ تم بات بتاؤ۔ کچھ اپنے من کا بوجھ ہلکا کرو۔“
میں نے اپنا سر اوپر اٹھا لیا تاکہ میری نظریں بی بی کی نظروں سے نہ ٹکرائیں۔ چھت کو دیکھتے ہوئے کہا، ”یاد ہے بی بی، تقریباً ایک مہینہ پہلے میں دوپہر کے وقت کھانا کھانے کے لئے گھر نہیں آیا تھا؟“
”ہاں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔“
میں نے کہا، ”اس روز سکول سے لوٹتے وقت۔ گلی کی شروع میں ہی، ابھی مش اسد اللہ کی دکان تک نہیں پہنچا تھا کہ اچانک میری نظر ایک تومان والے ایک نوٹ پر پڑی۔ بالکل میرے پاؤں کے قریب پڑا تھا۔ اسے میں نے اٹھا لیا۔ تمھیں اس بارے میں نہ بتایا۔ مجھے ڈر تھا کہ تم ڈانٹو گی۔ میں بازار گیا۔ میں کتاب خریدنا چاہتا تھا۔ وہ مہنگی تھی۔ جو کتاب میں خریدنا چاہتا تھا وہ پچیس ’قران‘ کی تھی۔ میں نے بھی ضد میں کوئی دوسری کتاب نہیں خریدی۔ کتابوں کی دکان سے باہر آیا۔ نان اور کباب کھائے تین قران بچ گئے تو ان کا تلوں والا حلوہ، کھجوریں اور کشمش خرید کر کھائی لی۔ تم نے دیکھا تھا کہ میرے چہرے پر گرمی سے دانے نکل آئے تھے۔ یہ انھی کھجوروں، کشمش اور حلوا کھانے کا نتیجہ تھا۔“
میں بات کر رہا تھا اور بی بی پلکیں جھپکائے بغیر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنا بند ہو چکے تھے۔ وہ اس طرح مجھے دیکھ رہی تھی کہ قریب تھا میرا پتہ پانی ہو جاتا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، ”ابھی وہ حقے کی نلی اٹھا کر میری جان کے درپے ہو گی۔“
لیکن اس نے حوصلہ کیا اور یہ کام شروع نہ کیا۔ بولی، ”اچھا۔ تو یہ دانے جو تمھارے چہرے پر نکل آئے تھے۔ ان کی شرمندگی کی وجہ سے تم اپنا سر اوپر نہیں اٹھاتے ہو؟“
میں نے کہا، ”نہیں بی بی۔ اصل وجہ وہی ایک تومان تھا جس سے میرا کام بن گیا تھا۔ اب جب بھی گلی میں سے گزرتا ہوں تو یہ خیال آتا ہے کہ مفت پیسے میرے پاؤں کے قریب پڑے ہیں۔ میں یہ نہیں کر سکتا۔ میرا دل راضی نہیں ہوتا کہ اتنی آسانی کے ساتھ گلیوں اور سڑکوں پر سے گزر جاؤں۔ مجھے اس ایک تومان کا مزہ معلوم ہو گیا ہے۔ ’پیسوں کا مزہ جب بھی کسی آدم زاد کو معلوم ہو جاتا ہے تو اتنی آسانی سے اس سب سے باہر نہیں نکل سکتا یہاں تک کہ وہ بالکل بے چارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔‘ تم نے یہی بات کئی سو بار کہی ہے۔ کیا نہیں کہی؟“
بی بی نے سر ہلایا اور کہا، ”یوں کہو کہ مفت خورے بن گئے ہو۔“
میں نے کہا، ”ہاں تمھاری یہ بات درست ہے کہ میں مفت خورہ ہو کر ’سر بہ زیر‘ ہو گیا ہوں۔“
بی بی نے پھر نصیحت کرنا شروع ہو گئی، ”مجید ہمیشہ گلی میں پیسے نہیں پڑے ہوتے ہیں۔ جو ایک بار مل گئے تو وہ ایک اتفاق تھا۔ اور ہاں ٹھیک تو یہ تھا کہ تمھیں اس کے مالک کو ڈھونڈ کر اس کے پیسے واپس کرنے چاہیے تھے۔“
وہ اسی طرح کی باتیں اور نصیحتیں کرنے لگی۔ میرے دل پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ ان کا کوئی فائدہ بھی نہیں تھا۔ کیوں کہ مجھ پر نصیحت سے زیادہ پیسوں کا اثر ہو چکا تھا۔
بہرحال، سر بہ زیر رہنا جاری رہا۔ جب کبھی بھی کوئی اعتراض کرتا تو میں کہتا، ”میرا کسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ میرا سر نیچے ہے اگر پیسے نظر میں آئے تو مل جائیں گے۔ اگر نہ ملے تو کسی سے کوئی جھگڑا نہیں۔ دراصل قدیم کہاوت ہے جویندہ یابندہ است۔“
لیکن بی بی اور ہمارے ہمسائے اس بات کو جانے نہیں دے رہے تھے، انھوں نے میرے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ہمسایوں کی عورتیں میری پیٹھ پیچھے باتیں کرتی۔ جس سے بی بی غصے ہو جاتی۔ جب کبھی بھی کسی کی کوئی چیز گم ہوتی، وہ سیدھا ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر فریاد کرنا شروع کرتا کہ مجید کو ہمارے پیسے ملے ہیں۔ بالآخر بی بی اور کچھ ہمسائیاں بیٹھیں۔ صلاح مشورہ کیا تاکہ مجھے اس بدبختی یعنی سر بہ زیر سے نجات دلوا کر ’سر بلند‘ کریں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

