آرزوئیں۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی


میں نے کہا، ”قبول ہے۔ اگر تار اچھا ہوا اور ٹھیک طرح سے کام کرتا ہوا تو کوئی بات نہیں۔“

بہرحال، ہزار طرح کے معرکے اور بھاؤ تاؤ کر کے بالآخر اٹھائیس تومان دیے اور بجنے والے ایک مناسب اور بڑے تار کو خرید لیا۔ اٹھایا اور گھر کی طرف چل دیا۔ راستے میں پارچہ فروش کی دکان پر رک کر بی بی کی قمیص کے لیے کپڑا خریدا۔ اور پھر، پانچ تومان کے آلو اور تین تومان کے پیاز خریدے۔ ایک بوری میں ڈالے اور ایک حمال کو دیے کہ اٹھا کر ہمارے گھر تک چلے۔ واپسی پر ایک ڈبہ مٹھائی خریدی تاکہ یہ خریداری مبارک ہو۔ اب دو تومان اور اس سے کچھ اوپر رقم ہی باقی رہ گئی تو گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ میں ان دو تومان کی اگلے دن ایک کتاب خریدنا چاہتا تھا۔

بغل میں تار، مٹھائی کا ڈبہ اور قمیص کا کپڑا ہاتھ میں لیے اپنی گلی میں پہنچا۔ حمال میرے پیچھے پیچھے آلو اور پیاز والی بوری لا رہا تھا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ بی بی آلو پیاز اور دیگر چیزوں کی خریداری کی بابت خوش ہو گی۔

گلی کے کونے سے بی بی نظر آئی جو سر جھکائے گھر کی طرف جا رہی تھی۔ سورج بالکل غروب ہونے والا تھا۔ مجھے لگا شاید بی بی خود نان خرید کر ابھی لوٹ رہی ہے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا،

”وہ لازمی مجھ سے جھگڑے گی کہ نان خریدنے جانے کے لئے میں گھر پر کیوں موجود نہیں تھا۔ لیکن جب اس کی نظریں تار، مٹھائی اور باقی مال و اسباب پر پڑیں گی تو وہ خوش ہو گی اور جھگڑنے سے ٹل جائے گی۔

میں بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر داخل ہوا۔ مٹھائی اور کپڑے کو راہداری میں دروازے کیے پاس رکھا۔ تاکہ میرے ہاتھ اور بازو فارغ ہوں اور تار بجاؤں۔ تار کی آواز کے ہمراہ، پیاز اور آلو کی بوری کے ساتھ کمرے میں داخل ہوں۔ بوڑھا حمال ابھی تک گلی میں ہی تھا اور آہستہ آہستہ چل کے آ رہا تھا۔ میں نے اس کا تھوڑا انتظار کیا۔ بی بی کمرے میں تھی۔ تار کو اٹھا کر، حمال کے آگے آگے چلتے ہوئے اسے بجانا اور ساتھ ہی گانا شروع کر دیا۔

صحن میں سے گزر کر دروازے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ میں تار بجا رہا تھا اور گا رہا تھا اسی حالت میں میں نے بی بی کی طرف دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ بی بی کمرے میں ایک طرف سے دوسری طرف آ اور جا رہی ہے۔ سر کو جھکایا ہوا ہے۔ اپنے آپ سے بائیں کر رہی تھی۔ تار کی آواز کی وجہ سے میں اس کی آواز نہیں سن پا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ رو رہی ہے اور برسات کی طرح آنسوؤں کی ایک مسلسل جھڑی آنکھوں سے بہہ رہی ہے۔ اس کا رونا کوئی عجیب بات نہیں تھی۔ جب وہ فوت ہو چکے لوگوں کو یاد کرتی تو رونے لگتی اور میں اسے ہنسانے کی کوشش کرتا تھا۔ ابھی بھی میں نے یہی کام کیا۔ اسے خوش کرنے کے لئے، جوتے اتارے۔ تارے بجاتے اور گاتے ہوئے آگے بڑھا۔

اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے نہ میری طرف دیکھا اور نہ ہی ہنسی۔ فقط سر اوپر اٹھایا اور کہا، ”بس کرو مجید۔ یہ کیا کام کر رہے ہو؟ یہ تار کس کا ہے؟“

میں نے دیکھا کہ بی بی خوش نہیں ہے۔ کانپ رہی ہے اور اس کے چہرے کا رنگ اترا ہوا ہے۔ میں نے تار بجانا اور گانا بند کرتے ہوئے پوچھا، ”بی بی! کیا بات ہے؟ کیا ہوا؟“

”مجید تم نے رومال تو نہیں دیکھا جس میں پیسے تھے؟“
”ہاں دیکھا ہے۔ مگر کیا ہوا ہے؟“
ایک بار اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ کہا، ”کدھر۔ ۔ ۔ کہاں ہے؟ کہاں تھا؟“
”گلی میں تھا۔ دروازے کے قریب گرا تھا۔ میں نے اٹھا لیا تھا۔“
”خدا کا لاکھ شکر ہے کہ تم نے ڈھونڈ لیا۔ مال حلال تھا۔ ہمارا ہی تھا۔“
تعجب سے میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ میں نے کہا، ”تمھارا تھا۔ وہ پیسے تمھارے تھے بی بی؟“

”ہاں۔ تمہارے ماموں نے بھیجے تھے کہ ہم ادھر ادھر سے لیے گئے قرض کو واپس کریں۔ گھر آتے وقت میں گم کر بیٹھی تھی۔ تم اتنے سوال کیوں پوچھ رہے ہو۔ مجھے وہ پیسے دو۔“

میرے سر پر کئی گھڑے ٹھنڈا پانی پڑ گیا۔ فوراً خود کو تھوڑا جھنجھوڑا۔ تار کو دیوار کے ساتھ رکھا۔ بی بی کی طرف دیکھا۔ بی بی اپنا کانپتا ہوا ہاتھ میری طرف بڑھائے کھڑی تھی۔ پیسے مانگ رہی تھی۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ دو تومان اور کچھ اوپر جو میرے پاس بقایا بچے تھے، نکالے اور کہا، ”یہ لو بی بی۔ یہ ان کا بقایا ہے۔ اتنے ہی باقی بچے ہے۔ یہ باقی تمھارے ہوئے۔“

”بقایا کیا مطلب؟ مذاق نہ کرو۔“

بوڑھا حمال، پیاز اور آلو کی بوری صحن میں رکھ چکا تھا اور ان کے پاس ہی بیٹھا ہوا اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اس نے اونچی آواز میں کہا، ”کوئی اور کام؟ یہ رہا تمھارا سامان۔ خدا حافظ۔“

میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ اپنی مزدوری پہلے ہی لے چکا تھا۔ چلا گیا۔ میں نے بی بی سے کہا، ”بی بی، سردیوں کے لئے آلو پیاز اور تمھاری قمیص کے لئے کپڑا خریدا ہے۔ مٹھائی بھی خریدی ہے۔ یہ تار بھی خریدا ہے۔ تاکہ جب ہم بیٹھا کریں گے تو میں تار بجایا کروں گا اور تم تفریح کرنا۔ خدا گواہ ہے مجھے اس بات کی بالکل خبر نہیں تھی کہ وہ تمھارے پیسے ہیں۔ اب میں کیا کروں؟“

پھر میں باہر کی طرف بھاگا۔ مٹھائی کا ڈبہ اور کپڑا لے کر کمرے میں آیا۔ بی بی تار کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ کچھ بول نہیں رہی تھی بلکہ بالکل ساکت میری طرف دیکھ رہے تھی۔ غصے اور صدمے سے اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح جل رہی تھیں۔

میں نے بہت با ادب طریقے سے کپڑا اس کے سامنے رکھا۔ مٹھائی کا ڈبہ کھولا اور کہا، ”یہ لو۔ منہ میٹھا کر لو۔ یقین کرو مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔ انشاءاللہ بخش دو گی۔“

بی بی نے مٹھائی نہ کھائی۔ بلکہ اس کی طرف ہاتھ بھی نہ بڑھایا۔ سخت شرمندگی میں مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کی کیا کروں۔ میں نے جھک کر اس کے ہاتھ کو چوما اور کہا، ”بتاؤ۔ مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟“ انسان کو مصیبت میں صبر کرنا چاہیے۔ خدا صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

بی بی نے رونا شروع کر دیا۔

”اب مت رو۔ کیوں رو رہی ہو؟“ میں اس کے قریب بیٹھ گیا۔ تار کی نرم آواز بلند ہوئی رو میرا رونا رک گیا۔ مٹھائی کا ڈبہ اور قمیص کا کپڑا بی بی کے پاس پڑا تھا۔ صحن کی طرف دیکھا، آلو اور پیاز کی بوری دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔

میں نے تار کی نالہ کے ساتھ کہا، ”اب بہتر ہو گیا ہے کہ آلو اور پیاز خریدے ہیں۔ بالآخر ان کی واقعی ضرورت تھی۔“

بی بی نے کوئی جواب نہ دیا۔ بلکہ میرے ساتھ کوئی بات نہ کی۔ میں تار بجا رہا تھا۔ اچانک بی بی نے چیختے ہوئے کہا، ”نہ بجا۔ اس زر زر کے شور کو بند کر۔ بے انصاف!“

پھر تار کی پشت کو زور سے پکڑ کر بولی، ”یہ کس سے خریدا ہے؟“
میں نے ساری بات بتائی۔
اس نے کہا، ”اٹھو۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ جا کر واپس کر آؤ اور اپنے پیسے واپس لے آؤ۔“
”بی بی میں نے قول دیا ہے کہ تار واپس نہیں کروں گا۔“

وہ اٹھی۔ چادر اوڑھی۔ تار مجھ سے پکڑ لیا۔ میرا ہاتھ کھینچا۔ ایک مکا میرے پہلو میں مارا اور کہا، ”اٹھو چلیں۔“

اب کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں چل پڑا۔ راستے میں بی بی سے کہا، ”میں تار فروش کی دکان میں نہیں جاؤں گا۔ باہر سے دکھاؤں گا۔ تم اندر جا کر واپس کر آنا۔“

تار فروش کی دکان کے قریب پہنچ کر ہم تھوڑا دوڑے۔ فضا تاریک ہو چکی تھی۔ ہم تیز تیز چل رہے تھے کہ کہیں تار فروش اپنی دکان بند ہی نہ کر بیٹھے۔ دکان سے تقریباً پانچ سو قدم کی دوری میں نے تار بی بی کو پکڑایا اور کہا، ”یہیں رکوں گا۔ تم تار لے جاؤ اور اٹھائیس تومان واپس لے لینا۔ اگر نہ دے تو اس میں میرے کوئی غلطی نہیں ہے۔“

اس نے بہت التجا کی منت سماجت کہ لیکن میں اس کے ساتھ نہ گیا۔ بیچاری نے کہا، ”میں بوڑھی عورت، باخدا اور عزت دار، کس طرح یہ تار اٹھا کر ان تام لوگوں کے سامنے سے گزروں؟“

”جاؤ۔ خجالت محسوس نہ کرو۔ رات ہے۔ فضا تاریک ہو چکی ہے۔ کوئی تمھیں نہیں دیکھے گا۔“

وہ مزید مزاحم نہ ہوئی۔ تار کو اپنی چادر کے نیچے چھپایا۔ تار کا گول سرا چادر کے نیچے سے نظر آ رہا تھا۔ وہ چلی گئی اور میں دور سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔ میں سہما اور ڈرا ہوا تھا۔ مجھے یہ ڈر تھا کہ وہ تار واپس نہ لے گا۔ بی بی تار فروش کی دکان کے اندر گئی۔ میں نے بہت انتظار کیا۔ درخت کے پیچھے، سڑک کے کنارے کھڑا رہا ور دکان کی طرف دیکھتا رہا۔ بی بی دکان سے باہر نہیں آئی تھی۔ میں غصے میں درخت کے تنے کو مکے مارنے لگا۔ مکے گنے سینتیس تھے۔ ہاتھ درد کرنے لگے تھے کہ دیکھا بی بی باہر آئی۔ تار اس کے ہمراہ نہیں تھا۔

وہ دور سے آ رہی تھی۔ سر نیچے جھکایا ہوا تھا۔ شاید رو رہی تھی۔ میں نے اپنا سر درخت کے پیچھے چھپا لیا۔ اپنا ماتھا اس کے تنے سے لگا لیا۔ درخت کی چھال ٹھنڈی تھی۔

بی بی جب نزدیک پہنچی تو میں دوڑنے لگا۔
میں آگے آگے دوڑ رہا تھا اور بی بی میرے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4