آرزوئیں۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی
اچانک مجھے یاد آیا کہ وہ نان جو میں تھوڑا تھوڑا کر کے کھا رہا تھا وہ اب بغل میں نہیں ہے۔ میں پیچھے مڑا اور اسے ادھر ادھر تلاش کیا۔ لاٹھی کی ضربیں کھاتے وقت، جب میری نظر ستارے پر تھی، نان میرے بازو کے نیچے سے نکل کر گر پڑا تھا۔ میں نے جھک کر نان اٹھایا اور جھاڑ کر اسے چوما۔ میری کمر، پاؤں اور گردن کی پشت پہ بہت جلن ہو رہی تھی اور دھک دھک ہو رہی تھی۔ میں نے گداگر کو مزید کچھ کہے بغیر اپنے رستے پر چلنے لگا۔ ستارے کے طرف دیکھنے کا دوبارہ خیال آیا۔ آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارہ اب وہاں نہیں تھا۔ بادل کے نیچے آ کر گم ہو گیا تھا۔
میں جتنا آگے بڑھا کمر اور پاؤں میں درد بھی اتنا ہی بڑھتا گیا۔ جب وہ خر گردن گداگر مجھے مار رہا تھا، تب جسم گرم ہونے پر مجھے محسوس نہیں ہوا۔ لیکن جیسے ہی وہ کیفیت ختم ہوئی تو جلن زیادہ ہونے لگی۔ اگر بی بی کو اس بارے میں بتایا تو وہ پھر نصیحت اور ملامت کرنا شروع ہو جائے گی۔ موٹی گردن والا گداگر بھی ہمارے گھر کی جانب نہیں گیا تھا۔
بہرحال، سر بہ ہوا ہونے سے بھی نصیب بیدار نہ ہوا۔ تین چار دنوں تک درد رہا۔ ستارہ تلاش کرنے کا خیال ذہن سے نکل گیا۔ میں سر بہ راہ ہو گیا۔ مکمل طور پر سر بہ راہ بھی نہیں۔ کبھی کبھی پیسے تلاش کرنے کی حوص دل میں پیدا ہوتی تو میں سر بہ زیر ہو جاتا۔ کبھی کبھی ستارہ تلاش کرنے کے لیے سر بلند اور سر بہ ہوا بھی ہو جاتا۔ دراصل میں یہ سوچ رہا تھا کہ آخر ایسا کیا کام کروں کہ میں خود بھی راضی ہو جاؤں ور لوگ بھی راضی رہیں۔
کوئی بھی مجھ پر اعتراض نہ کرے اور نہ ہی کوئی مصیبت میرے سر پر نازل ہو۔ زندگی میں خوشی اور راحت ہو۔ دل پرسکون ہو۔ لیکن میں نے یہ دیکھا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ تمام باتوں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں بن پا رہا تھا۔ چنانچہ اس وجہ سے میرا سر کبھی بہ ہوا ہو کر بلند ہو جاتا اور کبھی پیسوں کی ہوس میں بہ راہ ہو جاتا۔
یہاں تک کہ ایک روز دوپہر کے وقت اپنی گلی میں، گھر کے نزدیک ہی، جہاں سر بہ زیر ہونے سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ میں سکول سے واپس آ رہا تھا۔ میں بالکل خالی جیب تھا اور اپنے آپ سے کہہ رہا تھا کہ، ”سر بہ زیر ہونے سے بہتر کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ دوسروں کاموں کے مقابلے میں اسی سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔“ میں شکستہ دلی کے ساتھ چل رہا تھا کہ اچانک ایک رومال جس کی کونوں میں آپس میں گرہیں لگی تھیں۔ گلی کے درمیان گرا ہوا نظر آیا۔ میں نے فوراً اپنا بستہ نیچے رکا اور رومال کو اٹھا لیا۔ انگلیوں اور دانتوں کی مدد سے اس کی گرہیں کھولنے لگا۔ کافی کوشش کرنے اور زور لگانے پر اس کی گرہیں کھلیں۔ میری نظریں اس کے اندر موجود گچھ مچھ ہوئے کرنسی نوٹوں پر پڑیں۔ بیس تومان کے دو نوٹ اور دس تومان کا ایک۔ یہ کل پچاس تومان بنتے تھے۔
میرے منہ میں پانی بھر آیا۔ فوراً نوٹوں کو اپنی جیب میں ڈالا اور گھر کے اندر داخل ہوا۔
بی بی کمرے میں چولھے کے قریب بیٹھی پیاز کاٹ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ چند بار میرے منہ سے یہ نکلنے لگا کہ، ”بی بی مجھے پیسے مل گئے ہیں۔“ لیکن اپنے آپ کو روکا اور پیسوں کے بارے میں کوئی بات نہ کی۔ صرف اونچی آواز میں سلام کیا۔ بستے کو کمرے میں ایک طرف رکھ کر گھر سے باہر بھاگا۔ مجھے اپنے پیچھے بی بی کے یہ کہنے کی آواز آئی، ”کہاں جا رہے ہو مجید؟ بیٹھ کر اپنا سکول کا کام لکھو۔“
میں نے یوں ظاہر کیا جیسے سنائی ہی نہ دیا ہو۔ ایک کان کو در بنایا اور دوسرے کو دروازہ۔ گلی میں پہنچا اور تیزی سے دوڑنے لگا۔ جب دو تین گلیاں گزر چکا تو جیب سے نوٹ نکال کر دوبارہ گنے۔ میں خوشی سے دیوانہ سا ہو گیا۔ میرے دل میں جو بھی آرزوئیں کبھی رہیں تھیں۔ انھوں نے کروٹ لی، بیدار ہو کر اٹھ بیٹھیں۔ اور میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگیں۔ مجھے لگا کہ اس رقم سے میں بہت کچھ خرید سکتا ہوں۔ آرزوؤں کا ایک ریلا میرے دماغ میں جوش مارنے، ایک دوسرے میں مدغم ہونے اور باہر نکلنے لگا۔ ہر طرح کی آرزوئیں تھیں۔ بہت معمولی اور سستی سے لے کر بہت بڑی جن تک یہ آسمان بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ پہلے سادہ اور چھوٹی خواہشیں :
”چھے رنگوں والی پینسلوں کا ایک ڈبہ، بالکل ویسا ہی جیسا کہ میرے ہم کلاس اسماعیل کے پاس ہے۔ ایک عمد پین، جیسا کہ پرنسپل آغا کہ پاس ہے۔ کہانیوں کی دو بڑی کتابیں جنھیں مکمل پڑھ پانا ہی ناممکن ہو۔ ایک عدد بیلٹ جس میں سنہری رنگ کا کنڈا ہو۔ جوتوں کا ایک نیا جوڑا۔ کوٹ اور پتلون، نئی اور خوبصورت۔ سکول کے لیے ایک خوبصورت بستہ۔ جس کے دو تسمے ہوں، ویسا ہی جیسا کہ کتاب میں ایک تصویر میں بچے کے پاس ہے۔ جسے میں اپنی پشت پر لٹکاؤں۔
سفید کاغذ والی تیس کاپیاں۔ ایک نیکر، ویسی ہی جیسی کہ کتاب کی تصویر میں ایک بچے نے پہن رکھی ہے اور سکول کی طرف جا رہا ہے۔ نہیں ٹھیک نہیں بے۔ بری لگے گی۔ اسے نہیں پہن پاؤں گا۔ بی بی لازما کہے گی، ”شرم نہیں آتی۔ اپنی کالی، کمزور اور ہڈیوں والی پتلی پتلی ٹانگیں باہر نکالے ہوئے۔ سردیوں میں برف اور بارش سے ٹھنڈ لگ جائے گی۔ دراصل اس طرح کی نیکر جو بچہ پہنے ہوئے ہے وہ یہاں کا نہیں بے بلکہ فرنگی ہے۔ کرمان کی گرمیوں کی دھوپ اور گرد، سردیوں کی برف باری میں بندے کا سر اور پاؤں سیاہ اور جھلس جاتے ہیں۔ مجھ سے کچھ سنو گے۔ اس چھوٹی پتلون کو بہت پہنو۔ لوگوں کی ہنسی کا باعث بنو گے۔“
توبہ۔ یہ بی بی بھی ناں۔ جب بندہ ابھی صرف کوئی آرزو ہی کر رہا ہوتا ہے تو وہ اس دوران آن موجود ہوتی ہے اور شروع کر دیتی ہے اعتراض کرنا اور نصیحتیں کرنا۔
بہرحال، آرزوئیں ترتیب وار میرے ذہن میں آتی جا رہی تھیں۔ میرا ہاتھ جیب میں نوٹوں کو تھامے ہوئے تھا۔ میں گھوڑے کی طرح دوڑتا جا رہا تھا اور ساتھ ہی یہ کہہ رہا تھا، ”ایک ٹی شرٹ پہنوں گا اور چھت پر چڑھوں گا۔ اپنی ہمسائے محمود آغا کی طرح۔ بی بی کی قمیص کے لئے کپڑا۔ جسے پہن کر وہ کسی شادی میں شرکت کر سکے۔ سردیوں کے لئے ایک بوری پیاز اور آلو۔ چار بوری آٹا تاکہ بی بی گھر میں ہی روٹیاں پکائے اور میں نان لانے کی زحمت سے بچ جاؤں۔ ایک دنبہ پالنے اور قورمے کے لیے۔ ان سردیوں میں ہر رات قورمہ کھایا کریں گے۔ چھت کو بھی اچھی طرح مٹی سے لیپ دیں گے تاکہ برف اور بارش سے بچت رہے۔“
میں خوشی خوشی بڑی آرزوؤں کی طرف جا رہا تھا۔ میں دوڑ رہا تھا اور ہر گلی اور ہر سڑک پر سے گزرنے کے بعد رک کر نوٹوں کو گنتا۔ انھیں چومتا۔ آرزوئیں ایک ایک کر کے آتیں اور میری آنکھوں کے سامنے پھڑپھڑانے لگتیں۔
ایک خوبصورت، بڑی اور تیز رفتار کار۔ ویسی ہی جس پر فریدون سکول آتا ہے۔ دس عدد قالین، بڑے اور بھاری۔ جیسے حاج اکبر نے اپنے کمرے میں بچھا رکھے ہیں۔ ایک بڑا سا گھر جس میں درختوں سے بھرا ہوا ایک باغ ہو۔ جس میں بندہ پھل خود توڑ کر اتارے۔ بی بی کے لیے ایک بڑی چادر جسے اوڑھ کر وہ روضہ یا ختم پر جائے۔
آہ، میری آرزوئیں کس قدر زیادہ تھیں۔ ختم ہونے پر ہی نہیں آ رہی تھیں۔ اگر ایک بوری کرنسی نوٹ ہوتے تو تمام کی تمام چیزیں خرید لیتا۔
میں آرزوئیں کر رہا تھا۔ دوڑ رہا تھا اور یہ خیال کر رہا تھا کہ ان پیسوں کے لیے میں نے کتنے خواب دیکھے تھے۔ ان چھوٹی بڑی آرزوؤں کے ہجوم کے درمیان ایک نئی اور عجیب و غریب خواہش نے سر اٹھایا۔ ’تار‘ خریدوں۔ ہاں ویسا ہی جیسا ’آغا مرتضی تار نواز‘ کے پاس ہے۔ وہ کیا عمدہ تار بجاتے ہیں۔ آدم زاد سن کر وجد میں آ جاتا ہے۔ وہ ہماری گلی میں ہی بیٹھتے تھے۔ جب بھی میں ان کے گھر کی کھڑکی کے پاس سے گزرتا ہوں، ان کے تار بجانے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میں رک کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگاتا ہوں اور غور سے سنتا ہوں۔ ایک دن میں نے انھیں اپنی گلی میں ہی جب دیکھا تو کہا، ”آغا مرتضی! میں بھی تار بجانا سیکھنا چاہتا ہوں۔“ انھوں نے کہا، ”ٹھیک ہے بجا سکتے ہو۔ لیکن ضروری ہے کہ تمھارے پاس ایک عدد تار ہو جس پر تم ریاض کر سکو۔“
میں نے کہا، ”اگر میرے پاس تار ہو تو مجھے تار بجانا سکھائیں گے نا؟“
انھوں نے کہا، ”پہلے تم تار لاؤ۔ انشاءاللہ پھر اس بارے میں سوچیں گے۔“
خوب۔ اب ان پیسوں سے ایک اچھا اور خوش آواز تار خریدوں گا۔
میں نے اپنے دل میں کہا، ”تار دوسری ہر چیز سے زیادہ ضروری ہے۔“ اس وجہ سے کہ بی بی تمام دوسری چیزیں ممکن ہے خرید لے۔ لیکن تار۔ لازما وہ تار خریدنے کے لیے ہر گز آمادہ نہیں ہو گی۔ پہلے ایک تار خریدنا چاہیے اور اپنے دل کی تسلی کرنے کرنی چاہیے۔ ”
رستہ بدل کر سیدھا اس دکان پر پہنچا جس پر تار، تنبک اور اس طرح کی دوسری چیزیں عیش و سرور کے لیے بکتی تھیں۔
آغا تار فروش کو سلام کیا اور کہا، ”ایک عدد تار چاہیے۔“
”تار کس کام کے لئے چاہیے؟“
میں نے کہا، ”اچھی طرح معلوم ہے کہ بجانے کے لئے چاہیے۔ لیکن کیا تار کا بجانے کے علاوہ کوئی دوسرا مصرف بھی ہوتا ہے؟“
تار فروش ہنسا اور بولا، ”پیسے وغیرہ بھی ہیں؟“
”ہاں ہیں۔ لیکن تار سستا ہو اور میرے قد سے بڑا نہ ہو۔“
”کسے بڑے یا کسی معتبر آدمی کو اپنے ساتھ کیوں نہیں لائے؟“
میں نے با ادب ہو کر کہا، ”مجھ سے بڑی اور معتبر تو بی بی ہے۔ اس کا بھی کوئی جواب نہیں۔ اس نے خود کہا ’جاؤ اور جا کر ایک اچھا اور عمدہ تار خرید لاؤ۔‘ اور یہ کہ گھر میں ہمارے پاس تنبک بھی ہے۔ تو ہم چاہتے ہیں کہ تار بھی ہو کیوں کہ تنبک بغیر تار کے مزہ نہیں دیتا ہے۔“
تار فروش نے میرے قد کی طرف دیکھا۔ پھر سر سے پاؤں تک ایک نگاہ ڈالی۔ ناک کے ایک طرف تھوڑی دیر کھجلی کی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، ”مجھ میں بھاؤ تاؤ اور خریدی ہوئی شے واپس لینے کا حوصلہ بالکل نہیں ہے۔ اگر لے جا کر تار ٹوٹ گیا یا خراب ہو گیا اور میں میرے پاس لائے تم میں ہرگز واپس نہ کروں گا۔ اچھا؟“
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

