کچھ باتیں علی سفیان آفاقی کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب ڈاٹ کام میں میری تحریروں کو باقاعدہ پڑھنے اور پھر ان میں کمی بیشی کا بتانے اور تبصرہ کرنے والے تمام خواتین اور حضرات میرے محترم ہیں! ایسے ہی دو کرم فرما : اجیت کمار اور سہیل الزمان کی فرمائش پر آج علی سفیان آفاقی صاحب پر لکھ رہا ہوں۔

کسی مصنف کے اچھا لکھنے کے کئی پیمانے ہو سکتے ہیں لیکن سب پیمانوں سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ پڑھنے والا جب اس کی کتاب پڑھنا شروع کرے تو پھر اس کو ختم کیے بغیر نہ اٹھے۔ بالکل یہی بات علی سفیان آفاقی ؔصاحب کی لکھی اور اٹلانٹک پبلی کیشن کی شائع کردہ کتاب ”فلمی الف لیلہ“ کے ساتھ ہوا۔ چار سال پہلے خاکسار نے آفاقیؔ صاحب کی یہ کتاب اپنے بڑے بھائی کو کراچی بھجوائی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اتنی دلچسپ تھی کہ ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی۔

علی سفیان آفاقیؔ صاحب 22 اگست 1933 کو پیدا ہوئے اور 27 جنوری 2015 کو وفات پائی۔

میں خوش قسمت ہوں کہ موسیقار نثار بزمی صاحب نے میری ملاقات آفاقیؔ صاحب سے کروائی۔ پھر لاہور میں جب ایک ٹی وی چینل سے منسلک ہوا تو ماشاء اللہ تقریباً ہر ہفتہ ان سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ مجھ کو اپنے بارے میں انہوں نے خود بتایا : ”میری ابتدائی تعلیم بھوپال میں اور گریجویشن لاہور سے ہوئی۔ میری صحافت کا آغاز 1951 میں جماعت اسلامی کے ترجمان“ تسنیم ”لاہور سے ہوا۔ یہ اخبار بند ہونے کے بعد ہفت روزہ“ چٹان ’‘ اور روزنا مہ ”نوائے وقت“ لاہور میں بھی رہا۔

1953 میں لاہور ہی میں روزنامہ ”آفاق“ سے وابستہ ہوا اور اسی سے نسبت۔ آفاقی ؔ مشہور ہوئی۔ اسی روزنامہ سے میرا اور خود پاکستانی فلمی صحافت کا آغاز ہوا۔ ان کے علاوہ ”امروز“، ”احسان“، ”جنگ“ اور ہفت روزہ ”نگار“ میں کالم نویسی بھی کی۔ ماہنامہ ”سیارہ ڈائجسٹ“ کا ایڈیٹر رہا اور اب ہفت روزہ ”فیملی میگزین“ میں ایڈیٹرہوں ”۔ ماشاء اللہ آفاقی صاحب آخر تک اس پرچے میں ایڈیٹر رہے۔

1957 میں آفاقیؔ صاحب نے شبابؔ کیرانوی کی شراکت میں کامیڈی فلم ”ٹھنڈی سڑک“ بنائی۔ غالباً یہ پاکستان کی اولین کامیڈی فلم ہے۔ شبابؔ صاحب کا ذکر پھر یہ فلم بنانا خود بے حد دلچسپ کہانی ہے جو پھر سہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فلمی دنیا میں آفاقیؔ صاحب کی اصل شہرت فلم ”فرشتہ“ اور ”شکوہ“ کے پر اثر مکالمے لکھنے سے ہوئی۔ اسی پس منظر میں انہوں نے ایک کہانی ”کنیز“ لکھی جو نامعلوم وجوہ کی بنا پر کبھی کسی بھی فلمساز کو پسند نہ آ سکی جب کہ آفاقی ؔصاحب کے خیال میں اس پر ایک بہت جان دار فلم بن سکتی تھی۔

بالآخر ہدایت کار حسن طارق کے ساتھ مل کر انہوں نے 1965 میں اس کام کا بیڑا اٹھا ہی لیا۔ اداکار وحید مراد، محمد علی اور زیبا کو لے کر فلم ”کنیز“ بنا ڈالی۔ یہ باکس آفس پر بہت کامیاب رہی۔ یوں مذکورہ فلم نے کراچی میں گولڈن اور لاہور میں سلور جوبلی کی۔ اس فلم کے مکالموں پر انہوں نے نگار ایوارڈ حاصل کیا اور ثابت کر دیا کہ مزاحیہ فلموں کے ساتھ ساتھ وہ سنجیدہ ڈرامائی مکالمے بھی لکھ سکتے ہیں۔

فلم ”کنیز“ آفاقیؔ صاحب کی وہ تمنا تھی جو ان کے دل میں ایک عرصے سے پل رہی تھی۔ ان کا کہنا بالکل ٹھیک تھا کہ عوام اس کہانی کو پسند کریں گے۔ وہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا۔ فلم کی ہدایات حسن طارق نے دیں۔ حسن طارق اور آفاقیؔ صاحب کا پاک ٹی ہاؤس میں تعلق پیدا ہوا۔ یہیں سیف الدین سیفؔ، ناصر ؔ کاظمی، ریاض شاہد وغیرہ سے بھی دوستانہ ہوا۔ اس فلم کی کاسٹ میں وحید مراد، زیبا، محمد علی، صبیحہ خانم، لہری، ساقی، ادیب اور طالش شامل تھے۔ 26 نومبر 1965 کو یہ فلم سب جگہ ایک ساتھ ہی نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ یہ ناز سنیما کراچی میں مسلسل 16 ہفتے اور شہر کے دیگر سنیماؤں میں 50 ہفتے چل کر گولڈن جوبلی ہو گئی۔

اب ذرا اس فلم کی موسیقی پر بات ہو جائے۔ آفاقیؔ صاحب نے خلیل احمد کو فلم کا موسیقار چنا۔ خلیل احمد نے تصدق حسین کو اپنا معاون رکھا۔ خلیل احمد کا یہ انتخاب درست ثابت ہوا۔ کیوں کہ آگے چل کر تصدق حسین کامیاب موسیقار ثابت ہوئے۔ انہوں نے گولڈن جوبلی فلم ”ہمراہی“ ( 1966 )، پلاٹینم جوبلی ”نئی لیلیٰ نیا مجنوں“ ( 1969 )، سلور جوبلی فلم ”آئینہ“ ( 1966 ) کی طرزیں بنائیں۔ ”آئینہ“ میں موسیقار منظور اشرف نے تین گیتوں کی دھن بنائی اور تصدق حسین نے ایک گیت کی طرز بنائی: ’تم ہی ہو محبوب میرے، میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ۔ یہ مسعود رانا اور آئرین پروین نے الگ الگ ریکارڈ کروایا تھا۔ بہرحال فلم ”کنیز“ کے گیت حمایت ؔ علی شاعرنے لکھے۔ نسیم بیگم کی آواز میں ایک غزل آغا حشرؔ کاشمیری کی بھی فلم میں شامل تھی: ’غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ہی گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ۔ یہ گیت ’ایمی مینوالا‘ پر فلمایا گیا۔ بعد میں ان سے حسن طارق نے شادی کر لی تھی۔ مالا اور احمد رشدی کی آوازوں میں یہ دوگانا ’جب رات ڈھلی تم یاد آئے، ہم دور نکل آئے۔

۔ ۔ ۔ ۔‘ ریڈیو پر بہت مقبول ہوا تھا۔ احمد رشدی کی آواز میں ایک گیت : ’پیار میں ہم اے جان تمنا، جان سے جائیں تو مانو گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ بھی مقبول گیت تھا۔ فلم کا ایک ایسا بھی گیت تھا جو ریڈیو پر تو مقبول تھا ہی لیکن بہت سے لوگوں نے اس کی کامیڈی فلمبندی کو بہت پسند کیا: ’دونوں طرف ہے آج برابر ٹھنی ہوئی، اور مجھ غریب جان کے اوپر بنی ہوئی‘ ۔ اس کو احمد رشدی نے صدابند کروایا تھا۔ مجھے آفاقیؔ صاحب نے بتایا کہ اس گیت کی فلم بندی میں محمد علی اور زیبا کو لبرٹی چوک لاہور میں الگ الگ کاریں چلاتے ہوئے اور درمیان میں پیدل وحید مراد پر گانا فلمانا تھا۔ لیکن کبھی ایک کبھی دوسری ایسی رکاوٹوں کا سلسلہ چل نکلا کہ حسن طارق نے ہاتھ اٹھا دیے کہ یہ گیت اب فلم ہی سے نکال دیں۔ لیکن بالآخر اس کی کامیاب فلم بندی ہو گئی۔

اس کے بعد فلم ”سوال“ او ر۔ ”جوکر“ کے مکالموں کو فلم بینوں کے ساتھ فلم کے ناقدین نے بھی سراہا۔ پھر 1973 میں بننے والی فلم ”آس“ نے تو کمال ہی کر دیا۔ یہ بحیثیت ہدایتکار ان کی پہلی فلم تھی۔ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے نتیجہ میں بنگلہ دیش وجود میں آ چکا تھا۔ اس فلم کے لئے ان کے خیال میں اداکارہ شبنم موزوں ترین تھیں۔ پڑھنے والے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اداکارہ شبنم کو ڈھاکہ سے لاہور بلوانا کتنا مشکل رہا ہو گا۔

بہر حال یہ ایک سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ میں نے بھی ڈرگ کالونی ( موجودہ شاہ فیصل کالونی ) کراچی میں واقع ’شمع‘ سینما میں اس فلم کی نمائش کا پہلا شو دیکھا تھا۔ مجھ سمیت فلم بینوں کو آفاقیؔ صاحب کی اولین ہدایت کاری بہت جان دار لگی۔ اس فلم نے 8 عدد نگار ایوارڈ حاصل کیے جن میں سے 4 ایوارڈ خود آفاقیؔ صاحب نے بطور فلمساز، ہدایت کار، مکالمہ نگار اور کہانی نویس کے حاصل کیے۔

علی سفیان آفاقیؔ نیشنل فلم ایوارڈ جیوری کے 1988 سے 1991 تک ممبر بھی رہے۔ انہوں نے 30 سالہ فلمی دور میں 50 سے زیادہ فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے۔

1958 میں وہ صحافت چھوڑ کر فلمی صنعت سے وابستہ ہو گئے جہاں پہلے ہی ان کی اچھی واقفیت ہو چکی تھی۔ حسن طارق کا اشتراک کچھ زیادہ نہ چل سکا لہٰذا ان سے علیحدہ ہو کر سلور جوبلی فلم ”سز ا“ ( 1969 ) بنائی۔ اس فلم کے فلمساز اور کہانی نویس وہ خود تھے۔ ہدایات کار ہمایوں مرزا تھے۔ اس فلم میں پہلی دفعہ روزینہ کو ہیروئن کا موقع دیا۔ اسی فلم میں نیا اداکار ’جمیل‘ بھی روشناس کرایا جو بھارتی اداکارہ ’تبو‘ اور ’فرح‘ کے والد ہیں۔

آفاقی صاحب نے خود مجھ کو وہ دل چسپ واقعہ سنایا جس کی بنا پر یہ آفاقی ؔکہلائے۔ یہ روزنامہ ’آفاق‘ میں فلموں پر تبصرے لکھتے تھے۔ ہوا یوں کہ اداکارہ نگہت سلطانہ فلمساز و ہدایتکار شوکت حسین رضوی کی فلم میں کام کرنے کے لئے ان کے نگارخانے میں آئی ہوئی تھیں۔ اسی فلم میں نورجہاں ہیروئن تھیں۔ کسی دوست نما دشمن نے نورجہاں کے کان بھرے کہ نگہت، شوکت حسین رضوی پر ڈورے ڈال رہی ہے جب کہ ایسا نہیں تھا۔ تحقیق کیے بغیر نورجہاں نگارخانے پہنچیں اور برا بھلا کہنے کے ساتھ نگہت سلطانہ کو بے عزت کر کے نگارخانے سے نکال باہر کیا۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح تمام اطراف پھیل گئی۔ وقت ضائع کیے بغیر علی سفیان صاحب نے نگہت سلطانہ کا تفصیلی انٹرویو کیا جو دوسرے ہی روز روزنامہ ’آفاق‘ نے پورے صفحہ پر شائع کیا۔ قدرتی بات ہے کہ مذکورہ روزنامہ کے مالکان نورجہاں کے اثر و رسوخ سے ڈرے ہوئے تھے لیکن جب اس انٹرویو کی وجہ سے اخبار کی مزید 10,000 کاپیاں شائع کرنا پڑیں تو روزنامہ آفاق میں باقاعدہ فلمی ایڈیشن کا الگ سے صفحہ لگنا ضروری خیال کیا گیا اور علی سفیان صاحب کو فلمی صفحہ کا انچارج بنا دیا گیا۔ اس انٹرویو سے علی سفیان ’آفاق والے‘ کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ جلد ہی مختصر ہو کر ’آفاقی‘ مشہور ہو گئے۔

1989 میں انہوں نے لاہور سے ماہنامہ ”ہوش ربا ڈائجسٹ“ نکالا اور شام کا ایک روزنامہ بھی جاری کیا مگر کچھ مسائل کی بنا پر یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چل سکا۔ اسی دوران نوائے وقت کے ایڈیٹر ان چیف مجید نظامی صاحب نے ’فیملی میگزین‘ کے اجرا کا سوچا جو پہلے کراچی سے نکلنا تھا لیکن علی سفیان آفاقیؔ صاحب کو مجوزہ پرچے کی ادارت سونپنے کے بعد یہ لاہور سے شائع ہونے لگا۔ وہ فیملی میگزین کے بانیوں میں سے ہیں جنہوں نے آخری سانسوں تک اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔

1990 کی دہائی میں انہوں نے جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن کے ’‘ سرگزشت ڈائجسٹ ”میں“ فلمی الف لیلہ ”کے نام سے پاکستانی فلمی صنعت کا احوال لکھنا شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ محض ان کے فلمی احوال سے پرچہ کی اشاعت بڑھ گئی۔ بہت سے لوگ صرف ان کی تحریر کے لئے اگلے پرچے کے منتظر رہتے اور مذکورہ ڈائجسٹ صرف آفاقیؔ صاحب کو پڑھنے کے لئے خریدا کرتے تھے۔

انہوں نے کئی ایک سفر نامے بھی لکھے جو خاصے مشہور ہوئے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آفاقیؔ صاحب پاکستان فلمی صنعت کے بارے میں بھر پور معلومات کا خزانہ تھے۔ گویا آج کل کی مروجہ اصطلاح کے مطابق ”وکی پیڈیا“ تھے۔ اٹلانٹس پبلی کیشن کراچی سے شائع ہونے والی کتاب ”فلمی الف لیلہ“ ان کی آخری شائع شدہ کتاب ہے۔ ( چار حصوں میں ) اس کتاب کو پڑھنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستانی فلمی دنیا پر آفاقیؔ صاحب کا کتنا گہرا مشاہدہ تھا۔

فلمی صنعت کے تقریباً تمام ہی شعبوں پر انہوں نے لکھا۔ انہیں مختلف حیثیتوں میں 8 عدد نگار ایوارڈ، 6 عدد گریجویٹ اور دیگر ایوارڈ حاصل ہوئے۔ بے شک فلمی دنیا میں کسی کو کوئی فلمی ایوارڈ ملنا ایک اعزاز کی بات ہے لیکن اس سے بھی بڑا اعزاز عوام اور سینما میں فلمیں دیکھنے والوں کا اعتماداور پذیرائی ہوتا ہے۔ ان کی مقبول فلمیں اس بات کا مونہہ بولتا ثبوت ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھی پاکستان کی نمایندگی کی جیسے 1987 میں منعقد ہونے والا ہونا لولو، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا فلمی میلہ۔ متحدہ روس کے زمانے میں ان کی ان تین فلموں کو تاشقند فلمی میلے میں نمائش کے لئے منتخب کیا گیا:

” آس“ ( 1973 )، ”اجنبی“ ( 1975 ) اور ”صاعقہ“ ( 1968 ) ۔ ان فلموں کو روس میں بولی جانے والی کئی ایک زبانوں میں ڈب کر کے مختلف ریاستوں کے چھوٹے بڑے شہروں میں پیش کیا گیا۔

کہانی نویس کی حیثیت سے فلمیں :
یہ تقریباً 49 فلمیں ہیں : ”ٹھنڈی سڑک“ ( 1957 )، ”آدمی“ ( 1958 )، ”آج کل“ ( 1959 )، ” فرشتہ“ ( 1961 )، ”شکوہ“ ( 1963 )، ”شرارت“ ( 1963 )، ”قتل کے بعد“ ( 1963 )، ”کنیز“ ( 1965 )، ”جوکر“ ( 1966 )، ”سوال“ ( 1966 )، ”تقدیر“ ( 1966 )، ”میں وہ نہیں“ ( 1967 )، ” دیور بھابھی“ ( 1967 )، ”عدالت“ ( 1968 )، ”ایک ہی راستہ“ ( 1968 )، ”صاعقہ“ ( 1968 )، ”میرا گھر میری جنت“ ( 1968 )، ”آسرا“ ( 1969 )، ”عندلیب“ ( 1969 )، ”سزا“ ( 1969 )، ”دوستی“ ( 1971 )، ”میرے ہم سفر“ ( 1972 )، ”الزام“ ( 1972 )، ”محبت“ ( 1972 )، ”بندگی“ ( 1972 )، ” دل ایک آئینہ“ ( 1972 )، ”آر پار“ ( 1973 )، ”نیا راستہ“ ( 1973 )، ”آس“ ( 1973 )، ”دامن اور چنگاری“ ( 1973 )، ”آبرو“ ( 1974 )، ”نمک حرام“ ( 1974 )، ”انتظار“ ( 1974 )، ”جاگیر“ ( 1975 )، ”اجنبی“ ( 1975 )، ”آگ اور آنسو“ ( 1976 )، ”انسانیت“ ( 1976 )، ”عاشی“ ( 1977 )، ”پلے بوائے“ ( 1978 )، ”مہربانی“ ( 1982 )، ”دیوانگی“ ( 1983 )، ”کبھی الوداع نہ کہنا“ ( 1983 )، ” گمنام“ ( 1983 )، ”کامیابی“ ( 1984 )، ”مس کولمبو“ ( 1984 )، ”ہم اور تم“ ( 1985 )، ”بیٹا“ ( 1994 )، ”معاملہ گڑ بڑ ہے“ ( 1996 ) اور ”ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ“ ( 1998 ) ۔

انہوں نے فلمساز کی حیثیت سے 8 فلمیں بنائیں : ”کنیز“ ( 1965 )، ”میرا گھر میری جنت“ ( 1968 )، ” سزا“ ( 1969 )، ”آس“ ( 1973 )، ”آبرو“ ( 1974 )، ”جاگیر“ ( 1975 )، ”آگ اور آنسو“ ( 1976 ) اور ”عاشی“ ( 1977 ) ۔

آفاقی صاحب نے بحیثیت ہدایتکار 7 فلموں کی ہدایات دیں : ”آس“ ( 1973 )، ”آبرو“ ( 1974 )، ”نمک حرام“ ( 1974 )، ”جاگیر“ ( 1975 )، ”اجنبی“ ( 1975 )، ”آگ اور آنسو“ ( 1976 ) اور ”عاشی“ ( 1977 ) ۔

ان کی تصانیف کی تفصیل اس طرح ہے : ”کمندیں“، ”سیاسی باتیں“ ( 1990 )، ”سیاسی لوگ“ ( 1990 ) یہ سیاست دانوں اور دانش وروں کے انٹر ویو پر مشتمل ہیں، سفر نامے : ”امریکہ چلیں“ ( 1998 ) دو حصوں میں۔ ”دیکھ لیا امریکہ“ ( 1992 )، ”ذرا انگلستان تک“ ( 1992 )، ”دوران سفر“ ( 1992 )، ”طلسمات فرنگ“ ( 1996 )، ”یورپ کی الف لیلیٰ“ ( 1994 ) ”خوابوں کی سرزمین“ ( 1995 )، ”عجائبات فرنگ“ ( 1995 )، ”نیل کنارے“، ” پیرس کی گلیاں“، ”شعلہ نوا۔ شورش کاشمیری“ ( 1997 ) سوانح، ”فلمی الف لیلیٰ“ ( 2012 ) اس کے چار حصے ہیں۔ وغیرہ۔

علی سفیان آفاقیؔ صاحب کو 9 نگار ایوارڈز حاصل ہوئے. فلم ”کنیز“ ( 1965 ) میں انہیں بہترین مکالمہ نگار کا ایوارڈ حاصل ہوا۔ چونکہ آفاقیؔ صاحب اس فلم کے شریک فلمساز اور کہانی نویس بھی تھے لہٰذا اس فلم میں دیگر ایوارڈ جیسے : بہترین اداکار محمد علی، بہترین معاون اداکار طالش، بہترین مزاحیہ اداکار لہری اور بہترین فلم ایڈیٹر اصغر کا سہرہ بھی آفاقیؔ صاحب ہی کے سر جاتا ہے۔ 1969 کے بہترین مکالمہ نگار کا ایوارڈ آفاقی ؔ صاحب نے فلم ”عندلیب“ میں حاصل کیا۔

سال 1973 کی بہترین اردو فلم کا ایوارڈ ”آس“ کو ملا۔ آفاقی ؔصاحب اس کے بھی شریک فلمساز تھے۔ انہیں اسی فلم میں بہترین ہدایتکار، بہترین کہانی نویس اور بہترین مکالمہ نگار کے ایوارڈ بھی حاصل ہوئے۔ فلم ”آس“ میں اداکار محمد علی کو بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ حاصل ہو۔ عکاس جناب جعفر شاہ بخاری کو بہترین عکاسی کا نگار ملا۔ مبارک علی صاحب کو بہترین صدابندی پر اور بہترین آرٹ ڈائریکٹر کا نگار ایوارڈ اسلام شہابی کو دیا گیا۔ مذکورہ فلم نے 8 ایوارڈ حاصل کیے جو اس سال کسی بھی فلم میں سب سے زیادہ تھے۔ بحیثیت فلمساز و ہدایتکار ار 1973 میں بنائی جانے والی فلم ”آس“ کو بہترین فلم، بہترین پروڈکشن، بہترین اسکرپٹ اور بہترین مکالموں پر 4 نگار ایوارڈ ملے۔

ان کو سال 1982 کے بہترین مکالمہ نگار کا ایوارڈ فلم ”مہربانی“ پر دیا گیا۔ 1983 میں بننے والی فلم ”کبھی الوداع نہ کہنا“ پر آفاقیؔ صاحب کو بہترین کہانی نویس کا نگار ملا۔ 1984 میں ریلیز ہونے والی فلم ”کامیابی“ پر انہیں بہترین مکالمہ نگار کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں 6 مرتبہ گریجویٹ ایوارڈ ملے۔ ایک عدد فلم کریٹک ایوارڈ اور ایک مصور ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔

وہ پانچ مرتبہ پاکستان فلم رائٹرز اسو سی ایشن کے چیئرمین رہے۔ اس کے ساتھ وہ پاکستان فلم پروڈیوسرز اسو سی ایشن کے وائس چیئرمین بھی رہے۔

میں چند سال ”وائب ٹیلی وژن“ لاہور اسٹوڈیو سے وابستہ رہاجہاں ہر ہفتہ باقاعدگی سے مال روڈ پر واقع۔ وقت نیوز چینل میں ’فیملی میگزین‘ کے دفتر میں آفاقی صاحب سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ یہ 2009 کا ذکر ہے میں نے ان سے سوال کیا : ” آفاقیؔ صاحب! آپ نے بطور فلمساز کامیاب فلمیں بنائیں پھر اب آپ صرف کہانی نویسی اور مکالمہ نگاری تک کیوں محدود ہو گئے ہیں؟“ ۔

”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج کل فلمسازی یا پروڈکشن کے مروجہ غیر شفاف طور طریقوں کی وجہ سے میں نے اپنے آپ کو صرف کہانی نویسی اور مکالمہ نگاری تک محدود کر لیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ ۔ انہوں نے جواب دیا۔

میں نے ان کے ساتھ کوئی بہت لمبا چوڑا عرصہ تو نہیں گزارا! البتہ جلد ان کے مزاج سے واقف ضرور ہوگیا۔ میرے خیال سے فلمی دنیا سے کنارہ کرنے کی ایک بڑی وجہ اپنے ہمعصروں کا دنیا سے چلے جانا تھا۔ وہ اکثر خاکسار کو ایور نیو اسٹوڈیو کے آغا جی اے گل اور باری اسٹوڈیو کے باری صاحب کی باتیں اور اس زمانے میں فلمی دنیا کی مصروف زندگی کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایسی باتیں کرنے سے حیرت انگیز طور پر ان کا چہرہ کھل جاتا تھا اور جسمانی طور پر ایک مثبت تبدیلی نظر آتی تھی۔

خود ہی ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے : ” میاں! مجھے تو پیٹ کا السر جوانی سے ہی لاحق تھا۔ شاید اسی لئے مزاج میں سختی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہے“ ۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بھی آفاقیؔ صاحب کے طفیل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایسے کہ ایک مرتبہ کہیں باتوں باتوں میں، میں نے ان سے اپنے وسطی افریقہ کے جنگلات کے تجربات کا ذکر کیا تو بے ساختہ بولے : ” میاں! تم یہ لکھتے کیوں نہیں؟“ ۔ ” میں نے تو کبھی لکھنے کا سوچا بھی نہیں“ ۔ میں نے جوابا کہا۔ کہ اس پر وہ کہنے لگے : ” کبھی بھی کسی نے کوئی نیا کام نہیں کیا ہوتا، کرنے سے آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ ۔ یوں میری حوصلہ افزائی کی۔ گو علی سفیان آفاقیؔ صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن میری تحریر کی ہر ایک سطر لکھتے وقت، ہر ایک لفظ میں میرے محترم، میرے محسن، آفاقیؔ صاحب میری راہ نمائی کرتے اپنی مخصوص مسکراہٹ لیے موجود ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply