ڈریکولا اصل میں کون تھا اور اس کا سلطنت عثمانیہ سے کیا جھگڑا تھا؟
ولاد دی امپیلر کون تھے؟
انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق دریائے ڈینیوب کے علاقے میں ایک ریاست والیچیا کے ایک سے زیادہ بار حکمران رہنے والے شہزادے ولاد دی امپیلر کا پورا نام ولاد سوم ڈریکولا تھا۔ ان کی پیدائش سنہ 1431 اور انتقال سنہ 1476 میں ہوا۔ وہ ٹرانسلوینیا میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال آج کے رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ کے شمال میں ایک علاقے میں ہوا۔
رومانیہ کے مؤرخ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ڈریکولا کا زمانہ عثمانی سلطنت میں ’دو عظیم سلطانوں‘ مراد دوم (سنہ 1421-1451) اور محمد دوم (1451-1481) کا زمانہ تھا اور انھوں نے لکھا کہ ’(قسطنطنیہ کے فاتح) سلطان محمد دوم کے ساتھ تو ہمارا نوجوان شہزادہ (ڈریکولا) بھی جوان ہوا تھا۔‘
رومانیہ کے مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ دونوں عثمانی سلطان انتہائی مہذب اور دنیادار شخصیات کے مالک تھے۔ ’وہ دور اندیش سیاست دان تھے جنھوں نے اس زمانے میں یہودیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو پناہ دے کر یورپ کو مذہبی رواداری کا سبق سکھایا تھا جب رومن کیتھولک چرچ ان (اقلیتوں) پر ’مظالم ڈھا رہا تھا۔‘
انسائکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق 15ویں صدی کے یورپ میں ولاد نے اپنے دشمنوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کی وجہ سے شہرت پائی۔ یہیں پر یہ بھی لکھا ہے کہ مؤرخوں کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ بریم سٹوکر کے دنیا بھر میں مشہور ناول کا ڈریکولا دراصل یہی ولاد ہے۔
ولاد کے والد ولاد دوم ڈریکول تھے۔ انھیں ڈریکول کا خطاب اس زمانے میں رومی سلطنت کے فرمانرواہ (ہولی رومن ایمپرر) سِیگیسموند کی طرف سے ترکوں کی یورپ میں یلغار کو روکنے کے لیے بنائے جانے والے ’آرڈر آف ڈریگن‘ میں شمولیت کی وجہ سے دیا گیا۔
انسائیکلوپیڈیا کے مطابق لفظ ڈریکول لاطینی زبان کے لفظ ڈراکو سے نکلا ہے جس کا مطلب ڈریگن ہے۔ اور ڈریکولا کا مطلب ہے ڈریکول کا بیٹا۔ اس طرح ولاد دوم ڈریکول کے بیٹے کا نام ہوا ولاد سوم ڈریکولا۔ مؤرخ ڈریکولا کے لقب کی مختلف وجوہات بھی بتاتے ہیں جن میں سے ایک ہے کہ رومانیہ کی زبان میں ڈریکول کا مطلب ’ڈیول‘ بھی ہوتا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق ڈریکولا سنہ 1442 سے سنہ 1448 تک سلطنت عثمانیہ میں رہے اور پھر وہ اپنے والد اور بڑے بھائی کے قتل پر واپس والیچیا آئے۔ ڈریکولا کو اپنے والد کے تخت پر بیٹھنے میں والیچیا کی اشرافیہ سمیت اپنے چھوٹے بھائی کی مخالفت کا بھی سامنا تھا جنھیں سلطنت عثمانیہ کی حمایت حاصل تھی۔
وہ سنہ 1448 میں پہلی بار حکمران بنے لیکن انھیں جلد ہی ہٹا دیا گیا اور پھر انھیں اپنے والد کی گدی حاصل کرنے میں آٹھ برس کا عرصہ لگا۔ اس دوسرے دور حکمرانی میں انھوں نے وہ مظالم کیے جو ان کی شہرت کی وجہ بنے اور انھیں ولاد دی امپیلر یعنی میخیں گاڑ کر مارنے والے ولاد کا نام دیا گیا۔
یہ دور سنہ 1462 میں سلطان محمد دوم کی اس مہم کے بعد ختم ہوا جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے جس کو ولاد ڈریکولا کے ’ڈنڈوں سے لٹکتی لاشوں کے جنگل‘ کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ولاد سنہ 1476 میں تیسری اور آخری بار اپنے والد کی ریاست کا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن اسی برس وہ 45 برس کی عمر میں ایک جنگ میں مارے گئے۔
ولاد سوم ڈریکولا اور فاتح سلطان محمد دوم
ان دونوں شہزادوں کی پہلی ملاقات غالباً سنہ 1442 میں اس وقت ہوئی جب ڈریکولا کے والد انھیں اور ان کے چھوٹے بھائی رادو ’دی ہینڈسم‘ کو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ اپنی وفاداری کی ضمانت کے طور پر سلطان مراد دوم کی تحویل میں چھوڑ گئے تھے۔
مؤرخ بتاتے ہیں کہ اس وقت ولاد سوم ڈریکولا کی عمر گیارہ یا بارہ برس تھی اور چھوٹا بھائی رادو تقریباً سات سال کا تھا۔ اس وقت شہزادہ محمد بھی تقریباً ڈریکولا ہی کی عمر کے تھے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ اس وقت تک یورپ میں سربیا اور بلغاریہ عثمانیوں کے زیر تسلط آ چکے تھے اور سلطان مراد دوم صدیوں پرانی بازنطینی سلطنت کو آخری ضرب لگانے کی تیاری میں تھے۔
ولاد دوم ڈریکول جیسا کے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے عثمانیوں اور رومن کیتھولک چرچ کے مخالفین کے لیے بنائے گئے ’آرڈر آف ڈریگن‘ کے رکن تو بن گئے تھے لیکن فلوریسکو اور ان کے ساتھی مؤرخ مکینلی نے لکھا ہے کہ وہ ایک شاطر سیاستدان تھے اور جیسے ہی والیچیا کی ریاست کے تخت پر ان کی گرفت مضبوط ہوئی انھیں احساس ہوا کہ خطے میں طاقت کا توازن عثمانیوں کے حق میں ہے۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنے سرپرست رومی سلطنت کے سلطان سیگیسموند کے انتقال کے فوراۙ بعد ولاد دوم ڈریکول نے ترکوں سے معاہدہ کر لیا۔
’ڈریکول اور ان کے 300 ساتھی برسا میں سلطان مراد کے سامنے پیش ہوئے اور ایک شاندار تقریب میں والیچیا کے شہزادے نے باقاعدہ طور پر اپنی اطاعت کا اعلان کیا۔‘
بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصے بعد، سلطان مراد کے دل میں (جو دونوں مؤرخین کے مطابق معاہدوں کا پاس کرنے والے حکمران تھے) ولاد دوم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔ ولاد دوم طلب کیے جانے پر اپنے دو چھوٹے بیٹوں ڈریکولا اور رادو کے ساتھ سلطان کے سامنے حاضری کے لیے گئے۔ مؤرخین کے مطابق شہر کے دروازے پر ہی ترک فوجیوں نے ان کو زنجیروں میں جکڑ لیا اور دونوں بیٹوں کو ایک دور پہاڑی قلعے میں پہنچا دیا۔
ولاد دوم ڈریکول تقریباً ایک سال سلطان کے قیدی رہے اور اس دوران ان کا بڑا بیٹا میرچا جس کے سلطان سے اچھے تعلقات تھے والیچیا کے تخت پر بیٹھا۔
ڈریکول بالآخر قرآن اور بائبل پر عثمانیوں کی وفاداری کی قسم کھانے کے بعد آزاد ہوئے۔ ولاد دوم نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے اپنے دونوں چھوٹے بیٹے بھی عثمانی تحویل میں چھوڑ دیے۔
ڈریکولا عثمانی سلطان کے دربار میں
ڈریکولا کے اگلے چھ سال اپنے والدین سے دور سلطنت عثمانیہ میں گزرے۔ وہ مقامی زبان نہیں بول سکتے تھے اور ان کا مذہب بھی مختلف تھا۔ ’یقیناً انھوں نے محسوس کیا ہو گا کہ ان کے اپنے لوگوں نے انھیں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔
ڈریکولا سنہ 1448 اور ان کے بھائی رادو سنہ 1462 تک سلطنت عثمانیہ میں رہے۔
والیچیا کے حکمرانوں کی مشکل
والیچیا کا شمار ان علاقوں میں ہوتا تھا جہاں یورپ کے برعکس تخت کا وارث صرف بڑا بیٹا نہیں ہوتا تھا بلکہ سب بیٹے اقتدار حاصل کرنے کا حق رکھتے تھے۔ اس لیے اگر ایک بیٹے کو مغرب کی بڑی طاقت رومی سلطنت یا ہنگری کے بادشاہوں کی حمایت مل جاتی تھی تو دوسرا عثمانیوں کا سہارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
یہی جھلک والیچیا کی ریاست کے تخت کے لیے حکمران خاندان کے مختلف افراد کی کوششوں میں نظر آتی ہے۔
فلوریسکو اور مکینلی نے لکھا ہے کہ ایک طرف ولاد کیتھولک اداروں کو نظر انداز کر کے رومی سلطنت کے حکمران سلطان سیگیسموند کو ناراض نہیں کر سکتے تھے اور انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ والیچیا کی روایات کے مطابق کسی بھی حکمران کے لیے آرتھوڈوکس مسیحی ہونا لازمی تھا۔
آرتھوڈوکس اور کیتھولک مسیحیوں میں اختلافات کی تاریخ بہت پرانی اور تلخ تھی۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آرتھوڈوکس بازنطینی سلطنت کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف لڑائی میں رومن کیتھولک یورپ سے مدد ملنا بہت مشکل پیش آئی۔
یرغمال شہزادے ولاد سوم ڈریکولا کی تربیت
عثمانی دربار میں جب چھوٹی ریاستوں کے شہزادے یرغمال بن کر آتے تھے تو اس کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کو اپنا وفادار بنایا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان شہزادوں کی تربیت یہ سوچ کر کی جاتی تھی کہ اگر ان میں سے کوئی مستقبل میں اپنی ریاست کا حکمران بنے تو اس کی وفاداری سلطنت عثمانیہ کے ساتھ ہو۔
ان غیر ملکی شہزادوں کے ساتھ اچھا سلوک ان کے والد کی سلطنت عثمانیہ کے ساتھ وفاداری سے مشروط تھا۔ ڈریکولا اور ان کے بھائی کے علاوہ سربیا کے دو شہزادے بھی ان دنوں سلطان کے دربار میں موجود تھے۔ ان شہزادوں کی اپنے والد کے ساتھ مشکوک خط و کتابت کی پاداش میں ان کی آنکھیں نکال دی گئی تھیں اور’یہ سب ان (دونوں شہزادوں) کی 22 سالہ خوبصورت بہن شہزادی مارا کے آنسوؤں کے باوجود ہوا جو اس وقت سلطان مراد دوم کی بیوی تھیں۔‘
ڈریکولا کی تربیت اس دور کے بہترین استادوں نے کی۔ مؤرخین کے مطابق ایک سے زیادہ یورپی زبانیں وہ پہلے سے جانتے تھے اور اب انھیں ترکی زبان پر بھی عبور ہو گیا تھا۔ ان کے اساتذہ میں تاریخ بتاتی ہے ’مشہور کرد فلسفی احمد گورانی بھی شامل تھے جن کو سلطنت کے ولی عہد پر بھی تربیت کے دوران کوڑا استعمال کرنے کا اختیار تھا۔‘
ان کو قرآن کے علاوہ، ارسطو کی منطق اور ریاضی کی تعلیم بھی دی گئی۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ڈریکولا ایک مشکل طالب علم تھا جسے اپنے غصے پر قابو نہیں رہتا تھا اور کئی بار کوڑوں کا استعمال کیا گیا۔ اس کے برعکس مؤرخین کے مطابق ان کے بھائی کو اپنی اچھی شکل و صورت کی وجہ سے دربار کے مرد اور خواتین دونوں سے بہت توجہ ملی۔ ان دونوں بھائیوں کے مختلف کردار اور ان کے ساتھ کیے جانے والے الگ الگ سلوک ان دونوں میں ایک دوسرے کے لیے شدید نفرت کی وجہ بن گئی جس کے دور رس نتائج نکلے۔
اسی دوران عثمانی ڈریکولا کے والد اور والیچیا کے حکمران ولاد دوم کی وفادری کے بارے میں پھر سے شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے۔ دونوں شہزادوں کے سر پر تلوار لٹکنے لگی۔ تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مؤرخین کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ ان کا وقت اسی غیر یقینی صورتحال میں گزرا۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ اس ماحول نے یقیناً ولاد ڈریکولا پر گہرا اثر چھوڑا ہو گا۔ ان مؤرخین کے مطابق انھیں ایک طرف احساس ہوا ہو گا کہ والد اور بڑے بھائی نے ان کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور دوسرا یہ کہ وہ کسی بھی وقت اپنے میزبانوں کے ہاتھوں قتل ہو سکتے ہیں۔
سنہ 1447 میں ولاد ڈریکولا کے والد اور بھائی یورپ کے ان علاقوں کی سیاست کا شکار ہو کر قتل ہو گئے۔ ڈریکولا اب آزاد تھے۔ انھیں عثمانی فوج میں افسر بنا دیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ سلطنت عثمانیہ انھیں ہی والیچیا میں اپنے والد کے تخت پر دیکھنا چاہتی ہے۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ سلطان مراد دوم ان سے کافی متاثر تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


