ڈریکولا اصل میں کون تھا اور اس کا سلطنت عثمانیہ سے کیا جھگڑا تھا؟
ولاد ڈریکولا والیچیا کے حکمران
فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ سنہ 1456 میں آسمان ایک دم دار ستارے سے روشن ہو گیا اور لوگوں نے جنگوں، وباؤں اور قدرتی آفات کی پیشیگوئی کی۔ یہ انھی دنوں کی بات ہے جب 25 سالہ ولاد ڈریکولا آٹھ سال کی طویل جد و جہد کے بعد دوسری بار اپنی خاندانی ریاست والیچیا کے تخت پر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ اس بار بھی ایک مہینے کے اندر ہی عثمانیوں کو ان کی وفاداری پر شک ہونے لگا تھا اور سلطان محمد کا ایک نمائندہ والیچیا روانہ کیا گیا۔ ڈریکولا نے اس وقت سلطنت عثمانیہ کی شرائط مان لیں لیکن انھوں نے اپنے والد والی غلطی نہیں دہرائی جو انھوں نے سنہ 1442 میں خود عثمانی سلطنت جا کر کی تھی۔
ولاد ڈریکولا کی ریاست بہت بڑی نہیں تھی لیکن خوبصورت پہاڑوں، گھنے جنگلوں، جھیلوں اور زرخیز میدانی علاقوں پر مشتمل تھی۔ مؤرخین کے مطابق ان کا محل جس کے آثار آج بھی موجود ہیں کئی بار ترکوں کے ہاتھوں تباہ ہوا اور پھر دوبارہ بنا۔
ولاد ڈریکولا کے مظالم/ جب پہلی بار ولاد نے کسی کو امپیل کیا
ولاد ڈریکولا کی تمام پالیسیوں کا مقصد ریاست میں طاقت اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔ انھوں نے مغربی یورپ کی کچھ دوسری ریاستوں کی طرح ایک فوج بنانے پر توجہ دی جس کی وفاداری صرف ان کے ساتھ تھی۔
فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ڈریکولا کہا کرتا تھا کہ جو شہزادہ گھر میں کمزور ہو وہ باہر اپنی مرضی نہیں کر سکتا اور اسی لیے پہلے دو برس انھوں نے اپنے مغربی ہمسائے ہنگری اور مشرقی ہمسائے سلطنت عثمانیہ کو خوش کرنے کی پالیسی اپنائی تاکہ اپنے گھر کے مسئلے حل کر سکیں۔
حکمرانوں کے جلدی جلدی بدلنے کی وجہ سے طاقت علاقے کی اشرافیہ کے جنھیں بویار کہتے تھے، ہاتھ میں جا چکی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سنہ 1418 کے بعد نصف صدی میں والیچیا کے حکمران 12 بار تبدیل ہوئے تھے یعنی اوسطاً ایک حکمران دو سال تخت پر بیٹھا۔
ڈریکولا کو یہ احساس تھا کہ ان کی اشرافیہ عثمانیوں کو خوش رکھنے پر یقین رکھتی تھی۔ اس کے علاوہ والیچیا کے ان سے پہلے والے حکمران کے حامی اب بھی ریاست میں موجود تھے اور ڈریکولا کے لیے ان سے اپنے بھائی میرچا کی موت کا بدلا لینا بھی باقی تھا۔
فلوریسکو اور مکینلی رومانیہ کے 17ویں صدی کے ایک مؤرخ اور یونانی مؤرخ چالکنڈائلز کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سنہ 1457 میں جب تقریباً 200 بویار خاندان اور کچھ اہم عہدیدار ایسٹر کی تقریبات کے لیے ان کے محل میں جمع تھے تو انھیں پکڑ لیا گیا۔
ڈریکولا کے فوجیوں نے ان میں سے بڑی عمر کے افراد کو ان کے جسم میں نیچے سے میخیں گاڑ کر شہر کی دیوار کے باہر ڈنڈوں پر لٹکا دیا۔
ان خاندانوں کے صحت مند افراد کو ان کے بزرگوں کے زمانے کے ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات کی مرمت کے لیے دور ایک پہاڑی چوٹی پر لے جا کر جبری مشقت پر لگا دیا گیا۔ اس قلعے کو قلعہ ڈریکولا کہا جاتا ہے۔
مؤرخ بتاتے ہیں کہ کسی تابع ریاست کے حکمران کے لیے اس طرح کا قلعہ بنانا دو طاقتور پڑوسیوں ہنگری اور سلطنت عثمانیہ کے احکامات کی خلاف ورزی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی قلعے میں ایک خفیہ راستہ تھا جس کے ذریعے سنہ 1462 میں جب ان سے اقتدار چھنا تو ڈریکولا فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔
فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ ان کے اس دور اقتدار میں علاقے کی پرانے اشرافیہ میخوں کے ذریعے یا ڈریکولا کے مشہور قلعے میں جبری مشقت سے تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ ان کی جگہ جن لوگوں نے لی ان میں سے 90 فیصد نچلے طبقے سے آئے تھے یا وہ جو ماضی میں آزاد کسان تھے۔
دشمنوں کو نیزوں پر گاڑنے والے خصوصی اہلکار
ڈریکولا نے ’آرمازی‘ کے نام سے ایک نیا عہدہ بنایا۔ یہ آرماز صرف ڈریکولا کے حکم کے طابع تھے اور ان کا کام نئے نظام عدل پر عمل کروانا تھا۔ ان میں رومانیائی افراد کے علاوہ ہنگری، ترک، سرب، تاتار اور کچھ جپسی بھی شامل تھے۔ ’ان کی تنخواہ بہت اچھی تھی اور یہ کسی اصول کے تابع نہیں تھے۔‘
یہ ڈریکولا کی ’کلہاڑیاں‘ تھے،’نیزوں پر چڑھانے کے ماہر۔‘ لیکن فلوریسکو اور مکینلی بتاتے ہیں کہ یہ طبقہ بھی ڈریکولا سے وفاداری کے جذبے سے زیادہ اپنے مفاد کے تحت کام کرتا تھا اور جب ان کے دور کے آخری وقت میں ان کی ریاست سے لوگوں کا انخلا بڑھ گیا تو یہ آرمازی بھی کام نہ آئے۔ آرمازی کے علاوہ بھی اس دور میں کئی مسلح دستے بنائے گئے تھے۔
مؤرخ کہتے ہیں کہ ’ان کے الجھے ہوئے دماغ میں ظلم اور مذہب ایک ہو گئے تھے اور وہ کئی بار اپنے جرائم کے دفاع میں مذہب کا سہارا لیتے تھے۔‘
’سفارتکاروں کے سروں میں کیل ٹھوکنے کا واقعہ‘
فلوریسکو اور مکینلی نے اپنی کتاب میں اس زمانے کی ایک جرمن شخصیت مائیکل بیہیم کا حوالہ دیا ہے جنھوں نے اٹلی کی ریاستوں سے کچھ سفیروں کی ڈریکولا کے دربار میں آمد کے ایک واقعے کا ذکر کیا تھا۔
مائیکل بیہیم نے لکھا کہ ان کی معلومات کے مطابق، ان سفارتکاروں نے ڈریکولا کے سامنے تعظیم میں اپنی بڑی ٹوپیاں تو اتاریں لیکن ان کے نیچے پہنی جانے والی ’سکل کیپ‘ سر پر رہنے دی اور کہا کہ ان کی روایت کے مطابق ’سکل کیپ‘ تو سلطان کے سامنے بھی نہیں اتاری جاتی۔
کتاب میں مزید بتایا گیا کہ ڈریکولا نے یہ سن کر ان سب کے ’سکل کیپ‘ پر ان کے سروں میں دائرے میں کیل ٹھوکنے کا حکم دیا اور اس دوران وہ ان سفیروں سے کہتے جاتے تھے کہ ’یقین کریں، میں تو آپ کی روایت مزید مضبوط کر رہا ہوں۔‘
ڈریکولا کن کے ہیرو ہیں؟
ڈریکولا نے جہاں اشرافیہ کو ختم کیا وہیں کسانوں کی مدد کی۔ انھوں نے سنہ 1459 کے بعد عثمانی سلطنت کو نذرانہ دینا بند کر دیا تھا اور اس طرح کسان اس ٹیکس سے آزاد ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے عثمانی فوج کے لیے 500 لڑکے دینے سے بھی انکار کر دیا۔ مؤرخ بتاتے ہیں کہ کسی تابع ریاست سے ویسے بھی لڑکے نہیں لیے جاتے تھے لیکن ان سے یہ کہا گیا۔
مؤرخ ’کہا جاتا ہے کہ ڈریکولا کے دور میں بڑے لوگ پیسے دے کر سزا سے نہیں بچ سکتے تھے جیسا کے پہلے ہوتا تھا۔۔۔۔اور اسی وجہ سے سنہ 1462 میں عثمانی حملے کے جواب میں کسانوں نے ڈریکولا کا ساتھ دیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ وہ کسانوں کی حالت کا پتا لگانے کے لیے راتوں کو بھیس بدل کر بھی نکلتے تھے۔ فلوریسکو اور مکینلی کی کتاب میں رومانیہ کی لوک کہانیوں میں سے ایک قصہ درج ہے کہ ایک بار ایک کسان کو چھوٹے سائز کے کپڑے پہنے دیکھ کر ڈریکولا نے اس کی بیوی کو کاہلی کے الزام میں وہیں اس میں نیچے سے میخ گاڑ کر موت کی سزا دے دی۔
کسان نے بہت منت سماجت کی کہ وہ اس عورت کے ساتھ خوش ہے لیکن ڈریکولا نے کہا کہ اس کے بعد جو بیوی ملے گی وہ اسے اور بھی خوش رکھے گی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے دور میں شادی سے پہلے سیکس کرنے والی اور شادی کے بعد خاوند کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ سیکس کرنے والی عورتوں کو انتہائی سخت سزائیں دی گئیں۔
رومانیہ میں قصے مشہور ہیں کہ کس طرح ایک بار انھوں نے بھکاریوں کے ایک گروہ کی اچھی طرح تواضع کرنے کے بعد ان سب کو اسی کمرے میں زندہ جلا دیا تھا کہ یہ لوگ دوسروں کی محنت پر جینا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


