ڈریکولا اصل میں کون تھا اور اس کا سلطنت عثمانیہ سے کیا جھگڑا تھا؟


ولاد ڈریکولا کا خاکہ

سلطان محمد دوم کی سلطنت کے مقابلے میں ڈریکولا کا ملک بہت چھوٹا تھا لیکن مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس میں اپنے حکمران ہونے کا احساس سلطان محمد دوم کے مقابلے میں کسی طرح بھی کم نہیں تھا

یہ منظر تھا ایک میدان کا جہاں ایک میل کے علاقے میں ہر طرف نیم دائرے کی شکل میں تقریباً 20 ہزار نیزے زمین میں گڑے تھے اور ہر ایک پر ایک ترک قیدی کی کٹی پھٹی لاش پروئی ہوئی تھی۔

دو سب سے اونچے نیزوں پر سلطنت عثمانیہ کے ایک علاقائی عہدیدار حمزہ پاشا اور یونانی کاتاوولینوس کی لاشیں تھیں جن کی ہلاکت کو کئی ماہ گزر چکے تھے۔ ان کے جسموں پر کسی وقت میں موجود قیمتی لباس کی باقیات ہوا میں لہرا رہی تھیں جبکہ فضا میں موجود واحد بو سڑے ہوئے انسانی گوشت کی تھی۔

یونانی مؤرخ چالکونڈائلز لکھتے ہیں کہ یہ وہ منظر ہے جس نے جون 1462 میں یورپ کی ریاست ٹرانسلوینیا کے شہر تیرگووستا سے 60 میل دور سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد دوم کی فوج کے ہراول دستے کا استقبال کیا تھا۔

سلطان محمد دوم جب 17 مئی سنہ 1462 کو استنبول سے یورپ میں دریائے ڈینیوب کے پار والیچیا کی ریاست کے حکمران، شہزادے ولاد سوم ڈریکولا، کو سبق سکھانے کے لیے نکلے تھے تو کم ہی لوگوں نے سوچا ہو گا کہ اس مہم کا اس طرح کا انجام ہو گا۔

مؤرخ رادو فلوریسکو اور ریمنڈ مکینلی نے اپنی کتاب ’ڈریکولا: پرنس آف مینی فیسز، ہِز لائف اینڈ ٹائمز‘ میں یونانی مؤرخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس منظر نے سلطان محمد پر ایسا اثر کیا کہ انھوں نے کہا ’۔۔۔۔اس طرح کے شخص سے اس کی زمین چھیننا بہت مشکل ہے۔‘

انھوں نے لکھا ہے کہ اس رات قیام کے لیے سلطان نے ترک کیمپ کے گرد گہری خندق کھدوائی اور اگلے روز فوج کو یہ کہتے ہوئے واپسی کا حکم دیا کہ یہ علاقہ اتنا اہم نہیں کہ اس کی اتنی قیمت دی جائے۔

والیچیا پہلے بھی سلطنت عثمانیہ کی تابع ریاست تھی جو اس مہم کے بعد بھی رہی لیکن مؤرخین کے مطابق اس کی حیثیت سلطنت عثمانیہ کے صوبے میں بدلی نہیں جا سکی۔

سلطان وہاں سے خود تو لوٹ گئے لیکن ولاد ڈریکولا کے خلاف مہم ختم نہیں ہوئی۔ وہ ڈریکولا کے بھائی رادو کو ترک فوج کے ایک حصے کے ساتھ وہیں چھوڑ آئے تھے۔

اس مہم کے نتیجے میں ڈریکولا کو اپنی ریاست چھوڑ کر فرار ہونا پڑا اور ان کی جگہ سلطنت عثمانیہ کا حامی ان کا چھوٹا بھائی رادو ’دی ہینڈسم‘ مقامی اشرافیہ اور ان طبقات کی مدد سے سے تخت پر بیٹھا جو ڈریکولا کے مظالم سے تنگ آ چکے تھے۔

مؤرخ کیرولائن فنکل نے عثمانی سلطنت کی تاریخ پر اپنی کتاب ’عثمان کا خواب‘ میں والیچیا کے خلاف کارروائی کا مختصراً ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’سلطنت عثمانیہ کی طابع ریاست والیچیا کی طرف سے سالانہ نذرانہ نہ آنے اور اس کے بعد ان کے حکمران ولاد ڈریکولا کی طرف سے اشتعال انگیز اقدامات کی وجہ سے سلطان محمد نے 1462 میں دریائے ڈینیوب پار جا کر امن و امان بحال کرنے کا حکم دیا۔ کامیاب کارروائی کے بعد ولاد کے بھائی رادول کو، جو ولاد کے اچھے رویے کی ضمانت کے طور پر استنبول میں یرغمال تھا، ولاد کی جگہ حکمران بنا دیا گیا۔ ولاد خود ہنگری فرار ہو گئے۔‘

جب سلطان نے یورپ میں یہ مہم شروع کی تھی اس سے تقریباً دس برس قبل وہ صدیوں قائم رہنے والی طاقتور بازنطینی سلطنت کی آخری نشانی قسطنطنیہ کو فتح کر کے فاتح سلطان کا لقب حاصل کر چکے تھے۔ ان کی سلطنت ایک سے زیادہ براعظموں میں پھیل چکی تھی۔ اپنے آپ کو سکندر اعظم جیسے فاتحین کی لڑی میں دیکھنے والے اس سلطان کی نظریں اب یورپ میں دور تک دیکھ رہی تھیں۔

سنہ 1462 میں اس مہم میں ان کا نشانہ سلطنت عثمانیہ کی تابع ریاست والیچیا کے حکمران ولاد ڈریکولا تھے جو مؤرخین کے مطابق تین سال سے سلطان کے سامنے نذرانہ پیش کرنے کے لیے حاضر نہیں ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ، فلوریسکو اور مکینلی جیسے مورخین لکھتے ہیں کہ قسطنطنیہ کے ساتھ ساتھ ’بلغاریہ، سربیا اور یونان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضے کے بعد سلطان میں والیچیا کو اپنی سلطنت کا صوبہ بنانے کا خیال ایک قدرتی بات تھی اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے انھوں نے جرمنی سے مشرق کی طرف بہتے ہوئے کئی ملکوں سے گزر کر بحر اسود میں گرنے والے دریائے ڈینیوب کے علاقوں میں کارروائیوں کا حکم دیا تھا۔

دریائے ڈینیوب تاریخ میں مشرق سے فتح کی خواہش لے کر مغرب آنے والوں کے لیے اہم راستہ رہا ہے اور ریاست والیچیا اسی دریا کے شمالی کنارے پر واقع تھی۔ دس لاکھ سے کم آبادی والی اس ریاست کے حکمران خاندان اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان نسلوں سے کبھی اچھے کبھی برے تعلقات کا سلسلہ جاری تھا۔ فلوریسکو اور مکینلی لکھتے ہیں کہ اب ریاست کے نئے حکمران شہزادہ ولاد سوم ڈریکولا کی پالیسیوں سے ناخوش سلطان نے اس مسئلے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ڈریکولا اور فاتح سلطان محمد دوم کے درمیان جنگ ہونا طے تھی سوال صرف یہ تھا کہ کب؟ اور’(فاتح قسطنطنیہ) سلطان محمد کے ساتھ اکھٹے جوان ہونے کی وجہ سے، ڈریکولا کو سلطان میں فتوحات کی خواہش کے بارے میں اچھی طرح معلوم تھا۔‘

محمد دوم کی سلطنت کے مقابلے میں ڈریکولا کا ملک بہت چھوٹا تھا لیکن مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس میں اپنے حکمران ہونے کا احساس سلطان محمد دوم کے مقابلے میں کسی طرح بھی کم نہیں تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈریکولا کا خطاب ایک اعزاز تھا۔

ایک نہیں دو ڈریکولا

آگے بڑھنے سے پہلے تذکرہ تاریخ کا جہاں دو ڈریکولا کا ذکر ملتا ہے۔ ایک وہ جس کا حالیہ دنوں میں 26 مئی کو منائے جانے والے ’ڈریکولا ڈے‘ کے حوالے سے ہر سال کی طرح ایک بار پھر دنیا بھر میں معمول سے زیادہ ذکر ہوا اور اس کی تصاویر شیئر کی گئیں۔ یہ ڈریکولا اپنے کسی شکار کی گردن میں دانت گاڑے بیٹھا ہے تو کہیں نوکیلے دانتوں سے ٹپکتے ہوئے خون کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔

اس سلسلے کا آغاز سنہ 26 مئی 1897 میں بریم سٹوکر کے ناول کی اشاعت کے بعد ہوا جس میں خون پینے والا یہ خیالی کردار ڈریکولا متعارف ہوا تھا۔

ڈریکولا کا یہ کردار تو شاید خیالی تھا لیکن ڈریکولا نام بالکل خیالی نہیں تھا۔ تاریخ میں ڈریکولا کہلائے جانے والا شہزادہ جس نے اپنے وقت کی سپر پاور کے سلطان کا مقابلہ کیا تھا ایک طرف اپنے مظالم کی وجہ سے بدنام ہوا تو دوسری طرف اسے رومانیہ میں قومی ہیرو کا درجہ بھی دیا گیا۔

نسبتاً ایک چھوٹی سی ریاست والیچیا کا یہ شہزادہ ولاد سوم ڈریکولا کہلاتا تھا۔ ڈریکولا کا مطلب تھا ڈریکول کا بیٹا۔ اس شہزادے کی تاریخ میں وجہ شہرت ہزاروں کی تعداد میں اپنوں اور غیروں کے جسم میں میخیں گاڑ کر مارنے والے حکمران کی ہے۔ اسی وجہ سے ولاد سوم ڈریکولا کو انگریزی زبان میں ’ولاد دی امپیلر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ بچپن میں فاتح سلطان محمد دوم اور ڈریکولا کا کچھ وقت اکٹھے بھی گزرا اور اس وقت ان کے استاد بھی ایک ہی تھے۔ ایک طرف مختلف براعظموں پر پھیلی مسلمان سلطنت کا شہزادہ اور ولی عہد اور دوسری طرف یورپ میں اس سلطنت کی کئی تابع ریاستوں میں سے ایک مسیحی ریاست کے حکمران کا بیٹا۔ یہ دونوں ایک چھت کے نیچے کیسے اکٹھے ہو گئے؟ یہ ذکر آگے چل کر، پہلے ڈریکولا کہلانے والے اس شہزادے کا تعارف۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp