باؤلی
”اماں بی بی مریم کو بھی تو حضرت عیسیٰ کے ابا کے بارے میں۔ ۔ ۔“ فائزہ نے بتیسی کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ٹکڑا ملایا تھا۔
”ارے چپ کرو بدبختو۔ ۔ ۔ کہاں وہ شبنم ایسی پاک بی بی اور کہاں یہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتی باؤلی۔ سب سٹھیا گئے ہیں۔ ۔ ۔“ اماں بڑبڑاتی رہیں۔ مگر پھر کہنا کچھ کم کر دیا۔
باؤلی کا تھوڑا بہت خیال جو اماں نے رکھنا شروع کیا تو گھر بھر کھل کھیلنے لگا۔ کھلم کھلا باؤلی کو لڑکوں کے نام بتانا شروع کر دیے اور اوپر سے نفیسہ باؤلی نے جو نخرے دکھانے شروع کیے۔ الامان۔ ۔ ۔ ”یہ نام۔ ۔ ۔ اونہوں۔ ۔ ۔ کوئی دوسرا۔ ۔ ۔ یہ بھی نہیں۔ ۔ ۔ کوئی اور بتاؤ۔“ ہم تو اپنے بٹوا کا نام ”افسر“ رکھیں گے۔
”افسر؟“ نوجوان چنڈال چوکڑی چیخ اٹھی۔ ”باؤلی، یہ کوئی نام ہے رکھنے والا۔“
”تاکہ نام کا کچھ اثر ہو۔ ۔ ۔“ آپا جان کو یہی مطلب سوجھا اس نام کا اور کیا مصرف ہو سکتا تھا اس نام کا بھلا؟
وہ باؤلی جو گھر میں ڈیڑھ بالشت جگہ بھی نہ پا سکی تھی۔ چارپائی کی حقدار ٹھہری۔ اسٹور سے جھلنگا چارپائی نکال کر کسوا دی گئی، سٹور روم دو تھے۔ ایک نیچے دوسرا اوپر۔ اماں اپنی آرام کرسی نکلوا کر نیچے والے اسٹور کے سامنے بیٹھ گئیں اور اپنی نگرانی میں سامان نکلوا نکلوا کر اوپر بھجوانے لگیں۔ ۔ ۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ۔ ۔ ۔ کمرہ باؤلی کے لیے خالی ہو رہا تھا۔
مالی بابا اور چوکیدار دونوں ہی کھی کھی کرتے سامان اوپر پہنچا رہے تھے اور باؤلی اندر باہر ہو رہی تھی۔
”اری کمبخت دوپٹہ ڈال لے۔“ اماں پھر طیش میں آ گئیں اس کی حرکات دیکھ کر۔ ۔ ۔ ”کیوں جی چوری کا ہے کیا۔ ۔ ۔ ؟“ وہ تنک کر بولی۔
”نہیں تیرے باوا کا ہے۔ ۔ ۔“ اماں غیظ و غضب میں بھر گئیں۔
”خود کہو اماں۔ ۔ ۔“ وہ اماں کے قریب آ کر مٹکے جیسی توند کو دونوں ہاتھوں سے تھامے لہرا کر زمین پر بیٹھ گئی۔
”اماں سنو۔ ۔ ۔ بیاہی ہوئی ہوتی نا تو روز پٹتی۔ بولو ہے نا؟“
”ہاں۔ ۔ ۔ چل آگے پھوٹ۔ ۔ ۔“ اماں نے ترچھی نظر سے اس کو فلسفیانہ موڈ بناتے دیکھا اور پان دان گھسیٹ لیا۔ ”اور کوئی یہاں رہنے دیتا۔ بولتا دن کو کام کر، رات کو میری غلامی کر اور پھر اس کا پورا خاندان میرا دشمن ہوتا۔ یہ جو ہمارے بٹوا ہے، اس کے سارے وارث ہوتے۔ میرا کہاں ہوتا تب یہ؟“ اس نے پیٹ پر دھیرے سے ہاتھ پھیرا۔
”اب کوئی بولے تو سہی کہ میرا ہے، ٹانگیں چیر کر نہ ڈال دوں پچھواڑے میں۔ اور دیکھو اماں۔ ۔ ۔ پڑھیں گے تو ہمارے، لکھیں گے تو ہمارے۔ ماں بیٹا دونوں لڑیں گے بھی تو کوئی نہیں چھینے گا ہم سے۔ ۔ ۔ میں تو خوش ہوں۔ ڈاکٹر بن کر بھی ہمارے ہی رہیں گے۔“
بات۔ ۔ ! نفیسہ باؤلی کی بات۔ اتنی اکھڑ ماں کی سمجھ میں بھی آ رہی تھی۔ باؤلی کو تو وہ ایک نمبر کی احمق گردانتی تھیں۔ آج اس کی منطق کی قائل ہو رہی تھیں۔ ”ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے بے چاری۔ ۔ ۔“ اماں نے سر ہلا کر گویا تائید کی۔
”اری نفیسہ، تجھے تو میں باؤلی سمجھتی رہی آج تک۔“
نفیسہ سے باتھ روم دھلوانے بند کروا دیے گئے۔ اوپر کا کام نفیسہ سے چھڑوا لیا گیا۔ نفیسہ کا بستر لگ گیا۔ روز کے فروٹ کی چند قاشیں نفیسہ کے لیے مخصوص کر دی گئیں۔ اماں کی پھٹکار کچھ کم ہو گئی۔ ایک پرانا بکسا نفیسہ کے کمرے میں رکھوا کر آنے والے مہمان کی چیزوں سے بھر دیا گیا۔ باؤلی کی تو شکل ہی بدل گئی۔ وہ ماں ماں سی لگنے لگی۔ ایسی بے ڈھنگی کو بڑا سلیقہ آ گیا۔ سب حیرت کرنے لگے۔ پیٹ پر دوپٹہ پھیلا کر سہج سہج کر قدم رکھنا آ گیا۔ اٹھنا، بیٹھنا اور کراہنا۔ ۔ ۔ سب طریقہ سے آ گیا۔ اماں نے ہدایتیں دینا شروع کر دیں۔
”ایسا کر، ویسا کر، کھانا کھا کر پیدل چلا کر۔ ۔ ۔ اور گھی منگوا لیا ہے۔ ۔ ۔ روز دو گھونٹ بھرا کر رات کو۔ وقت کم رہ گیا ہے بھئی۔“
ایک شام اماں جمیل ماموں سے باؤلی کی ڈیلیوری کے متعلق رازدارانہ مشورہ کرتی پائی گئیں۔ مگر دوسری صبح سب کے لیے حیرتوں کی بھاری مقدار لے کر آئی۔
”نفیسہ بھاگ گئی۔ ۔ ۔“ بچے بچے کے منہ میں یہی جملہ تھا۔
اماں اور آپا جان تو حیرت و استعجاب کے سمندر میں گردن تک ڈوبی ہوئی تھی۔ ”کہاں چلی گئی بدبخت؟ کیا سوجھا کمبخت ماری کو؟ کہاں جائے گی؟ بہن کے گھر تو نہیں چلی گئی۔ کون مشکل میں سنبھالے گا بھلا؟“
آخر باؤلی نام ایسے ہی تو نہیں پڑا نا۔ بدنصیب ہے بڑی جو اتنی محبت چھوڑ کر چلی گئی۔ سب مایوس تھے، ڈراپ سین سے محروم جو ہو گئے تھے۔ آگے سوالیہ نشانات کی قطار تھی اور باقی سب پوشیدہ۔
نوجوانوں کا گروپ اس خیال پر متفق تھا کہ بچے کے باپ کے ساتھ چلی گئی ہے کہیں۔ ۔ ۔ مگر قرائن کچھ اور ہی بتاتے تھے۔ ایک جوش، ایک تھرل اور ایک خوشی سے پورا گھرانا محروم سا ہو گیا تھا۔
اماں اور آپا جان کوسنے بھی دیتیں پھر اداس ہو جاتیں، پھر آپا جان ننھے بچے کی خیریت کی دعائیں مانگتیں اور اماں نفیسہ باؤلی کے تائب ہونے کی۔
”نویں مہینے میں بھاگی ہے بدذات۔“ اماں افسوس سے سر ہلاتیں۔
ادھر ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا۔ ابھی نفیسہ کا ذکر کچھ ہی پرانا ہوا تھا۔ اس کا بکسا، اس کا کمرہ اور بچے کا سارا ساز و سامان ویسے کا ویسے ہی دھرا ہوا تھا کہ اچانک ایک صبح جب اماں اپنی آرام کرسی ہلاتے ہلاتے یٰسین شریف کا ورد کر رہی تھیں کہ۔ ۔ ۔ تھکے تھکے قدموں سے، پیلی زرد رنگت اور ہلکا پیٹ لیے باؤلی نمودار ہوئی۔ ۔ ۔ اماں کی نظر اٹھی کی اٹھی رہ گئی۔ کس حال میں گئی تھی اور کیسی اجڑی ہوئی، خالی گود لئے ویران ویران آئی ہے۔ ۔ ۔
”کوئی کام ہے اماں۔ ۔ ۔ ؟“
اماں کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ۔ ۔ ”اری کام کو مار گولی۔ ۔ ۔ یہ بتا بچہ کہاں ہے، کہاں چھوڑ آئی؟“
”کون نفیسہ؟“ آپا جان تیز تیز قدموں سے باہر چلی آئیں۔
”کدھر چلی گئی تھیں تم بغیر بتائے۔ ۔ ۔ کہاں کروائی ڈیلیوری۔ ۔ ۔ بچہ کس کے پاس چھوڑ کر آئی ہو۔ ۔ ۔ ؟“ آپا جان نے ایک ہی سانس میں کئی سوالات پوچھنا شروع کر دیے۔
”بس چھوڑیں جی۔ ۔ ۔“ مردہ نفیسہ کی زبان میں تھوڑی سی زندگی باقی تھی گویا۔
”بیٹی ہوئی تھی جی۔ ۔ ۔“
”ارے تو کیا۔ ۔ ۔ کہاں ہے بیٹی بھی۔ ۔ ۔ کیا کیا اس بچی کو۔ ۔ ۔“ آپا جان ہول رہی تھیں۔
”اس کو۔ ۔ ۔ مار ڈالا جی۔ ۔ ۔“
”کیا؟ مار ڈالا۔ ۔ ۔ ؟ مار دیا؟ ہائے اللہ۔ ۔ ۔“ اماں نے دو ہتڑ سینے پہ مارے۔
”دفنا بھی آئی جی۔ ۔ ۔“
”کہاں۔ ۔ ۔ ؟ کہاں پر۔ ۔ ۔ ؟“ بوکھلائی ہوئی اماں قابو میں نہیں تھیں۔
”وہ۔ ۔ ۔ وہ جی حکیم جی والا قبرستان ہے نہ جی۔ ۔ ۔ اس میں۔ ۔ ۔ وہاں پر، کونے میں دفنا دیا۔“ نفیسہ نے دھیرے سے یہ کہہ کر اپنی آنکھیں ہتھیلیوں سے رگڑیں۔
”اری کمبخت۔ ۔ ۔ ایسی من مانی کرتی ہے۔ ۔ ۔ باؤلی۔ ۔ ۔ کیوں اس بے گناہ کو مار دیا۔ ۔ ۔ کرموں جلی، نصیبوں پھوٹی۔ ۔ ۔ گناہ تو کرے۔ ۔ ۔ اور بھرے معصوم بچی۔ ۔ ۔“ ؟
”تو اور کیا کرتی جی۔ ۔ ۔ سوچا تھا بیٹا ہو گا۔ ۔ ۔ پالوں گی، کما کے کھلاؤں گی۔ ۔ ۔ میرا بھی گھر بنے گا۔ ۔ ۔ بٹوا ڈاکٹر بنیں گے۔ ۔ ۔ پھر بہو لاؤں گی۔ ۔ ۔ پھر ان کے بچے ہوں گے۔ ۔ ۔ ان کو پالوں گی۔ ۔ ۔ پر ہوئی نامراد لڑکی۔ ۔ ۔“
اب نفیسہ کی آنکھوں سے ٹپاٹپ قطرے بہہ رہے تھے اور گلا رندھ گیا تھا۔
”کیا کرتی پال پوس کر جی؟
”کہاں گزارتی راتیں وہ۔ ۔ ۔“
”سارا شہر منہ کالا کرتا رہتا، ادھر ادھر کونوں میں ڈال کے۔“ اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔

