کرونا: کیا واقعی نیوزی لینڈ اور پاکستان کا موازنہ بنتا ہے؟


”I did dance little“
یہ الفاظ تھے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کے۔ جنھوں نے بڑے فاتحانہ انداز میں 8 جون کو نیوزی لینڈ کو کرونا سے پاک ملک قرار دیا اور ملک تمام پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آج دنیا بھر میں جہاں اس وائرس نے تباہی مچائی اور دنیا کے طاقتور ممالک جیسے امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اس وبا کے سامنے بے بس اور لاچار نظر آرہے ہیں ایسی صورت میں نیوزی لینڈ سے یہ خبر کا آنا سب کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

لیکن جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی پاکستان میں سوشل میڈیا سمیت مین اسٹریم میڈیا میں اس بحث نے شدت اختیار کی کہ اگر نیوزی لینڈ اس وبا پر قابو پا سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ ہر طرف پاکستان اور نیوزی لینڈ کا موازنہ شروع ہونے لگی۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور کیوی پرائم منسٹر جیسنڈا آرڈرن کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ کیا واقعی نیوزی لینڈ اور پاکستان کا موازنہ بنتا ہے؟ اگر موازنہ ہے بھی تو کن اہم حقائق کو سامنے رکھ کر پرکھا جائے؟ تو ہم ان اہم سوالوں کا جواب جاننا ضروری ہے۔

اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو نیوزی لینڈ میں کرونا کا پہلا کیس 28 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا ور آخری مریض 8 جون کو صحتیاب ہو کر اسپتال سے ڈسچارج ہوا۔ اس دوران وہاں 1504 کیس رپورٹ ہوئے اور 22 افراد اس وائرس سے موت کی وادی میں چلے گئے جب کہ 1488 افراد نے اس وائرس کو شکست دیتے ہوئے شفایاب ہو گئے۔ 28 فروری سے لے کر 8 جون تک 102 دن بنتے، اس دوران ہر دن کے حساب سے تقریباً 14 کیس بنتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ تناسب 1072 کیس فی دن بنتا۔ اگر ہم پاکستان کی صورتحال دیکھیں تو پہلا کنفرم کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا اور یہ سلسلہ آج یہاں تک پہنچا ہے کہ اب ہر دن ہزاروں کی تعداد میں کیس رپورٹ ہو رہی ہیں۔

اگر ہم ان دو ممالک کی ڈیٹا کا تفصیلاً جائزہ لیں تو قابل غور بات یہ ہے پاکستان کی آبادی 22 کروڑ سے زائد ہے جبکہ نیوزی لینڈ کی آبادی تقریباً 5 ملین ( 50 لاکھ) ہے۔ نیوزی لینڈ میں تقریباً تین لاکھ سے زائد کرونا کے ٹیسٹ ہوئے، جو فی ملین آبادی میں 59 ہزار سے زائد افراد کا ٹیسٹ بنتا ہے، جبکہ پاکستان میں اب تک 7.5 لاکھ سے زائد ٹیسٹ ہوئے جو فی ملین آبادی میں 3 ہزار 4 سو افراد کا ٹیسٹ بنتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں ہر ایک ملین آبادی میں 301 ایک کیس رپورٹ ہوئی جبکہ پاکستان میں یہ تناسب 515۔

کرونا کی وجہ سے فی ایک ملین آبادی میں موت کا شرح نیوزی لینڈ میں صرف 4 جبکہ پاکستان میں یہ شرح 10۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کرونا سے متاثرہ ممالک میں 106 نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کی پوزیشن 15 ہے۔ یہ اعداد شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم تباہی کے کس دہانے پر ہیں اور نیوزی لینڈ نے بہت اچھے انداز میں اس وبا پر قابو پا لیا ہے۔

ہم آج کرونا کے خلاف لڑنے میں ناکام ہیں اور نیوزی لینڈ کامیاب ہوگیا ہے، تو اس کی تین اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ لیڈر شپ ہے۔ ہاں ہمارے وزیر اعظم عمران خان شروع دن سے اس شش و پنج مبتلا ہیں کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ پہلے دن سے حکومت کی واضح پالیسی اور حکمت عملی نہ ہونے کے باعث کرونا کے حوالے سے آج پاکستان کا شمار ایشیا کے چار خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

جب نیوزی لینڈ میں پہلا کیس رپورٹ ہوا تو حالات کی نزاکت کو بھانپتے وہاں کی لیڈر شپ کی جانب سے پورے ملک میں ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے۔ ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ ہوا، اپنی سرحدوں کو دوسرے ممالک کے لیے بند کیا گیا اور ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا۔ جبکہ عین اسی وقت پاکستان میں ایران سے تفتان بارڈر سے ہزاروں کی تعداد زائرین اور مختلف ممالک سے مسافروں کو ویلکم کیا گیا، جن بڑی تعداد میں کرونا کے مریض بھی شامل تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب وزیر اعظم کو سخت اقدامات اٹھانے تھے مگر وزیراعظم بیانات دیتے رہے کہ ہمارے حالات ابھی اچھے ہیں اور آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ باقی کثر صوبائی حکومتوں اور وفاق کے درمیان بیان بازی نے پوری کی جب کہ اس وقت یکسوئی کی اشد ضرورت تھی۔

دوسری اہم وجہ ہیلتھ سسٹم ہے۔ ہمارا صحت کا نظام اور نیوزی لینڈ کے صحت کے نظام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اپنی جی ڈی پی کا تقریباً 3.4 فیصد حصہ صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے، جبکہ نیوزی لینڈ 12 سے زائد فیصد خرچ کرتا ہے۔ اگر ہم آسان الفاظ میں سمجھیں تو نیوزی لینڈ اگر سالانہ 100 روپے کما تا ہے تو وہ 12 روپے جبکہ پاکستان 3.4 روپے صحت کے شعبے کو بہتر بنانے پر خرچ کرتا ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارا صحت کا شعبہ کتنا کارگر ہے کہ وہ کرونا کا مقابلہ کر سکے۔

تیسری وجہ عوام ہے۔ نیوزی لینڈ میں شرح خواندگی پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، وہ ایک باشعور اور ذمہ دار قوم ہے جبکہ ہمارے عوام غیر ذمہ ہیں۔ ہم نے اب تک اپنے عوام کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے کہ کرونا واقعی ایک مہلک وائرس ہے۔ ہمارے وطن عزیز کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ کرونا ایک مفروضہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں یہ کفار اور یہود و نصاریٰ کی سازش ہے۔ تو اس سوچ کے ساتھ ہم کرونا کا مقابلہ کریں یہ مجھے محال لگتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی پبلک اور حکومت ہمیں ایک پیج پر نظر آتی ہے جبکہ یہاں اس کا بالکل الٹ نظر آتا ہے۔

اگر ہم آج بھی ہوش کے ناخن نا لیے، اس وبا کے خلاف سیریس نا ہوئے اور ایک قوم بن کر واضح پالیسی کے ساتھ اور علمی طور پر اس کا مقابلہ نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب دنیا میں کرونا سے متاثرہ بدترین ممالک میں ہم سرفہرست ہوں گے۔

Facebook Comments HS