ذمہ دار کون؟
ہم ناکام کیوں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں درجنوں نظریات پیش کیے جا چکے ہیں، مختلف وجوہات پر بحث کی جا چکی ہیں اور سینکڑوں صفحات سیاہ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ان نظریات میں ایک نظریہ قدرے دلچسپ اور کافی مقبول ہے، اس نظریہ کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ ہم دراصل من حیث القوم محب وطن نہیں ہے، ہمارے سیاستدان، افسران او عوام سب ہی اور جذبہ حب الوطنی سے عاری ہیں اور یہی ہماری ناکامی کی وجہ ہے۔
یہ نکتہ واقعی قابل غور ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ 70 سالوں میں ہمارا کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جس کا دامن ہر قسم کی بددیانتی سے پاک ہو؟ کیا وجہ ہے کہ ہمارا ہر دوسرا سرکاری افسر اپنے ”کھانچے“ کے چکر میں قومی خزانوں کو کروڑوں کا ٹیکہ لگا دیتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ عوام سڑک پر کچرا پھینکنے سے لے کر رشوتوں اور سفارشوں تک ہر کام میں ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر مقدم رکھتی ہے؟ کیا ہمارے یہ اجتماعی رویے ثابت نہیں کرتیں کہ ہم واقعی ایک محب وطن نہیں مفاد پرست قوم ہیں؟
اس اشکال کی دراصل وجہ وطن کے معنی اور مفہوم سے لاعلمی ہے۔ وطن سے محبت انسان کا ایک فطری جذبہ ہے، ہر انسان اپنے وطن کے خاطر قربانیاں دینے مشکلات جھیلنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لیکن وطن ایک محدود خطہ ہوتا ہے جس سے انسان کا خاندانی تعلق ہوتا ہے، جہاں انسان آنکھیں کھولتا ہے، بچپن، لڑکپن اور جوانی کے مراحل طے کرتا ہے، جہاں کے ہر شے سے اس کو انس اور قلبی تعلق ہوتا ہے، انسان کی اپنی زمین، اپنا گاؤں، اپنا محلہ اور علاقہ یا زیادہ سے زیادہ اپنا شہر، وطن کے اس معنی کو ہزاروں مربع کلومیٹر تک نہیں پھیلایا جاسکتا۔
جدید دنیا میں ریاست کو وطن کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے، ریاست کا جغرافیہ کافی وسیع ہوتا ہے، یہ وہ وطن نہیں ہوتا جس سے محبت فطرتی طور پر ہو۔ پاکستان، انڈیا اور دنیا کے تمام ممالک ریاستیں ہیں۔ ان ریاستوں کو انسان نے اپنی آسانی کے لیے تشکیل دیا، ان کے وجود کا مقصد شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ریاست سے انسان کو فطری محبت نہیں ہوتی بلکہ ریاست کے ساتھ انسان کا مشترکہ مفادات کا تعلق ہوتا ہے، ریاست شہری کی ضروریات پوری کرے اور شہری ریاست میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
ہمارے ہاں روز اول سے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ریاست شہریوں کو صاف پانی، معیاری تعلیم و صحت اور امن وامان کو یقینی بنانے جیسی بنیادی ضروریات کو پوری کرنے سے قاصر ہے۔ اس ریاستی ناکامی کا فطرتی نتیجہ یہ ہے کہ شہری بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے۔ مگر ریاست کے کرتا دھرتا ہمارے عوام کی جذباتی فطرت سے اچھی طرح واقف ہیں، اس لیے انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے آسان راستہ اپنایا اور ریاست کوایک مقدس، اعلی و برتر اور مختار کل شے بناکر پیش کیا جس سے محبت اور اس کا احترام واجب ہو، اس مقصد کے لیے آج تک نظام تعلیم اور مذہبی لٹریچر سے لے کر ڈراموں اور گانوں تک ایک غیر حقیقی اور وہمی جذبہ حب الوطنی کا پرچار کر کے لوگوں کے جذبات برانگیختہ کیے جاتے ہیں، لیکن محبت ایسی ظالم شے ہے کہ حقیقی نہ ہو تو عشق کے پہلے امتحان میں ہی پول کھل جاتا ہے، اس لیے حب الوطنی کے اس بے ہنگم پرچار سے عوام نعرے تو لگا لیتے ہیں لیکن جونہی ملکی مفاد کا ٹکراؤ ذاتی مفاد سے ہوتا ہے تو ان کی غیر حقیقی محبت کا پول کھل جاتا ہے۔
ہماری ناکامی کی وجہ جذبہ حب الوطنی کی کمی نہیں ریاست کی غیر ذمہ داری ہے، ریاست کی ناکامیوں کے باوجود شہریوں سے ذمہ دار رویے کی توقع کرنا حماقت ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک دل دل برطانیہ، جیوے جیوے امریکا اور جرمن فوج زندہ باد جرمنی پائندہ باد کے نعرے لگا کر کامیاب نہیں ہوئے، وہاں کی ریاستیں اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرتی ہیں لہذا شہری بھی قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہو وہاں کے شہری بھی قانون میں ’جگاڑ‘ لگاتے ہیں۔


