بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے سرکاری افسران کے پیسے لینے کا کیس


بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کروڑوں روپے کے مبینہ مالی بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے کیس کی تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو مشکلات کا سامنا۔

سرکاری افسران اور ان کی بیگمات سمیت 453 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کر دیا گیا ہے۔ تقریباً 500 کے قریب سرکاری افسران کے کیسوں کا فیصلہ تاحال نہ کیا جا سکا۔ تحقیقات کے دوران اب تک 16 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ملزمان سے برآمد بھی کر لی گئی ہے۔ ملزمان کی تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ایف آئی آر سندھ جبکہ دوسرے نمبر پہ بلوچستان کے سرکاری ملازمین کے خلاف درج ہوئی ہیں، فہرست میں تیسرے نمبر پہ خیبر پختونخوا جبکہ چوتھے نمبر پہ پنجاب کے سرکاری ملازمین ہیں جن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

ایف آئی اے کے ذرائع نے دنیا نیوز کو بتایا ہے کہ سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات میں گریڈ 17 سے گریڈ 22 کے کل 2037 افسران یا ان کی بیگمات شامل ہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آغاز پر ورلڈ بنک کی معاونت سے حق داروں کا تعین کرنے کے لئے ایک سوال نامہ جسے ٹی ون فارم کہا جاتا ہے وہ تیار کیا گیا جس میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی مدد سے پورے ملک میں ایک سروے کروایا گیا جس کے بعد امداد لینے والوں کی لسٹ تیار کی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد شکایات کی جانچ کے لئے اس فارم کو مد نظر رکھتے ہوئے نادرا سمیت دوسرے اداروں کی مدد سے تحقیقات کی گئیں تو پتہ چلا کہ امداد لینے والوں کی فہرست میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں موجود ہیں کیونکہ کئی ایسے سرکاری ملازمین بھی سامنے آئے جو سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی امداد وصول کر رہے تھے۔ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے سامنے آنے کے بعد وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سپرد کر دیا۔

ذرائع کے مطابق، ٹی ون فارم کے ذریعے لوگوں کا ڈیٹا مرتب کیا گیا جس میں لوگوں کا معیار زندگی کے متعلق مختلف سوالات درج تھے۔ سروے فارم میں درج تھا کہ کسی فرد یا خاندان کے پاس فریج، ائر کنڈیشنر ہے اور آیا کہ اس فرد یا خاندان کے لوگوں میں سے کوئی بیرون ملک سفر کرچکا ہے، گھر کرائے پہ ہے یا اپنا ذاتی ہے، گھر میں کمرے کتنے ہیں۔ علاوہ ازیں بجلی، پانی کے بل کی تفصیلات بھی درج تھیں۔ اسی سروے فارم کی بنیاد پر مستحق افراد کا ڈیٹا مرتب کیا گیا اور انھیں بعد میں ماہانہ امداد دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔

پی ٹی آئی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس ڈیٹا کو نادرا اور دیگر اداروں کے ساتھ پرکھا گیا تو معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم کے ملازمین کی کثیر تعداد نے مبینہ طور پر اس سروے فارم میں جھوٹی اور بوگس معلومات درج کر کے اس پروگرام سے امداد لینا شروع کردی۔

دوسری کیٹگری میں سروے فارم میں امداد لینے والے افراد کا ڈیٹا درج کرتے وقت چوری شدہ یا جعلی شناخت استعمال کرنے کا بھانڈا بھی پھوٹا ہے۔

مثال کے طور پر ایک مستحق خاتون کے نام کے سامنے گریڈ بائیس کے سرکاری افسر کے شناختی کارڈ کا نمبر درج ہے۔
وہ غلط معلومات اس سروے فارم میں کس نے درج کیں، کیوں درج کیں اور اس میں نادرا حکام کا کیا کردار ہے اب تک کی تحقیقات ان پہلوؤں کے متعلق خاموش ہے۔

تحقیقات کے نتیجے میں تیسری کیٹگری بھی سامنے آئی جس میں ایسے سرکاری افسران شامل تھے جو شمالی علاقہ جات میں جاری آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہوئے تھے اور چونکہ ان سے بھی فارم پر کروایا گیا تھا تو وہ بھی امداد لینے والوں کی لسٹ میں شامل ہو گئے۔ جب آپریشنز کے بعد وہ دوبارہ اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے اور اپنی سرکاری نوکریاں پہ بحال بھی ہو گئے لیکن پھر بھی وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے امداد لینے والوں کی فہرست میں شامل رہے۔

چوتھی کیٹگری میں ایسی خواتین شامل ہیں جو سروے فارم پر کرتے وقت تو کنواری تھیں یا بیوہ لیکن شادی کرنے کے بعد بھی امداد لینے والوں کی فہرست میں شامل رہیں اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ تنخواہ کے علاوہ امداد بھی لے رہیں تھیں۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ سے زائد بوگس اور جعلی لوگوں کو جو اس پروگرام کے ذریعے سالہا سال سے ہر ماہ امداد لے رہے تھے انھیں نئے سرے سے مرتب کی گئی لسٹ سے نکال دیا گیا ہے لیکن حیران کن طور پران لوگوں کے خلاف کہیں کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں کہ جعلسازی کے نام پر اربوں روپے امداد لینے والے وہ 8 لاکھ لوگ کون تھے اور کیا ان سے جعلسازی کے تحت لی گئی امدادی رقم کبھی واپس بھی لی جائے گی یا یہ کارروائی صرف سرکاری ملازمین تک پہنچ کر اختتام پذیر ہو جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومت اور متعلقہ اداروں کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے کہ وہ بوگس لوگ کون تھے جن کی مدد سے اصل ملزمان کا پتہ آسانی سے چلایا جاسکتا ہے لیکن فی الحال حکومت نے کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی بشمول نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن یا پولیس کو اس معاملے کی چھان بین کے لئے کوئی ٹاسک نہیں دیا۔

Facebook Comments HS