کورونا کی تنہائی اور کنفیوژن


گورنمنٹ کرے تو کیا کرے؟ لوگ کریں تو کیا کریں؟ عوام کرے تو کیا کرے؟ اس وقت ملک بھر میں کورونا مریضوں کا شدید امتحان ہے۔ لاہور میں لوگوں نے بداحتیاطی کی تمام حدیں پھلانگ دیں۔ اس وقت سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کی سکت ختم ہو گئی ہے۔ کچھ دنوں سے کوئی دلاسا دینے والا نہیں رہا۔ ایک عجب سی تشنگی سی چھا گئی ہے ہر طرف۔ کتابوں میں پڑھا کرتے تھے زندگی ایک معمہ ہے نہ سمجھ میں آیا ہے نہ آئے گا۔

اب تو تمام انڈین گانے موجودہ حالات کی عکاسی کر رہے ہیں۔ جیسے دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا۔ زندگی کیسی ہے پہیلی ہائے۔ ۔ ۔ زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر۔ ۔ ۔ اس وقت زندگی تنہائی اور اکیلے پن کا شکار ہو چکی ہے۔ اب تو اداس ہوں تو اپنے ہی کندھے پہ اپنا ہی سر ٹکا کر دل ہلکا کرنا پڑ تا ہے۔ کورونا وائرس وہ تلخ حقیقت ہے جو سانپ کی طرح پھن پھیلائے ہر گلی، ہر دروازے، ہر شہر، ہر سڑک، ہر موڑ پر کھڑا ہے۔ کورونا کی زہریلی سچائی، اس کی وحشت کا خوف موت کے المیے تک لے جاتا ہے۔

جی چاہتا ہے کورونا سے کہوں خدا کے لیے تم لوٹ جاؤ۔ ابھی تو ہمیں بہت سے کام کرنے ہیں، ابھی تو بہت سے معموں کو حل کرنا ہے، ابھی تو ہمیں بچوں کو پڑھانا ہے۔ زندگی کب ساز سے سوز بنی پتہ ہی نہ چلا۔ اب تو ہر گلی، ہر جگہ سے وبا اور موت کی خبریں آ رہی ہیں۔ پہلے بھی زندگی پھولوں کی سیج تو نہیں تھی لیکن بے خوف ضرور تھی۔ اب تو اک انجانا، ان دیکھا خوف منڈیروں پر بیٹھ چکا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا پھل کس طرح خریدیں، سبزیوں کو کتنا دھوئیں، گروسری کیسے خریدنے جائیں۔

ہم تو کتنے مگن تھے اپنی اپنی زندگیوں میں مزے سے گزر رہی تھی۔ رشتوں میں ایک دوسرے سے عداوتیں اور بغض کھل کھیل رہے تھے۔ تعظیم یافتہ، شائستہ اور حساس ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے بددلی کے ساتھ ملتے تھے۔ پھر اس رب کائنات نے اپنے بندوں کے سوئے احساس کو جگانے کے لیے ایک عالمی وبا بھیج دی۔ اس مہلک اور نا دیدہ وبا نے ساری دنیا کو یکا یک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں ہر صبح اپنی خواب گاہ سے اٹھ کر لاؤنج میں آتی ہوں تو اپنی بڑی سی فرنچ ونڈو سے پائیں باغ اور سوئمنگ پول کا منظر ہی کچھ زندگی کا احساس دلاتا ہے۔

میں اپنے السٹونیا، انجیر، گل مہر، پام کے درختوں اور چاروں طرف لپٹی سہرا بیلوں میں اداسی کی پتلی سی چادر تنی دیکھتی ہوں جو اب دبیز ہوتی جا رہی ہے۔ تنہائی ہی اب بقائے حیات بن چکی ہے۔ کبھی سوچتی ہوں تنہائی پہ چند نظمیں ہی لکھ لوں یا غالب کی چھوٹی بحر میں کوئی غزل کہہ لوں لیکن پھر اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کورونا نے کم از کم یہ تو بتا دیا کہ جب آپ تنہا ہوتے ہیں تو بات کرنے کے لیے نہ کوئی دوست نہ محبوب نہ ہی فن و ادب پہ تبادلۂ خیالات کرنے والا موجود ہے۔

گلی کوچوں اور بازاروں میں بھی وہ گہما گہمی نہیں رہی۔ شادیاں بھی سادگی سے چند لوگوں کی موجودگی میں ہونے لگیں۔ سکول، کالج، جامعات وغیرہ سب بند ہیں۔ کورونا کے حوالے سے ملک میں کوئی حتمی لائحہ عمل فی الوقت تو نظر نہیں آ رہا۔ لوگ دھڑا دھڑ پیسے خرچ کر کے نجی لیبارٹریوں سے اپنے ٹیسٹ کروا رہے ہیں۔ وہ تمام پرائیویٹ معروف لیبارٹریاں جو پہلے 8 ہزار میں ٹیسٹ کیا کرتی تھیں اب 12 ہزار چارج کر رہی ہیں۔ ہے کوئی پوچھنے والا؟

پرائیویٹ ہسپتالوں میں یومیہ 40 ہزار سے لے کر 60 ہزار تک صرف کمروں کے کرائے ہیں۔ دواؤں اور ڈاکٹروں کی فیسوں کے پیسے الگ سے ہیں اور بیماری سے تندرستی کی ضمانت کسی کے پاس نہیں۔ وطن عزیز میں موجودہ صورت حال میں سب ایک ایسی الجھن کا شکار ہو گئے ہیں جہاں اس الجھن کی سلجھن نہیں نکل سکتی۔ وزیر اعظم عمران خان ماضی میں اداروں کو مضبوط بنانے کے خواب دکھایا کرتے تھے۔ مگر اب ہر ادارے کو ضرر رساں دائرے میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے جہاں مشکل حالات نئے مسائل کو ابھارتے رہتے ہیں مگر پرانی مشکلات وہیں کی وہیں رہتی ہیں۔

چینی اور آٹے کے بحران ہی کو لے لیجیے پچھلی حکومتوں کو تو کیا ہی سزا ملتی نئی فائلیں بھی دبانے کے انتظامات جاری و ساری ہیں۔ اس وقت ہم 22 کروڑ کی قوم تو نہیں بنے البتہ سب پہ فرد جرم ضرور عائد ہو چکی ہے، عوام اپنی زندگی کی خستہ حال گاڑی کو اپنے زور بازو پر کھینچنے کی مجرم ہے۔ حکمرانوں پہ کہیں ڈیم، کہیں ڈینگی مچھر کا علاج، کہیں میٹرو، کہیں سستی روٹی، کہیں سمندر سے پٹرول نکالنا، کہیں شفاف عدالتی نظام چلانے کے جرائم ہیں۔

اب بتائیے کہاں جائیں؟ کل میں گھر کے گیٹ سے باہر نکل رہی تھی کہ ایک خوبرو نوجوان اچانک موٹر سائیکل پہ میری گاڑی کے آگے آ گیا۔ پوچھنے پہ کہنے لگا کہ میں کورونا ٹائیگر ہوں۔ میں نے کہا چلو شکر ہے تم نظر تو آئے بتاؤ دس لاکھ ٹائیگر فورس کہاں ہے؟ کہنے لگا ہم سب نے سلیمانی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں میری ٹوپی بھی آج کہیں رستے میں گر گئی تو میں بھی دکھائی دے گیا ورنہ آپ کہاں دیکھ پاتیں مجھ کو ۔ ہر حکومت کی طرح اس حکومت نے بھی صرف وعدے توڑے ہیں۔

عوام سے کیا گیا ہر نیا وعدہ پچھلی حکومتوں کے پرانے وعدوں کی توسیع کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ عوام کا طرز زندگی اس بوسیدہ مکان کی طرح ہوگیا ہے جہاں دیمک جیسی چھوٹی بڑی مشکلیں جنم لیتی رہتی ہیں۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم کے مسئلے، تمام یوٹیلٹی بلز کی بروقت ادائیگی کا رنڈی رونا یہ سب چیزیں تلملاہٹ میں اضافہ ہی کرتی ہیں کمی نہیں۔ کورونا کا جن یقیناً آدم بو آدم بو کرتا ہوا سب بستیوں پر ہاتھ صاف کرتا نظر آتا ہے۔

اس وقت صورت حال خطرناک ترین ہو چکی ہے۔ U۔ H۔ S کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کم از کم پندرہ دن کے کرفیو کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن ہمارے وزیراعظم ماننے کو تیار ہی نہیں! دوسری طرف سال 2020 اور 2021 کے بجٹ کی دستک دروازوں پہ سنائی دے رہی ہے۔ سننے میں آ رہا ہے ہمارا اس دفعہ کا بجٹ آئی ایم ایف تیار کرے گی تو کیا آئی ایم ایف کی ٹیم ہمارے خزانے کی وزارت میں ہمارا قومی لبادہ اوڑھے بیٹھی تھی۔

افراط زر، ترقیاتی بجٹ، معاشی مشکلات اور خسارے کی شرح بتا رہی ہے کہ ہماری معیشت کا کباڑا ہوچکا ہے۔ شام کو عوام امیدوں کی ننھی منی موم بتیاں لے کر ٹی۔ وی سکرینوں کے آگے بیٹھ جاتی ہے لیکن متواتر پریس کانفرنسیں صرف دماغ چاٹتی ہیں۔ اب پاکستانی قوم ترقی کی سنہری پوستین تو کیا ہی حاصل کرے گی اس کا بسنتی چولا بھی جگہ جگہ پیوند لیے ہوئے ہے۔ جمہوریت کی سیڑھیوں سے گرنے کے بعد ہم سیلف کی لاٹھی کو ٹیکتے ہوئے اپنے Piedpiperکے پیچھے پیچھے تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گئے ہیں۔

آخر میں سب سے اہم بات پیٹرول کی کرنا چاہتی ہوں عالمی منڈی کے مطابق ہم نے پیٹرول سستا تو کیا ساتھ ہی دھوپ پڑنے سے وہ نایاب ہوگیا۔ وزیر پیٹرولیم اسے مافیا قرار دے رہے ہیں تو جناب آپ کیا جانتے نہیں کہ ڈکشنری کے مطابق جرائم پیشہ تنظیم کو مافیا کہا جاتا ہے۔ یہ اوگرا کس بلا کا نام ہے اور اگر ہمارے محکموں اور وزارتوں کو مافیا نے ہی چلانا ہے تو پھر کیا فائدہ ایسی جمہوریت کا ۔ حکومت اور وزیر اعظم اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے پیٹرول کی فوری دستیابی کو یقینی بنائیں۔ عوام نے ووٹ مافیا کو تو نہیں دیا۔ ایک اور درخواست ہے میڈیا پہ آکر بھولی بھالی قوم کو مافیا کی مختصر تعریف ضرور بتائی جائے تاکہ عوام جان سکیں کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے سے مافیاز کو منتخب کرتی آئی ہے!

Facebook Comments HS