چوہیا کیسے گا سکتی ہے؟
جوزیفین چوہیا ہے جو گلوکارہ بن جاتی ہے۔یہاں سے چوہوں کی دنیا میں تبدیلیاں رونما ہوناشروع ہوتی ہیں۔ ان کی محنت و مشقت بھر ی زندگی میں ایک بالکل نئی چیز۔ پہلے وہ اسے قبول نہیں کرتے۔ اصل یہ ہے کہ وہ جس شےکو محسوس کرتے ہیں وہ خوف اور تقدیس (جسے کافکا متانت کہتا ہے ) کے جذبوں کا پیچیدہ مرکب ہوتا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انھی میں سے ایک ، انھی کی مانند ایک فانی ،کمزور ، بڑھاپے کا شکار ہونے والا وجود ،معجزنمائی کرنے لگے؟ وہ اپنی آواز ، آہنگ اور دھنوں سے انھیں بالکل ایک نئی دنیا میں لے جائے۔ وہ اس کی موسیقی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی انا یہ تسلیم کرنے میں آڑے آتی ہے کہ انھی کی مانند ایک وجود ، کوئی لافانی سر چھیڑ سکتا ہے۔ وہ اس کی موسیقی کو ایک عام سی سیٹی کہہ کر اس الجھن سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔طنز بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ دراصل ان کی جشن منانےو الی متانت ہے جو ایک عام سی آواز کو محیط ہوکر اسے خاص بنادیتی ہے۔ اگرچہ وہ اس کے ذریعے جوزیفین کی ذات میں رونما ہونے والی ماورائیت کا انکار کرتے ہیں، لیکن یہ سچ ہے کہ اگر جشن منانےو الی متانت نہ ہو تو فن ،جنگل کی صدا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ خود اپنی اس متانت سے بے خبر رہتے اوراس سے بھی لاعلم رہتے کہ وہ متانت کا جشن بھی مناسکتے ہیں، اگر جوزیفین ان کے سامنے آڈیٹوریم میں گانے نہ گاتی۔ وہ مانتے ہیں کہ جب وہ گاتی ہے توان پر ایک سحر طاری ہوجاتا ہے؛ ایک اور ہی دنیا کا آہنگ ،ان کی رگوں میں بہنے لگتا ہے ۔ وہ آڈیٹوریم میں بیٹھے ہوئے بولنا چاہتے ہیں۔ وہ ہنسنا چاہتے ہیں ، دوسروں کے ساتھ اور جوزیفین پر مگرکوئی اور نہیں اس کی موسیقی انھیں روک لیتی ہے۔وہ موسیقی اور جوزیفین کے احترام پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔
ایک فنکار سماج کو عجب مشکل میں ڈالتا ہے ۔کوئی سماج جب پہلی بار کسی فنکار سے دوچار ہوتا ہے تو سب سے پہلے ہم جنسوں کی انا مجروح کرتا ہے۔انھیں یہ تسلیم کرنے میں واقعی مشکل پیش آتی ہے کہ انھی جیسا شخص کیسے کسی غیر عمومی یا ماورائی خصوصیت کا حامل ہوسکتا ہے۔اس کا احساس خود فنکار کو بھی ہوتا ہے۔ جوزیفین بھی اس غیر عمومی خصوصیت کا ادراک رکھتی ہے ،اور وہ اس کی بنیاد پر احترام چاہتی ہے۔وہ ایک عام چوہیا کا کردار ادا کرنے کو قبول نہیں کرسکتی۔وہ اپنے فن کو اس قدر مکمل اور ارفع سمجھتی ہے کہ وہ باقیوں کی مانند رزق کی مشقت نہیں اٹھانا چاہتی۔اس کے فن کاانحصار جن لوگوں پرہے ،وہ انھی میں فضلیت چاہتی ہے ۔اس سے بھی لوگوں کی انا کو چوٹ پہنچتی ہے۔ مجروح اناہر خطرے سے کھیلنے کو تیار ہوجاتی ہے۔ صدیوں کے ان اخلاقی ضابطوں کی شکست کا خطرہ بھی مول لے لیتی ہے جن پر سماج کی سالمیت کا انحصار ہوتا ہے۔لیکن ا س مجروح انا کو جو چیز انتہائی قدم اٹھانے سے روکتی ہے ،وہ فن کا سحر ہے۔فن اپنے تحفظ کا سامان تو رکھتا ہی ہے ، وہ لوگوں کے منفی ارادوں کو فسخ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
جب ایک خارپشت ، جوزیفین کے گانے میں شور پیدا کرکے مداخلت کرتا ہے تو اسے وہ سب چوہے سبق سکھاتے ہیں ، جو اپنے دلوں کے کسی کونے میں اسی طرح کی مداخلت کی خواہش رکھتے ہیں۔ خارپشت کو سزا دینے میں اس لیے بھی شدت ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ خارپشت انھی کی مخفی خواہش کی نمائندگی کرتا ہے۔(لیکن یہ خار پشت ختم نہیں ہوتے؛ ہر جگہ ،ہر وقت موجود ہوتے ہیں)۔ سب چوہےخود کو سزا دیتے ہیں۔وہ جان لیتے ہیں کہ فن عطا ہے ۔ انھیں اس سادہ سی بات کو سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی کہ جب ہر چوہا نہیں گاسکتا لیکن ہر چوہا جوزیفین کی گائیکی سے مسحور ہوسکتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ جوزیفین انھیں عطا کی گئی ہے۔ وہ” عطا ” کا ٹھٹھہ کیسے اڑا سکتے ہیں۔حالاں کہ وہ مانتے ہیں کہ جوزیفین انھیں کوئی فیصلہ کن قوت نہیں دیتی ،جس سے ان کے معاشی مصائب کم ہوجائیں اور ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوجائے ۔ لیکن جب بھی وہ مایوسی کی کسی انتہا کا سامنا کرتے ہیں تو وہ اس کے گیت سنتے ہیں۔ اس طور وہ خوداس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ معاشی مصیبت برداشت کر سکتے ہیں، مایوسی کی انتہا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں مجروح ہونے والی انا ، بعد میں فنکار کو ہیرو قرار دے کر اس کے ذریعے اپنی انا کی توسیع کرلیتی ہے۔
کافکا کے اس افسانے کے آخری دوصفحات مرحومہ جوزیفین کی مدحت اور ہمدردی میں لکھے گئے ہیں، اس آگہی کے ساتھ کہ وہ انھی میں سے تھی۔کہانی کا راوی چوہا کہتا ہے ” وہ ہماری نوع کے کبھی ختم نہ ہونے والے ساگا میں ایک چھوٹی سی کہانی ہے،تاریخ کا چھوٹا سا ٹکڑا۔اور جو صدمہ ہمیں ملا ہے،ہم اسے سہہ لیں گے۔ ہماری نوع کا سفر جاری رہے گا۔ لیکن ہم کیسے مکمل طور پرخاموش کھڑے ہونے کے لئے جمع ہوں گے ،یہ ہمارے لیے آسان نہیں ہوگا۔ جب وہ ہمارے درمیان تھی ، ہم اس قدر خاموش نہیں تھے ؛اس کی سیٹی اس کی یاد سے کہیں زیادہ بلند آہنگ اور جیتی جاگتی تھی —-وہ زمینی مصائب سے آزاد ہوگئی ہے، وہ مصائب جو اس کے خیال میں ہر اس شخص کے لیے ہیں جو دنیوی چیزوں سے بلند ہونے کا انتخاب کرتا ہے”۔ لیکن یہ عوام کا قصہ ہے۔ ان فنکاروں کا قصہ الگ ہے ،جن کی انا کسی دوسرے فنکار کے ہاتھوں مجروح ہوتی ہے۔ کافکا نے اس کو اس افسانے میں موضوع نہیں بنایا۔

ایک فنکار کی موجودگی میں دوسرے فنکار کی انا کے مجروح ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔برٹرینڈ رسل نے ملکیتی اور تخلیقی جذبات میں فرق بیان کیا تھا۔ تخلیقی جذبہ ،دوسروں کی شرکت پسند کرتا ہے، ملکیتی جذبہ نہیں۔ بعض (سب نہیں )تخلیق کار ،تخلیقی جذبے سےز یادہ ملکیتی جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ غیر فنکارمداحوں کی شرکت تو پسند کرتے ہیں لیکن کوئی دوسرا فنکار ان کی مانند ،ا ن سے بہتر صلاحیت کا حامل ہو، اسے اپنا حریف تصور کرتے ہیں۔ اردو اور عالمی ادب کی تاریخ میں ا س کی بے شمار مثالیں ہیں۔اردو کے ادبی معرکوں کو” نقوش” نے دوجلدوں میں اور ڈاکٹر یعقوب عامر نے اپنی کتابوں میں محفوظ کیا ہے۔ اکثر معرکے زبانی تھے اور ان سے نئی ادبی وتنقیدی بحثوں کو تحریک ملی۔ لیکن کچھ ان اخلاقی حدوں سے آگے تھے جن کا محافظ ادیبوں کو سمجھا جاتا ہے۔ انشااللہ خاں انشا ، مصحفی کے مکان کی طرف بہ قول آزاد ایک انبوہ کثیر لے کر گیا؛پیدل اورہاتھیوں پر سوارلوگ ہجویں لہراتے اور پڑھتے جاتے تھے۔وہ ہجویں سب ناگفتنی ہیں۔عبدالماجد دریابادی کے اشتعال دلانے پر اسی لکھنو میں یگانہ کا منھ کالا کر کے گلیوں میں رسوا کیا گیا۔
مارکیز نے 1976 میں میکسکو سٹی میں ایک فلم پریمئر کے موقع پریوسا کو سرعام تھپڑ جڑ دیا تھا کہ مارکیز نے اس کی ناراض بیوی کی "اشک شوئی” کی تھی۔ دونوں معمولی فنکار نہیں تھے۔ دونوں کو نوبیل انعام ملا۔اپنے زمانے کے مقبول امریکی ناول نگارنارمن میلر نے گوری وڈال کو سب کے سامنے تھپڑ مار کر رسوا کیا۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بڑے فنکار کی انا غالب کے لفظوں میں "الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا” تک جاسکتی ہے ،لیکن کیا یہ انا اس قدر بڑی ہوجاتی ہے کہ اسے دوسروں پر تشدد میں عار محسوس نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ ایک حریف کی موت کے بعد ادیب کی انا نہیں جھکتی ۔طبقاتی غرور میں مبتلا بائرن نے کیٹس کی تعزیت کے لیے یہ الفاظ کہے: اس نے بہ طور شاعر "غلط راستہ ” پکڑا۔ اگر ایک شاعر کے لیے کوئی جہنم ہوسکتا ہے تو یہ احساس کہ اس کا راستہ غلط تھا! آج بھی بعض اوقات تخلیقی ،شراکت پسند جذبے پر حریص ملکیتی جذبہ حاوی محسوس ہوتا ہے! خارپشتوں کو یہ کہنے میں عار محسوس نہیں ہوتا کہ کیا "چوہیا بھی گا سکتی ہے؟”


