کیا آپ گلزار کو جانتے ہیں؟
گفت پیغمبر کہ بردست صبا
از یمن می آیدم بوئے خدا
(پیغمبر نے کہا کہ ہوا کے زور پر یمن سے مجھے خدا کی خوشبو آ رہی ہے )
وہاں خدا کی خوشبو کا جلوہ تھا اور یہاں انسانی رشتوں کی خوشبو کا آبشار۔ آدم نے گندم کا قرض لیا اور دنیا میں بھیج دیے گئے۔ شجر ممنوعہ میں انسانی رشتوں کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان پوشیدہ تھی۔ اور مقام حیرت یہ کہ انسانی رشتوں کی پرتیں کھولنے کا کام ایک ایسے جادوگر کو دیا گیا جس کانام سمپورن سنگھ کا لرہ تھا۔ نظموں اورغزلوں کی تاریخ میں مختلف زبانوں میں ایک سے بڑھ کر ایک جادو گر پیدا ہوئے لیکن رشتوں کے طلسم کو الفاظ کی موسیقی سے حل کرنے والا جادوگر صرف ایک ہوا۔
آپ اس کے گیت سنیں، غزلوں اور نظموں کا مطالعہ کریں تو ایک عجیب سی کیفیت آپ پر طاری ہوجاتی ہے اور پھر آپ اس نئی دنیا کے حوالے ہوتے ہیں، جس سے گزرے تو ہزاروں لاکھوں بار ہوں گے لیکن اس سطح پر کبھی ان کیفیتوں کو دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا ہوگا۔ اب یہی دیکھئے۔ ٹرین پر لاؤ لشکر کے ساتھ کھڑا ایک نوجوان (شاہ رخ خاں ) عشق کی موج اور ترنگ کو آواز دے رہا ہے۔ چل چھیاں۔ ۔ ۔ چھیاں۔ ۔ ۔ چھیاں۔ ۔ ۔
جن کے سر ہو عشق کی چھاؤں
پاؤں کے نیچے جنت ہوگیچل چھیاں چھیاں چھیاں
وہ یار ہے جو خوشبو کی طرح
دل کی زباں اردو کی طرح
بارش کا موسم۔ بھیگی زمین سے، پاؤں سے پانی اڑانے یا اچھالنے کا عمل۔ ایک نوجوان لڑکا، ایک نوجوان لڑکی۔ اب پانی کے چھینٹے کیسے اڑ یں گے۔ ۔ ۔ ذرا یہ گیت دیکھئے۔ چھپاکے چھئیں۔ ۔ ۔ آتی ہوئی موجوں پے جاتی ہوئی لڑکی۔ ۔ ۔ چھپا کے چھئیں۔ ۔ ۔
”چھئی چھئی چھپا کے چھئی پانیوں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی لڑکی
چھئی چھئی چھپا کے چھئی پانیوں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی لڑکی
اور ان نغموں سے الگ اگر اداس رنگوں کو نغموں کی شکل دینا ہو تو یہاں بھی صوتی آہنگ کا سہارا۔ یارا۔ ۔ ۔ سیلی سیلی برہا کی رات کا جلنا۔ ۔ ۔ یارا۔ ۔ ۔ کجرارے کجرارے۔ ۔ ۔ تیری کاری کاری انکھیاں سے لے کر بیڑی جلئی لے۔ ۔ ۔ اور ایسے ہر نغمے میں ہر شاعری میں، ہر نظم اور غزل میں موجوں کی طرح بہتے جو شفاف اور نئے استعارے سامنے آتے ہیں، میر ا ذاتی خیال ہے، دنیا کی کسی بھی شاعری کی زبان میں انسان ہونے کی کیفیت، رسم اور رشتوں کے تناظر میں شاید ہی صوتی آہنگ کا سہارا لے کر اس طرح خیال کوشاعری کی زبان عطا کی گئی ہو۔
سمپورن سنگھ نہ ختم ہونے والی محبت اور انسانی رشتوں کے گیت گاتے ہوئے کب کالرا سے گلزار بن گئے، اس کا تجزیہ آسان نہیں۔ 7491 میں جب فسادات کی آگ روشن ہوئی تو گلزار اپنے خاندان کے ساتھ امرت سر آگئے۔ دوسو برسوں کی غلامی سے پیدا ہوئی لہو لہو آزادی اور تقسیم کے درد نے گلزار کو بھی متاثر کیا اور کہنا چاہیے کہ دوسروں سے کہیں زیادہ متاثر کیا۔ گلزار کی مکمل شاعری اور نغموں میں ان کیفیات کو بہ آسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔
اور اسی لیے گلزار کی شاعری سرحدوں سے آزاد ہے۔ سرحدیں نہ رشتوں پر اثر ڈال سکیں اور نہ گلزار کی زندگی پر۔ وہ ہندوستان سے بھی قریب رہے اور آج بھی ان کے دلوں میں پاکستان اور جہلم کی وادیاں آباد ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کو پیار سے بابا کہتے ہوئے وہ مسلسل پاکستانی سرزمین سے اپنی محبتوں کا اقرار کرتے رہے ہیں۔ تقسیم کے درد کو گلزار کے لیے بھولنا آسان نہیں تھا۔ امرت سر سے ممبئی کی وادیوں میں قدم رکھنے تک محبت اور رشتوں کے کھلے اظہار کا شاعر جاگ چکا تھا۔ کتابوں اور الفاظ سے دوستی ہوئی تو غالب ومیر واقبال سے الگ تراکیب اور استعارے ان کی شاعری کی کہکشاں کو روشن کر رہے تھے۔
”کتابیں جھانکتی ہیں، بند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں
بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں۔ ۔ ۔
انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہوگئی ہے!
۔ (کتابیں )
اب گلزار کی ایک نظم اور دیکھئے
میں نے چوما تھا مگر وقت کو پہچانا نہ تھا
چند تتلاتے ہوئے بولوں میں آہٹ تھی سنی،
دودھ کا دانت گرا تھا تو وہاں بھی دیکھا
بوسکی بیٹی میری، چکنی سی ریشم کی ڈلی،
لپٹی لپٹائی ہوئی ریشم کے تاگوں میں پڑی تھی
مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ وہاں وقت پڑا ہے
پالنا کھول کے جب میں نے اتارا تھا اسے بستر پر
لوری کے بولوں سے ایک بار چھوا تھا اس کو
بڑھتے ناخنوں میں ہر بار تراشا بھی تھا
مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ وہاں وقت لکھا ہے
۔ (وقت)
بوسکی اب بڑی ہوچکی ہے۔ اب وہ بوسکی نہیں میگھنا گلزار ہے۔ باپ کے نقش قدم پر چلتی ہوئی میگھنا کے نام کئی بڑی اور خوبصورت فلمیں ہیں، جن پر گلزار بھی فخر کر سکتے ہیں۔ لیکن مجھے بھی گلزار کی طرح وہی بوسکی یاد ہے، جس کے نام برسوں پہلے گلزار نے ایک گیت لکھا تھا۔ بٹو رانی بوسکی۔ بوند گری ہے اوس کی۔ اوس کا دانہ موتی ہے۔ بوسکی جس میں سوتی ہے۔ اوس کے قطرے میں معصوم سی بیٹی کے سونے کا تصور صرف گلزار ہی کر سکتے ہیں۔
وقت کا پہیہ گھوما۔ بنگالن راکھی سے شادی گلزار کو راس نہیں آئی۔ لیکن رشتوں پر اعتماد رکھنے والے گلزار نے راکھی سے علیحدگی کے خیال کو نہ دل میں جگہ دی نہ شاعری میں۔ ہاں وہ وقت کے گھومتے۔ پہیے سے بد دل ضرور رہے مگر سفید شفاف لباس کو اپنی پسند بنانے والے گلزار نے اپنے شفاف اور منور دل میں کبھی ناکامیوں، ہجر یا فراق کے لمحوں کو جگہ نہ دی۔ ان کے یہاں ماضی کا تصور ایک پھولوں بھرا راستہ ہے جس پر قدم رکھتے ہوئے وہ آسانی سے جہلم کی وادیوں، سرحدوں اور انسانی رشتوں تک کا سفر خوبصورتی سے طے کرلیتے ہیں۔
اس عمر میں بھی وہی عاشق زندہ ہے جس نے محبتوں کو دوسروں سے الگ اپنی تعریف اور اپنی مختلف کیفیت کی زبان دی ہے۔ غور کریں تو یہاں ایک محبت اردو زبان کے لیے بھی ہے۔ اس لیے چل چھیاں چھیاں والے نغمہ میں وہ اردو کو دل کی زبان تسلیم کرتے ہیں اور دل ہی وہ استعارہ ہے، جو گلزار کی شاعری اور نغموں کو اظہار و بیان کا نیا وسیلہ بنادیتا ہے۔ یہ دل ہی ہے جس نے گلزار کو کبھی بیمار نہ ہونے دیا۔ وہ عشق میں ناکامی کے قائل ہی نہیں۔ وہ محبتوں کے چند لمحات کو زندگی بنا لینے کے قائل ہیں۔ اور اسی لیے اردو شاعری کے مزاج ومعیار پر گفتگو ہو تو گلزار سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ فلم اجازت کا یہ نغمہ دیکھئے۔
میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے
ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں
اور میرے اک خط میں لپٹی رات پڑی ہے
وہ رات بجھا دو
میرا وہ سامان لوٹا دو
۔ (فلم اجازت)
محبت کے یہ تحفے، یہ لمحات کب واپس کیے جا سکتے ہیں۔ غور کریں تو رشتوں کی مضبوطی اور محبت سے بھرپور گلزار کی شاعری کے لیے یہ نغمہ کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی مکمل زندگی اسی نغمے کے ارد گرد طواف کرتی ہے۔ اور اسی لیے گلزار نے ناقابل فراموش لمحات اور لمس کا یہ تحفہ واپس نہیں کیا، اسے دل کے نہاں خانے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔ راکھی چلی گئی مگر راکھی، گلزار کے دل سے نہیں گئی۔ بوسکی بڑی ہوگئی اور بوسکی نے اپنی دنیا آباد کرلی۔
مگر شبنم کے قطروں میں بوسکی کا پالنا تلاش کرنے والے گلزار کے لیے بوسکی کبھی میگھنا میں تبدیل ہوئی ہی نہیں۔ وہ وہی بٹورانی بوسکی رہی۔ گلزار نے اپنے ارد گرد محبت اور رشتوں کی گہرائی کا جو باغ تعمیر کیا، وہ مسلسل اس کی آبیاری کرتے رہے۔ اور اسی لیے محبت اور انسانی رشتوں پر ان کا نظریہ دوسرے شاعروں سے مختلف رہا۔ آسکر انعام یافتہ گلزار کی زندگی کا ہر صفحہ آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ زندگی محبت سے تعبیر ہے اور اس میں کچھ بھی چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اور اس لیے گلزار کہتے ہیں۔
میرے گھر کا سیدھا سا اتنا پتہ ہے
مرے گھر کے آگے محبت لکھا ہے



