سیکس تھیراپسٹس کو کیسی کیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں؟


سیکس، تھیراپی، جنسی مسائل، جنسی علاج، جنسی معالج،

VICKY LETA / BBC Three

عضوِ تناسل کی ایستادگی یا سرعتِ انزال دو ایسے مسائل ہیں جن کے علاج کے لیے اکثر مرد میرے پاس آتے ہیں۔ ہم جنسوں کے تعلقات میں جہاں ایک جوڑے کے دونوں رکن ایستادگی چاہتے ہیں وہاں دونوں میں بہتر کرکردگی دکھانے کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔ تاہم کم ازکم مخالف جنس والے جوڑے کے درمیان مرد پر ایسے لمحے اس طرح کا کوئی دباؤ نہیں ہوتا ہے کہ کس کی ایستادگی بہتر ہوتی ہے۔

میں نے میٹ اور ایلیکس کو ایک ایسی مشق کرنے کو دی جس سے وہ اپنی بہت ہی ذاتی نوعیت کی قربت کے دباؤ کو سمجھ سکیں۔ ہر ایک اپنے ساتھی کے جسم کو آدھے گھنٹے کے لیے چھوئے گا اور یہ تلاش کرنے کی کوشش کرے کہ انھیں کیسے لذت محسوس ہوتی ہے اور جسم کے کن کن حصوں میں محسوس ہوتی ہے۔

وہ دونوں ننگے تھے لیکن دونوں کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ ایک دوسرے کی جنسی اعضا کو ہاتھ لگائیں یا اُنھیں چُھوئیں۔ یہ مجامعت سے پہلے کا مساس نہیں تھا یعنی جو سیکس کرنے سے پہلے ایک دوسرے کو چھو کر جنسی جوش پیدا کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ لذت کے حساس حصوں کو دریافت کیا جائے۔

بالآخر ان دونوں نے ایک دوسرے کے پورے جسم کو چُھونا شروع کردیا اور ایک دوسرے کی جنسی خواہش کو بیدار کرنے کی صلاحیت پیدا کرلی۔ انھوں نے اپنے علاج کے دوران بہت محنت کی اور میرے ساتھ گزارے

ان سیشنزکو وہ اپنے لیے ایک رومانوی ملاقات یا ایک ‘ڈیٹ’ سمجھتے جس کے دوران شمعیں روشن کرتے اور رومانوی موسیقی بجاتے۔ کتنی خوشی کی بات ہے کہ پھر میٹ کا اعتماد بڑھ گیا۔

پندرہ ہفتوں کی تھیراپی کے بعد میٹ اور ایلیکس نے دخول والی مکمل مجامعت (سیکس) کرنا شروع کردی۔ پھر چند ہفتوں کے بعد انھوں نے بتایا کہ ہر بار مجامعت کرنے سے اور زیادہ بہتری ہوتی ہے۔

تھیراپی ختم ہونے کے تین ماہ بعد وہ ایک فالو اپ سیشن کے لیے مجھ سے ملنے آئے۔ اور وہ ایک دوسرے کے لیے بہت زیادہ پیار کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ انھوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اب وہ شادی کر رہے ہیں۔ یہ سن کر بہت اچھا لگا کہ اب وہ دونوں بہت زیادہ خوش و خرم ہیں۔

میرے دوستوں کو میرا پیشہ بہت دلکش لگتا ہے۔ لوگ اس وقت دلچسپی لینے لگتے لیں جب میں انھیں بتاتا ہوں کہ مشورے دیتا ہوں — لیکن جب میں انھیں بتاتا ہوں کہ میں ایک سیکس تھیراپِسٹ ہوں تو پھر بڑی عجیب قسم کی چہ مگوئیاں ہونے لگتی ہیں۔

کچھ دوست تو سیکس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولتے ہیں بلکہ اس بارے میں ہو تو وہ بے سکون ہوجائیں گے۔ البتہ دوسرے دوست بڑی خوشی کے ساتھ اپنے جنسی مسائل پر بات کریں گے۔

کچھ دوستوں نے تو مجھ سے پیشہ ورانہ مشاورت کے لیے وقت بھی مانگا کیونکہ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسے شخص سے اپنے نجی نوعیت کے موضوع پر بات کرنا آسان سمجھیں گے جو ان کا دوست بھی ہے۔ لیکن میں نے ایسے دوستوں کی درخواستوں کو قبول نہیں کیا۔

یہ ضروری ہے کہ میں اپنے پیشہ ورانہ کام کا اثر اپنی ذاتی زندگی پر نہ پڑنے دُوں اس لیے آپ اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کے ساتھ مریض و معالج والا تعلق نہیں بنا سکتے ہیں۔

اکثر جنسی تعلقات میں مسائل کا تعلق کسی ماضی کے حادثے یا صدمے سے ہوتا ہے جیسے جنسی حملہ یا جنسی زیادتی۔

ایک زیرِ علاج خاتون میری، جسے دخول کے وقت اندامِ نہانی کے سُکڑنے کا مسئلہ درپیش تھا، اُس نے سُن رکھا تھا کہ اس کی ماں اپنے ایک بچے کو پیدا کرتے وقت مرنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔

اس خاتون کے ساتھ ہمارے دوسرے سیشن کے دوران میں نے اس کے ماضی کے واقعات کی ایک تاریخ لینی شروع کی، اس طرح کے سیشن میں میں اپنے زیرِ علاج شخص سے اس کے بچپن سے لے کر اب تک کے واقعات کی ایک تاریخ بناتا ہوں، خاندان کا پس منظر معلوم کرتا ہوں اور پہلے کے جنسی تجربات کے بارے میں پوچھتا ہوں،

اسے میں ‘تاریخ لینا’ کہتا ہوں۔ میری نامی اس خاتون نے مجھے اپنے بچپن کے زمانے کے ایک صدمے کے بارے میں بتایا جب وہ ایک کم سن بچی تھی۔ اُس نے اپنی ماں اور دوسرے رشتہ داروں کو بہت زیادہ چیختے ہوئے سنا تھا کہ شاید وہ اب بچ نہ سکے۔

زیرِ علاج خاتون میری کے دخول کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ‘کاگنیٹو بی ہیوئیر تھیراپی’ کا سیشن کیا جس کے ذریعے ہم کسی بات پر خو بخود ہونے والے ردعمل کو جانچتے ہیں۔

میں نے اُسے کہا کہ وہ کولہوں کے پٹھوں کو ڈھیلا چھوڑ دے اور پھر میں نے اُسے آمادہ کیا کہ وہ ‘ٹرینر’ نامی مصنوعی اعضا کے دخول کی مشق کرے۔ یہ ‘ٹرینر’ بہت ہموار اور ڈاٹ جیسی شکل کے آلات ہوتے ہیں اور ان کے مختلف سائز ہوتے ہیں، یہ اندامِ نہانی میں دخول کے لیے مدد دیتے ہیں۔

اگر میں مسائل کو الگ الگ خانوں میں رکھنے کے فن سے بہت پہلے سے واقف نہ ہوتا تو شاید میں یہ کام نہ کر پاتا۔

میں اکثر بہت ہی پریشان کن کہانیاں سنتا رہتا ہوں۔ مجھے اس قسم کی تکلیف دہ کہانیوں سے اپنی نجی زندگی سے الگ رکھنے کے قابل ہونا پڑتا ہے ورنہ شاید میں غیر موثر ہوجاؤں۔ ایک زیرِ علاج شخص کے لیے افسوس محسوس کرنے یا اس کے لیے غمگین ہونے سے کوئی مدد نہیں ملتی ہے۔

لیکن ہر غمگین لمحے کے لیے ایک مسرت کا لمحہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات کسی جوڑے کے علاج کے بعد ان کی طرف سے پوسٹ کارڈ آتا ہے جس میں لکھا ہوتا ‘آپ نے جو کچھ کیا ہم اُس کے شکر گزار ہیں۔ اب میں حاملہ ہوں’۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ایک جوڑا ایسا ہے جو گذشتہ 12 سالوں سے ہر سال ایک اسی قسم کے شکریے کا ایک پوسٹ کارڈ بھیجتا ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ وہ اب کیا کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک بچے کام نام میرے نام پر رکھا، ظاہر ہے کہ یہ ایک اعزاز کی بات ہے۔

ایک لحاظ سے آپ اس پیشے سے بہت زیادہ تو نہیں کماتے ہیں تاہم کوئی ایک سبب تو ہونا چاہئیے کہ آپ یہ کام کیوں کر رہے ہیں۔ لوگوں کا علاج کرنا اور انھیں آپ کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو بہتر کرتے ہوئے دیکھنا، اس سے ناقابلِ یقین حد تک مسرت کا بھر پور احساس پیدا ہوتا ہے۔

سیکس، تھیراپی، جنسی مسائل، جنسی علاج، جنسی معالج،

VICKY LETA / BBC Three

یہ کہانی انھوں نے بی بی سی تھری کی نتاشا پریسکی کو سنائی جنھوں نے اسے تحریری شکل دی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp