ظلم کی بہت سی صورتیں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک طرف تو دنیا کرونا کی وبا کی زد میں ہے اور نحوست اور مایوسی کے سائے دن بدن گہرے ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ سمیت پوری دنیا میں جارج فلائڈ کی موت سے اٹھنے والی اک لہر ہے جو آسٹریلیا تک آ پہنچی ہے۔ ملبورن میں منظم احتجاج کا یہ دوسرا ہفتہ ہے اور دو نوجوان لڑکیوں نے سڈنی شہر میں آسٹریلیا کو دریافت کرنے والے کیپٹن جیمز کک کے مجسمے پر سپرے کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور اس جرم میں آج ہی ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پوری دنیا کی طرح آسٹریلیا میں بھی بلیک لاؤز میٹر (Black lives matter) کی تحریک اپنے زور پر ہے اور ہزاروں لوگ کرونا کی وبا اور حکمرانوں اور میڈیکل ایکسپرٹ کی تنبیہ کو خاطر میں نا لاتے ہوئے احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں۔ ہر قوم میں استحصال کرنے کے لیے کوئی نا کوئی گروہ چن لیا جاتا ہے۔ وہ چاہے رنگ کی بیناد پر ہو یا مذہب کی۔ نفرت انسان کا ایک انتہائی تخلیقی وصف ہے اور نفرت کی نت نئی اقسام ایجاد کرنے میں انسان کا کوئی ثانی ابھی تک تو اس کرہ ارض پر پیدا نہیں ہوا۔

آسٹریلیا جو کہ سن 1770 عیسوی میں لگ بھگ سات لاکھ پچاس ہزار مقامی باشندوں کی آمجگاہ تھا جن کا اپنا ساٹھ ہزار سال قدیم معاشرتی اور ثقافتی نظام تھا اس کو کیپٹن جمیز کک نے ملکہ برطانیہ کے نام پر اپنی کالونی قرار دے دیا۔ اور جب یہ کالونی بنایا تو ساتھ ہی یہ واردات بھی کر دی کہ اس خطے کو غیر آباد قرار دے دیا۔ مطلب یہاں کوئی انسان نہیں بستا تھا۔ انگریزی میں اس کو Terra Nullius کہتے ہیں۔ جیسے ہم بچپن میں کسی کی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈ کر کہتے ہوتے تھے لبھی چیز خدا دی۔ کیپٹن جمز کک نے یہ حرکت مقامی باشندوں کے ساتھ کی۔

اس ایک واردات سے آسٹریلیا کے مقامی باشندے واجب القتل قرار پائے اور ان کی زمین پر جس پر وہ صدیوں سے آباد تھے، ان کے حق کو ختم کر دیا گیا۔ تاہم اس تاریخی واردات کو ایک طویل عدالتی لڑائی کے بعد 3 جون 1992 میں آسٹریلیا کے ہائی کورٹ نے مابو (Mabo) کے فیصلے میں درست کیا اور مقامی باشندوں کے زمین کے حق کو تسلیم کیا اور ٹیرا نولیس تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہوا جو ظلم کے سارے ضابطوں کی آخری آرام گاہ ہے۔

آسٹریلیا کو کالونی بنانے کا عمل 17 مئی 1787 عیسوی میں شروع ہوا۔ کیپٹن آرتھر فلپ کی قیادت میں برطانیہ کا گیارہ بحری جہازوں پر مشتمل قافلہ جسے آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلا قافلہ (First Fleet) کے نام سے جانا جاتا ہے اس دن برطانیہ سے روانہ ہوا۔ ان جہازوں پر سفری ضروریات کی چیزیں اور کالونی کے قیام کا سازوسامان تھا۔ 1500 نفوس پر مشتمل اس قافلے میں سپاہی ان کے بیوی بچے اور 775 قیدی شامل تھے جن کو سزا کے طور پر آسٹریلیا بھیجا جا رہا تھا اور جو برطانوی سلطنت کی توسیع کے لیے تو بالکل بھی پرجوش نہیں تھے۔

یہ قافلہ 18 جنوری 1788 کو آٹھ ماہ اور ایک ہفتے کی مسافت کے بعد باٹنی بے (Botany Bay) پہنچا۔ باٹنی بے اب سڈنی کی تجارتی بندگاہ ہے۔ کیپٹن فلپ کو باٹنی پے کچھ موزوں جگہ نا لگی اور اس نے اپنا بیٹرہ پورٹ جیکسن کی طرف موڑ لیا۔ پورٹ جیکس کو آج کل سڈنی کہا جاتا ہے۔ سڈنی کا مشہور زمانہ ہاربر بریج اور اوپرا ہاؤس یہں ہیں۔ کیپٹن فلپ کی قیادت میں یہ قافلہ 26 جنوری کو لنگر انداز ہوا۔

26 جنوری کا دن اسی مناسبت سے آسٹریلیا ڈے کے قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے مگر بہت سارے گروپ ہر سال اس کو حملے کا دن (Invasion day) کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ہر سال اس دن پر ایک تنازع قومی میڈیا اور گفتگو کا مرکز بنا رہتا ہے۔ 1788 سے لے کر اگلے دس سالوں میں برطانیہ سے آئے ہوئے انسانوں اور ان کے ساتھ پہلی دفعہ اس خطے پر وارد ہوئی چیچک، خسرہ اور زکام کی وبا سے مقامی باشندوں کی 90 فصید آبادی ختم ہو گئی۔ دو سو سال گزر جانے کے باوجود مقامی باشندوں کے ساتھ ناروا انسانی سلوک کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔

حوالات میں ہونے والی اموات میں مقامی باشندے بہت بڑی تعداد سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ سن 1987 کا کیمشن ہو یا سن 1991 کا رائل کمیشن جس نے مقامی باشندوں کی حوالات میں اموات پر تحقیق کی اور اپنی سفارشات دیں مگر مقامی حکومتیں زیادہ تر سفارشات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں اور مقامی باشندوں کی اموات کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔

اس تناظر میں آسٹریلیا کی بلیک لاؤز میٹر کی تحریک کا ایک مقامی پس منظر ہے۔ یہ وہ زخم ہے جسے جارج فلائڈ کی موت نے ایک نئی جہت بخشی ہے۔ مگر اس سارے پس منظر سے میرا مقصد نفرت اور ظلم کی اس تاریخی حقیقت کو بیان کرنا تھا جو بطور انسان ایک انسان دوسرے انسان سے کرتا آ رہا ہے۔ اس تحریک نے ظلم اور جبر کرنے والے بتوں کے نا صرف منہ پر سیاہی پھیرنی شروع کر دی ہے بلکہ ہر طرف ایک غم و غصے کی ایک لہر ہے جس میں جبر کے ان سبھی بتوں کو گرایا بھی جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے برسٹل برطانیہ میں سترویں صدی کے افریقی غلاموں کے سوداگر ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ مظاہرین کے غیض و غضب کا شکار ہوا اور اس کو گھسیٹ کر باقاعدہ طور پر قریبی حوض میں علامتی طور پر سمندر برد کیا گیا۔

پاکستان میں جبرو استبداد کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اپنی کم سن بٹییوں کے لئے جن کو زبردستی مذہب تبدیل کر کے مسلمان بنا لیا جاتا ہے کی برآمدگی کے لئے عدالتوں کے چکر لگاتے والدین ہوں یا وہ مائیں، بیویاں بہنیں اور بوڑھے باپ جن کے بیٹے، سوہاگ، بھائی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے باپ جن کو نا معلوم افراد یوں غائب کر دیتے ہیں کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا سبھی ایک نا ختم ہونے والے جبر کا شکار ہیں۔ آپ امریکہ کو کچھ بھی کہیں مگر یہ ماننا پڑے گا کہ امریکہ ایک مثبت سمت پر گامزن ہے۔ کم از کم وہاں اس ظلم کے خلاف ایک طاقتور آواز تو بلند ہوئی ہے اور فرقے رنگ اور نسل سے آگے بڑھ کر پوری دنیا اپنے اپنے گریبان میں جھانک رہی ہے۔ ایک امید کی جا سکتی ہے کہ ظلم کا یہ بازار مستقبل قریب میں بند ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے کیونکہ لوگوں نے ٹھان لیا ہے کہ اب بس۔

مگر اپنے خطے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس پر کسی نحوست کا نا ختم ہونے والا سایا ہے۔ وہی قوم جو محمد بن قاسم کو ہیرو کہتے ہوئے تھکتی نہیں وہ اسی سندھ میں ہندو، سکھ اور مسیحی کم سن بچیوں کو زبردستی اٹھا کر مسلمان بنائے جانے پر نا آواز اٹھاتی ہے اور نا اٹھانے دیتی ہے۔ مطلب ظلم وہی ہے جو کشمیر اور فلسطین میں ہو رہا ہے مگر جو ہمارے اپنے گلی محلے میں ہو رہا ہے وہ ظلم ہی نہیں۔ محمد بن قاسم کے قصے اس بے شرمی سے سنائے جاتے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ کیا انسان ہونے کے لیے مسلمان ہونا ہی واحد شرط ہے۔

پھر مسلمان کی بھی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں۔ اگر آپ شیعہ ہیں تو آپ کو یمن پر سعودی بمباری ظلم لگتی ہے مگر اسی شیعہ کو شام میں اسد کا ظلم نظر نہیں آتا۔ بات بات پر امریکہ مخالف جلوس نکالنے والی جماعت اسلامی کو اپنے ہی گلی محلوں میں بے قصور کٹتے شیعہ اور اقلیتیں نظر ہی نہیں آتے۔ ظلم ظلم ہے تو پھر سارا ظلم ظلم ہونا چاہیے۔ کب تک ہم اچھا ظلم اور برا ظلم کھلیتے رہیں گے؟ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جن میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کرتی ہیں اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تو ابھی یہ ادراک ہی نہیں ہوا کہ ہم بھی کچھ غلط کر رہے ہیں۔ اصلاح تو شروع ہی غلطی کا احساس ہونے سے ہوتی ہے۔ یہاں تو احساس ہی نہیں ہوا تو اصلاح کیسی۔

مگر ایسا کب تک چلے گا؟ کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ اس ظلم کے ساتھ کون کون مٹ جائے گا کیا پتہ۔ کیا پتہ آنے والے کل کی سندھ میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی کتاب محمد بن قاسم کو کون سا نام دے گی؟ جبر اور ظلم تو جبر اور ظلم ہی رہتا ہے۔ برسٹل برطانیہ میں ایڈورڈ کولسٹن کا بت توڑنے والے گوروں کے آباواجداد نے خوشی خوشی جب 1895 میں ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کی رونمائی میں شرکت کی تھی تو ان کو کیا پتہ تھا کہ ایک صدی بعد ان کا پوتا یا پوتی یا پڑپوتا اور پڑپوتی اس مجسمے کو یوں پامال کریں گے۔ تاریخ تو یہی کرتی ہے۔ آج کے خدا آنے والے کل کے شیطان بن جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply