صدر الدین ہاشوانی کا ”سچ کا سفر“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے ارد گرد خوشحال چہروں کو دیکھ کر انسان اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں یا ان کے پیچھے برسوں کی مشقت کا تھکا دینے والا سفر ہے۔ جناب صدرالدین ہاشوانی بھی ایسے ہی چہروں میں سے ہی ایک ایسا چہرہ ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو وقت آنے پر خود ہی اس راز سے پردہ اٹھا دیتے ہیں کہ دودھ اور شہد کی یہ نہریں جو ان کے ارد گرد بہہ رہی ہیں، ان کو ان کے بڑوں نے کھودا ہے یا خود انہیں فرہاد بننا پڑا۔

”سچ کا سفر“ پاکستان کی ہوٹل انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ اور ”ہاشو گروپ“ کے سربراہ (بانی) جناب صدرالدین ہاشوانی کی سوانح حیات ہے جس میں تجارت، کاروبار، سیاست، منافقت، مخالفت، مشقت، محنت، جدوجہد، کامیابی، ناکامی سب کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ کتاب کیاہے ایک رہنما دستاویز ہے جو محنت کرنے والے کو ایک ہی درس دیتی ہے کہ کام میں لگے رہو، کامیابی خود اس کے پاس چل کر آ جائے گی۔ جناب فرخ سہیل گوئندی نے اس پر اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا ہے ”محترم ہاشوانی صاحب کی مخاطب پاکستان کے نوجوان اور نسل نو ہے۔ یہ امر پاکستان کی نوجوان نسل سے ان کی محبت اور الفت کا مظہر ہے اور اسی مقصد کے پیش نظر انہوں نے پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوان نسل کو محنت کی عظمت سے روشناس کرانے کی حقیقت پسندانہ اور عملیت پسندانہ کوشش کی ہے۔“

اگر ہاشوانی صاحب ہمیں خود نہ بتاتے تو شاید کوئی یقین نہ کرتا کہ آج کے زمانہ کی ایک کامیاب کاروباری شخصیت کو ایک زمانہ میں گردش روزگارنے بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں ٹرکوں کے پچھلے حصوں میں بیٹھ کر سفر کرنے پر بھی مجبور کیا تھا، یا یہ کہ کاروباری زندگی کے شروع میں وہ کپاس کے کارخانوں میں گانٹھوں کو باندھنے والی سٹیل کی پتریوں کا کام بھی کرتے رہے۔ یہ ان کا کمال تھا کہ ان پتریوں کی ترسیل کے دوران ہونے والے تجربہ نے انہیں کپاس کی برآمد کا ”بادشاہ“ بنا دیا اور بعد میں چاول کی برآمد کا شعبہ بھی ان کی ”سلطنت“ میں شامل ہو گیا۔ اس دوران ان کو جو مشکلات آئیں وہ ایک الگ کہانی ہے۔

اس کاروباری سفر کے دوران انہوں نے ایک نئی اڑان بھری اور ہوٹل انڈسٹری میں کود پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں بھی میر کارواں بن گئے۔ کراچی، اسلام آباد، لاہور حتٰی کہ گوادر میں بھی ہوٹل تعمیر بھی کیے اور سرکاری انتظام میں چلنے والے وہ ہوٹل بھی کامیابی سے چلا کر دکھائے جو حکومت کے لیے سفید ہاتھی بن چکے تھے۔

کتاب کے مطالعہ کے دوران کئی دلچسپ واقعات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں : 1983 کراچی کے میریٹ ہوٹل کے ڈسکو میں ہونے والی ایک لڑائی کا احوال ان کی ہی زبانی سنیے۔ ”یوں معلوم ہوتا تھاجیسے گزشتہ شام ڈسکو کلب میں جن دو تندخو اشخا ص کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو بالآخر بندوقوں کی کی لڑائی میں تبدیل ہو گئی، ان میں سے ایک حاکم علی زرداری کا بگڑا ہوا پلے بوائے بیٹا آصف زرداری اور دوسرا زہری خاندان کا ایک نوجوان شخص تھا جو ایک ممتاز بلوچی قبیلے کا سربراہ تھا۔ ہائر (غیر ملکی جنرل مینجر) نے باقاعدہ طور پر دونوں کو باہر پھینکوا دیا تھا اور محافظوں نے انہیں دو چار گھونسے بھی جڑ دیے تھے۔“ اس کا نتیجہ بعد میں انہوں نے اس وقت بھگتا جب زرداری صاحب اقتدار کا حصہ بنے۔

کتاب میں جا بجا انکشافات بھی بکھرے پڑے ہیں اور مہا انکشاف یہ کہ اس وقت کے وزیر اعظم محمد خاں جونیجو نے انہیں ایک ایسی مرسڈیز کار فرخت کرنے کی کوشش کی جس کی ڈیوٹی ادا نہیں کی گئی تھی ( صفحہ 109 ) ۔ اسی صفحہ پر یہ انکشاف بھی موجود ہے کہ جنرل ضیاء نے بھارتی فلموں پر پابندی لگائی لیکن اس دوران وہ خود بھارتی فلمیں دیکھتے تھے۔

سچ کے اس سفر میں ہر حکومت نے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ان کے راستے میں کانٹے بچھانے کی کوشش کی۔ وہ شخص جسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے آگے لانا چاہیے تھا، الٹا حکومت اس کے پیچھے پڑگئی اور ایسی پڑی کہ اس کو اپنے ہی ملک میں روپوشی کی سزا بھگتنا پڑی اور ”عزت سادات“ بچانے کے لیے ملک سے باہر بھی جانا پڑا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ”سچ کا سفر“ آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ہاشوانی صاحب نے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو اپنی بہتر حکمت عملی سے دور کیا۔ جناب فرخ سہیل گوئندی نے اس کو یوں بیان کیا ہے ”جناب صدرالدین ہاشوانی نے اپنی زندگی کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کو یہ بتایا ہے کہ زندگی میں ایمانداری، غیر متزلزل عزم اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان انسان کی ذاتی، اخلاقی، مذہبی اور پیشہ ورانہ زندگی میں پیش ہر رکاوٹ کو دور کر دیتا ہے۔ یقیناً وہ ان معماران قوم میں سے ہیں جنہوں نے اپنا جہان خود پیدا کیا، اپنی کدال سے اپنا راستہ خود تراشا ہے۔“ ٰیاد رہے کہ اس وقت اثاثوں کے لحاظ سے وہ پاکستان کے ساتویں امیر ترین آدمی ہیں (وکی پیڈیا) ۔

مایوسی ہاشوانی صاحب سے بہت دور بھاگتی ہے۔ اسی لیے ”سچ کا سفر“ کا آغاز انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے۔ ”مجھے اپنے لوگوں کی لائق رشک صلاحیتوں پر بھروسا ہے، پاکستان کی بقا اور مستقبل پر کامل یقین رکھتا ہوں، اور سب سے بڑھ کر میں ذات باری تعالیٰ پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہوں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply