نفرت پھیلانے والی مشینیں بند کیجیے


ان نام نہاد علماء کا کچھ کرنا پڑے گا، ان کے جملوں سے اب خوشبو نہیں بدبو آتی ہے، ان کا علم معاشرے میں انتشار کا باعث بن رہا ہے یہ وہ گفتگو بھی بے دھڑک کر جاتے ہیں جو ملک کا وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی نہیں کر سکتا، اخلاقی پستی میں بھی یہ طبقہ سب سے زیادہ گرا ہوا طبقہ ہے، اب یہ کہا جائے گا کہ سارئے علماء تو ایک جیسے نہیں ہوتے بس دو چار ایسے ہیں ویسے ہیں سو دو چار کی وجہ سے پورے علماء طبقے کو بدنام نہ کیا جائے۔

ہم عوام میں سے ہیں یعنی متاثرہ فریق جو ان کی تقاریر سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ہم اگر ایک آدھ ڈکٹیٹر کی وجہ سے پوری فوج پہ تنقید کرتے ہیں تو اس پورے طبقے کو ہی رگیدیں گے، کرکٹ ٹیم کے دو چار کھلاڑیوں کا غصہ پوری ٹیم کو گالی کی صورت نکلتا ہے، ایک فیصلے کی تنقید پوری عدلیہ کو بھگتنا پڑتی ہے، ایک ڈاکٹر کی لاپرواہی ڈاکٹر پیشے کی لاپرواہی سمجھتے ہیں تو پھر اس طبقے کے ساتھ ہم امتیازی سلوک کیوں برتیں؟

علماء کی قسموں سے بحث نہیں اچھے ہوں برے ہوں سبھی ایک طبقے کے لیے بیک وقت اچھے اور دوسرے کے لیے برے ہوتے ہیں، وجہ یہ ہے علماء مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور عوام کو اپنی طاقت کے لیے اپنے ساتھ ملائے ہوئے ہیں تاکہ دوسرے فرقوں کے خلاف جب وہ گفتگو کر رہے ہوں تو وہ عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں جبکہ عوام کا ان فرقہ وارانہ مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جو وہ بیان کر رہے ہوتے ہیں،

مسلمان کے بنیادی عقائد قرآن میں موجود ہیں جو صرف پانچ ہیں باقی عبادات اور اخلاقیات کے معاملات ہیں جن کی تعلیم مدارس اور علماء سے زیادہ بہتر طور پہ گھر اور سکول کالجز دے سکتے ہیں، ہم مدارس و علماء ساز فیکٹریوں کی بحث میں پڑے بغیر چاہتے ہیں کہ یہ نفرتیں پھلانے والی مشینیں اب بند ہونی چاہییں۔

کچھ دن پہلے ایک عالم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جائیداد کی تقسیم خاص کر باغ فدک سے متعلق متنازع گفتگو کر دی جس پہ پورے ملک میں نفرت کی ہلکی ہلکی آگ جلنا شروع ہو گئی ہے، وہ آگ جسے ہم لشکر جھنگوی، سپاہ محمد، سپاہ صحابہ وغیرہ کی صورت بھگت چکے ہیں، شیعہ سنی سے ہٹ کر اس بار سنی جلالی و سنی حلالی جیسی نعرہ بازی اور ایک ہی فرقے کی آپسی نفرت کا متشددانہ آغاز لمحہ فکریہ ہے، سوشل میڈیا پہ ایک دوسرے کے خلاف جو زہر اگلا جا رہا ہے اس نے یوتھیا پٹواری غلاظت کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کیونکہ ان کے پاس مذہب کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا لائسنس ہے۔

شیعہ سنی آگ کافی عرصہ سے ٹھنڈی ہو چکی تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ سلگے گی نہیں بھڑکے گی، کیونکہ ماچس رگڑنے کا عمل کافی عرصہ سے جاری ہے۔ حق نواز جھنگوی کا مشن بھی ان کے سینکڑوں شاگردوں کی کاوشوں سے خوب ترقی کر رہا ہے اور محمد علی نقوی کا لگایا زہریلا پودا بھی خوب پھل پھول کر تناور درخت بن چکا ہے، دونوں طرف کے علماء عوام کو ایسی صورتحال کے لیے مکمل تیار کر چکے ہیں، اور نفرت سازی میں علماء کا کوئی طبقہ بھی پیچھے نہیں رہا، میٹھے علماء ہوں یا نمکین سبھی نفرتوں کی دلالی میں پیش پیش ہیں، ایسے میں اگر کوئی دو چار اللہ کے بندے محبت کے فروغ کے لیے کام کر بھی رہے ہیں یا اس خطرے کو محسوس کر بھی رہے ہیں تو وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔

حکومت کو بھی بندہ کیا کہے، مگر اس نفرت سازی کے عمل کو روکنا تو حکومت ہی کا کام ہے، عام بندے کے بس کی بات ہے نہیں، سو گزارش ہے کہ اس آگ کو ابھی ٹھنڈا کر لیا جائے، اگر یہ ایک بار بھڑک اٹھی تو پھر آسانی سے نہ بجھ پائے گی۔ نفرتیں پھیلانے والے آٹھ دس علماء کو دہشتگردی قانون کے تحت سزا سنا دیں سب او کے ہو جائے گا

Facebook Comments HS