زندگی کی خودکشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اجیتا ڈپارٹمنٹ کے لان میں دونوں ہاتھوں سے لپٹی کتاب پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ وہ اکیلی بیٹھی تخیل میں ایک اوردنیا کی سیرمیں تھی۔ اس دنیا میں، جہاں احساسات اس کے دل سے ٹکرا رہے تھے، اس کے فطری اثرات لاشعوری طورپربیٹھی اجیتا کے چہرے پہ نمایاں تھے۔ کچھ ہی دیر میں کرن کی آواز کانوں پہ پڑتے ہی وہ خیالی دنیاسے واپس لوٹ آئی۔ اجیتا؟ تم یہاں بیٹھی ہو؟ ہونہہ۔ میں! ۔ میں تو سمجھو کہیں بھی نہیں ہوں۔ کرن کے استفسار پر اجیتا نے اپنی ذہنی غیر موجودگی کا احساس دلایا۔ آج اس کا لیب نہیں ہے۔ وہ یہاں نہیں آئے گا۔ پھر تم کیوں اس کے انتظار میں جل بھن رہی ہو۔ گرمی ہے۔ چہرے کی حالت تو دیکھو۔ کرن نے اس کے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ اجیتا نے کرن کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہتی ہے ؛تم یہاں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ سکتی ہو پلیز۔ میں یہاں کچھ دیر بیٹھنا چاہ رہی ہوں۔ اجیتا کی منت کرنے پر وہ بیٹھنے پر مجبور ہو گئی۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ کرن نے تعجب سے اپنے دوست کے کتابی چہرے کو پڑھنے کی سعی کی۔ لیکن وہ پیشانی سے لے کر ہونٹوں کے کناروں تک اپنے مطلب کی کوئی بھی پوشیدہ تحریر تلاش نہ کر سکی۔

کیونکہ آج اجیتا کا کتابی چہرہ زندگی کے سطور سے خالی تھا۔ اس کی زندگی میں دوستی، محبت، سکون اور اطمینان کے ابواب مٹتے جا رہے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ راہ میں بیٹھی اس زندگی کی کھوج میں تھی جس میں وہ خود کہیں کھو گئی تھی۔ ۔ کرن مجھے معلوم ہے کہ عدنان آج یہاں نہیں آئے گا۔ لیکن میں پھر بھی اس کے انتظار میں بیٹھی

ہوں۔ اسے میری پرواہ نہیں جتنی کہ میں اس کی کرتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ وہ میرے لیے اچھا دوست ثابت نہیں ہو سکا، لیکن میں تو اس کی اچھی دوست ہوں۔ کرن آج سے چار سال پہلے اسی لان میں، اسی بینچ پر ہماری جانی پہچانی واقفیت دوستی میں تبدیل ہوئی تھی۔ جس انتظار میں آج میں تڑپ رہی ہوں۔ ایسا ہی انتظار ایک دن اس نے مرے لیے کیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں مرے لیے لکھے گئے پریکٹیکلز تھے۔ اسے مرے ٹرم بیک ہونے کا خوف تھا اور اس با ت کا دکھ بھی کہ اس کی وجہ بھی وہی تھا۔ ایک دن لیب کلاس کے دوران میں شیشوں کو ہاتھ میں لیے کیمیائی مرکبوں کو ملانے میں مگن تھی۔ اس نے انجانے میں شیشیوں کی ایک ڈھیری میری طرف پھینکی تھی، جس سے مرے لکھنے والی تینوں انگلیا ں زخمی ہو گئیں۔ تب میں لکھ نہیں سکتی تھی۔ وہ اپنے لیے سزا مقرر کر کے مرے پریکٹیکلز بنا کے لایا تھا۔ وہ پشیمان تھا۔ اس کی ندامت بھری آنکھیں پشیمانی سے چور تھیں۔

(اجیتا میں شرمسار ہوں کہ میری کوتاہی سے تمہارے ہاتھ زخمی ہوئے۔ یہ تمہارے پریکٹیکلز ہیں۔ تم یہ قبول کرو گی تو میں سمجھوں گا تم نے مجھے معاف کر دیا) ۔ کرن اس دن اس کی عاجزی دیدنی تھی۔ جب لڑکا لڑکی کے سامنے عاجز بن جائے تو سمجھو کہ وہ اپنے آپ کی نفی کر کے اس کی ذات کو برتری دے رہا ہے۔ جب میں نے اس کے ہاتھ سے وہ پریکٹیکلز لیے، جس کے صفحوں پر دل، دل کے ویران خانے، نہایت ہی خوبصورتی سے بنی ہوئی دل کی شریانیں اور رگیں نقش تھیں، توبدلے میں میں نے اس کی عاجزی پہ رحم کھا کر اسے دوستی کا مقام دیا تھا جو کئی مڈبھیڑ کی منزلوں سے گزر کرآج محبت کی اس انتہا پر ہے کہ محبوب انتظار کی اذیت میں مبتلا ہے اور دوست تغافل کے اعلیٰ مقام پر فائز ہے۔

اجیتا کو دکھی دیکھ کر کرن نے جھٹکتے ہوئے کہا۔ تم بھی تو عجیب ہو، ایسی شناسائی میں مبتلا ہو جس کا آغاز و انجام اجنبیت ہے۔ مگر اس اجنبیت کا احساس مجھے حسین لگتا ہے کرن۔ اجیتا نے اس کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا۔ ہم زندگی میں شاید نہ مل سکیں لیکن مری پلکوں میں اس کی جگہ ہمیشہ کے لیے خالی رہے گا۔

دونوں لان میں بیٹھی کافی دیر تک لاحاصل گفتگو کرتی رہیں۔ کرن اسے سمجھاتی رہی، تم دونوں دوست تو بن سکتے ہو مگر چاہنے والے نہیں۔ لیکن ان نصیحتوں کا اجیتا پر کوئی اثر ہی کیوں پڑنا تھا۔

عدنان ایک خوبرو لڑکا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ پچھلے چار سالوں کی اس آشنائی کے باوجود بھی ان دونوں کے درمیان کچھ دیواریں حائل رہیں۔ خاموشی کی دیوار۔ دونوں دیرتلک ساتھ بیٹھے رہتے مگر خاموش رہتے۔ ابتدائی دنوں میں دونوں دوست تھے۔ تب ہر کچہری میں بیٹھتے تو دونوں محفل کی جان ہوتے۔ پورے گروپ میں دونوں کی شخصی انفرادیت نمایاں تھی، مگر جب محبت کی سلطنت میں داخل ہوئے تو دونوں کی ملاقات تو ہوتی مگر گفتگو سے خالی۔ یہ سال ان دونوں کا آخری سال تھا۔ شاید دونوں کو بچھڑنے کا غم تھا۔ یا پھر شاید مل جانے کا خوف۔ شعوری یا لاشعوری طور پر عدنان انجام سے واقف تھا۔ وہ زمینی حقائق کو جان چکا تھا، وہ اجیتا سے نہیں ملنا چاہ رہا تھا، لیکن اجیتا اس حقیقت سے بذات خود غافل رہنا چاہتی تھی۔ وہ انتہا درجے تک عدنان کو چاہتی تھی۔ مگر عدنان وہی کر رہا تھاجو جنگ کی شکست کوجان کر ایک جنگی سپاہی کرتاہے۔

تم اس کو سمجھاؤ۔ وہ سمجھ جائے گی۔ تم اس کے ساتھ دوست بن کر بات کرو۔ عدنان کو فون پہ ردا تلقین کررہی تھی۔ آپی اب ہمیں اپنی ہی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ ہم دونوں آج کل بات نہیں کر رہے۔ عدنان اپنی بیزاری ظاہر کر رہا تھا۔ تم اس کے محبوب بننا چھوڑ دو، تم بس اب دوست بن کر اس قصے کو جلدازجلدختم کرو۔ اپنی بہن کا یہ تحکمانہ لہجہ دیکھ کر عدنان کو چپکی لگ گئی۔ آپی وہ اپنے ہر احساس کو مجھ سے منسوب کرچکی ہے۔ اس میں وہ اکیلی قصوروار نہیں۔ اسے اس نہج تک لانے میں میں بھی خطاوار ہوں۔ عدنان کی یہ باتیں ردا کو تشویش میں مبتلا کررہی تھیں۔ کل اس کی کال آئی تھی جناب وہ تمہارے نہ ملنے اور بات نہ کرنے کی شکایت کررہی تھی۔ تم اس سے ملو یا نہیں لیکن عدنان پلیز ہم تمہارے لیے پریشان ہیں۔ عدنان پریشانی سے بولنے لگا۔ آپی ہم انسان احساسات کے آگے کتنا بے بس ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی جذبہ ہویا کوئی احساس، بنا کسی اجازت کے وہ ہم پر حاوی ہو جاتا ہے، اللہ کو جذبوں میں بھی مذہب کی بنیاد ڈالنی چاہیے تھی۔ پھر چاہنے والوں کے لیے آسان ہوجاتاکہ وہ اپنے منسلک شدہ محبوب بناتے۔

ردا کو ایک بار پھر سمجھانے کا موقع مل گیا۔ ۔ ۔ یہی دیوار ہے عدنان، جوتم دونوں کو ایک دوجے کے سائے سے بھی دور رکھی ہوئی ہے ؛ یقیناً ہم سب مخلوق کی چھت پر انسان بن کر ملتے ہیں، لیکن انسان کی زمین پر ہم علیحدہ علیحدہ ہیں۔ سب انسانوں میں روحانیت ایک ہوتی ہے، لیکن مذہب کئی ہوتے ہیں۔ ہمارے تمام تر کیفیات روحانی ہیں لیکن ہم زمین کے ایک دائرے میں آکر مظاہر کے تصرف میں آ جاتے ہیں۔ اور اسی میں ہی ہماری عافیت ہے۔ دیکھو عدنان انسانیت کا کوئی دائرہ نہیں ہوتا میں مانتی ہوں، لیکن انسان تو دائروں میں رہتے ہیں۔ ہم سب اسی عقیدے کے معتقد ہیں۔ بھلے ہم ساتھ بیٹھیں، ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے رہیں، مگر ہماری زندگیاں ایک نہیں ہو سکتی۔ تم یہ ساری باتیں خود کو بھی اور اس کو بھی باور کرواؤ۔ ایک بار پھر عدنان کو بہن کی ایک اور تاکید نے جھنجھوڑا۔ آپی وہ آپ کی بیسٹ فرینڈ ہے، میں آپ سے گزارش کرتا ہوں آپ خود اس کو یہ باتیں سمجھائیں۔ مجھ میں اب ان سے کوئی بھی بات کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ ۔ ۔ تم کیوں فرار ہو رہے ہو۔ بھائی وہ میری دوست بعد میں ہے، ایک لڑکی پہلے ہے، اور ایک لڑکی دوسری لڑکی کو محبت سے سبکدوش ہونے کا مشورہ نہیں دے سکتی۔ تم خود کو ہی کچھ کرنا ہوگا۔ میں، امی اور بابا سب تمہارے لیے پریشان ہیں۔ تم جلد کوئی فیصلہ لو۔ ردا کی باتوں نے عدنان کو مجبور کر دیا تھا۔ ۔ وہ بولتی جا رہی تھی۔

عدنان اب تم مجھ سے وعدہ کرو، آج تم اس سے آخری مرتبہ ملو گے، اور اس آخری ملاقات میں ہی سب کچھ ختم کر کے آنا ہوگا۔ تم لوگ اب دوست نہیں رہ سکتے۔ تم لوگوں کواپنے مابین حائل ہوتے مذہبی اقدار کے بارے میں محبت کرنے سے پہلے ہی سوچنا چاہیے تھا۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ تم لوگ بس انسان رہتے۔ لڑکا اور لڑکی نہ بنتے۔ کلاس فیلو ہی رہتے دوست نہ بنتے۔ ویسے ایک بات تو بتاؤ مجھے۔ تمہارا بس آخری پیپر باقی ہے نا۔ ۔ ۔ جی۔ عدنان کے ذہن کو ردا سے آخری پیپرکا سن کر جھٹکا لگا۔ وہ پیپر دے کر گھر پہنچ جانا۔ ردا نے حکم دیتے ہوئے کہا، عدنان خاموش رہا؛تمہیں کال کرنے کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ بابا اور ہم سب تمہارا رشتہ طے کرنے والے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ ؟

اب عقلمند یکا مظاہرہ کر کے مری باتوں پہ ضرور سوچنا۔ میں فون رکھتی ہوں۔ خداحافظ۔

آپی کی زبانی رشتہ کا سن کر عدنان کے ذہن کو دھچکا لگا تھا۔ ایک اورلڑکی سے ایک اور رشتہ۔ ۔ ۔ لیکن رشتہ تومیں نے بلکہ میں نے اور اجیتا نے بنایا تھا۔ دوستی کا، محبت کا۔ تو یہ رشتہ کیا ہے جو مرے لیے اور لوگ طے کر رہے ہیں۔ اگر مرا رشتہ جکڑے ہوئے بیلوں کی طرح ہے تو کیا یہ رشتہ خاندانی زنجیروں سے آزاد ہوگا؟ عدنان کا ذہن آپی کی کہی ہوئی باتوں اور اجیتا کی یاد سے پھٹ کر سوال خانہ بن چکا تھا۔ لیکن اس وقت وہ اکیلا اپنے اندھیرے کمرے میں بیٹھ کر اپنے سوالوں سے خود نبردآزما تھا۔ ۔ ۔ ہاں خالی ہے نا۔ کیوں کہ گھر والے جو مرے لیے لڑکی پسند کر رہے ہیں وہ ہماری خاندانی لڑکی ہے۔ اجیتا تو کسی اور مذہب سے ہے۔ لیکن وہ لڑکی بھی تو ہے نا بالکل اسی کی طرح جو لڑکی مرے گھروالے پسند کر رہے ہیں۔ لیکن اجیتا صرف لڑکی نہیں مری محبوب بھی تو ہے، ہم نے ہم قدم ہو کر زندگی کے ایک خوبصورت سفر کو ایک منزل دی۔ اب ہم کیوں بچھڑرہے ہیں۔ ہم تو نہیں بچھڑ رہے۔ صرف میں اجیتا سے جدا ہو رہا ہوں۔ میں اسے تنہا اگلی زندگی کے انجان رستوں پہ چھوڑ رہا ہوں۔ وہ تو ابھی بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔ اس نے شام ہی کو تو میسج کیا تھا۔

(آخری پیپر کے لیے نیک تمنائیں۔ خدا تمہیں کامیاب کرے۔ مرے دوست! تم سے محبت کرنے والی ابھی بھی تم سے محبت کرتی ہے، بس تمہیں تمہارا طرز تغافل مبارک ہو)

مجھے معلوم نہیں کہ میں اسے کیوں چھوڑ رہاہوں، وہ آخر مرے بغیر کیسے جیے گی۔ کیسے مسکرائے گی۔ لیکن ہمیں بچھڑنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کو چھوڑنا ہوگا۔ ہم اگر مل گئے تو کئی انسان بچھڑ جائیں گے۔ لوگوں میں نفرتیں جنم لیں گی۔ ہم محبت کرنے والے نفرت کی آگ کو ہوا دیں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے بھلا! ۔ جہاں محبت پنپتی ہے وہاں پیار کی آبیاری ہوتی ہے۔ پیار تو جڑ جانے کا نام ہے تو یہ لوگوں میں انتشار کیسے پیدا کر سکتا ہے۔ مگر میں نہیں چاہوں گا کہ اجیتا مجھے بے وفاؤں کے القابات سے یاد کرے۔ نہیں! کبھی بھی نہیں۔ ہم ملیں گے۔ ایسے انسانوں سے دور چلے جائیں گے، جن کے پاس مذہبی دائروں کی قید ہے۔ مگر آخر ہم کہاں جائیں گے۔ ؟ ہم بھاگ کر اپنی دنیا بھی نہیں بسا سکتے۔ اجیتا سے اس کا بھائی بھی تو پیار کرتا ہے مجھ سے مری آپی بھی پیار کرتی ہیں۔ تو کیاہم دونوں نہیں مل سکتے۔ ہاں! واقعی! ۔ واقعی نہیں مل سکتے۔ کیوں کہ اجیتا مجھ سے نکاح نہیں کر سکتی اور میں اس کے ساتھ پھیرے نہیں لے سکتا۔ اس بات کا خیال آتے ہی عدنان اپنے چہرے کو تکیے کے اندر چھپا کر سو جاتا ہے ۔

اجیتا اور عدنان کا آخری پیپر تھا۔ مگر دونوں آج آخری امتحان سے گزر رہے تھے۔ پیپرختم ہوا۔ عدنان پیپر کے بعد دوڑتا ہوا ڈپارٹمینٹ کے لان میں پہنچا۔ اجیتا اسے نظر نہیں آئی۔ وہ آج اجیتا سے ملنا چاہ رہا تھا مگر خلاف معمول وہ آج نہیں تھی۔ ۔ ۔ تم نے اجیتا کو دیکھا۔ رکتی سانسوں سے عدنان نے ڈپارٹمنٹ کی ایک فیلو سے پوچھا۔ وہ ہاسٹل چلی گئی ہے۔ کیوں۔ ؟ کیاہواہے۔ تم اتنا پریشان کیوں ہو؟ لیکن عدنان اس سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے ان جانے ملک کے جنگی سپاہی کی طرح ادھرادھر بھٹکتا ہوا ڈپارٹمینٹ کے باہر چلا گیا۔

عدنان نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا تو اجیتا کے دو میسیجز یکے بعد دیگرپہنچے۔ ”اجیتا تم عدنان کو بھول جاؤ۔ تم دونوں نہیں مل سکتے۔ یہ ہم بھی جانتے ہیں اور تم بھی۔ پھر ایسے رشتے کی ڈور میں کیوں بندھنا چاہ رہی ہوجس کا دھاگاکبھی بھی نہیں بن سکتا۔ میں نے عدنان کو کہہ دیا ہے وہ گھر آ جائے گا۔ ہم اس کا رشتہ طے کر رہے ہیں۔ وہ میری کزن ہے۔ وہ عدنان کو پسندکر چکی ہے۔ تم پلیز اب عدنان سے جڑنے کی کوشش نہ کرو“ ۔

صبح کو یہ ردا کا مجھے میسیج آیا تھا۔ تم نے پڑھ لیا ہوگا۔ اور مجھے یقین ہے کہ تم نے سمجھ بھی لیا ہوگا۔ میری ایک اوردوست جوتم سے منسلک ہو کر مری اچھی دوست بنی تھی۔ وہ بھی بغاوت کرچکی ہے۔ جب معاملہ محبت کا ہو، تو سہیلییاں بھی منکر بن جاتی ہیں۔ خیر۔ جب محبت کا سفر توقعات سے بھی خالی ہو جائے، تو محبوب سے گلہ کرنا فضول ہے۔ تم سے بھی کوئی گلہ یا شکایت نہیں۔ تم اب ملوگے بھی نہیں تو شکایت کیسی۔ عدنان! ہم اتفاق رائے سے نہیں بچھڑ رہے۔ اس لیے مجھے یقین ہے ہم ملیں گے، کہاں۔ کیسے۔ یہ پتہ نہیں۔ پر ہم ملیں گے۔

دو پہرکی دھوپ ہلکی کروٹ لیتی ہے۔ عدنان کے فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ فون کانوں پہ رکھتے ہی کرن روہانسی آواز میں کہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”اجیتانے ہاسٹل میں پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی ہے“ ۔

Latest posts by اسد اللہ کھوسو (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اسد اللہ کھوسو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *