چودہ دن کی روٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی بہت دردناک و المناک ہو چکی۔ ۔ ۔ محمد خالد شاندار دانشور تھے، حلقہ ارباب ذوق آتے تو ان کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا، لیکن کورونا وائرس نے انہیں نگل لیا۔ ۔ ۔

صغیر تبسم ہمارے دوست ہیں، پنجابی کے بہت اچھے شاعر اور استاد ہیں، ان کی والدہ ماجدہ بھی انتقال کر گئیں۔

بالی ووڈ کے خوبصورت ینگ ایکٹر سوشانت سنگھ راجپوت کئی دن سے قرنطینہ میں تھے، بالاخر خودکشی کرکے مر گئے۔

ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید ہمیں کبھی ایک آنکھ نہیں بھائے، مگر وہ انسان ہیں، دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے کہ مصداق ہم ان کے لئے دعا گو ہیں کہ وہ صحتمند ہو جائیں کیونکہ اس موذی وبا نے ان کی حالت تشویشناک کر دی ہے۔

شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف سمیت کورونا کے ہر مریض کے لئے بہت دعائیں ہیں۔

پورے ملک میں وائرس اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ سبھی ریکارڈ توڑے جا رہا ہے۔ ۔ ۔ مگر کپتان صاحب نے اس وبا کا ورلڈ کپ جیتنا ہے، وہ صاف صاف کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کسی صورت لاک ڈاؤن نہیں کرنا۔ ۔ ۔ ان کا کہنا ہے کہ دیہاڑی دار مزدور مر جائیں گے۔ ۔ ۔

ہمیں نہیں خبر کہ کس آئی ایم ایف نے انہیں لاک ڈاؤن سے روکا ہے اور حکم صادر کیا ہے کہ خبردار! معیشت کا پہیہ کسی صورت نہیں رکنا چاہیے لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ پورے ملک کے حساس طبقات اور دانشور ہاتھ جوڑ کر ان کے سامنے کھڑے التجائیں کر رہے ہیں کہ خدارا! بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا، صرف دو ہفتوں کے لئے سخت ترین لاک ڈاؤن کر دیجئیے! مگر کپتان پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ ڈٹ کے کھڑا ہے۔ ۔ ۔ اسی لئے ہم پانیوں کے نام دوسرا خط لکھنے پر مجبور ہیں۔

۔ ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کسی مظلوم لڑکی نے محمد بن قاسم کے نام کوئی خط لکھ کر پانی میں بہایا تھا، ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ محمد بن قاسم ملتان تک فتح کے جھنڈے گاڑتے ہوئے اس دھرتی سے کیا کیا اٹھا کر لے گئے مگر پھر بھی ہم خط لکھ کر پانیوں کے حوالے کر رہے ہیں کہ کوئی تو ہو جو اسے پڑھے اور ہمیں ان برے حالات سے چھٹکارا دلائے۔ ۔ ۔

خط کا متن یہ ہے کہ ہم بائیس کروڑ عوام ہیں جس میں سے پانچ فیصد دولت کے انبار تلے دبے ہوئے اور باقی سب کے سب بھوک سے روزانہ کی بنیاد پر جنگ کرتے ہیں، ہمیں چین سے اٹھی ایک وبا نے گھیر رکھا ہے اور اس کا علاج قبروں میں پڑے ہمارے بڑوں کو بھی نہیں معلوم۔ ۔ ۔ ہم پر ایک ایسے بندے کی حکومت ہے جو تبدیلی کے نام پر سب کو چکما دے رہا ہے اور اپنی ہٹ دھرمی کسی صورت نہیں چھوڑتا۔ ۔ ۔ قصہ صرف اتنا ہے کہ یہ بندہ صرف چودہ دن کے لئے غریبوں کو روٹی دے کر لاک ڈاؤن کرنے سے گریزاں ہے۔

۔ ۔ ہم پوری کی پوری قوم کورونا سے زیادہ ذہنی و جسمانی مریض بن چکے ہیں، کون نہیں جانتا کہ بیمار بیل کبھی ہل نہیں چلا سکتا مگر اس کپتان کو کون سمجھائے کہ بیمار قوم کسی صورت معیشت کا پہیہ نہیں گھما سکتی۔ ۔ ۔ ہم سب کے سب، کیا بوڑھے، بچے اور جوان، سبھی ڈر اور خوف میں مبتلا ہو کر سہم گئے ہیں، انجانے خوف نے ہمیں اندر باہر سے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے، ہم یہ نہیں جاننا چاہتے کہ اٹلی کے کن سائنسدانوں نے اس وائرس کو بیکٹیریا کا نام دیا ہے بلکہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر طرف کورونا ہی کورونا نظر آ رہا ہے، گھر کے گیٹ سے کچن کے ایک ایک برتن تک، چار سو کورونا کا وہم ہے اور ہم ہیں، یقین مانیے کہ ہم میلوں ٹھیلوں کے باعث زندہ رہنے والے لوگ تھے مگر اب تنہائی ہمیں مار گئی ہے، یہ تنہائی کسی طرح کا لاک ڈاؤن نہیں ہے، ہمیں روزی روٹی کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا ہوتی ہیں، ہم اپنے بیوی بچوں سے کئی فٹ کے فاصلے پر بیٹتھے ہیں، اک دوجے کی جان بچانے کے لئے اپنی والہانہ محبتوں کو قربان کیے بیٹھے ہیں، ہمارے اکثر بزرگ شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں، صنعتکاروں کے گندے پانیوں نے علاقوں کے علاقے ہیپاٹائٹس میں مبتلا کیے ہوئے ہیں، یہ سب مریض کورونا کا سوچ کر ہی جہان فانی سے کوچ کیے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا اموات کی خبروں سے بھرا پڑا ہے، ہم شدید چڑچڑے اور شکی مزاج ہو گئے ہیں، ہمیں اپنے ہاتھوں سے لے کر لبا س تک اور لباس سے جوتوں تک چاروں اور کورونا ہی کورونا نظر آ رہا ہے، وہ اور دنیا ہوگی جو کہہ رہی ہے کہ یہ وائرس نظر نہیں آتا، ہم بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک کو چار سو کورونا صاف صاف نظر آ رہا ہے، خدارا!

کوئی تو ہماری مدد کو آگے بڑھے، ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ کسی بھی گھر میں سکون کا ایک لمحہ نہیں ہے، کوئی بھی کسی اور بیماری میں مبتلا مریض ہسپتال جانے سے پہلے مرنے کو ترجیح دے رہا ہے، خدارا! کوئی تو ہمارے حکمران سے سوال کرے کہ وہ کیوں صرف چودہ دن کے لئے غریب عوام کی روزی روٹی کا بندوبست نہیں کر سکتے۔ ؟ کوئی تو کہے کہ ڈیم پھر بن جائیں گے، ترقیاتی بجٹ کا پیسہ غریبوں پر لگا کر بھی ملک کو ترقی کی راہوں پر چلایا جا سکتا ہے کیونکہ صحت مند قومیں ہی دنیا میں ترقی یافتہ اقوام کہلاتی ہیں، کوئی تو حکمران کو سمجھائے کہ ایک آدھ میزائل اگر اس سال نہ بھی بنا تو اگلے سال بنا لینا، پلیز! اپنی خلقت کو بچاؤ! کوئی تو آئے اور بائیس کروڑ عوام کو ذہنی کھنچاؤ سے نکالے، کوئی دوسرا ہی چودہ دن کی روٹیوں کا بندوبست کر دے۔ ملک ریاض۔ میاں منشاء۔ سہگل گروپس، کوئی بھی این جی اوز، فلاحی و رفاعی ادارے، کوئی بھی۔ ۔ ۔

اے پانیوں کے سپرد کیے جانے والے خط! یاد رکھنا۔ ۔ ۔ ہم اٹلی جیسے حالات سے خوفزدہ ہیں، ہم نیویارک جیسے شہر کے حالات میں جانے سے ڈر رہے ہیں لیکن ہمارا حکمران نجانے کس ضد اور اناء کی سیڑھی کے آخری سٹیپ پر کھڑا ہمیں گھور رہا ہے، ہم سب کو بے بس و لاچار کرنے کی تگ و دو میں مبتلا ہے، نجانے ہم سے کس جرم کا بدلہ لینے کا خواہاں ہے، خدارا! کوئی تو اسے سمجھائے کہ پوری قوم کو مارنا یا پوری قوم سے دشمنی لینا بہت بڑے نقصان کی راہ ہوتی ہے اور ایسی راہوں میں سبھی مر جاتے ہیں، ہم بھی اور تم بھی۔

۔ ۔ ؟ خدارا! کوئی تو بولے کہ ریاست مدینہ کی مثالیں دینے والا کیوں بھول گیا ہے کہ مدینہ والوں نے اپنے دفاع کے لئے خندقیں کھودی تھیں، غاروں میں چھپ کر بھی زندگیاں بچائی تھیں، دشمن کے ایک ایک وار کا مقابلہ بہترین حکمت عملی سے کیا تھا، خدارا! کوئی تو اسے بتائے کہ ریاست مدینہ والے فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا نہیں مرنے دیتے تھے اور تم صرف غریبوں کو چودہ دن کی روٹی نہیں دے سکتے۔ ۔ ۔ ہے تیری کیہ۔ ۔ ۔

دوستو! یاد رکھیے! جب تک اس ملک میں کوئی سخت لاک ڈاؤن نہیں کرتا، پلیز! احتیاط ہم سب پر لازم ہے، یقیناً ہم ڈرے ہوئے، گھبرائے ہوئے لوگ ہیں لیکن حتی القمدور کوشش کیجیے کہ کورونا کے ساتھ ساتھ کسی اور ذہنی یا جذباتی بیماری کا شکار نہیں ہونا، ہم سب حکمرانوں کے لئے صرف اور صرف عام شہری ہوں گے لیکن اپنے گھر والوں کے لئے ہم بہت اہم ہیں۔ ۔ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments