بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کی جیل ملاقات کا احوال


جناب زرداری صاحب فراش ہیں ان کے بارے طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی ہیں بہرحال وہ ہیں سخت بیمار۔ ایسے موقع پر ان کو بے نظیر کی یاد ضرور آتی ہو گی۔ وہ جب جب جیل میں رہے بلکہ ان کی زندگی کا طویل عرصہ جیل میں گزرا سردی ہو کہ گرمی محترمہ سخت سردی اور چلچلاتی دھوپ میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر جیل کے دروازوں پر گھنٹوں کھڑی رہتیں محترمہ کی زرداری صاحب سے ایک ملاقات کی یاد ہمارے ذہن میں بھی موجود ہے۔

یہ سال 1999 کی بات ہے کہ ایک روز میرے پی اے نے بزر دی میں نے فون اٹھایا تو اس نے کہا سر آئی جی صاحب بات کرنا چاہتے ہیں ان کے پی اے نے مجھے لائن پر لے کر آئی جی صاحب سے فون ملا دیا۔ کیا کل بے نظیر کی زرداری سے ملاقات ہے۔ جی سر! جیلر کو ہائی کورٹ سے آرڈر آ گیا ہے اس نے مجھے بتایا ہے تین افراد کو ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آرڈر ہوم ڈپارٹمنٹ نے جاری کیا ہے؟ نہیں سر ہائی کورٹ کا آرڈر ہے۔ میں نے کہا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب زرداری صاحب اڈیالہ جیل میں نظر بند تھے۔ اس وقت میری پوسٹنگ بطور ڈی آئی جی جیل خانہ جات راولپنڈی رینج تھی۔ اس وقت میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے اور میاں نواز شریف وزیراعظم تھے اور محترمہ بے نظیر زرداری صاحب سے ملاقات کرنے اڈیالہ جیل آ رہی تھیں۔ آئی جی میجر ضیاالحسن تھے جو آرمی کے سپیشل کوٹے سے محکمہ پولیس میں آئے تھے اور ترقی کرتے کرتے اب اس عہدے پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے پوچھا

تو کیا ان کی ملاقات کے لئے فول پروف انتظام ہو گئے ہیں۔ جی سر انتظام کر لیا گیا ہے میں نے اپنے آفس میں بھی انتظام کر دیا ہے اور اگر وہ تنہائی میں ملاقات کرنا چاہیں گی تو پی اے کے آفس میں بھی انتظام کر دیا ہے۔ سپیشل برانچ نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ بس صبح آئیں گی تو ملاقات کروا دیں گے۔

”یہ ملاقات نہیں ہو گی“ انہوں نے اچانک کہا۔ میں حیران ہو گیا اور کہا لیکن سر یہ ملاقات کسی محکمانہ اجازت سے نہیں ہو رہی کہ ہم کوئی اعتراض لگا کر ان کو واپس کر دیں یہ کورٹ کا آرڈر ہے۔

بہر حال یہ ملاقات نہیں ہو گی، اوپر والوں کا آرڈر ہے۔ میں حیران تھا کہ کوئی بیورو کریٹ ہوم سیکریٹری یا چیف سیکریٹری یا اوپر والا ہائی کورٹ کے حکم پر اس قسم کا آرڈر نہیں دے سکتا۔ لیکن آئی جی صاحب آرمی کے بندے تھے۔ شاید ان کے لئے کورٹ کی اتنی اہمیت نہ ہو میرے ساتھ پہلے بھی اس طرح کا واقعہ ہو چکا تھا جب میری ملتان پوسٹنگ تھی اور ہائی کورٹ سے ایک قیدی کی رہائی کا آرڈر آیا تو ہم نے قیدی رہا کر دیا اس وقت مارشل لا لگا ہوا تھا تو ملٹری کورٹ کے کرنل صاحب نے مجھے ملٹری کورٹ میں طلب کرکے پوچھا کہ اس بندے کو کیوں رہا کیا گیا ہے؟

میں نے انہیں ہائی کورٹ کا آرڈر دکھایا اور بتایاکہ اس آرڈر کی وجہ سے رہا کیا گیا ہے تو انہوں نے جج صاحب کو بھی کافی اچھے نام سے یاد کیا اور مجھے کہا کہ اس آرڈر کو جا کر اس جج کے منہ پر دے مارو وہ کون ہوتا ہے اس طرح کے آرڈر کرنے والا۔ آج میرا پھر اسی طرح کی صورتحال سے سامنا تھا۔

میں نے کہا بہر حال سر آپ ہوم سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کو میرے تحفظات کے سلسلے میں آگاہ کر دیں اور میں کل 9 بجے آپ سے دوبارہ پوچھ لوں گا کہ کیا فیصلہ ہوا ہے۔

صبح 9 بجے میں نے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ آئی جی صاحب ابھی آفس میں نہیں آئے۔ 10 بجے محترمہ جیالوں کے نعروں میں جیل تشریف لے آئیں۔ میں نے دوبارہ رابطہ کیا تو پی اے نے بتایا وہ میٹنگ پر چلے گئے ہیں۔ اب مجھے کچھ شک ہونے لگا ورنہ ان کا فون ضرور آتا۔ جیالوں نے باہر کافی دیر نعرے بازی کیے رکھی محترمہ کو پہلے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے آفس میں بٹھایا گیا پھر ایک گھنٹہ بعد سپرنٹنڈنٹ جیل کے آفس میں لے گئے اور انہیں بتایا کہ چونکہ پچھلی ملاقات پر جیل میں قید سپہ صحابہ اور دوسرے دہشت گرد گروپ نے آپ لوگوں کے خلاف اودھم مچایا تھا، آج ان کا بھی ملاقات کا دن ہے تو اس طرح کی بدمزگی سے بچنے کے لئے ان کی ملاقات ختم ہوتے ہی آپ کی ملاقات شروع کرادیں گے۔

دو گھنٹوں بعد محترمہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو وہ پھٹ پڑیں اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو سختی سے کہا کہ اگر تم نے ملاقات نہیں کرانی تھی تو تم نے مجھے دو گھنٹوں سے پریشان کیوں کر رکھا ہے کبھی کہیں بٹھاتے ہو کبھی کہیں مجھے بتاؤ تم کو ملاقات سے کس نے روکا ہے اس نے پریشان ہو کر کہہ دیا کہ ڈی آئی جی صاحب نے ملاقات سے منع کیا ہوا ہے۔ تو محترمہ نے پوچھا ان کا آفس کدھر ہے۔

ادھر میں آئی جی صاحب سے متواتر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اتنے میں محترمہ اچانک میرے آفس میں داخل ہوئیں ان کے ساتھ معروف وکیل بابر اعوان اور ناہید خان بھی تھیں۔ دونوں جیالے دونوں جانباز۔ اندر آتے ہی محترمہ کی نظر سامنے ائرکنڈیشنر پر پڑی تو اشارہ کیا یہ کیوں چل رہا ہے انہوں نے اعتراض اس لئے کیا تھا ”کیونکہ ان دنوں وزیر اعظم نواز شریف کا آرڈر تھا کہ اخراجات کم کرنے کے لئے صرف محکمے کے سر براہ کو اے سی چلانے کی اجازت ہے۔ جو صرف آئی جی آفس میں چل سکتا تھا۔ لیکن ادھر کیوں چل رہا تھا۔

میں محترمہ کے احترام کے لئے کھڑا ہوا اور کہا محترمہ آپ تشریف رکھیں اور بتایا کہ اے سی آپ کے لئے چلایا تھا چونکہ آج آپ کی ملاقات تھی۔ انہوں نے فوراً کہا ”آپ باتیں زیادہ کرتے ہو کام نہیں کرتے تم لوگوں نے چودہ کروڑ عوام کو کتا بنا کے رکھا ہوا ہے۔ تمہیں کسی کی عزت کا احساس نہیں ہے، میں نے ملاقات نہیں کرنی میں جا رہی ہوں“ میں نے بابر اعوان اور ناہید خان سے کہا آپ محترمہ سے کہیں کہ وہ تشریف رکھیں لیکن وہ غصے میں چلی گئیں۔ پھر وہی ہونا تھا جو ہوتا ہے۔ شام 5 بجے ہائی کورٹ سے آرڈر آ گیا کہ صبح زرداری صاحب کو پیش کیا جائے اور اس کے ساتھ ڈی آئی جی اور جیل کے متعلقہ تمام افسران بھی پیش ہوں۔

اگلی صبح زرداری صاحب بھی پیش تھے اور ان کے ساتھ ہم سارے افسران بھی عدالت میں حاضر تھے۔ کارروائی شروع ہوئی سب سے پہلے کورٹ نے حکم دیا کہ کل جو ملاقات نہیں کروائی گئی عدالت اجازت دیتی ہے کہ محترمہ زرداری صاحب کے ساتھ عدالت کے ایک کونے میں بیٹھ کر جتنی دیر چاہیں ملاقات کر لیں۔ پھر عدالت نے ہمارے بارے استفسار کیا ہم سب ملزم افسران نے کھڑے ہو کر اپنی موجودگی کا اظہار کیا اور عدالت کے اختتام پر حکم آیا کہ جب بھی زرداری صاحب کی پیشی ہو یہ سارے افسران بھی ساتھ ساتھ پیش ہوا کریں گے۔

محترمہ، زرداری صاحب اور بابر اعوان نے ایک نظر ہم پر ڈالی لیکن بعد میں کبھی غم و غصہ کا اظہار نہیں کیا۔ کوئی اور سیاست دان ہوتا تو نہ صرف اس نے نظروں نظروں میں ہمیں کچا چباجانا تھا بلکہ میڈیا پر ہماری سات پشتوں کا ریکارڈ بھی پیش کر دینا تھا۔ محترمہ اور زرداری صاحب ایک طرف بیٹھ کر ملاقات کرتے رہے اور جج صاحبان دوسرے کیس نبٹاتے رہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا سوچ کرکیا گیا ہے کس نے کس کے آگے سرخرو ہونا تھا اس سے بڑی کیا حماقت ہو سکتی ہے کہ ہم نے تو صرف آدھا گھنٹہ ملاقات کرانا تھی پورے سیکیورٹی کے لوازمات کے ساتھ لیکن یہان وہ دو گھنٹوں سے ملاقات کر رہے ہیں اور عدالت کے اندر تو ان کی گفتگو بھی چیک نہیں ہو سکتی اور الٹا ہم خطاکار بھی ٹھہرے ہیں یہ کیا سٹریٹیجی تھی آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے یہ سٹریٹیجی شاید پرویز مشرف کی سٹریٹیجک ڈیپتھ کی طرح گہری تھی جو ہم سویلین کی سمجھ میں اس وقت نہیں آ رہی تھی بہرحال میں تو کچھ سمجھ نہیں سکا تھا۔

زرداری صاحب کا کیا ہونا تھا کیا ہوا وہ الگ کہانی ہے لیکن یہاں سے ہماری ابتلا شروع ہوگئی زرداری صاحب کی ہفتے میں دو تین مرتبہ پیشی ہوتی اور سارا دن ملزمان کی طرح ”ہم بھی وہاں موجود تھے“ کا ٹیگ لگائے بیٹھے رہتے۔ ہمارا کام کافی ڈسٹرب ہوا پنڈی رینج، اٹک، پنڈی، جہلم، گجرات، سرگودھا اور میانوالی کے اضلاع پر مشتمل تھی جو میرا دائرہ کار تھا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا کام ٹھپ ہو گیا چنانچہ ان علاقوں کے دورے اور چیکنگ دھری کی دھری رہ گئیں۔

دو ماہ بعد میں کھڑا ہوا اور عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں معاف کیا جائے ہمارے کام کا کافی حرج ہو رہا ہے۔ عدالت کو ہماری ڈیوٹی کا احساس تو تھا پیشیاں بھی کافی ہو گئی تھیں اس پر عدالت نے بابر اعوان سے کہا کہ آپ نے تو توہین عدالت کا نوٹس دے دیا ہے اب عدالت کا معاملہ ہے ان کا کیا فیصلہ کرے آپ کا کیا خیال ہے۔ ان کے دفتری کام کا کافی حرج ہو رہا ہے۔

بابر اعوان نے کہا سر یہ دفتر میں بھی کوئی کام نہیں کرتے چنانچہ ہماری جان خلاصی نہ ہوسکی ہم متواتر پیشیاں بھگتتے رہے۔ لیکن اس دوران ایک عجیب تجربہ ہوا کہ سرکاری وکلا زرداری صاحب کے خلاف جو ریفرنس لے آتے متواتر کئی پیشیوں پر آج کی طرح نہ کوئی ریکارڈ پیش کر سکتے اور نہ کوئی ثبوت پیش کر سکتے جب جج صاحبان غصے سے کہتے اگلی پیشی کے بعد کوئی پیشی نہیں ملے گی تو اس پیشی پر سرکاری وکلا ایک نیا ریفرنس پیش کر دیتے اور اس پر بحث شروع ہو جاتی اور اس کی ناکامی پر ایک اور ریفرنس آ جاتا اس طرح اس دوران کئی ریفرنس پیش ہوتے رہے لیکن ثبوت کسی کا بھی نہ پیش کیا جا سکا یہ محترمہ اور زرداری صاحب کا مسئلہ تھا ہمارا مسئلہ تو اتنے عرصے سے اس ابتلا سے نجات حاصل کرنا تھا ان پر کیس ثابت ہونا تھا کہ نہیں ہمارا اس سے کوئی مطلب نہیں تھا لیکن ہم تو اپنے کئے جرم کی معافی بھی مانگ چکے تھے۔ ایک طرح کے اقراری مجرم تھے اس دوران میرا ٹرانسفر لاہور ہو گیا اور میں لاہور سے پنڈی جاکر پیشیاں بھگتتا رہا آخرکار چھ ماہ کی مسلسل تھکا دینے والی پیشیوں کے بعد ہم کو معاف کر دیا گیا۔

المیہ یہ ہے حکومتیں تو اپوزیشن کے ساتھ اس طرح کے ہتھکنڈے کرتی رہتی ہیں لیکن کچھ لوگ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کے لئے ایسی ایسی حماقتوں پر اتر آتے ہیں جن کا حکمرانوں کے مفاد کے لئے نہ کرنا کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا اس کا دکھ ہے کہ کسی کی انا کو تسکین پہنچانے اور کسی کو کسی کے آگے سرخرو کرانے میں ہم جس طرح ایک فضول بات کے لئے استعمال ہوئے نہ تو ہم حق پر تھے۔ نہ حق گوئی سے ہمارا کوئی تعلق تھا۔ ہم سرکاری مشینری کے ناکارہ پرزے صرف اقراری مجرم تھے۔

Facebook Comments HS