جاہل قوم، کورونا اور حکمران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وے پراں ونج، تین تے وکیل ہوونا چائی دا ہا، جیڈے توں سوال کریندا ایں (پرے ہٹ، جتنے تو سوال کرتا ہے تجھے تو وکیل ہونا چاہئے تھا)۔ پھُپھی جب میرے سوالوں سے اکتا جاتیں تو خالص دیہاتی لہجے میں بھِنا کر جواب دیتیں۔ پھوپھو فاطمہ دراصل ابو کی حقیقی پھوپھو تھیں۔ سرگودھا کے گاؤں بھابڑہ کے مغربی حصے کے اکثر بچوں کو قرآن کی تعلیم انہوں نے ہی دی۔ یہ ابو کے بچپن کی بات ہے، ابو کی دیکھا دیکھی گاؤں کے بچوں نے بھی انہیں پھُپھی کہنا شروع کردیا۔ یوں وہ سب بچوں اور بڑوں کی پھُپھی بن گئیں۔ لڑکپن میں جب میں گاؤں کی تاریخ یا خاندانی سماج بارے ان سے تیکھے سوال کرتا تو کچھ دیر بعد وہ زچ ہوکرکہتیں ”وے پراں ونج، تین تے وکیل ہوونا چائی دا ہا، جیڈے توں سوال کریندا ایں“۔ کچھ ایسا ہی ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ ہوا۔ کورونا کے پیش نظر عوام کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور میزبان شاہزیب خانزادہ کے تیکھے سوالات کے جواب میں ان کے منہ سے دل کی بات نکل ہی گئی۔ ”پاکستانی عوام جاہل ہیں اور لاہوریے تو کوئی عجیب مخلوق ہیں“۔

اب سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا ہے۔ دوڑو، پکڑو، جھپٹ لو، ہر کوئی ڈاکٹر صاحبہ کے لتے لے رہا ہے۔ ٹھہریے! ایک لمحے کے لئے رک کر ذرا سوچ تو لیجئے۔ حکومت اگر آپ کو اچھی نہیں بھی لگتی تو ہر ڈاکٹرچیخ چیخ کر عوام کو یہ بتا رہا ہے کہ شہری کورونا سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ میڈیا پر الگ سے مہم چلائی جا رہی ہے۔ بار بار احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے لیکن عوام کی غالب اکثریت نے قسم کھا رکھی ہے کہ کسی قسم کی احتیاط سرزد نہ ہونے پائے۔ کورونا کی تباہ کاریاں بڑھتی جا رہی ہیں لیکن آج بھی بازاروں میں ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے ہیں۔ یار دوست پارٹیاں سجا رہے ہیں، تاش کی بازیاں لگا رہے ہیں۔ دکان، دفتر، مارکیٹ یا شاپنگ مال، کہیں بھی سماجی فاصلے اور دوسری احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا رہیں۔

آج بھی شہریوں کی اکثریت فیس ماسک کا استعمال نہیں کررہی لیکن فیس ماسک کی قیمتوں کا رونا ہر کوئی رو رہا ہے۔ ہاتھ دھونے کا آسان ترین عمل بھی ہمارے لئے چاند سے تارے توڑ لانے کے متراد ف ہے۔ مساجد کی اکثریت میں شہری کندھے سے کندھا ملائے کورونا نامی یہودی سازش کو ناکام بنا رہے ہیں۔ مسافر بسوں کے مالکان کی بھی بن آئی ہے۔ برائے نام احتیاطی تدابیر کی آڑ میں بھاری کرایوں کی صورت عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ پاتال میں چھپی سازش کی بُو سونگھنے والے پاکستانیوں نے مگر اس پر تاحال کسی قسم کا کوئی منظم احتجاج نہیں کیا۔ نجی سکولوں کے مالکان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ سڑکوں پر نعرہ زن ہیں کہ انہیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ سکول کھولنے کی اجازت دی جائے لیکن اس احتجاج کے دوران خود ان کے کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ ڈاکٹرز کے سوا کوئی ایک شعبہ زندگی بتا دیجئے جس نے سنجیدگی سے کورونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہوں۔

بڑے بڑے نامی گرامی علما نے مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ کورونا وائرس کی آڑ میں کورونا وائرس کی ویکسین کے ذریعے مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کر کے یہودیوں کا آلہ کار بنانے کی سازش رچائی گئی ہے۔ سادہ لوح عوام کے لئے ان کی بات حرف آخر ہے۔ معلوم نہیں دنیا بھر میں کورونا کی ہلاکت خیزی کا شکار ہونے والے یہودیوں کے بارے ایسے علما کیا فرمائیں گے۔ ہم غریب پاکستانی تو پولیو کی ویکسین اپنے بچوں کو اس لئے نہیں پلاتے کہ ان سے مردانہ جنسی طاقت پر زد پڑتی ہے، بچیوں پر اس کا کیا اثر ہو گا، پولیو ویکسین کے مخالفین ابھی اس پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے شہ دماغوں کو زیر کرنے کے لئے ایسی ہی خطرناک عالمی سازش کی ضرورت تھی۔

کل ایک باریش بزرگ نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تو نرمی کے ساتھ گریز کی درخواست پر وہ اُبل پڑے۔ تم لوگوں کا خدا پر یقین ہی نہیں ہے۔ سنت سے منہ موڑو گے تو کامیاب کیسے ہو گے۔ خاکسار خود کو کوتوال نہیں سمجھتا ورنہ دریافت کرتا کہ مصافحہ کرنا زیادہ اہم ہے یا حُسن اخلاق؟ خدا پر یقین اتنا ہی مستحکم ہے تو ساری زندگی غیر مسلموں کی ایجاد کردہ ایلو پیتھک دوائیں کیوں کھاتے رہے؟ خدا پر یقین رکھیں، بچوں کی پیدائش کے لئے ہسپتالوں میں کیوں خوار ہوتے ہیں؟

کچھ دن پہلے پنجاب کی ایک جامعہ کے استاد طالب علم سے الجھ پڑے۔ استدلال یہ تھا کہ مسلمانوں کو زیر کرنے کی خاطر کورونا ویکسین کی تیاری کے لئے بل گیٹس نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ پاکستانی قوم کو پولیو سے بچانے کے لئے اپنا سرمایہ مختص کرنے والے بل گیٹس کو اس سے بڑا اعزاز ہم کیا دے سکتے ہیں؟ سچ بتایئے ان حالات میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کیا غلط کہا؟ پاکستانیوں کو جاہل اور لاہوریوں کو عجیب مخلوق کہنا گناہ تھوڑی ہے؟ حالات کی اس سے درست اور بلیغ منظر کشی اس سے بہتر اور کیا ہو سکتی ہے؟

پوچھنے کی بات مگر یہ ہے کہ کب کھلا یہ راز تجھ پر؟ صاحب !مقطع میں سخن گسترانہ بات آ پڑی ہے۔ اور اس بات پر ابھی تک کسی نے غور نہیں کیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد سے شاید سہو ہو گیا کہ وہ خود بھی اسی پاکستانی قوم کا حصہ ہیں جسے انہوں نے جاہل قرار دیا۔ ان کا آبائی تعلق چکوال سے ہے لیکن عرصہ دراز سے وہ لاہور میں مقیم ہیں۔ اس لحاظ سے تو وہ خود بھی لاہورن ہوئیں۔ اب وہ لاہوریوں کے بارے جو بھی فرمانا چاہیں، ان کی مرضی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانی قوم کا حصہ ہوتے ہوئے، لاہور سے تین انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے، لاہور کے بیٹوں اور بیٹیوں کے ہمراہ شہر کے گلی کوچوں کی خاک چھانتے یہ راز ان پر فاش کیوں نہ ہوا۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں صحت کی ذمہ داریاں سنبھالے انہیں دو برس ہوتے ہیں، ان دو برسوں میں یہ اہم حقیقت ان کی نظر سے کیسے اوجھل رہی؟ کیا انہیں علم نہیں تھا کہ اس قوم کے سپوت تو ٹریفک کے اشارے پر رکنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ روزانہ سڑکوں پر حادثات میں مرتے ہیں لیکن نہ تو ہیلمٹ پہننا گوارا ہے نہ سیٹ بیلٹ باندھنا۔

ڈاکٹر صاحبہ روز گھر سے نکل کر اپنے کلینک یا دفتر بھی جاتی ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ سڑک پر چلتے ہوئے اپنی لین میں رہنا تک اس قوم کو گوارا نہیں۔ محترمہ کے ساتھ پنجاب کابینہ میں ان ہی کی جماعت کے ایک ساتھی قصور کے سردار آصف نکئی بھی ہیں۔ ان کے والد سردار عارف نکئی تیرہ ماہ بیس دن تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر فائز رہے۔ سردار عارف نکئی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ایک شہری کی رہائی کے لئے بنفس نفیس پولیس سٹیشن پہنچ گئے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس مقدس شہری کی گرفتاری پر آئی جی پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے اس جاہل قوم نے اُس جوانمردی پر بھی کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔

ڈاکٹر صاحبہ کو سماج کی اس سائنس کی سمجھ آتے شائد کچھ اور دہائیاں درکار ہیں کہ پاکستانی قوم دبئی، برطانیہ، جرمنی، سویڈن، فرانس، امریکہ اور کینیڈا پہنچتے ہی جہالت سے دستبردار ہوکر یکا یک تہذیب کے سانچے میں کیسے ڈھل جاتی ہے۔

مقام شکر ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ نے یہ بھی فرما دیا کہ اس جہالت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے عوام کو کورونا سے بچانے کی ذمہ داری ایک بار پھر اپنے کندھوں پر لے لی ہے۔ ہم جیسے جاہل تو گزشتہ دو برس سے اس غلط فہمی میں تھے کہ خطہ ارض پرموجود پاکستان نامی ریاست کے بائیس کروڑ عوام کی کشتی کے کھیون ہار ڈاکٹر صاحبہ اور ان کی سیاسی جماعت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply