ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
عمران خان ’جاہل‘ قوم کا واحد اہل رہنما ہے جو ملک و قوم کے تمام مسائل کا ادراک رکھتا ہے اور انھیں حل کر سکتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ پہلے اس ملک کو اہل حکمران نہیں ملے۔ فرق یہ ہے کہ ایک تو وہ ایک آدھ خوبی کے حامل ہوتے تھے اور دوسرا یہ کہ ان سب کے مشن ادھورے رہ گئے۔ خان صاحب میں ان سب عظیم حکمرانوں کے اوصاف یکجا ہیں اور یہ اس ملک کو منزل تک پہنچا کر دم لیں گے۔
اہل اور دیانت دار حکمرانوں کی فہرست میں سر فہرست ایوب خان ہیں۔ انھوں نے قوم کو احساس دلایا کہ تمھارا اصل مسئلہ غربت ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور تم ابھی تک غریب اور لاچار بیٹھے ہو۔ ایوب خان ایک ویژنری لیڈر تھے اور انھیں یہ کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ انھوں نے معیشت مضبوط کی اور اتنی مضبوط کی کہ پاؤں پاؤں چلتا پاکستان بالآخر اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ لیکن جونہی کھڑا ہوا دھڑام سے گرا اور دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ پتہ چلا کہ اندر سے کافی کھوکھلا ہو چکا تھا۔ معاشی میک اپ بس ظاہری ٹیپ ٹاپ تھی۔
مغربی پاکستان کے مکینوں نے اپنے حصے کے ایک ٹکڑے کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ چند برس بعد ہی چارہ گروں پر منکشف ہوا کہ اس ٹکڑے پر بسنے والی قوم مفلس ہونے کے ساتھ ساتھ لادین بھی ہو چکی ہے۔ وہ لادینیت کے علاج کے لیے بھاگ دوڑ میں لگ گئے۔ مقدر نے یاوری کی اور آسمان پر 9 ستارے نمودار ہوئے جن کی چمک دمک سے جنرل ضیا الحق کے کاندھوں اور مقدر کے ستارے چمک اٹھے۔ پاکستان کی پہلی اسلامی جہادی حکومت وجود میں آئی اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے والا بے دین بھٹو پھانسی پر جھول گیا۔
نوے دن کا وعدہ کر کے گیارہ سال تک دین کے نفاذ میں مصروف عمل عظیم جنرل ملک میں اسلحہ اور منشیات کا کلچر رائج کر گیا۔ دہشت گردی، بنیاد پرستی اور جہالت اگلی دہائیوں تک ملک کا مقسوم ٹھہرے۔ فضائی حادثے کے باعث ان کا مشن ادھورا رہ گیا اور قوم کے اگلے بارہ برس مشکل ترین گزرے۔ اتنے میں یہ انکشاف ہوا کہ مفلس و بے دین قوم انتہا پسندی کا شکار ہو چکی ہے۔ بتایا گیا کہ طالبانائزیشن اور انتہا پسندی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ علاج، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور روشن خیالی کی ترویج تجویز ہوئے۔
نائن الیون کے بعد جب سپر پاور کی ترجیحات بدل رہی تھیں، خوش قسمتی سے ہمارے ملک میں روشن خیال پرویز مشرف تخت پر براجمان ہو چکے تھے۔ انھوں نے کتوں سمیت سبھی روشن خیال شوق پال رکھے تھے۔ جنرل مشرف نے سابق مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کا عظم صمیم ظاہر کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے پوری قوم کئی برس خاک و خون میں غلطاں رہی۔ انھوں نے ایک ہی ہلے میں خیبر سے بلوچستان تک غاروں میں چھپے ہوئے تمام ملک دشمنوں کو نشانہ بنایا۔ سید مشرف یہ بار عظیم ڈھوتے ڈھوتے کمر درد کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ یوں ایک اور مشن کی تکمیل کا خواب تشنہ تعبیر ٹھہرا۔
ان کا جانا اتنا منحوس ثابت ہوا کہ پاکستانی قوم مفلسی، لا دینیت اور انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ ایک اور بیماری کا شکار ہو گئی۔ وہ بیماری تھی کرپشن۔ قوم کو بتایا گیا تمہارا اصل مسئلہ تو کرپشن ہے۔ یہ بیماری کینسر کی طرح تمھاری رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے۔ تم مرنے والے ہو۔ سوچو اب کیا ہو گا؟ کون اس گمبھیر مسئلے سے نبٹے گا؟ قوم پیشانی پر ہاتھ رکھے مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کی طرف دیکھنے لگی۔ قسمت اس قوم پر ہمیشہ سے مہربان رہی ہے۔
اس بار کنٹینر سے وہ ستارہ طلوع ہوا جو نہ صرف دیانت دار ون یک سیرت تھا بلکہ اس کے پاس قوم کے جملہ مسائل کا حل موجود تھا۔ سونے پر سہاگہ اس میں سابق نیک سیرت اور اہل حکمرانوں کی تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ چارہ گروں نے اس کا انٹرویو لیا اور متفقہ فیصلہ دیا کہ یہی ہے وہ نجات دہندہ جو قوم کے سب مسئلوں کا حل ہے۔ ۔ ۔ انٹرویو کچھ یوں تھا
سوال:خان صاحب! یہ قوم مفلس، بے دین، انتہاپسند اور کرپٹ ہے۔ آپ کے پاس اس کا کیا علاج ہے؟ اور جنرل ایوب خان کی پالیسی کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟
خان صاحب:سب سے پہلے آپ نے گھبرانا نہیں۔ عظیم لیڈر ایوب خان کو تو میں دل سے پسند کرتا ہوں۔ ان کی تو ویڈیوز جلسوں میں بڑی بڑی سکرینوں پر دکھاتا رہا ہوں اور عوام کو بتاتا رہا ہوں کہ کسی زمانے میں پاکستان کی باہر کتنی عزت تھی۔ میں ان کا ویژن ساتھ لے کر چلوں گا اور ان کے مشن کو آگے بڑھاؤں گا۔ میں ان کی طرح ہینڈ سم بھی ہوں۔ آپ دیکھنا امریکی میڈیا اور خاتون اول وغیرہ مجھے اشتیاق سے دیکھیں گی۔ جہاں تک بات ہے مفلسی کی تو اس کا ایسا خاتمہ ہو گا کہ باہر سے لوگ یہاں نوکری کرنے آئیں گے۔
سوال: یہ تو خوش آئند بات ہے۔ آگے بڑھتے ہیں۔ قوم میں ستر کی دہائی کے بعد لادینیت بہت پھیلی ہے اور مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ بیچ میں جنرل ضیا الحق نے اس کے تدارک کے لیے منصوبہ بندی کی تھی لیکن وہ اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ آپ اس کا کیا علاج تجویز کریں گے؟
خان صاحب:دیکھیں جنرل ضیا الحق کی کئی خوبیاں مجھ میں موجود ہیں۔ میں بھی مذہبی آدمی ہوں۔ آپ دیکھیں اب تو میرے ہاتھ میں تسبیح بھی ہے اور مزے کی بات (ہنستے ہوئے ) مجھے طالبان خان بھی کہا جاتا ہے۔ میری صوبائی حکومت ایک خاص نظریے کے مدرسے کی دل کھول کر مدد کرتی رہی ہے۔ سو میں اس مذہبی تشخص اور جنرل ضیا کے ویژن کا بھی خیال رکھ سکتا ہوں۔ آپ بے فکر رہیں۔
سوال: چلیں یہ تو بہت اچھا ہوا کہ مفلسی اور لادینیت کا علاج ہے آپ کے پاس، لیکن اس انتہا پسندی کا کیا کریں گے؟ آپ کو یاد ہو گا جنرل پرویز مشرف نے اس پر کافی کام کیا تھا، کیا آپ نے ان کے کام دیکھا اور اس بارے میں کچھ منصوبہ بندی کی ہے؟
خان صاحب: زور کا قہقہہ لگاتے ہوئے۔ آپ شاید بھول رہے ہیں کہ جنرل مشرف کے ریفرینڈم میں، میں نے بہت کام کیا تھا۔ میں تو وزیراعظم بنتے بنتے رہ گیا۔ بس خدا کی مرضی۔ اور ہاں میں نے بھی ایک کتا پال رکھا ہے اور انگریزی بھی جانتا ہوں۔ ان کے رقص وغیرہ کی ویڈیوز دیکھی تھیں۔ میرے جلسوں میں بھی موسیقی کا خاص اہتمام ہوتا ہے اور اگر وہ ہمارے جلسے میں آتے تو ان کا بھی ہمارے نوجوانوں کی طرح نچنے نوں جی کر دا۔
سوال: ویل ڈن خان صاحب۔ بس آخری سوال، اس قوم کی ایک اور بیماری عروج پر ہے، یعنی کرپشن، اس کا کوئی علاج ہے؟
خان صاحب۔ : دیکھیں۔ ۔ ۔ کرپشن کا خاتمہ میری ترجیح ہے۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ سب کو رلاؤں گا۔ آپ نے گھبرانا نہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے پوری زندگی یورپ میں گھوم کر یہی سیکھا ہے کہ اوپر حکمران ٹھیک ہو تو نیچے سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ہماری قوم دنیا کی عظیم قوم ہے۔ ہمارے ملک جیسا کوئی ملک نہیں۔ یہاں بارہ موسم ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ
اچھا خان صاحب۔ بسم اللہ کریں۔ ۔ ۔
اس سلیکشن سے محب وطن حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ قوم کا غم کھانے والے ایک مرتبہ پھر اپنی صفوں کی بجائے باہر سے ایسا حکمران تلاش کرنے میں کامیاب ٹھہرے تھے جو ان کے ساتھ ایک صفحے پر تھا بلکہ وہ سطر در سطر ایک دوسرے کے اندر پیوست تھے۔
لیکن اب چاروں جانب سے ایک نیا شور سنائی دے رہا ہے۔ قوم جاہل ہے۔ قوم غیر ذمہ دار ہے۔ قوم بے وقوف ہے۔ گویا مفلسی، لادینیت، انتہاپسندی اور کرپشن سے بڑا مسئلہ جہالت ہے۔ اس معاملے پر پورا صفحہ ہم آواز ہے۔ سنا ہے ’چارہ گر‘ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اب ایسا علم و حکمت والا حکمران کہاں سے لایا جائے جو قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکال سکے؟
سنا ہے موجودہ وزیراعظم نے پیغام بھیجا ہے کہ گھبرانا نہیں، اس کا علاج بھی میرے پاس ہے۔ میں موسمیات، جغرافیہ، سائنس، سیاست، مذہب، تاریخ، ’رحونیت‘ اور زبان و بیان سمیت جملہ علوم پر عبور رکھتا ہوں۔ اگر شک ہو تو وہ ویڈیوز دیکھ لو جس سے میرے مخالفین بھی علم میں اضافے کے لیے استفادہ کرتے اور ایک دوسرے کو فارورڈ کرتے رہتے ہیں۔ اور ہاں علامہ اقبال کی جتنی شاعری مجھے یاد ہے کسی کو یاد نہیں۔ مجھ پر اعتماد رکھیں اور اقبال کا یہ مصرع سنیں اور سوچیں
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے


