پاک فضائیہ کا عقاب سیف الاعظم : ڈھاکہ کی فضاؤں میں کھو گیا
ڈھاکہ میں متحدہ پاکستان کا معرکہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اب بھی رنگ و روپ بدل بدل کر چند لمحوں کے لئے منظر کو خیرہ کرکے یادیں تازہ کرکے وقتی طور پر اوجھل ہوجاتا ہے
کل اس پرشکوہ کھیل کا مرکزی کردار 80 سالہ گروپ کیپٹن سیف الاعظم تھے بنگلادیشی پارلیمان کے بزرگ رکن، لیکن متحدہ پاکستان کا عظیم اور بہادر بیٹا سیف الاعظم جس نے وصیت کی تھی کہ خاموشی سے اس کے کفن میں دل کے مقام پر سبز ہلالی پرچم ٹانک دیا جائے جو کئی دہائیوں تک اس کی وردی کا حصہ رہا تھا
پاکستان بھی کیسا معجزہ ہے بہادر کشمیری سبز ہلالی پرچم کی چادر اوڑھ کر سوتے ہیں متحدہ پاکستان کا 80 سالہ بنگالی فرزند سبز ہلالی پرچم کو دل سے لگائے سفر آخرت پر روانہ ہوتا ہے اور ہمارے چھچھورے گندے انڈے بچے اولاد میر جعفر و صادق سبکی اور رسوائی کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں
بھارت کا ایک اور اسرائیل کے تین طیارے مارگرانے والا متحدہ پاکستان کا عظیم بہادر بیٹا سیف الاعظم ابدی اعزاز پانے روانہ ہوگیا۔ دنیا کی چار فضائی افواج کے لئے دادشجاعت دینے والا ”زندہ عقاب“ اپنے خالق کی طرف پرواز کرگیا۔ پاکستان، اردن اور عراق سے اپنی قابلیت، جرات اور شیردلی کا اعزاز پانے والا سپوت وطن 80 برس کی عمر میں ڈھاکہ کی مٹی اوڑھ کر سوگیا۔
گروپ کیپٹن (ر) سیف الاعظم نے بھارتی فوج کے خلاف 12 زمینی حملوں میں حصہ لیا تھا۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد وہ وہاں کی فضائیہ میں شامل ہوگئے تھے جہاں سے وہ گروپ کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ 1941 ءمیں مشرقی بنگال کے ضلع پبنا کے کھگڑباڑیا گاؤں میں پیدا ہونے والے سیف الاعظم 18 برس کی عمر میں مغربی پاکستان آگئے اور سرگودھا میں پاکستان ایئر فورس کالج میں داخل ہوگئے۔ 1958 میں وہ پاک فضائیہ کے باوقار شاہینوں کے جھرمٹ کا حصہ بن گئے۔ 1960 ءمیں جی ڈی پائیلٹ کا تمغہ سینے پر سجانے کے بعد وہ نزہت اعظم سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے جو ایک قانون دان تھیں۔
سیف الاعظم کا بچپن کا ایک حصہ اپنے والد کے ہمراہ کلکتہ شہر میں بھی گزرا تھا 1947 میں تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجر ت کرکے مرحوم مشرقی پاکستان چلا گیا تھا۔
سیف الاعظم نے چھوٹے طیارے ’سیسنا۔ ٹی 37‘ پر تربیت مکمل کی۔ ابتدائی فضائی تربیت کے بعد سیف الاعظم امریکہ گئے جہاں ”ایئر ایجوکیشن اینڈٹریننگ کمانڈ“ (AETC) سے وابستہ ہوگئے۔ امریکی ریاست ایروزونا کے اس فوجی ہوائی اڈے کو ’لیوک ایئر فورس بیس‘ (Luke Air Force Base) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے دنیا میں فضائیہ اور ہوابازوں کی تربیت کا اعلی ترین مرکز / درسگاہ قرار دیاجاتا ہے۔ سیف الاعظم نے ’ایف 86‘ سیبر کی مزید مہارت لیوک ایئر فورس بیس ایریزونا سے پائی۔
میر پور خاص کراچی میں پاک فضائیہ کے سکواڈرن 2 میں ’ٹی۔ 33‘ کے انسٹرکٹر بننے سے قبل سیف الاعظم مختصر مدت کے لئے ڈھاکہ میں بھی تعینات رہے۔ اسی دوران جنگ ستمبر کا کھیل شروع ہوگیا سیف الاعظم کو انسٹرکٹر ہونے کے دوران ہی اپنے ہنر اور فن کا عملی مظاہرہ کرنے کا جیسے قدرت نے موقع عطا کر دیا تھا۔ سیف الاعظم 1965 کی جنگ کے دوران سیف الاعظم نے پاک فضائیہ کے سکواڈرن نمبر 17 میں خدمات انجام دیں جو سرگودھا کی آغوش میں قائم ہے۔
ایم ایم عالم اور دیگر اپنے بہادر ساتھیوں کی مانند سیف الاعظم بھارتی فضائیہ پر اللہ کی تلوار بن کر چمکے، بھارتی فضائیہ کے فلائیٹ افسر مایادیو کے جہاز کے پرخچے اڑا دیے۔ مایا دیو بھی اس زمانے کا ابھی نندن ثابت ہوا جسے پاکستانی فوجیوں نے گرفتار کر لیا۔ سیف الاعظم نے جنگ ستمبر میں 12 زمینی حملوں کے مشن میں اپنی قابلیت اور عسکری ہنر کے بے مثال جوہر دکھائے اور بھارتی فوج کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کی اس شجاعت پر پاکستان کا تیسرا بڑا فوجی اعزاز ستارہ جرات انہیں عطا کیا گیا۔ 1966 میں پاک فضائیہ کے سکواڈرن 2 کے کماندار کی ذمہ داریاں انہوں نے انجام دیں۔
سیف الاعظم کو اللہ کریم نے مزید سربلندیوں اور رفعتوں سے نوازنا تھا۔ اسی لئے نومبر 1966 میں پاک فضائیہ نے ڈیپیوٹیشن پر انہیں اردن کی شاہی فضائیہ میں مشیر مقرر کر دیا۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں سیف الاعظم ایک بار پھر اللہ تعالی کی شمشیر برہنہ ثابت ہوئے اور ظالم صیہونیوں کے سر پر قہر خداوندی بن کر ٹوٹے۔ انہیں مسلم اور غیرمسلم دنیا میں یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ تین صیہونی طیارے مارگرائے۔
اردن میں مودگی کے دوران انہوں نے ایک صیہونی طیارہ مارگرایا تھا۔ سیف الاعظم ’ہاکر ہنٹر‘ طیارے میں سوار تھے اور انہوں نے فرانسیسی ساختہ جدید ٹیکنالوجی کے شاہکار لڑاکا بمبار طیارے ’ڈاسالٹ ایم ڈی 454 چہارم‘ کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ طیارے ’ڈاسالٹ مسٹری چہارم‘ کے نام سے معروف تھے۔ 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران یہ طیارے اسرائیلی فضائیہ نے بڑے پیمانے پر استعمال کیے تھے۔ یہ طیارے اس وقت کے جدید ترین سمجھے جانے والے طیارے تھے جنہیں ہوا کے بہاؤ کو مدنظررکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔ اس کی پہلی پرواز 28 ستمبر 1952 کو کی گئی تھی جبکہ اپریل 1953 میں اسے باضابطہ لڑاکا طیاروں کے بیڑے میں شامل کر دیاگیا تھا۔ یہ طیارہ 1980 تک استعمال میں رہا۔ 1957 میں بھارت نے بھی 104 یہ طیارے خریدے تھے جنہیں اس نے 1965 کی جنگ کے دوران بھرپور طور پر استعمال کیا تھا۔
اردن میں اسرائیلی فضائیہ کا طیارہ گرانے کے اگلے ہی روز انہیں عراق کے ہوائی اڈے بھجوادیاگیا جہاں جاتے ہی انہوں نے دو مزید صیہونی طیاروں کو دھول چٹادی اور صیہونی تکبر کا سر نیچا کیا۔ یہاں انہوں نے فرانسیسی ساختہ جدید بمبار لڑاکا طیارے ’واٹور‘ اور ’ڈیسالٹ میراج سوئم‘ کو مارگرایا۔
1969 میں بیرون ملک ڈیپیوٹیشن مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس آئے اور پی اے ایف کے پاکستان میں مختلف فوجی ہوائی اڈوں پر فلائیٹ کمانڈر کے طور پر کئی برس تک خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر بنگلہ دیش کا سانحہ پیش آیا اور وہ اپنے ’حسیں خوابوں، مدھر گیتوں کے سندر دیس‘ کوچ کرگئے۔
1977 میں بنگلہ دیشی ایئر فورس میں انہیں گروپ کیپٹن کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ وہ ڈھاکہ ایئر بیس کے کمانڈر بھی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سول ایوی ایشن بنگلہ دیش کے چئیرمین، فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ایم ڈی بھی بنے۔ وہ پنابا کے انتخابی حلقے سے بنگلہ دیشی پارلیمان کے رکن بھی منتخب ہوئے جسے ’جاتیا سنگساد‘ یا ’نیشنل پارلیمنٹ‘ بھی کہاجاتا ہے۔
2001 میں امریکی حکومت نے سیف الاعظم کو ”زندہ عقاب“ کے خطاب اور اعزاز سے نوازا تھا۔ یہ ان کی ہنرمندی، عسکری صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا عالمی سطح پر برملا اعتراف تھا۔ 14 جون 2020 کو یہ عظیم فرزند ڈھاکہ کے فوجی ہسپتال میں سفرآخرت پر روانہ ہوا۔
افسوس کہ بنگلہ دیشی فضائیہ کے محکمہ تعلقات عامہ کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ اس مردمجاہد کی وفات کی خبر اپنی سرکاری ویب سائیٹ پر ہی لگادیتا۔ دنیا کے مختلف خبررساں ادارے ان کی وفات کی خبر کی تصدیق کی کوششیں کرتے رہے۔ بنگلہ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ نے حماقت پر مبنی یہ فضول توجیہہ پیش کی کہ سیف الاعظم ریٹائر ہوچکے تھے، اس لئے ان کی وفات کی خبر سرکاری ویب سائٹ پر نہیں لگائی جاسکتی تھی کوئی عقل کے ان اندھوں سے پوچھے کہ سیف الاعظم عام ریٹائرڈ افسر تھے؟ کیا کوئی اور سیف الاعظم جیسا تھا؟ یا شاید اصل وجہ یہ تھی کہ بھارت اور اس کے دوست اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے والے اس شیر کی قربانی کو موجودہ ”کالی ماتا“ اور ”بھارتی دیوی“ برداشت نہیں کرسکی۔
پاکستان میں بھی پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کے سوا کسی اور صاحب جاہ وحشمت نے جنگ ستمبر کے اس ہیرو کو سلام عیقدت پیش کرنے کی فرصت نہ پائی۔
فلسطین کے سفیر احمد رابی نے اظہار رنج وغم کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہاکہ ” ’آسمان کے شاہین‘ کی وفات پرانہیں دلی رنج ہوا ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ ہمارے ہیرو سیف الاعظم ہم میں اپنے کارناموں کی صورت زندہ ہیں، ان کی یاد ہمارے دلوں سے محو نہیں ہوسکتی۔ وہ حقیقی ہیرو اور ہر لحاظ سے ایک سچے محب وطن تھے۔“
عرب میڈیا نے خبر دی کہ فلسطینیوں نے سیف الاعظم کی وفات پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے۔ فلسطینی تاریخ دان اسامہ الاشکر (Osama al۔ Ashqar) نے انہیں عظیم ہوا باز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ”بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہمارے بھائی الاقصی مسجد کے دفاع اور مزاحمت میں ہمارے شراکت دار اور ساتھی تھے۔“ فلسطینی پروفیسر ناجی شوقری (Naji Shoukri) نے غم کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ”سیف الاعظم فلسطینیوں سے محبت کرتے تھے اور انہوں نے یروشلم کے دفاع کے لئے جنگ لڑی۔ ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی انہیں اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمائے۔“
معروف فسلطینی صحافی تمر المشعال (Tamer al۔ Mishal) نے سیف الاعظم کو ”فضاءکا شاہین“ کا قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا اور ان کے لئے اپنے غم کا اظہار کیا۔ آج کی دنیا میں شاید مظلوم فلسطینی اور کشمیری ہی وہ مسلمان ہیں جو اپنے مخلص اور اپنے لئے جان دینے والوں کو جانتے اور ان کی قدر کرتے ہیں۔





