ادیب، ادب اور آزادی: ژاں پال سارتر کا مضمون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم ادب کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اہم سوالوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے
ادب کیا ہے؟
ادب کا فن اور زندگی سے کیا رشتہ ہے؟
ادیب کیوں اور کن لوگوں کے لیے لکھتا ہے؟

جب ہم ادب کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں الفاظ اور معانی کے کئی تصورات ابھرتے ہیں۔ ویسے تو ادیب بھی کسی پینٹر اور موسیقار کی طرح ایک فنکار ہوتا ہے لیکن ان سب کے دائرے مختلف ہیں۔ پینٹر رنگوں سے اور موسیقار آوازوں سے اپنے فن کا اظہار کرتا ہے جبکہ ادیب الفاظ کا سہارا لیتا ہے۔

الفاظ نہ صرف ظاہر بلکہ باطن بھی رکھتے ہیں اور ادب میں علامتیں اور استعارے بھی بن جاتے ہیں۔ اگر میرے لیے سفید گلاب وفاداری کی علامت ہے تو میں سوچتے سوچتے ان الفاظ سے بہت آگے نکل جاتا ہوں اور میرے لیے سفید گلاب صرف گلاب نہیں رہتے بلکہ وہ نئے معانی کی طرف اشارہ کرنے لگتے ہیں۔ ایک پینٹر کینوس پر گھر کی تصویر بناتا ہے لیکن ایک ادیب الفاظ سے ایک جھونپڑی کا ایسا نقشہ کھینچتا ہے کہ وہ معاشی ناہمواری اور معاشرتی نا انصافی کی علامت بن جاتا ہے۔

جب کوئی شخص ادب تخلیق کرنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو ادیب کہلاتا ہے تو ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اس سے پوچھیں، تم لکھتے کیوں ہو؟ تمہارے پاس کہنے کو کیا ہے؟ تم ایسی کون سی بات کہنا چاہتے ہو جس کی ترسیل دوسروں سے مختلف اور اہم ہے؟ ،

اگر کوئی شخص اپنی ذات اور کائنات کے بارے میں غور کرنا چاہتا ہے تو وہ یہ کام خاموشی سے بھی کر سکتا ہے اسے کچھ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن جونہی کوئی شخصٓ قلم اٹھاتا ہے تو ترسیل اور ابلاغ کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اگر کوئی ادیب زندگی کے ایک گوشے کے بارے میں اظہار خیال کرتا ہے تو ہم اس سے پوچھ سکتے ہیں کہ آخر اس نے اس موضوع کا کیوں انتخاب کیا اور وہ اپنے ادب سے زندگی کے اس گوشے میں کیا تبدیلی لانا چاہتا ہے۔

ایک سنجیدہ ادیب جانتا ہے کہ اس کا ہر لفظ اہم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ الفاظ کارتوسوں سے بھرے پستول ہیں۔ جب ادیب لکھتا یا بولتا ہے تو وہ فائر کرتا ہے۔ ادیب اختیار رکھتا ہے کہ وہ خاموش رہے اور کچھ نہ بولے لیکن جب وہ بولنا اور لکھنا شروع کرتا ہے تو ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک بالغ انسان کی طرح اس طرح فائر کرے گا کہ گولیاں نشانے پر لگیں۔ وہ بچوں کی طرح ہوا میں فائر نہ کرے گا جو فائر کی آواز سے ہی خوش ہو جاتے ہیں۔

چونکہ ادیب اپنی مرضی سے ادبی دنیا میں قدم رکھتا ہے اور زندگی اور انسانوں کی حقیقتوں کو دوسرے انسانوں پر بے نقاب کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور اس کام کے لیے الفاظ کا استعمال کرتا ہے اس لیے اسے الفاظ کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے جو وہ اپنی تخلیقات میں استعمال کرتا ہے۔

ادب کے بارے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادیب لکھتا کیوں ہے؟ چونکہ ہر ادیب اپنی انفرادیت رکھتا ہے اس لیے اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن جب ہم اجتماعی طور پر سوچتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ بعض ادیبوں کے لئے ادب زندگی سے فرار کا راستہ ہموار کرتا ہے اور دوسروں کے لیے فتح کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان نے فرار ہی حاصل کرنا ہے تو وہ تنہائی، پاگل پن یا موت میں بھی فرار حاصل کر سکتا ہے اور اگر اس نے فاتح ہی بننا ہے تو وہ اسلحہ و بارود سے بھی کام لے سکتا ہے۔ آخر انسان فرار یا فتح حاصل کرنے کے لیے ادب اور الفاظ ہی کیوں چنتا ہے۔ میری نگاہ میں ان وجوہات کے درپردہ کچھ اور عوامل اور محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔

ادیب دوسرے فنکاروں کی طرح ان لمحوں کا انتظار کرتا ہے جب اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں ایک لہر ابھرتی ہے اور فن پارے کے قالب میں ڈھلتی ہے اور پھر وہ اس فن پارے کو دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ادیب کا تخلیقی عمل نامکمل ہوتا ہے قاری اسے تکمیل کے درجے پر پہنچاتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ادیب اپنی ذات کے لیے لکھتا ہے درست نہیں۔ میری نگاہ میں کوئی بھی فن ایسا نہیں ہے جو دوسروں کے لیے نہ ہو۔ قاری کا ادیب کے تخلیقی عمل میں شریک ہونا اس کی آزادی کی عکاسی کرتا ہے۔ ادیب قاری کی اس آزادی سے درخواست کرتا ہے کہ جو کام اس نے نامکمل چھوڑا ہے قاری اسے پورا کر دے۔ اس طرح ادیب کی آزادی قاری کی آزادی سے جڑی ہوتی ہے۔

جب ادیب قاری کو دعوت دیتا ہے تو جس قدر وہ یہ دعوت مہذب طریقے سے دے گا اس قدر قاری کے اس کے ساتھ شریک ہونے کے امکانات زیادہ ہوں گے لیکن اگر ادیب بلند بانگ دعوے کرے گا اور قاری کو جذباتیت کی بھینٹ چڑھائے گا اسی قدر ادیب کے قاری کو کھونے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ ادیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ قاری کی آزادی کا احترام کرے۔

اگر لکھنے کا عمل سخاوت کا عمل ہے تو پڑھنے کا عمل بھی سخاوت کا عمل ہے۔ ادیب اور قاری لکھنے اور پڑھنے کے عمل میں ایک دوسرے کو اپنی آزادی کا تحفہ دیتے ہیں اور نئی آزادی کا سراغ لگاتے ہیں جس سے داخلی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔

ادب اور فن انسانوں کے لیے آزادی کا پیغام لے کر آتے ہیں چاہے بظاہر ان سے غصہ، نفرت اور تلخی ہی کیوں نہ ظاہر ہو رہی ہو۔ اگر امریکہ کے کسی کالے ادیب کے ناول سے غصے اور نفرت کا اظہار ہوتا ہے تو اس نفرت کے اظہار سے بھی کالوں کی آزادی مقصود ہے۔ ادب آزاد لوگوں کی آزاد لوگوں سے ہم کلامی ہے جس کا موضوع انسانی آزادی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادیب کس کے لیے لکھتا ہے؟

بظاہر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادیب پوری بنی نوع انسان کے لیے لکھتا ہے اور دنیا کا ہر انسان اس کا قاری ہے لیکن یہ بات مثالی زیادہ اور حقیقیت پسندانہ کم لگتی ہے۔

چونکہ ادیب ایک مخصوص زبان میں لکھتا ہے اور مخصوص الفاظ استعمال کرتا ہے اور الفاظ اپنا مخصوص مزاج اور تاریخ رکھتے ہیں اس لیے وہ الفاظ ادیب کو ایک مخصوص گروہ کے قاریوں سے جوڑتے ہیں۔ اگر ہم ماحول یا دور بدل دیں تو ابلاغ اور غلط فہمیوں کے مسائل ابھرنے لگتے ہیں۔ جب ادیب اپنے موضوع، زبان اور الفاظ کا چناؤ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ وہ زندگی کے کس پہلو کی آزادی کا خواہاں ہے تو اس انتخاب سے وہ اپنے قاری بھی منتخب کر لیتا ہے۔

جب کوئی ادیب کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہے اور اپنی تحریروں سے اپنے خیالات، جذبات، احساسات اور نظریات کا اظہار کرتا ہے تو قاری کو اس کے نقطہ نظر کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ اس آزادی کے سفر میں شریک ہوتا ہے، بدقسمتی سے بعض ادیب اپنی کمٹمنٹ اپن قاری سے ہی نہیں اپنی ذات سے بھی چھپائے پھرتے ہیں۔ ادیب چونکہ اپنی مرضی سے ادیب بنتا ہے اس لیے قاری اس سے اپنی شخصیت اور نقطہ نظر کے اظہار کی امید رکھتا ہے۔

ایک یہودی اپنے یہودی ہونے پر مجبور ہے کیونکہ لوگ اسے یہودی کہتے اور سمجھتے ہیں۔ اسے اپنے یہودی ہونے یا نہ ہونے میں کوئی اختیار نہیں لیکن ادیب کو کوئی مجبور نہیں کرتا کہ وہ ادیب بنے۔ ادیب اپنی مرضی سے ادیب بنتا ہے اس لیے ادیب بننے کی عمارت آزادی پر استوار ہے لیکن جب کوئی شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ ادیب ہے تو باقی لوگ اسے ادیب سمجھنے لگتے ہیں اور پھر اس سے کچھ توقعات وابستہ کرتے ہیں اور معاشرے میں اس سے ایک مخصوص کردار کی امید رکھتے ہیں۔

ویسے تو ہر ادیب پوری انسانیت کے لیے لکھتا ہے لیکن اکثر اوقات اس کے پہلے مخاطب وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے اس کا قریبی تعلق ہوتا ہے۔ امریکہ کے کالے ادیب کالوں کے مسائل کے بارے میں لکھتے ہیں اور امریکہ کے سفید فام ماحول کے جبر سے کالوں کو آزادی دلانے کی کوشش کرتے ہیں اور کالوں کی آزادی کی وساطت سے بنی نوع انسان کی آزادی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اس طرح آزادی کا یہ عمل کئی مرحلوں سے گزرتا ہے۔ کالا ادیب اپنی ذاتی جدوجہد، اپنے مسائل اور خواب بیان کرتے ہوئے دوسرے کالوں کا شعور، ضمیر اور خواب بن جاتا ہے اور اپنی آزادی میں سب کالوں کو شریک کر لیتا ہے۔

ادیب کا اپنے ماحول سے عجیب و غریب رشتہ ہوتا ہے۔ لازمی نہیں کہ ادیب کی معاشرے میں قدر کی جائے یا اسے انعام و اکرام سے نوازا جائے کیونکہ ادیب کا کام بظاہر سودمند نظر نہیں آتا۔ بہت سے لوگ اس کے کام کو فضول سمجھتے ہیں۔ بعض دفعہ تو وہ نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا ادب لوگوں کو شعور بخشتا ہے اور جب وہ اپنے ماحول کی نا انصافیوں اور ناہمواریوں سے آگاہی حاصل کرتے ہیں تو ان کے دل میں احساس گناہ بھی بیدار ہو سکتا ہے۔

ادیب اپنے ماحول کے ساتھ ایک تضاد کا شکار ہوتا ہے۔ وہ انہی لوگوں کے خلاف لکھتا ہے جو اسے پیٹ بھرنے کو کھانا، پہننے کو کپڑے اور سر چھپانے کو کام مہیا کرتے ہیں۔ وہ اصحاب بست و کشاد کو چیلنج کرتا ہے وہ اصحاب اختیار کو آئینہ دکھاتا ہے اور اپنی تحریروں سے ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے کس طرح عوام کو ظلم و تشدد کی چکی میں پیس رکھا ہے۔ اس طرح ادیب عمر بھر ایک دو دھاری تلوار پر چلتا رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ وہ جن مظلوم و مجبور و مقہور لوگوں کے حقوق کے لیے لکھتا ہے ان کی اکثریت نہ تو اتنا وقت رکھتی ہے نہ ہی دولت اور علم کہ اس کی کتابوں کو پڑھ سکے۔

چونکہ آج کے دور میں ہم لکھنے اور پڑھنے کو انسان کے بنیادی حقوق سمجھنے لگے ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ تعلیم عام ہو اس لیے ہم امید رکھتے ہیں کہ آج کا ان پڑھ انسان کل پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائے گا۔

ادیب اور قاری کے رشتے نے پچھلی چند صدیوں میں کئی ارتقائی منازل طے کی ہیں۔ ایک وہ دور تھا جب ادیب صرف خواص اور اشرافیہ کے لیے لکھتا تھا۔ اس وقت اس کے قارئین کا دائرہ محدود تھا۔ ایک یہ دور ہے کہ ادیب عوام تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس تحریریں زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھیں تا کہ آزادی کی راہ ہموار ہو اور معاشرے میں ذہنی، جذباتی اور سماجی تبدیلیاں جلد واقع ہوں۔

ایک وہ دور تھا جب ادیب اشرافیہ کے ذوق کو سامنے رکھ کر لکھتا تھا۔ وہ حکمرانوں بادشاہوں اور اصحاب اختیار کو محظوظ کرنا چاہتا تھا۔ ایک یہ دور ہے کہ ادیب اپنی ذات اور اپنے معاشرے کے مسائل سے نبردآزما ہے اور زندگی کے نئے معانی تلاش کرنے میں سرگرداں ہے۔ وہ نئی دنیائیں تلاش کرنا چاہتا ہے۔ وہ معاشرے میں ایک تبدیلی لانے کا خواہاں ہے۔ اس طرح وہ حکمرانوں بادشاہوں اور اصحاب اختیار کی ناراضگی اور دشمنی مول لیتا ہے کیونکہ وہ عوام کی بیداری اور آزادی کے لیے لکھتا ہے۔

پچھلی چند صدیوں سے ادیب کی وفاداریاں بدل رہی تھیں لیکن اٹھارہویں صدی سے ادیب نے انقلاب اور سماجی تبدیلیاں لانے میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ حاکموں اور محکوموں، ظالموں اور مظلوموں، خواص اور عوام کے درمیان آ کھڑا ہوا ہے۔ ادیب نے عوام کی حوصلہ افزائی شروع کر دی ہے تا کہ وہ حکومت، سیاست، عدالت اور مذہبی روایت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکیں۔ ادیب نے عوام کے جذبوں اور خوابوں کے لفظوں اور آوازوں کا روپ دینا شروع کر دیا ہے۔

اس تبدیلی سے ادب کی تعریف ادب کا کردار اور ادب کے پیمانے بدل گئے ہیں۔

اب ہم ادب کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگے ہیں۔ پچھلی دو صدیوں میں ادب نے معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف ہی نہیں تاریخ کے خلاف بھی آواز اٹھائی ہے اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی آزادی کی راہ ہموار کی ہے۔ ادب انسان کو آزاد ہونے پر اکساتا ہے اور اس آزادی میں اعمال کی آزادی ہی نہیں فکر کی آزادی بھی شامل ہے۔ اس طرح ادب اور کتاب وہ وسیلہ ہیں جس میں ادیب اور قاری ایک دوسرے کی آزادی میں شریک ہوتے ہیں۔

ادیب کتاب کے ذریعے آزادی کا تحفہ پیش کرتا ہے قاری اس تحفے کو قبول کر کے اس عمل کو مکمل کرتا ہے اور وہ دونوں مل کر اپنے ماحول کی زنجیریں توڑتے ہیں۔ اگر ادیب کو عوام کے ساتھ مل کر چلنا ہے تو اگر وہ خود اشرافیہ کا پروردہ ہے تو اسے اپنے خاندان اور اپنے ماحول کی زنجیریں توڑنی ہوں گی تا کہ وہ عوام کے ساتھ مل جل کر فکر و عمل کی آزادی میں شریک ہو سکے اور عوام بھی اسے خلوص اور محبت سے قبول کر سکیں۔

سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں ادیب کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ اشرافیہ کے لیے لکھ گا یا عوام کے لیے؟ اور انیسویں صدی تک آتے آتے ادیبوں کی ایک بڑی تعداد نے خواص کو چھوڑ کر عوام کا ساتھ دینا شرع کر دیا اور انہوں کے روایات اور تاریخ کے نام پر جو انسانوں کا استحصال ہو رہا تھا اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ادیبوں کو ایک خاص انداز سے لکھنے کی ضرورت پیش آئی تا کہ وہ عوام کے ساتھ مکالمہ کر سکیں۔ اس طرح ادیبوں کی زبان انداز بیان اور رویوں میں تبدیلیاں آئیں۔

لیکن ادیبوں کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جن کے لیے یہ تبدیلی ممکن نہ تھی۔ وہ انیسویں صدی میں بھی اسی طرح لکھنا چاہتے تھے جس طرح ادیب ساتویں صدی میں لکھتے تھے ایسے ادیبوں نے ادب کو ترسیل بنانے کی بجائے خودکلامی، مابعدالطبیعات تجربہ اور دعا بنا کر پیش کیا۔ ان ادیبوں نے عوام کی آزادی کی ذمہ داری اٹھانے کی بجائے کئی اور راستے اختیار کیے اور ان کا ادب ادیب اور قاری کے درمیان ابلاغ کا پل تعمیر نہ کر سکا۔

اس نقطہ نظر نے بیسویں صدی میں آ کر سریلزم کی صورت اختیار کی اور اس گروہ کے ادیب سماجی ذمہ داری سے پوری طرح سے دست کش ہو گئے۔ وہ کہنے لگے کہ ہم لاشعور کی رو میں لکھتے ہیں۔ ہم خود بھی نہیں جانتے کہ کیا لکھ رہے ہیں اس لیے ہم اپنی تخلیقات کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ اس مقام پر پہنچ کر ادیب کی غیر ذمہ داری اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے۔

جب ادیب نے یہ رویہ اختیار کیا تو اشرافیہ اور اصحاب اختیار ایک دفعہ پھر مسکرانے لگے۔

اس گروہ کے ادیب ابلاغ کی ناکامی اور غلط فہمیوں کے بڑھنے پر افسوس کرنے کی بجائے فخر کرنے لگے۔ ان کا ادب پارہ جتنا گنجلک اور ناقابل فہم ہوتا وہ اتنا ہی نازاں ہوتے۔ وہ خوش ہوتے کہ قاری انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ اس طرح ہمارے عہد کا منفی ادب پیدا ہوا جس نے زندگی کا ساتھ دینے کی بجائے اس کی تردید کی اور ارتقا کی بجائے تنزل کی طرف قدم اٹھائے۔ ادب ان بلبلوں کا مرہون منت ہو گیا جو ادیب کے ذہن کی سطح پر ابھرتے ہیں۔

ایسا ادب نہ تو روایات کو چیلنج کرتا ہے نہ ہی زندگی میں کسی قسم کی تبدیلی کا خواہاں ہے۔ وہ انفرادی اور سماجی تبدیلی کو ادب کی ذمہ داری نہیں سمجھتا بلکہ وہ فرسودہ روایات کی حفاظت کرتا ہے۔

اس گفتگو کے پیش نظر ہم ادیبوں کو دو گروہوں مین تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک گروہ ان ادیبوں کا ہے جو ادب کو زندگی سے جوڑتا ہے، انفرادی اور معاشرتی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اپنے ماحول کی تبدیلی اور ارتقا میں اہم کردار کرتا ہے۔ دوسرا گروہ ان ادیبوں کا ہے جن کے ادب کا زندگی سے کوئی رشتہ نہیں۔ وہ اپنی ذات کی بھول بھلیوں میں کھویا رہتا ہے اور دوسرے انسانوں سے کسی قسم کے رشتے اور ابلاغ کا خواہاں نہیں ہوتا۔ ایسے ادب کا مقصد تفریح سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔

مختصر یہ کہ ادیب اور قاری کا رشتہ آزادی کا رشتہ ہے۔ ادیب آزاد ہے کہ کیا لکھے اور قاری آزاد ہے کہ وہ کیا پڑھے۔

سنجیدہ ادب آزادی کا ادب ہے اور وہ انسانی آزادی میں چاہے وہ انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر انسانی شعور کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب کی منزل انسانی آزادی کا حصول ہے اور اسی منزل تک پہنچنے کی سنجیدہ ادیب کوشش کرتا رہتا ہے،

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ژاں پال سارتر کی کتابWHAT IS LITERATURE کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 353 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply