لاڑکانہ کے میکنک کے بیٹے کی سی ایس ایس افسر بننے کی کہانی


پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے زوہیب قریشی کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر تھا۔ جس کے ہر قدم ایک نئی مشکل اور پہلے سے زیادہ جدوجہد درکار تھی۔ زوہیب قریشی کا سی ایس ایس میں کامیابی کا نمبر 260 واں ہے۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ لینڈ اینڈ ریونیو کے محکمے میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

زوہیب قریشی نے اپنی کہانی بی بی سی کے لیے صحافی زبیر خان کو سنائی ہے۔ ان کی کہانی ان کی ہی زبانی۔

میرے بچے بھی افسر بنیں گے

میرے بابا عبدالطیف قریشی لاڑکانہ کے مشہور موٹر میکنک تھے۔ لاڑکانہ اور گرد ونواع کے تمام بڑے لوگ اور آفسیر ان سے اپنی گاڑیاں ٹھیک کروایا کرتے تھے۔ ہمارا گھر ہمارے گیراج کی بالائی منزل پر تھا۔

بچپن ہی میں دیکھا کہ بابا اور امی ہمیشہ یہ بات کرتے تھے کہ ہم تینوں کو خوب پڑھائیں گے ہیں اور یہ بڑے آفسیر بنیں گے۔

یہ 2003 کی بات ہے۔ مجھے اور میرے بڑے بھائی احمر قریشی کو بابا نے لاڑکانہ کے مشہور پرائیوٹ سکول شمس پبلک سکول میں داخل کروایا ہوا تھا۔

میں نے چھٹی تک اپنی امی ہی سے پڑھا تھا وہ ہی ہوم ورک وغیرہ کرواتی تھیں۔ بابا اور امی ہمیں سی ایس ایس کروانا چاہتے تھے جس کے لیے انھوں نے مجھے انگریزی کی ٹیوشن بھی لگا دی تھی۔

جب میں چھٹی اور ساتویں کلاس میں پہنچا تو اس وقت کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے طالب علموں کو مخصوص قسم کے شاندار یونیفارم میں بڑی شان سے آتا جاتا دیکھتا تو میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کیڈٹ کالج لاڑکانہ میں پڑھوں۔ اس خواہش کا ذکر بابا اور امی سے کیا تو وہ فورا راضی ہوگے۔

امی نے کہا کہ محنت کرو امتحان پاس کرو اور جہاں چاہتے ہو پڑھو ہمیں تو بہت خوشی ہوگئی۔

عبدالطیف قریشی لاڑکانہ کے مشہور موٹر میکنک تھے

کیا بیٹے کی فیس اد کر لو گے؟

جب کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے آٹھویں کلاس کے داخلے شروع ہوئے میں نے امتحان دیا اور پاس ہوگیا۔

مگر ایک عجیب بات ہوئی جب میں داخلہ وغیرہ جمع کروانے کے لیے گیا تو وہاں پر موجود عملے نے میرے بابا سے پوچھا کہ کیا تمھیں پتا ہے کہ یہ لاڑکانہ کیڈٹ کالج ہے۔ تم بیٹے کی فیس ادا کرسکو گے۔ میرے بابا نے کہا کہ فکر نہ کرئیں میں محنت کرسکتا ہوں بیٹے کے لیے سب کچھ کر لوں گا۔

یہ 2005 کی بات ہے،اس زمانے میں میری تین ماہ کی فیس 24 ہزار روپیہ ہوتی تھی۔ بابا اچھے اور بڑے میکنک تو ضرور تھے مگر ظاہر ہے اتنی آمدن تو نہیں تھی۔ مگر اس فیس کا وسیلہ خود بخود اس طرح پیدا ہوگیا کہ میرے بابا نے کچھ سال قبل اپنے بچوں کے نام پر بینک میں ایک لاکھ روپیہ رکھا ہوا تھا۔

کچھ مشکل کے بعد ہمیں وہ پیسے مل گے اور منافع لگ کر اب وہ دس لاکھ بن گے تھے۔ اب جب ان پر منافع آتا تو بابا اس سے میری فیس ادا کرتے تھے۔

سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا تھا۔ میرے بابا کے پاس جب بڑے لوگ گاڑیاں ٹھیک کروانے آتے تو وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ ذکر کرتے تھے کہ میرے تینوں بچے پڑھ رہے ہیں۔ میرا تو بالخصوص ذکر کرتے کہ وہ کیڈٹ کالج میں پڑھتا ہے۔

میں نے 2010 میں لاڑکانہ کیڈٹ کالج سے اعزاز کے ساتھ ایف ایس سی کی تھی۔ مجھے بہترین طلب علم کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ مگر اب بابا کی طبیعت کچھ خراب رہنا شروع ہوچکی تھی۔

ایف ایس سی کے بعد میں نے دو مرتبہ کمیشن آفسیر بننے کی کوشش کی۔ دونوں مرتبہ آئی ایس بی تک پہنچا مگر منتخب نہ ہوسکا۔ بڑی مایوسی ہوئی بہت مایوسی ہوئی مگر میرے بابا، امی، آپی اور بھائی میرے مددگار بن گے۔

میں کبھی بھی نہیں بھول سکوں گا کہ بابا نے کہا کہ کیا ہوا اگر منتخب نہیں ہوئے، دنیا تو ختم نہیں ہوئی چلو آگے بڑھو پڑھو اور سی ایس ایس آفسیر بنو۔

اس کے بعد مہران یونیورسٹی حیدر آباد میں مینیکل انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا۔ ظاہر ہے بابا سارا خرچہ اٹھارہے تھے۔ میری آپی اور بڑے بھائی پڑھ رہے تھے۔ اس دوران 2012 میں بابا کی طبعیت زیادہ خراب ہونا شروع ہوگئی۔ وہ شوگر کے دائمی مریض تھے احتیاط نہیں کرتے تھے۔

بھائی نے گیراج سنبھال لیا

یونیورسٹی سے میرا کبھی کھبار ہی گھر آنا ہوتا تھا۔ بابا کی طبعیت خراب ہوتی چلی گئی۔ بڑا بھائی تو پڑھ رہا تھا اس نے بابا کی صورتحال دیکھ کر خود ہی گیراج میں آنا جانا شروع کردیا۔ بابا کے منع کرنے کے باوجود اس نے ہم سب کے لیے قربانی دی اور کام سیکھنا شروع کردیا۔

2012 میں بابا کی طبیعت زیادہ خراب ہونا شروع ہوگئی۔ جس پر اب وہ گھر ہی پر رہتے تھے جبکہ بھائی گیراج میں کام کرتے تھے۔ ا

لوگوں کو پتا چلنا شروع ہوگیا کہ اب بابا گیراج میں نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب گاڑیاں آنا کم ہوچکی تھیں۔ یعنی کام بھی کم ہوگیا تھا۔ اس موقع پر میری آپی جس نے زولوجی میں ماسٹر کرلیا تھا نے پہلے ٹیوشن پڑھانا اور پھر ایک سکول میں ٹیچنگ کرنا شروع کردی۔

گیراج کا کام تقریباً ختم ہوچکا تھا۔ جس پر بھائی نے گیراج والی جگہ ایک ہوٹل والوں کو کرائے پر دے دی تو خود دورایک علاقے میں گیراج کھول کر نئے سرے سے جدوجہد شروع کردی تھی۔

میں جب گھر آتا تو کہتا کہ میں پڑھائی چھوڑ کر کوئی ملازمت کرتا ہوں تو بابا مجھے حسرت بھری نظروں سے دیکھتے، بھائی اور آپی میرا حوصلہ بڑھاتے وہ مجھے کہتے کہ تم بس دل لگا کر پڑھو اور سی ایس ایس کر لو پھر سارے مسائل حل ہوجائیں۔

اس دوران بابا کی طبعیت زیادہ خراب ہوگئی ان کو لے کر آغا خان ہسپتال کراچی چلے گے۔ وہ ہسپتال میں ہوتے بیمار ہوتے مگر میرے امتحان یا کلاسیں ہورہی ہوتیں اس دوران میں چھ گھنٹوں کے لیے ان کے پاس جاتا۔ میرا دل چاہتا کہ جس طرح میرا بھائی بابا کی خدمت کررہا ہے میں بھی کروں۔

اس موقع پر بابا مجھ سے پوچھتے کہ امتحان تو نہیں ہو رہا، کلاس تو نہیں ہے۔ بابا سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا کلاسوں یا امتحان کا کہتا تو وہ کہتے کہ جاؤ اپنی پڑھائی دل لگا کر کرو۔

آغا خان ہسپتال سے علاج ہوا کچھ بہتر ہوئے مگر اس کے ساتھ دل کی تکلیف ہوئی۔ بائی پاس ہوا اس کے بعد پھر تکلیف ہوئی اسلام آباد الشفا ہسپتال لے کر گے۔ علاج ہوا۔ اس دوران تمام کی تمام جمع پونجھی ختم ہوگئی اور بابا بھی اتنی ہی زندگی لے کر آئے تھے۔

میرے بھائی نے بابا کی بہت خدمت کی تھی۔ مگر میں ان کی کوئی خدمات نہیں کرسکا تھا جس کا مجھے بہت ملال ہے۔

امی، آپی اور بھائی بابا کی خواہش پوری کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے تھے۔

بابا کی موت کے بعد میں اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا۔ میرے سامنے وہ سب مناظر خواب کی طرح گھومتے تھے۔ جس میں بابا گیراج میں کام کرتے ہوئے اپنے گاہگوں سے کہتے ہیں کہ بس بیٹا کیڈٹ کالج چلا گیا ہے بس چند ہی سال میں’آفسر بن جائے گا۔

میرے والد 2014 میں فوت ہوئے تھے۔ میں نے 2015 میں مہران یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ڈگری لے لی تھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ سی ایس ایس کیسے کیا جائے۔ کچھ بھی پتا نہیں تھا۔ اس دوران بھائی اپنے نئے گیراج میں محنت کررہا تھا۔

یونیورسٹی سے فارغ ہوا تو سندھ کے محکمہ تعلیم میں مانیٹرنگ اسٹنٹ کی ملازمتیں آئیں۔ میں نے امتحان اور انٹرویو دیا اور منتخب ہوگیا۔ اب یہ ہوتا تھا کہ صبح موٹر سائیکل پر نکلتا اور شام کو واپس آتا۔ مگر شام کو گھر واپس آ کر سی ایس ایس کی تیاری کرنے کی کوشش کرتا۔

اس دوران ایک لیکچرر شپ آئی وہاں امتحان دیا تو وہاں بھی کامیاب ہوگیا مگر وہ عارضی تھی۔ امی، آپی اور بھائی کچھ ماہ تو میری روٹین دیکھتے رہے۔ پھر ایک دن آپی نے پوچھا کہ میرا کیا پروگرام ہے۔ میں نے کہا کہ ملازمت کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ سی ایس ایس کی تیاری بھی کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

آپی نے کہا کہ نہیں بھائی اس طرح نہیں چل سکتا۔ سی ایس ایس کی تیاری مذاق نہیں ہے۔ اس کے لیے دل جمعی اور محنت کی ضرورت ہے۔ مگر میں تو بہت کچھ سوچ رہا تھا۔ گھر کے معاشی حالات کے بارے میں، آپی اور بھائی کب تک محنت کرسکتے تھے۔

جس وجہ سے ملازمت چھوڑنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ مگر پھر بھائی نے کہا کہ کیا مسئلہ ہے۔ بابا کی خواہش کون پوری کرے گا۔ بھائی نے کچھ اس لہجے میں کہا کہ میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا۔

میری تنخواہ 35 ہزار روپیہ تھی۔ یہ 2017 کا سال تھا۔ اس دوران میں نے کوئی ڈیڑھ لاکھ روپیہ جمع کرلیا تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ جو ملازمت میں کررہا ہوں یہ میرا مستقبل نہیں ہے۔ مگر معاشی حالات بھی میرے سامنے تھے۔

اس کے ساتھ امی، آپی اور بھائی کا اصرار بڑھتا جارہا تھا۔ میں عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھا۔ ایک طرف میرے مرحوم بابا کی خواہش، میرے گھر والوں کا ارمان اور دوسری طرف خدشات اور یقین کرئیں کے کچھ بھی پتا نہیں تھا کہ سی ایس ایس کی تیاری کیسے کرنی ہے۔ کیا پڑھنا ہے۔

میں جب بھی فارغ ہوتا تو لاڑکانہ کی لائبریری میں چلا جاتا وہاں پر پڑھتا، کچھ ایسے لوگوں کے پاس بھی گیا جنھوں نے سی ایس ایس کیا ہوتا تھا ان سے مدد مانگی مگر بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر مدد ملی۔

زوہیب قریشی

اب کشتیاں جلانا پڑ گئیں تھیں

ایک دن میں ملازمت سے گھر آیا تو آپی نے کچھ عجیب سے لہجے میں کہا بھائی کیا بات ہے یہ ہی ملازمت کرنی ہے۔ بابا کی خواہش کو کون پورا کرئے گا۔ مجھے ایسے لگا کہ یہ سی ایس ایس مجھے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے مرحوم بابا، بہت ہی محبت کرنے والی امی اور قربانیاں دینے والی آپی اور بھائی کے لیے کرنا ہے۔

کچھ معلومات حاصل کیں۔ میرے ایک دوست اسلام آباد میں ہوتے تھے اور سی ایس ایس ہی کی تیاری کررہے تھے۔ میں نے ان سے بات کی انھوں نے کچھ بتایا اور سمجھایا اور کہا کہ اسلام آباد آجاؤں مل کر تیاری کرتے تھے۔

اب فیصلہ کن کھڑی تھی۔ دو، تین راتیں سو نہیں سکا، ملازمت چھوڑنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ پھر ایک صبح اٹھا امی، آپی اور بھائی کو بتایا کہ میں اب سی ایس ایس کی تیاری کرنے اسلام آباد جارہا ہوں۔ انھوں نے حوصلہ افزائی کی۔ ملازمت سے استعفی دیا اور اسلام آباد چلا گیا۔

صرف چھت ہی رات گزارنے کے لیے دستیاب تھی

یہ سال 2018 تھا۔ پہلے اسلام آباد کے ایک نجی ہاسٹل میں رہائش رکھی مگر ظاہر ہے میرا کل اثاثہ ڈیڑھ لاکھ تھا اور اسلام آباد کا شہر چند ہی دونوں میں کس بل نکل گے۔ اس موقع پر پھر میرے دوست میری مدد کو آئے انھوں نے ایک سرکاری ہاسٹل میں رہائش کا انتظام کیا۔

یہ ہاسٹل خرچے کے لحاظ سے تو بہت کم تھا۔ تین ہزار ماہوار مگر دیگر بہت مسائل تھے۔ کھانے کا مسئلہ، ٹوائلٹ کے لیے کسی اور جگہ جانا پڑتا تھا۔ پانی لانے کے لیے رات کو دو بجے کسی اور جگہ جانا پڑتا تھا مگر رات گزارنے کو چھت دستیاب تھی۔

سی ایس ایس کی تیاری کے لیے میں نے دن رات ایک کردیا تھا۔ اپنی انگریزی بہتر کرتا، انگریزی میں گھنٹوں بیٹھ کر مضمون لکھتا، دنیا جہاں کی اخباریں پڑھتا تھا جو کچھ کرسکتا تھا کرتا رہا۔

اب ایک اور مسئلہ بھی ہوچکا تھا میرے دوست رشتہ داروں کو جب پتا چلتا کہ میں نے سی ایس ایس کرنے کے لیئے سرکاری ملازمت سے استعفی دے دیا ہے تو وہ عجیب عجیب باتیں کرتے تھے۔ ایسی باتیں کرتے کہ میری دل آزاری ہوتی، اسی ماحول کے اندر میں نے سی ایس ایس کا امتحان دیا اور واپس لاڑکانہ چلا آیا۔

مگر جب نتیجہ آیا تو میرا ایک مضمون رہ گیا تھا۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔

مضمون کیا رہا میرے دنیا ہی اچاٹ ہوگئی۔

اس دوران آپی اور بھائی کی بھی شادی ہوگئی تھی۔ بھائی کا کام کچھ اچھا ہوگیا تھا۔ ان کو جب پتا چلا کہ میرا ایک مضمون رہ گیا تو انھوں نے کہا کوئی بات نہیں دوبارہ کوشش کرو ایک مضمون ہی تو رہا ہے اگلے سال اس میں ضرور کامیاب ہوجاؤ گے جبکہ امی کچھ خفا سی ہوئیں مگر انھوں نے بھی حوصلہ بڑھایا۔

مگر اب ایک اور مسئلہ ہوگیا تھا کہ سب دوست رشتہ دار فون کرتے، ملاقات ہوتی تو مجھے ملازمت سے استعفیٰ دینے پر ملامت کرتے تھے، حلا نکہ استعفیٰ میں نے دیا تھا ذمہ دار بھی میں خود ہی تھا۔ میری آپی، بھائی، چاچو کو کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر لوگوں کو کیا مسئلہ تھا۔

یہ وہ موقع تھا جب میں مایوس ہو چلا تھا۔ بہت کچھ سوچتا اور چپ ہوجاتا تھا ساتھ ساتھ ملازمت بھی تلاش کرتا تھا مگر لگتا تھا کہ ملازمت تو جیسے روٹھ ہی گئی ہے۔ اس موقع پر بھی میرے کچھ دوست میری مدد کو پہنچے۔

سندھ پبلک سروس کا اشتہار آیا اوردوست نے فارم بھروائے مجھ سے دستخط کروائے اور بھجوا دیا۔ اب 2019 تھا ملازمت تھی نہیں سندھ پبلک سروس کا امتحان دیا تو پاس ہو گیا۔

میں نے اس مرتبہ امی، آپی اور بھائی سے کہا کہ میں اسلام آباد جانا چاہتا ہوں انھوں نے اجازت دے دی۔ میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ چاہے کچھ بھی ہو مجھے سی ایس ایس کرنا ہے۔ مگر اپنے گھر والوں کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔

اب وہ ہی اسلام آباد،وہ ہی مشکلات وہ ہی ہاسٹل تھا۔ اپنا موبائل نمبر بھی بند کردیا صرف گھر والوں کو فون کرتا اور بند کردیتا تھا۔ صبح اٹھتا لائبریری جاتا، پڑھتا جاتا اور لکھتا جاتا۔ نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کی فکر۔

ایک جنون طاری ہوچکا تھا کہ مجھے سی ایس ایس کرنا ہے۔ اپنے لیے نہیں مگر ان کے لیے کرنا تھا جن کا میں فخر بنا ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتا میں نے کتنے دن اسلام آباد میں گزارے اور کس طرح گزارے بس امتحان ہوا اور میں واپس لاڑکانہ چلا آیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp