ہمارے ابا ڈکٹیٹر نہیں تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ اپنے ابا کی شخصیت کی ایک خوبی بتاؤ جو نظر کو خیرہ کرتی ہو، صرف ایک!

کیا کہیں گے ہم؟ سوچ کے سمندر میں غوطہ لگا کے کیا چننا چاہیں گے؟ ذہانت؟ آزادی نسواں کی حمایت؟ کتابوں کے رسیا؟ خلق خدا سے محبت؟ مصفح گفتار؟ مروت و انکساری؟ مہمان نواز؟ کشادہ دل؟ شفقت ومحبت؟ احساس کی دولت سے مالا مال؟ شریک حیات سے بے پناہ محبت؟ صلہ رحمی ؟

یک لخت دماغ میں ایک روشنی کا جھماکہ ہوتا ہے۔ لیجیے آ گئ سمجھ میں، وہ خوبی جو سب پہ بازی لے گئی۔

ابا ڈکٹیٹر نہیں تھے!

آزادی بہت تھی ہمارے گھر میں! ہر طرح سے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری!

دلچسپ بات یہ تھی کہ اماں نے روایتی ماؤں کی طرح بچوں کو ڈرانے کے لئے ابا کا ایک بت تراش رکھا تھا جو ہر شرارت یا بدتمیزی کے موقعے پہ کام آتا تھا ” آنے دو گھر آج ابا کو، بتاتی ہوں تمہارا کچا چٹھا “۔

ہم سے بڑے بہن بھائیوں کے لئے تو یہ ترکیب کارگر رہی لیکن ہم اس چال میں نہ آئے۔ ہمیں خاموش طبع، اپنی کھال میں مست، آپ ہی آپ مسکرانے اور بال کی کھال نہ اتارنے والے مرنجاں مرنج ابا پہ یقین ہی نہ آتا کہ ان سے ڈرا بھی جا سکتا ہے۔ سو ہم نے اماں کی ترتیب دی ہوئی حکمت عملی پہ ایمان لانے سے انکار کر دیا۔

کیسے مانتے ہم ابا کے اس روپ کو جو اماں کی کسی بھی سرگرمی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

اماں کو سہیلیاں بنانے اور ان سے ملنے کا بے انتہا شوق تھا۔ ہر دو تین دن بعد وہ پروگرام بناتیں اور اکیلی گھر سے روانہ ہو جاتیں۔ ابا کی پیشانی پہ کبھی بل نہ آتے۔ کسی کسی شام سہلیوں کی یہ محفل ہمارے گھر بھی جمتی، ابا کو اماں کی ذاتی شناخت اور شخصی آزادی پہ کبھی کوئی اعتراض نہ ہوتا۔

ہماری اماں کے میکے جانے پہ نہ کوئی مسئلہ ہوتا نہ میکے والوں کے آنے پہ ابا کی تیوری چڑھتی۔ اماں کے رشتے دار کئی روز آ کے ٹھہرتے، کسی کے علاج کا مسئلہ ہوتا اور کسی کو روزگار کے حصول کے لئے مدد چاہیے ہو تی۔ اماں کے ایک بھانجے کا قیام تو برسوں پہ محیط رہا۔ ابا کو ہم نے کبھی چیں بہ جبیں ہوتے نہ دیکھا۔

مالی معاملات میں اماں کل کی مالک تھیں۔ وہ سیاہ کریں یا سفید، یہ ابا کا درد سر نہیں تھا۔ نہ تو اماں سے پیسوں کا حساب کتاب مانگا جاتا نہ ہی کچھ خریدنے پہ پابندی۔ اماں کا میکے والوں سے تحائف کا لین دین طبعیت میں نہ تو بیزاری لاتا نہ ہی شک کا اظہار کہ کس کو کیا دے دیا؟ اماں نے اپنے ابا کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں اپنا حصہ بھائیوں کو حبہ کرنا چاہا، حسب توقع ابا کا جواب، تمہاری ملکیت، تمہاری مرضی!

اماں سے کبھی کوئی بات مخفی نہ رکھی جاتی چاہے ابا کے قریبی رشتے داروں نے اماں کے متعلق ہی کان کیوں نہ بھرے ہوں۔ شادی کے بعد پانچ برس تک اولاد نہ ہونے کا کوئی بھی خاندانی طعنہ و تشنیع اماں تک پہنچنے سے روکنا ابا ہی کا کمال تھا۔ ماضی کے دریچوں سے ایک منظر اکثر پلکوں پہ اتر آتا ہے۔ اماں کرسی پہ بیٹھی ہیں، ابا پلنگ پہ اور دونوں کی گفتگو پہروں جاری رہتی، چھوٹی چھوٹی روز مرہ کی باتیں، بنا کسی الجھن،رنجش، طعنہ اور غلط فہمی۔

ابا اپنے بچپن میں ہی مذہب کے گورکھ دھندے میں الجھ گئے تھے۔ روحانیت کی منزلیں، روحانی بابے، وظیفے، سب کچھ کر دیکھا۔ تڑپ اتنی بڑھی کہ دوسرے مذاہب کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ کچھ عرصہ بہائیت کے حلقوں میں شامل رہے لیکن پھر واپس لوٹ آئے۔

ہم نے یہ داستان اماں کی زبانی سنی۔ اماں مزے لے لے کے سناتیں،

“شام ڈھلتے ہی وہ بہائی محفل میں چلے جاتے۔ نہ میں پوچھتی کہاں اور کیوں گئے تھے؟ نہ ہی وہ مجھے ساتھ چلنے کو مجبور کرتے۔ میں اپنی مرضی کی مالک تھی اور وہ اپنی کے”

ہم نے ہوش سنبھالنے پہ جن ابا کو دیکھا وہ حج کی سعادت پا چکے تھے ,اور نماز و روزہ کے انتہائی پابند تھے۔ مزے کی بات یہ کہ ابا نے مذہب کی اس چھڑی سے نہ اپنی شریک حیات کو ہانکا اور نہ ہی کبھی اولاد کا گلا گھونٹا۔ ہمیں کبھی نماز نہ پڑھنے پہ ڈانٹ نہیں پڑی، روزہ نہ رکھنے پہ جواب طلبی نہیں ہوئی، محرم کی مجالس کی پابندی کا کبھی نہیں کہا گیا۔کسی تقریب میں جانے پہ پابندی نہیں لگی، بین الکلیاتی مقابلوں میں شہر شہر گھومنے کی اجازت کا مسئلہ نہیں ہوا، ریڈیو ٹی وی اخبار سے تعلق پہ جبیں شکن آلود نہیں ہوئی، کتابیں اور موسیقی سے ناگواری کا اظہار نہیں ہوا، بیٹیوں کے ہوسٹلوں میں رہنے پہ تشویش نہیں ہوئی، بیٹیوں کی تعلیم اور نوکری پہ کبھی سوچ بچار نہیں ہوا۔

وہ تمام عمر اس اصول پہ چلے کہ جبر سے جو سر بھی جھکے گا، روح سے خالی ہو گا۔

کچھ باتوں پہ اب خیال آتا ہے کہ ابا نے اس انسانی حقوق کی پریکٹس میں کیسے کیسے سنگ برداشت نہ کیے ہوں گے۔ معاشرے کی قدیم روایات میں رہ کے کیسے زہر میں بجھے الفاظ سن کے چھلنی ہوتے جگر کے ساتھ سر بلند رکھا ہو گا۔ کچھ کے عینی شاہد تو ہم بھی ہیں ” کیسا بنا پھرتا ہے حاجی نمازی، بیٹی کے سر پہ دوپٹہ بھی نہیں “

ابا نے اپنے کسی بچے سے اپنے باپ ہونے کا خراج وصول نہیں کیا۔ ہم ان کے آنگن میں آزاد پرندوں کی طرح آۓ، ابا نے دانا دنکا کھلایا، گرمی سردی سے بچایا اور ہر کسی کو اس کی مرضی کے آسمان پہ پرواز کرنے دیا۔ چاہے وہ افق ان کی پسند کے دائرے سے باہر ہی کیوں نہ ہوتا۔

اتنا کچھ کرنے کے بعد ابا نے کبھی کسی بچے سے کسی طلب اور توقع کا رشتہ نہیں بنایا۔ نہ یہ فکر کہ بڑھاپے میں کونسا بچہ خدمت کرے گا نہ یہ پروا کہ کون اکاؤنٹ میں پیسے ڈلواۓ گا۔ ہمیں حسرت ہی رہی کہ ابا کبھی تو کچھ فرمائش کریں۔ ہزار پوچھنے پہ ایک ہی جملہ سننے کو ملتا

” مجھے اور تمہاری ماں کو کسی چیز کی ضرورت نہیں، تم لوگ اپنا حساب کتاب دیکھو”

ابا! ہمیں فخر ہے کہ آپ نے ہمیں “اپنی مرضی” نامی شمع جلانے کی تحریک دی اور ایک ایسی جنت تخلیق کی جہاں حاکم کی آنکھ کے اشاروں پہ ناچنے والے روبوٹس کی جگہ کچھ ننھے منے پرندے تھے جنہیں اپنا جہان ترتیب دینے کی آزادی تھی، بلا مشروط آزادی!

اپنے ابا کو ان کے دن پر مبارک دیتے ہوئے خیال آتا ہے کہ اگر ایک گھر میں باپ کے ڈکٹیٹر نہ ہونے سے اتنی خوشی اتر سکتی ہے تو ایک ریاست سے آمریت کا مردہ نکالنے سے پیدا ہونے والی خوشی، سہولت اور آزادی کا امکان کیا ہو گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply