بنات گل آفریدی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تجھ سا کہاں ڈھونڈیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنات گل آفریدی سے پہلا تعارف ڈگری کالج سکردو کے توسط سے ہوا کیونکہ کالج بلڈنگ کی مرکزی انٹرنس کے اوپر سنگ مرمر کی مٹیالی سی تختی پر ان کا نام کندہ ہے کہ سکردو میں کالج کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی۔ بعد ازاں کالج کی لائبریری میں جب شوق کے ہاتھوں کتابوں کے شیلف کو الٹ پلٹ کرتے رہے تو ایک کتاب ہاتھ لگی ”Baltistan in History“ تو معلوم ہوا کہ اس کی مصنف بھی بنات گل آفریدی ہیں یہ ان سے دوسرا تعارف تھا۔

انگریزوں نے جب گلگت بلتستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا تو پہلے پہل گلگت میں 1889 ء میں گلگت ایجنسی کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا اور وہاں پر پولیٹیکل ایجنٹ متعین کیے جو زیادہ تر انگریز ہی تھے۔ بلتستان، کارگل اور لداخ چونکہ اس پولیٹیکل ایجنسی سے باہر کی حدود میں تھے لہذا ان علاقوں میں وزیر وزارت کے ذریعے انتظامی کام چلایا جاتا رہا۔ 1947 / 48 ء کی جنگ آزادی کے بعد جب گلگت بلتستان کا انتظام و انصرام حکومت پاکستان نے سنبھال لیا تو گلگت میں ریزیڈنٹ اور بلتستان میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ متعین ہوا جن کے پاس تمام انتظامی اور عدالتی اختیارات ہوتے تھے۔

بلتستان کے پہلے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ وزیر ولایت علی خان تھے جو فروری 1948 ءمیں سربراہ انتظامیہ مقرر ہوئے اور بنات گل آفریدی کا نام فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔ گو کہ اس فہرست میں تیرہ کے قریب پولیٹیکل ایجنٹس کے نام ملتے ہیں جنھوں نے اپنے تئیں انتظامی امور اچھے طریقے سے انجام دیے ہوں گے مگر بنات گل آفریدی کا کام کچھ اور کہتا ہے۔

بنات گل آفریدی درہ آدم خیل سے تعلق رکھتے تھے جو کہ بعد ازاں دیسی اسلحہ بنانے کے لئے مشہور ہوا لیکن بنات گل آفریدی صاحب قلم و قرطاس تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے سائنس میں گریجویشن کے بعد پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ انھوں نے سرکاری ملازمت کا آغاز 1935 ء سے کیا۔ جہاں تک بلتستان میں تعیناتی کا تعلق ہے تو 1958 ء میں وہ دس ماہ کے لئے بطور ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر رہے بعد ازاں 1964 سے لے کر 1968 ء تک وہ بطور پولیٹیکل ایجنٹ بن کر خدمات سر انجام دیتے رہے اور اسی دور میں انھوں نے بلتستان میں وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جن کی قدر و قیمت ہمارے دلوں سے شاید کبھی بھی محو نہ ہوگی۔

بلتستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے ان کا کام سنہری حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ بنات گل آفریدی لکھتے ہیں کہ ان کی تعیناتی کے دور میں بلتستان میں کچھ پرائمری سکول موجود تھے۔ انھوں نے پہلے ماڈل پرائمری سکول کو قائم کیا جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی تھی۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ سکردو انٹر کالج کا قیام ہے جو کہ گلگت بلتستان کا پہلا کالج تھا۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ بنات گل نے مہر داد صاحب کو، جو کہ اس وقت کسی سکول میں مدرس تھے بلا کر کالج کی ذمہ داری دے دی اور سکردو کے موجودہ ہائی سکول نمبر 1 سے سات طلباء کی تعداد کے ساتھ کالج کا آغاز ہوا۔ یہ بڑا قدم جو انھوں نے اپنی بصیرت کے مطابق اٹھایا وہ ان کی اس علاقے سے بے پناہ ہمدردی اور تعلیم کے لئے محبت کا کھلا اظہار تھا۔ اسی کالج سے جو اب ڈگری سطح کی تعلیم دے رہا ہے ہزاروں طلباء زیور تعلیم سے آراستہ ہوئے اور بیوروکریٹ، ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور دیگر شعبوں کے ماہرین بن کر اپنی اپنی بساط کے مطابق خدمت کر رہے ہیں۔

اگلا کارنامہ بھی دیکھ لیں، اس وقت سکردو میں کوئی بڑا بازار موجود نہیں تھا بنات گل نے موجودہ نیا بازار والی جگہ جو کہ اس وقت بے آب و گیاہ ریگستان تھا، کو کمرشل ایریا بنانے کا بیڑا اٹھایا اور زبردستی صاحب حیثیت افراد کو بلا بلا کر پلاٹ الاٹ کیے اور زور دیا کہ یہاں کچی پکی جو بھی ممکن ہو دکانیں تعمیر کریں۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ یہ ریتلا میدان بعد میں کاروبار کا مرکز بن جائے گا۔ اب یہ حالت ہے کہ ہر طرف پلازے، بینک، شاپنگ سنٹر، ہوٹل اور ریسٹورنٹ دکھائی دیتے ہیں جبکہ ایک خالی دکان ایک کروڑ مالیت کی ہو گئی ہے اور اس ”نیا بازار“ میں روزانہ کروڑوں کا نہیں تو لاکھوں روپوں کا کاروبار ہوتا ہے اور یہاں دکان کرایہ پر ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ایک اور کارنامہ ملاحظہ ہو، سکردو میں نیم پختہ ہوائی پٹی موجود تھی جہاں اورینٹ ائرویز کا طیارہ اترتا تھا، بنات گل کی تعیناتی کے دوران گلگت سکردو روڈ زیر تعمیر تھی لہذا بنات گل نے لیٹر لکھ کر پی آئی اے کے جنرل منیجر نارتھ مسٹر آر۔ ایچ کاظمی اور منیجر کارگو راولپنڈی مسٹر جی۔ صابر کو سکردو بلا کر دکانداروں اور کاروباری شخصیات سے اپنے آفس میں میٹنگ کرائی تاکہ دکانداروں کا سامان رعایتی کرایہ پر راولپنڈی سے لایا جاسکے اس طرح کاروبار بھی چلے اور لوگوں کو ضرورت کی اشیاء بھی دستیاب ہوں۔

آگے بڑھتے ہیں، ایک اور منفرد کام وہ ہے بلتستان کی تاریخ نویسی۔ بنات گل نے یہاں کی تاریخ اور خاص طور پر رورل ڈیولپمنٹ کو اپنی انگریزی کتاب ”Baltistan in History“ میں سمو دیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت زیادہ اس لئے ہے کہ اس سے پہلے بلتستان کے بارے میں معلومات صرف انگریز سیاحوں کے سفر ناموں میں تھیں یا کچھ بکھری معلومات ”تاریخ ہندوستان“ ، ”تاریخ رشیدی“ ، ”اکبر نامہ“ یا ”تاریخ فرشتہ“ میں ملتی تھی۔ بنات گل کے پیشرو مولوی حشمت اللہ خان لکھنؤی جو ڈوگرہ حکومت میں وزیر وزارت رہے انھوں نے ”تاریخ جموں“ لکھی تھی جو جموں، کشمیر، لداخ، گلگت، دردستان اور بلتستان سب کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔

ابتدائی طور پر صرف بلتستان کی تاریخ لکھنے کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔ اس کتاب کو لکھنے اور چھاپنے کے لئے انھوں نے جو کشٹ اٹھائے ہیں وہ تو جو ان کی متذکرہ کتاب پڑھے گا اسے معلوم ہوگا کہ آبلہ پائی کیا ہوتی ہے۔ انگریز پولیٹیکل ایجنٹس اور پہلے وقتوں کے ڈپٹی کمشنر ضلعی سطح کے گزٹ لکھتے تھے اب تو گاڑیاں، پروٹوکول اور TA/DA کا راج ہے۔ بہر حال بات بنات گل کی ہو رہی ہے جو منفرد اور یکتائے روزگار تھے۔ انھوں نے بلتستان میں مختلف سبزیاں اگانے کی ترغیب دینے کے لیے اپنے باغ میں مختلف بیج منگوا کر تجربات کے اور ایک کتاب ”The prospects of vegetable growth in Baltistan“ مرتب کی جو ابھی پرنٹ حالت میں دستیاب نہیں۔

کچورا سے حوطو تک نہری پانی کے لئے چینل بنوایا اور ابھی جو لوئر کچورا میں جو ہریالی آنکھوں کو ترواٹ بخشتی ہے ان کی محنت کا نتیجہ ہے۔

ادب اور فنون لطیفہ سے بے حد شغف، بلتستان کی ڈرامیٹک کلب کی سرپرستی کی اور فنکاروں کو بے حد عزت و احترام سے نوازا۔ ایک دوست نے بتایا کہ فنکاروں کو پولیس کی حفاظت میں گھر سے لاتے اور واپس چھوڑ دیتے تاکہ انہیں پروٹوکول ملے۔

غرض کیا کیا بیان ہو، میرے ایک اور دوست بتا رہے تھے جو ان کے ماتحت کلرک بھی رہ چکے ہیں کہ بنات گل نے ہلہ شیری سسٹم کے تحت سکرو کھرمنگ اور سکردو شوگر راستوں کو درست کیا۔ سکردو میں نیشنل بینک کا افتتاح کیا۔ ایک پولیٹیکل ایجنٹ اور اتنی جفا کشی اور ہمدردی۔ مگر ہم ہیں کہ بہت بعد میں، ریٹائرمنٹ کے بہت بعد انھوں نے بلتستان کی محبت سے سرشار ہو کر گھر بنانے کے لیے تاکہ زندگی کے آخری ایام سکردو میں گزارے ایک کنال زمیں کی تمنا کی تو کوئی سننے والا نہ تھا حالانکہ خالصہ سرکار کے نام سے زمینوں کی بندر بانٹ عروج پر تھی۔

جبکہ دوسری جانب دیکھے دوران ملازمت جب بنات گل آفریدی سیاہ و سفید کے مالک تھے تو ایک مرلہ زمیں بھی اپنے نام نہیں کی۔

حسرت موہانی کا شعر ہے۔
ان سے کچھ تو ملا وہ غم ہی سہی۔
آبرو کچھ تو رہ گئی دل کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply