مختصر مختصر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مختصر لکھنا بہت طویل کام ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے آسان لکھنا بے حد مشکل ہے۔ دنیا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے آنے سے برق رفتار ہو گئی ہے۔ آنے والے دور کے ادب میں دو چیزیں ہوا کریں گی اختصار اور زبان سے بے نیازی۔ اردو شاعری کے بڑوں نے یہ بات غالباً بہت پہلے بھانپ لی تھی جبھی غزل دو مصرعوں میں ان پڑھ کو بھی مکمل بات سمجھا دیتی ہے۔ نظم میں بھی اس طور کے تجربات ہو چکے ہیں۔ منیر نیازی کی ایک نظم کا عنوان ہے ”وقت سے آگے نکل جانے کی سزا“ اور پوری نظم اس واحد مصرعے پر مشتمل ہے کہ ”آدمی تنہا رہ جاتا ہے“ ۔ ظفر اقبال تو ثروت حسین کی ایک نظم ”بند دروازہ“ بھی سناتے ہیں۔ جس کے مصرعے ہیں کہ

”مجھے نہ کھولو
مرے اندھیرے میں ایک لڑکی
لباس تبدیل کر رہی ہے ”

انگریزی میں مختصر ترین کہانی عموماً ’ارنسٹ ہیمنگ وے‘ سے منسوب کی جاتی ہے جس کا چھ حرفی قصہ یوں ہے کہ
For sale: baby shoes, never worn.

اردو نثر پہ آئیں تو لطائف ’ون لائنرز‘ اور افسانے، افسانچے کا روپ دھار چکے ہیں۔ مختصر کہانیوں میں مبشر زیدی ’100 لفظی کہانی‘ اور انہی سے متاثر کئی دیگر قصہ گو ’صد لفظی کہانی‘ اور ’ون منٹ سٹوری‘ لکھ رہے ہیں۔ یہ اچھی کاوشیں ہیں لیکن کہانی کو الفاظ یا وقت کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے کاملیت کا دعویٰ ہرگز نہیں۔ بس خیال سا ہے کہ سو سے کم الفاظ اور ایک منٹ سے بھی کم وقت میں عمدہ تحریر لکھی جا سکتی ہے۔

وقت اور الفاظ کی پابندی سے مبرا چند کاوشیں میں نے بھی کی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔

وبا کے دنوں میں رقابت
عاشق خان کا وبائی ٹیسٹ مثبت آ گیا تو اس نے رقیبوں کے گھر جا جا کر مٹھائی بانٹی۔
٭٭٭
منت
مزار پہ منت کا دھاگہ باندھتے ہوئے اسے وہ کبوتر یاد آئے۔ جن کے پر ایسے ہی کس کے باندھ دیا کرتا تھا تاکہ وہ اڑ نہ پائیں۔ اسے لگا کہ جب تک کبوتروں کے پر بندھے رہیں گے، تب تک کسی بھی مزار پہ باندھا جانے والا کوئی بھی دھاگا اس کی منت پوری نہیں کرسکے گا۔

٭٭٭
الٹی کھوپڑی
عمارت کی دسویں منزل سے اسے گرتے ہوئے دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ ’زندگی کی طوالت کم بھی کی جا سکتی ہے‘ ۔
٭٭٭
وبا کے دنوں میں بریک اپ
ہم وبا کے دنوں میں بچھڑے تھے۔ میں گاڑی میں تھا اور اس سے ہاتھ نہیں ملا سکا تھا۔
٭٭٭

آنکھیں
میری آنکھوں کو خوب صورت مت کہیے۔ یہ مجھے اس ’نامعلوم فرد‘ کی یاد دلاتی ہیں۔ جو مرنے سے پہلے انہیں ڈونیٹ کر گیا تھا۔

٭٭٭
وبا کے دنوں میں محبت
وہ وبا میں بچنے والی آخری لڑکی تھی۔ اب ہمیں ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔
٭٭٭

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *