قانون کے قدم مضبوط کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”قانون کے قدم ڈگمگا جائیں تو قوم ڈگمگا جاتی ہے“ یہ الفاظ مشہور فلم ”سالگرہ“ کے ایک ڈائیلاگ سے ہیں، فلم اب سے 51 برس قبل ریلیز ہوئی۔ منفرد کہانی، جاندار مکالمے، وحید مراد، شمیم آرا، طارق عزیز جیسے خوبصورت کردار اور پھر ان کی بہترین اداکاری نے ایک شاہکار بنا دیا۔ ہاں منفرد کہانی ہونے کے باوجود اس میں چند ایک مقامات پر کچھ جھول نظر آئے مگر نصف صدی پہلے کے حالات و واقعات، اس وقت کے طرز، تکنیکی سہولیات اور دیگر ایسی وجوہات کی بنا پر اسے نظر انداز کرنا مناسب ہے۔

مذکورہ فلم دیکھنے کی وجوہات میں سے ایک تو فلم کا نام دوسرا طارق عزیز صاحب تھے، جو 17 جون 2020 کو فوت ہوئے، خدا ان کی مغفرت فرمائے۔ نیوز چینلز پر ان کی فنی زندگی پر مبنی پیکج چل رہے تھے، ان میں سنا، پہلے بھی سن رکھا تھا کہ طارق صاحب نے فلموں میں اداکاری کی، دیکھنے کا اشتیاق تو تھا ہی سو اب موقع بھی ہے دستور بھی کے مصداق ہو گئے۔ فلم کے یادگار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سب پہ بھاری زرداری صاحب بھی اسی فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام کرچکے۔

فلم کی کہانی شبانہ/سلمیٰ (شمیم آرا ) کے گرد گھومتی ہے جو جج ارشد (طارق عزیز) کی صاحبزادی ہے اور بچپن میں والدین سے بچھڑ جاتی ہے جج ارشد اور اہلیہ ہر سال اس کی سالگرہ منایا کرتے ہیں، گردش ایام کے شبانہ ایک قتل کے جرم میں جج ارشد کی عدالت لائی جاتی ہے، ایڈوکیٹ انور (وحید مراد) شبانہ کے دوست اس کی وکالت کرتے ہیں، مقدمہ چلتا ہے، دوران سماعت جج کو پتا چلتا ہے کہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑی شبانہ دراصل انہی کی بیٹی سلمیٰ (والدین کا رکھا نام) ہے مگر وہ ضبط سے کام لیتے ہیں اور آخر کار قانون کی عدالت دل و جذبات کی عدالت سے جیت جاتی ہے شبانہ کو سزا ہوجاتی ہے، سزا کے خلاف اپیل کی جاتی ہے جج ارشد استعفیٰ دے کر شبانہ کے مقدمے کی پیروی کرتے ہیں، بالآخر گواہ و ثبوت سامنے لائے جاتے ہیں یوں اعلیٰ عدلیہ سزا کالعدم قرار دیتی ہے اور شبانہ کو باعزت بری کرتی ہے۔ مختصر کہانی راقم نے بیان کردی فلم یوٹیوب پر موجود ہے آپ با آسانی دیکھ سکتے ہیں۔

گزشتہ کئی دنوں سے حقیقی دنیا میں اعلیٰ عدلیہ میں اسی کے ایک جج کے مقدمے کا بہت شور تھا اب اس مقدمے کا مختصر فیصلہ بھی آ چکا تو فیصلے پر کچھ بات ہو سکتی ہے۔ مقدمہ میں سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف اپنی اہلیہ کی بیرون ملک جائیدادوں کے ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، قاضی صاحب کے بقول جائیدادیں ان کی خود مختار اہلیہ و بچوں کی ہیں، قاضی صاحب کا کہنا تھا جائیدادیں جن کی ہیں ان ہی سے پوچھا جائے قانونی طریقے سے، ریفرنس کا مواد جاسوسی و غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا، ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کوئی بد نیتی نہیں، اہلیہ و بچوں کی جائیدادوں کا شوہر جج سے پوچھا جائے گا، اور یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ریفرنس کالعدم قرار دیا جا چکا اور قانون کے مطابق متعلقہ اداروں کو قاضی فائز کے اہل خانہ سے جائیدادوں سے متعلق پوچھنے کا کہا گیا ہے۔ وفاق کے وکیل سابق وفاقی وزیر فروغ نسیم کا کہنا ہے یہ کیس کسی کی ہارجیت نہیں، جو عدالت نے کہا (معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے سے متعلق) ہم اس پر راضی تھے۔

یوں تو ہر چیز پر بنیادی طور پر دو آرا ہوتی ہیں موافق و مخالف، یہی آرا عدالتی فیصلہ پر بھی ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے ایسے عدالتی فیصلے آ رہے ہیں جس سے حامی و مخالف دونوں گروہوں کو اپنے اپنے مطلب کی چیزیں مل جاتی ہیں پھر تمام قسم کے میڈیا پر بحث چھڑ جاتی ہے۔ یہاں کوئی اسے قانون کی فتح کہہ رہا ہے تو کوئی اسے پیٹی بھائی کے بچانے کی کوشش قرار دے رہا ہے۔ کوئی جج کی بیوی کا موازنہ کرنل کی بیوی سے کرنے پر بضد ہے، کوئی جج کو کرپٹ کہہ رہا ہے تو کوئی صدر و وزیر اعظم کو بدنیت۔

یہ سب کچھ تو چلتا رہتا ہے سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل اپنے اپنے نظریات کی ترویج و مخصوص بیانیہ بنانے کی خاطر ایسا کرتے ہیں، اس نا دکھنے آنے والے جال میں بہت سے لوگ دانستہ و غیر دانستہ طور پر آ جاتے ہیں، وجوہات میں سے چند لاعلمی، معلومات کی کمی، سیاق و سباق سے نا آشنائی، کسی خبر پر اپنا ذہن استعمال نہ کرنا ہے۔ یہ درست ہے ہماری عدالتیں بارہا نظریہ ضرورت کا استعمال کرتی رہی ہیں، دباؤ میں آکر فیصلے کرتی رہی ہیں، عدلیہ کے کردار پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں مگر کچھ چیزیں ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے، جو لوگ کہہ رہے ہیں عدالت نے اپنے پیٹی بھائی کو بچایا ہے یہ درست نہیں کیونکہ قانون کے مطابق آمدن و ٹیکس ریٹرن سے متعلق معاملات کو دیکھنا ایف بی آر کا کام ہے کسی اور ادارے کا نہیں اور ایف بی آر اس سلسلے میں کوئی بھی سوال ٹیکس فائلر ہی سے کرے گا، اگر کوئی شخص بدعنوان ہے تو الزام لگانے والے کو ثابت کرنا ہے کہ وہ بدعنوان ہے قانونی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی۔

جج کی بیوی کا موازنہ کرنل کی بیوی سے کرنا کسی طور بجا نہیں، اس وقت موازنہ و تنقید جائز ہوگی جب جج کی بیوی اپنے شوہر کے عہدے کا ناجائز استعمال کرے، دھمکی دے یا کوئی رعایت طلب کرے۔ صدر و وزیراعظم وغیرہ کو مختصر فیصلے میں عدالت نے بدنیت نہیں لکھا بلکہ ان کے بارے کچھ لکھا ہی نہیں، جس کا انہیں وقتی قانونی تحفظ مل گیا ہے۔

ابتدائیے میں ایک مکالمہ لکھا تھا ”قانون کے قدم ڈگمگا جائیں تو قوم ڈگمگا جاتی ہے“ ، معلوم ہے ہر شخص اس جملے کی من چاہی تشریح کر سکتا ہے، خاکسار کے درج بالا استدلال کی رو سے اگر ہم قانون کو بالائے طاق رکھ کر انصاف طلب کریں تو وہ جو بھی ہوگا کم از کم انصاف نہیں کہلائے گا، کیا قوم کا ہر شوہر اپنی خود مختار چھوڑیں زیر کفالت بیوی سے متعلق سوالوں کے جواب دے گا؟ شان رمضان کی سحری نشریات میں ایک روز علما و مفتیان کرام نے کسی سوال کے جواب میں کہا تھا شوہر اپنی بیوی کو اس کے والدین سے وراثتی حصہ مانگنے کا نہیں کہہ سکتا ہے اور اس وراثت یا ترکہ کو بغیر بیوی کی اجازت کے استعمال نہیں کر سکتا۔

کیا کوئی بھی شخص اپنی یا اہل خانہ کی جاسوسی پر خوش ہوگا؟ احتساب سب کا ہونا چاہیے مگر لاک ڈاؤن کی طرح ”سلیکٹڈ“ احتساب انتقام ہی کہلائے گا۔ مجھے یاد پڑتا ہے سابق چیف جسٹس اور 2018 عام انتخابات کے وقت نگران وزیر اعظم جناب ناصر الملک جب نگران وزیر اعظم بنے تو الیکشن کمیشن میں اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائیں، ان مین اندرون ملک بے شمار اثاثوں کے علاوہ ان کی اہلیہ کی بیرون ملک لاکھوں ڈالرز کی جائیدادیں اور سرمایہ کاری کا تذکرہ تھا، کسی نے ان سے ان جائیدادوں سے متعلق سوال کیا ہو مجھے یاد نہیں۔

اس کیس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کو اپنے عہدیداروں کے اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق بحیثیت ادارہ اصول وضع کرنے چاہیں، بالخصوص سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کو رضاکارانہ طور پر اپنے اثاثے طاہر کردینے چائیں جیسے جسٹس منصور علی شاہ بحیثیت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ماضی میں کرچکے ہیں۔ دیگر اداروں کو بھی اس امر کی تقلید کرنی چاہیے۔ قوم، ان کے منتخب و غیر منتخب نمائندوں سے موجودہ سیاق و سباق میں درخواست ہے کہ مہربانی کریں قانون کے لمبے ہاتھوں کی طرح اس کے قدم بھی مضبوط رہنے دیں یہ اکھڑ گئے تو تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply