مڈل کلاس ماڈرنزم اور سیکرٹ سپر اسٹارز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند سال قبل ایک ہندوستانی فلم منظر عام پر آئی جس کا نام تھا سیکرٹ سپر اسٹار، اس فلم کی بدولت ہمیں ایک ایسا جملہ ملا جو موجودہ دور کے بہت سے گھٹن زدہ لوگوں پہ چپک گیا۔
اب ہم جب کسی یوٹیوب ویڈیو کو دیکھتے جس کے پندرہ، بیس، یا دو چار سو ویوز ہوتے تو یہ نام سہولت فراہم کرتا۔ جیسے ”فلاں شخص بھی سیکرٹ سپر اسٹار ہے“ ۔ یوں تو ایسے ہزاروں سے بھی زیادہ افراد ہوں گے لیکن، کچھ عرصہ قبل ہماری ملاقات بھی ایک خاص کردار سی ہوئی۔ آج آپ سے کرواتے ہیں۔

حضرت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ان میں سے ہی ہیں جو انٹرمیڈیٹ میں دو بار فیل ہونے کے بعد اعلان کر دیتے ہیں بھائی مجھ سے نہیں ہوتی پڑھائی، میں تو کاروبار کروں گا، آج کل لوگ سارے کاروبار گھر سے کرتے ہیں یوٹیوب کی مدد سے میں بھی کروں گا، میں بادشاہ آدمی کہاں لوگوں کے ایجنڈے پہ کام کر سکتا ہوں، میں اپنی انا کو مار نہیں سکتا، میری فطرت میں غلامی نہیں کہ سر جی سر کر سکوں۔

گھر والے بھی دیہاتی سے پس منظر رکھنے والے محترم کے چکر میں آ گئے۔ نوجوان نے اپنے کام کا آغاز ایک پھٹیچر، خیراتی قسم کی این جی او سے کیا۔ وہاں جا کے اس نے اپنے آپ کو سوشل بٹر فلائی بنانے کے لیے کچھ وقت مفت میں دیا تاکہ دو چار لوگوں کے سامنے بات کرنے کے لائق ہو جائے۔ یہاں سے اسے یہ بھی پتہ چلا کے بنا کچھ کیے بھی خیرات کا کٹورہ بھر ہی جاتا ہے بس تھوڑی سی چرب زبانی اور بے غیرتی ہو تو آپ دنیا کی سیر کر سکتے ہیں۔ لیکن نوجوان چونکہ بادشاہ ٹائپ تھا لہذا جلد بازی میں اپنی دکان چلانے کے چکر میں این جی او سے نکل کر اپنی ذاتی ایک خیراتی سی این جی او بنا ڈالی، لیکن تجربے کے کمی کی وجہ سے کام نا چلا۔

گھر والے سادہ لوح، وہ بھی بیٹے کو کسی ہوئی جینز چڑھائے بابو بنا دیکھنے کے چکر میں اس کی ہر بات میں آ جاتے۔ اس تمام عرصے میں یوٹیوب چینل کے عروج کا زمانہ اگیا۔ نوجوان نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا اور دل میں کہا میں بھی ”پیو دی پائی“ کا رکارڈ توڑ سکتا ہوں، لاکھوں نہیں کروڑوں روپے کما سکتا ہوں وہ بھی گھر بیٹھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پہلے اس نے مہنگا موبائل اپنے ابا کے پیسوں سے خریدا پھر موبائل اسٹینڈ اور سیلفی اسٹک۔

اب وہ فل سیکرٹ سوپر اسٹار تھا، صبح سے شام تک وہ وڈیو بناتا پھر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہو جاتا، اس کی ویڈیوز اس قدر فضول ہوا کرتیں کہ وہ اس کی گرل فرینڈ، چار دوستوں اور گھر کے کچھ لوگوں کے علاوہ کبھی بھی کوئی نہ دیکھتا۔

اسی دوران اس کے ابا اس کے خاندان کی گاؤں کی ایک لڑکی سے شادی طے کر دی، اس وقت محبوبہ نے ہر طرح سے وعدے اور دعوے یاد دلائے لیکن نوجوان نے ایک جملے میں محبوبہ کو خاموش کر دیا، ”یار دیکھو تم سے اگر شادی کی تو ابا میری شادی پیسے خرچ نہیں کریں گے اور میرے حالات تو تم جانتی ہی ہو، اور پتا نہیں کب میرا یوٹیوب چینل چلے اس لیے سوری ہاں“

محبوبہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔

کچھ وقت گزر گیا، ٹیوب چینل کے ناظر اور بھی گھٹ گئے، نوجوان کامیاب ہونے کے لیے اور زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو دن رات دیکھتا، اسی دوران اسے پنا چلا کے اس کی بیوی امید سے ہے۔ وہ خوشی سے جھوم گیا۔ یہ خوشی بچے کی آمد کی نہیں تھی بلکہ یہ تو اس کے چینل کے چل پڑنے کی تھی اس نے اپنی بیوی کو بہت سی ویڈیوز دکھائیں جس میں بچے کی ولادت کے سین کو فلم بند کیا گیا تھا۔

اب وہ دن گننے لگا کے کیسے دن گزریں اور بچے کے دنیا میں آنے کا لمحہ آئے اور وہ اس کی عکس بندی کر کے اپنے چینل پر لگائے، گھر والوں کو چونکہ ماڈرن بنے کا شوق سر پہ چڑھا ہوا تھا اس لیے وہ بھی راضی ہو گئے۔ کیمرے سیٹ ہو گئے عکس بندی چل رہی تھی، لیکن گھر میں بنا ڈاکٹر یہ کام سب کے گلے میں پھنس گیا۔ ہاتھ پاؤں پھول گئے، ہڑبڑاہٹ میں کہیں سے دائی کو بلایا گیا۔ جس وقت بچے نے جنم لیا ماں کی جان تقریباً نکل چکی تھی بچے کی پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ماں مر گئی۔

چونکہ وبا کا زمانہ تھا، زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پہ پابندی بھی تھی، اس لیے گھر والوں نے خاموشی سے نماز جنازہ پڑھائی اور قبرستان میں بنا کتبہ کی قبر میں گاڑ کے آ گے۔
تیسرے روز ہی جب قبرستان دوبارہ گئے تو یاد ہی نا آئے کے قبر کہاں تھی چونکہ کوئی نشانی ہی نہ تھی۔ محترم منہ لٹکائے گھر آ کے بستر پہ لیٹ گئے۔ اور ایک سرد آہ بھرے انداز میں کہا لگتا ہے میرا چینل کبھی نہیں چلے گا۔ میں دوبارہ نوجوانوں کی بہبود کا ادارہ بناؤں گا۔ جو میرے ساتھی تھے سب آگے بڑھ گئے دنیا کی سیر کر رہے ہیں، ایک میں ہی کامیاب ہوتے ہوتے رہ گیا۔
منحوس عورت مرنے سے پہلے میرا کچھ فائدہ ہی کرا دیتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply