الفاظ مار ڈالتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لوگ کہتے ہیں کہ میری پرسنالٹی بور ہے۔ میں زیادہ دوست نہیں بنا سکا۔ صرف دو ہی دوست ہیں۔ یہ فقرے حال ہی میں خودکشی کرنے والے بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کے ہیں جو ایک انٹرویو میں کہے گئے۔ ایسے کتنے ہی جملے ہیں جو ہم محض اپنی رائے دینے کے لیے دوسروں سے کہہ دیتے ہیں۔ اور کتنے ہی ہمارے اپنے پیارے ان باتوں کو دل سے تسلیم کر لیتے ہیں۔ اپنے دوستوں، ماں باپ، اساتذہ، قریبی لوگوں کے کہے گئے جملے لاشعور میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ اتنی پختہ کہ آپ ماننے لگتے ہیں کہ ہاں واقعی ہی یہ سب سچ ہے۔

ڈپریشن کا شکار ہونے والے افراد اپنے دل میں ایسی نیگیٹوٹی کو چھپائے ہوتے ہیں۔ وہ مان چکے ہوتے ہیں کہ وہ بے کار ہیں، ورتھ لیس ہیں، ان کا وجود بے معنی ہے، ان کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ سوچ انہیں خود کشی کی جانب لے جا سکتی ہے یا تنہائی کا شکار کر سکتی ہے، کیونکہ وہ لاشعوری طور پہ اس سب سے بچنا چاہتے ہی‍ں اپنی بقا کی کوشش کرنا چاہتے ہیں لیکن آخر ہار مان لیتے ہیں۔

ہمارے اردگرد کتنے ہی دوست ایسے ہوتے ہیں جو ہماری زندگی کے بارے میں رائے رکھنا اور دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ’ارے اتنا وزن بڑھا لیا، تمہاری رنگت خراب ہو گئی ہے، تم بہت کمزور لگ رہی ہوں، پریشان لگ رہی ہوں، آنکھوں کے گرد حلقے ہیں، تم بہت فضول وقت برباد کرتی ہو، تم کرتی ہی کیا ہو، تمہارا کام کوئی کام ہے بس موجیں لگی ہیں، تم نے اپنے ٹیلنٹ کو ٹھیک استعمال نہیں کیا، اکیلی رہتی ہو تو کیا ضرورت اتنی سہولیات کی، وقت کیسے گزارتی ہو، کیا ضرورت ہے تمہیں گھر کھانا بنانے کی، تمہارے پاس تو وقت ہی وقت ہے‘ یہ اور اس سے ملتے جلتے بے شمار بے معنی تبصرے ہمارے سماج کا ایک عام سا رویہ ہیں۔

بغیر یہ سمجھے کہ جسے آپ یہ سب کہہ رہے ہیں وہ اگر تھوڑا سا احمق ہو تو ان باتوں کو سنجیدگی سے لے کر ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور تھوڑا عقلمند ہو تو آپ کا جواب دے سکتا ہے کہ کیا آپ اس سب کے لیے پیسہ لگا رہے ہیں، کیا آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ مجھے کیا چاہیے اور کیا نہیں، کیا آپ میرے باس ہیں کہ کام کے ٹھیک یا غلط ہونے کا فیصلہ کریں، کیا آپ ایکسپرٹ ہیں میری زندگی کے کہ یہ سب کہہ سکیں۔ لیکن ایسا جواب دینے والا بھی یہاں منہ پھٹ اور بد تمیز گردانا جاتا ہے۔ جبکہ دوسروں کی زندگی میں مداخلت کرنے والا اور بغیر مانگے رائے دینے والا مہذب ہے اور ساری رائے میں بھلائی کی بات کر رہا ہے۔ بھئی کون سی بھلائی کیسا ترحم اپنی حماقت اور دوسروں کی زندگی میں بلا وجہ مداخلت کو حماقت کہتے ہیں۔

خاموش ڈپریشن ایک ایسا ڈپریشن ہے جس کا شکار افراد بظاہر خوش نظر آتے ہیں لیکن وہ اپنے من میں ایسے روگ پالے ہوتے ہیں جو نارمل انسان کے لیے بے معنی باتیں ہوتی ہیں۔ کسی کی ظاہری شکل و صورت، کامیابی، ناکامی پہ تبصرہ، کسی عادت یا روٹین پہ بات اسے کسی خاص قسم کے ٹراما میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ایسے ڈپریشن کی طرف لے جا سکتی ہے جس کی وجہ سے وہ خود کو مکمل ناکام انسان تصور کر سکتا ہے ایسے لوگ جب کوئی انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں تو یہی لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بظاہر کوئی بات نہیں تھی۔ اچھا خاصے ہنسنے بولنے والا انسان تھا۔ اس کے دل میں کتنا غصہ تھا یہ کبھی نہیں سوچتے کہ آپ کے الفاظ نے مار ڈالا ہے اسے۔ کہیں نہ کہیں آپ بھی اس قتل میں شامل رہے ہیں جسے خود کشی کا نام دیا گیا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ پسماندہ معاشروں میں ذہنی مسائل کو سرے سے سمجھا ہی نہیں جاتا۔ پہلی بات آپ سمجھیں گے تب ہی قبول کریں گے کہ کوئی مسئلہ ہے اور پھر اس کا علاج ہو سکے گا۔ بہت سے معاملات میں اچھے خاصے میچور لوگوں کو کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ پاتے۔ نتیجتاً مسائل شدت اختیار کر جاتے ہیں۔

موجودہ وبائی صورتحال بھی ان مسائل کو جنم دے رہی یے۔ ایک غیر یقینی صورتحال جو پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے وہ بھی نفسیاتی مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ یہاں بھی پسماندہ۔ معاشرے باقی دنیا سے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں بہت پیچھے ہیں۔ سماجی، معاشی، غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ سماجی دوری جو اس وبا کی وجہ سے لازم قرار دے دی گئی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی حل ابھی تک سامنے نہیں آیا اس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

وہ لوگ جو دوستوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے، عزیز و اقارب سے سماجی رابطہ رکھتے، ہنس بول لیتے تھے اپنے مسائل کو تھوڑا بھول جاتے تھے وہ سب اب تنہائی کا شکار ہیں۔ جس کی وجہ سے نفسیاتی دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔ پھر معاشی مسائل اپنی جگہ ہیں پوری دنیا میں کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری پھیل رہی ہے، معاشی دباؤ براہ راست نفسیاتی مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے، ایسی صورتحال میں مزید الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔ گھریلو تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے خواہ وہ نفسیاتی ہو یا جسمانی، لوگوں کے رویوں میں تلخی آر ہی ہے۔

ایسے میں کوئی بھی مقامی سطح پہ سماجی و فلاحی ادارہ ہمارے معاشرے میں نظر نہیں آ رہا جو آگے بڑھے اور لوگوں کو نفسیاتی مدد دے۔ ڈبلیو ایچ او اس کے لیے کام کر رہا ہے چند ایک اور گروپس بھی یہ کام کر رہے ہیں لیکن مقامی سطح پہ ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا، ایسی صورت میں زیادہ نہیں تو اتنا کیا جا سکتا ہے کہ اپنی ٹاکسک سوچ سے دوسروں کو محفوظ رکھا جائے، ہمت کی بات نہیں کی جاتی تو بے جا تنقید سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کون زندگی سے کیسی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہمارے چند الفاظ کسی کو جینے کا حوصلہ دے بھی سکتے ہیں اور حوصلہ بالکل چھین بھی سکتے ہیں۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply