وزیراعظم صاحب نے شہید اسامہ کو یاد فرمایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی میں حاضری دی اور حسب معمول ایک زبردست تقریر فرمائی۔ اس تقریر کے زبردست ہونے کی اس سے بھی زیادہ زبردست دلیل یہ ہے کہ ان کی تقریر ان کے اپنے علاوہ پی ٹی آئی کے باقی لوگوں نے بھی بہت پسند کی ہے۔ وزیراعظم صاحب نے اپنی اس تقریر میں اپنی حکومت، ریاست مدینہ اور اپنی سابقہ تقریروں کی تعریف کی اور ہمیں یہ بتایا کہ ان کی پہلی تقریروں کی وجہ سے آج دنیا میں پاکستان کو کتنی عزت مل رہی ہے۔ بس انہوں نے امید اور خواہش ظاہر کی کہ دنیا میں ملنے والی عزت اب اگر نظر بھی آنا شروع ہو جائے تو بہت مزا آئے گا۔

ایک بات کا اعتراف تو ان کے مخالفین کو بھی کرنا پڑے گا کہ ان کی یہ تقریر حقیقت پر مبنی تھی۔ مثال کے طور پر اس تقریر میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں ہمیں اور ساری دنیا کو بتایا کہ ان کی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی تقریریں ہی ہیں اور ان کی تقریروں کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر کسی بڑے لیڈر کی طرح یوٹرن ہی لے لیا ہے۔ پہلے امریکہ پاکستان کی عزت نہیں کرتا اور باقی دنیا کی عزت کرتا تھا۔ اب امریکہ پوری دنیا میں کسی کی عزت نہیں کرتا لیکن پاکستان کی عزت کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے یہ ان کی زبردست تقریروں اور مودی کی پھیکی تقریروں کا نتیجہ ہے۔

ان کی تقریروں سے انٹرنیشنل میڈیا اتنا متاثر ہوا ہے کہ مودی کو اب کوئی گھاس ہی نہیں ڈالتا۔ انہوں نے نیویارک ٹائم کے عملے کے ساتھ اپنی میٹنگ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جس میں وزیراعظم صاحب نے انہیں صحافت سکھائی اور عظیم اسلامی تاریخ اور صحافتی روایات سے انہیں آگاہ کیا۔ وہ سب خوشی اور حیرانی سے دنگ رہ گئے۔ ان میں سے کئی ایک نے اے آر وائی نیوز جوائن کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مودی کا اور انڈیا کا نام امریکی میڈیا میں ناپید ہو گیا ہے۔

انہوں نے قوم کو اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی سے آگاہ کیا۔ پچھلی حکومتوں کی خارجہ پالسی کی ناکامی اور اپنی حکومت کی خارجہ پالیسیوں کی کامیابی سے جو غیر معمولی فرق پڑا ہے اس کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے دور میں امریکی پاکستان آ کر جب کسی بین الاقوامی دہشت گرد، جیسا کہ اسامہ بن لادن، کو شہید کرتے تھے تو ساتھ بے عزتی بھی پاکستان ہی کی کرتے تھے۔ جب کہ آئندہ کے لیے جب بھی امریکی فوج پاکستانی سر زمین پر کسی بین الاقوامی دہشت گرد کو شہید کرے گی تو وہ پاکستان کی عزت کریں گے۔

امریکہ کا یہ یوٹرن بھی پی ٹی آئی کی حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ اس پر انہوں نے پاس بیٹھے ہوئے اپنے وزیرخارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بہت خوش دکھائی دیے۔ ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ جب وہ پیپلز پارٹی حکومت کے وزیر خارجہ تھے تو وہ اچھے وزیر خارجہ نہیں تھے۔ لیکن اب وہ بہت اچھے ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ذکر چین کا ذکر کیے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ وزیراعظم صاحب نے بتایا کہ چین کے ساتھ ہماری دوستی کول مائنز جتنی قیمتی، گوادر جتنی گہری، سڑکوں جتنی لمبی اور سی پیک کے قرضوں جتنی مہنگی اور ڈراؤنی ہے۔ پچھلی ملاقات میں چین کے وزیراعظم نے ہمارے وزیراعظم صاحب کو یہ بتایا کہ پاکستان کی چینی یعنی شوگر نہایت گھٹیا اور مہنگی ہے۔ اور ہمارے وزیراعظم کو یہ بھی سمجھایا کہ پاکستان میں چینی کی قیمت اوپر نیچے کیسے ہوتی ہے۔ اس کے بعد وزیراعظم نے صرف سرکاری جہاز استعمال کرنے کا وعدہ کر لیا۔

وزیراعظم جناب عمران خان نے ملک کے اندرونی حالات پر بھی روشنی ڈالی اور اپنی اور اپنی حکومت کی شاندار کارکردگی کی خوب تعریف کی۔ انہوں نے کہا پہلے پاکستان کے کچھ علاقے پیچھے رہ گئے تھے، وہاں پر ترقی نہیں ہو رہی تھی اور لوگ مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ اب ہم بہت کوشش کر رہے ہیں کہ سارے علاقے برابر ہو جائیں۔ اس لیے باقی علاقوں میں بھی ہر طرح کے ترقیاتی پروگرام روک دیے ہیں۔

انہوں نے اپنے وزیر تعلیم کی کارکردگی کو سراہا۔ کہنے لگے کہ ہماری حکومت سے پہلے کچھ سکولوں میں تعلیم کا معیار اچھا نہیں تھا۔ اب ہم باقی تمام سکولوں کو بھی ان کے برابر لے آئے ہیں۔ اس طرح سے پی ٹی آئی نے پورے ملک میں ایک جیسے تعلیمی نظام کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی حکومت سے پہلے کچھ اداروں میں میرٹ نہیں تھا۔ وہ معاملہ بھی انہوں نے حل کر دیا ہے۔ اب میرٹ کی کوئی شکایت نہیں کرے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے کابینہ کی مثال پیش کر کے لوگوں کے منہ بند کر دیے۔

اپوزیشن کے بارے میں اپنے تازہ یوٹرن کا ذکر کیا۔ کہنے لگے انہیں اپوزیشن سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔ لیکن وہ پاکستان کی بھلائی نہیں چاہتے اور میرے خلاف کنٹینر لے آئے تھے۔

تقریر کے آخر انہوں نے آٹھ دس نئی باتیں آخری بات کے طور پر کیں۔ کرپشن کے نقصانات بتائے کہ پیسہ باہر چلا جاتا ہے۔ ثبوت کے طور پر مراد سعید کے الفاظ کو دہرایا اور عوام کو یاد دلایا کہ دس ارب ڈالر سالانہ پاکستان سے باہر چلے جاتے ہیں۔ ریاست مدینہ کی خصوصیات کا ذکر کیا۔ وزیراعظم کے خطبے کا اختتام قومی اسمبلی ہال میں اذان پر ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 237 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply