بن لادن کا نیا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں بچپن سے ہی بڑوں میں بیٹھنے کا شوقین تھا، لہذا سیاسی گفتگو سننے میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میں نے جب بھی مطالعہ پاکستان پڑھا صرف کوفت ہوئی کیونکہ وہ جھوٹ کا پلندہ ہی نہیں بلکہ گمراہ کن بھی تھا۔ اس کو پڑھنا جاہل رہنے کا ایک مجرب نسخہ ہے، یعنی اگر کسی نے پاکستان کی غلط اور جھوٹی تاریخ پڑھنی ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ مطالعہ پاکستان پڑھے۔ جس میں یہ تو بتایا گیا کہ جب پاکستان بنا تو بھارت کے ایک طرف مغربی اور ایک طرف مشرقی پاکستان تھا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مشرقی پاکستان ہم سے کیوں الگ ہوا۔ جس بیانیے کو جناح اور تحریک پاکستان کا بیانیہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ دراصل ان لوگوں کا بیانیہ تھا کہ جنہوں نے قرار داد مقاصد منظور کرائی تھی، اسی بیانیے کے ترویج کے لیے جناح صاحب کی گیارہ اگست کی تقریر چھپائی جاتی ہے کہ جس کے مطابق پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بننا تھا۔

جب ہم تھوڑے بڑے ہوئے تو احساس ہوا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے کہ جس میں اول تو بات کرنا ہی محال ہے اور سیکولر بات کرنا، ماڈرن بات کرنا تو اپنے پیچھے بلا لگا لینا ہے۔ میوزک، مصوری، شاعری، ڈرامہ، ایکٹنگ کسی بھی قسم کی لطافت یہاں پسند نہیں کی جاتی۔ مذہب کا بھی ایک ہی برینڈ قابل قبول ہے اور وہ کہ جو تقسیم کرتا ہو نہ کہ جوڑتا ہو، لہذا کوفت میں اضافہ ہوتا گیا لیکن ہم نے دیکھا کہ ریاست نے ہمیشہ اسی بیانیے کی ترویج اور بڑھوتری کے لیے کام کیا۔ ضیا الحق سے نواز شریف تک اور مشرف سے عمران خان تک، سب کے سب اسی طرح کی سستی وطن پرستی اور مذہب پرستی کرتے رہے کوئی مرد مومن بنا تو کوئی امیر المومنین بننا چاہتا تھا اور اب ایک ہے کہ جو ریاست مدینہ کی تعمیر میں مصروف ہے لیکن ایک سے بڑھ کر ایک بدتر۔

مطلب اگر آپ ضیاء الحق کے طرز عمل کو دیکھیں اور جو باتیں وہ کیا کرتے تھے ان کو سنیں تو ان میں مماثلت تو دور بلکہ وہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں اور میں اس کو توہین مذہب، توہین آئین اور توہین ریاست سمجھتا ہوں۔ اس سے بڑھ کر توہین مذہب اور کیا ہوگی کہ کوئی حکمران مذہب کا نام لیکر لوگوں سے جھوٹ بولے، ان کو مسلسل دھوکہ دے اور بے ہودہ ایجنڈے کو مذہبِ اسلام کے ایجنڈے کے طور پر پیش کرے؟ مفاد امریکہ کے پورے ہوں اور دنیا کی نظروں میں اسلام بدنام ہو؟ اس سے بڑی توہینِ مذہب ہو ہی نہیں سکتی۔۔

جب ذرا بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ شدت پسندوں کا اور اس ریاست کا بیانیہ ایک ہی ہے، کیونکہ جس طرح سے ہمارے بچپن میں جہادی تنظیموں کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی وہ اس کا سب بڑا ثبوت تھا۔ لشکر اور سپاہ تیار کیے گئے۔ ان کی ٹریننگ کرائی گئی، انکو اسلحہ دیا گیا اور ان گروہوں پر چھوڑ دیا گیا کہ جو ریاست کے بیانیے کے خلاف تھے۔ سب سے زیادہ افتاد ان پر آن پڑی کہ جن کا مذہبی نظریہ ریاست کے “ڈونرز” کے مذہبی نظریہ سے میل نہیں کھاتا تھا، نہ جانے کہاں کہاں سے پیسے آتے رہے اور مدرسے پر مدرسہ بنتا گیا، ریاست کو اس زحمت کی ضرورت ہی کیا تھی کہ یہ معلوم کرے کہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ کون دے رہا ہے؟ کیوں دے رہا ہے؟ اور کس کو دے رہا ہے؟ ایران اور سعودی عرب اپنی پراکسی وار یہاں لڑتے رہے لیکن ہم نے جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھیں۔ افغان جنگ شروع ہوئی تو ہم نے اس میں سے خوب پیسے کمائے لیکن ساتھ ہی ساتھ افغان پناہ گزین ایک بڑی تعداد میں پاکستان آگئے لاہور، کراچی، اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کی مارکیٹوں پر آہستہ آہستہ افغانیوں کا قبضہ ہوتا گیا ان میں سے بیشتر نے یہاں ایک نمبر اور دو نمبر شناختی کارڈز بھی بنوا لیے اور پاکستانی ہوگئے۔۔

ضیا الحق بہاولپور برد ہوئے۔ چار لولے لنگڑے سیاسی ادوار دس سال میں فی النار ہوئے اور ملک دوبارہ مضبوط ہاتھوں میں چلا گیا، اور امریکہ کی ایک اور جنگ ہم پر مسلط ہوگئی۔ اس بار ریاست روشن خیالی اور جدیدیت کا لبادہ اوڑھ کر قوم کے ساتھ ہاتھ کر رہی تھی، اپنے ریاستی اثاثوں کو ایک بار پھر افغانستان میں چھوڑا گیا لیکن اس بار آگ وہ لگی کہ جس کی لپٹ آج بیس سال گزر جانے کے بعد بھی جھلسا رہی ہے، ایک لاکھ پاکستانی اس کی خوراک بن چکے ، لیکن بیانیہ وہی کا وہی ہے بلکہ اس کا معیار مزید گر گیا ہے لیکن اس پر ریاست کا اصرار بڑھتا جا رہا ہے۔۔

کل کم از کم ہماری پارلیمنٹ نے اسامہ بن لادن کی موت کی دنیا کو مبارکباد تو دی تھی لیکن آج کا وزیراعظم اس کو شہید سمجھتا ہے اور اس کا برملا اظہار کرتا بھی ہے تو پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر، یاد رہے کہ یہ وہی وزیراعظم ہے کہ جو ریاستِ مدینہ بنانے کا دعویدار ہے، اس تضاد نے اس شخص کو سیکورٹی تھریٹ بنا دیا ہے۔ جو دنیا کا موسٹ وانٹڈ آدمی تھا، جو اس ملک کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد کی اندوہ ناک شہادت کا باعث بنا، جس نے اس ملک کو بدترین دہشت گردی سے دوچار کیا، جس نے اس ملک کے کونے کونے میں بم دھماکے کرائے، جس نے اس ملک کے بچوں، بزرگوں، عورتوں، مردوں کو بے دردی سے مارا، ہسپتال، بس اسٹینڈ، ہوٹل، مسجد، مزار، بازار، چوراہا سیکورٹی اداروں کے دفاتر کچھ بھی اس کے اور اسکے ساتھیوں کے ہاتھ سے محفوظ نہ رہے، جس نے سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں کو شہید کیا، وہ آدمی ہمارے وزیراعظم کی نظر میں شہید ہے۔۔۔

اب یہاں کئی سوال جنم لیتے ہیں کہ اگر اسامہ شہید ہے تو ان ایک لاکھ پاکستانیوں کے بارے آپ کیا فرماتے ہیں کہ جو اس کے اور اس جیسوں کے ہاتھوں مارے گئے؟ آج تک ہماری افواج جن سے لڑ رہی ہیں کیا وہ لوگ حق پر ہیں اور ہماری فوج ظالم ہے؟ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن کیا ناجائز کارروائیاں ہیں؟ کیا وزیراعظم یہ بات امریکہ میں بیٹھ کر بھی کہہ سکتے ہیں؟ کیا یہ وزیراعظم کا ذاتی نقطہ نظر ہے یا تحریک انصاف کی پارٹی پالیسی؟ کیا افواج پاکستان بھی سلیکٹڈ وزیراعظم اس بات سے اتفاق کرتی ہیں؟

پی ٹی آئی کے کچھ دوست کہہ رہے ہیں کہ “سلپ آف ٹنگ” ہوئی تھی کیونکہ اسی تقریر میں وزیراعظم نے اس کے لیے لفظ مارا گیا بھی استعمال کیا ہے تو بھائی اگر یہ “سلپ آف ٹنگ” تھی تو اس کی وضاحت کی جا سکتی تھی، ان الفاظ کو واپس لیا جا سکتا تھا لیکن دو دن گزر جانے کے باوجود کوئی وضاحت کوئی معذرت کچھ موصول نہیں ہوا، اور دوسری بات کہ سلپ آف ٹنگ وہ ہوتی ہے کہ جس کی تصحیح کی جائے جبکہ خان نے پہلے مارا گیا بولا اور بعد میں اسکو شہید کہہ کر یہ بتایا کہ اصل میں وہ شہید ہی کہنا چاہتے تھے۔۔ دوسری بات یہ کہ خان کا بیان کہ طالبان کے دفتر کھلوا دو بھی کیا “سلپ آف ٹنگ” تھا؟ ابھی کچھ دن پہلے عمران خان نے ڈرامہ نویسوں کے ایک گروپ سے بات کی جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلاق کی شرح اس ملک میں اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ معاشرہ مغربی ہوتا جا رہا ہے، کوئی اس آدمی کو بتائے کہ تمہاری اولاد مکمل مغربی ماحول میں پل بڑھ رہی ہے ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ان کے ایمان کی تمہیں کوئی فکر نہیں ؟

کل ایک دوست کہہ رہے تھے کہ عمران نظریاتی طور پر کنفیوژن کا شکار ہے تو جناب اگر سڑسٹھ سال کی عمر میں بھی کلئیرٹی نہیں آسکی تو اب آئے گی بھی نہیں اور میں اس بات سے بلکل اتفاق نہیں کرتا کہ وہ کسی بھی کنفیوژن کا شکار ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ کل بھی طالبان کے حامی تھے اور آج بھی ہیں، کیونکہ یہ وہ واحد آدمی تھا کہ جس نے طالبان کے دفتر کی بات کی، جو مولانا سمیع الحق کے مدرسوں کو فنڈنگ کرتا رہا، اور اب اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر بطور وزیراعظم اس نے اسامہ کو شہید کہہ دیا۔۔

کوئی انڈین میڈیا دیکھے تو پتہ چلے کہ انڈین میڈیا اس بیان کو کیسے پیش کر رہا ہے اب جبکہ پاکستان کی بہترین فارن پالیسی کی وجہ سے انڈیا سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن گیا ہے تو یہ بیان اس ملک کے لیے کس کس طرح کی مشکلات پیدا کر سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ دو معاملات اس وقت انٹرنیشنل میڈیا پر گرم ہیں ایک PIA کے پائلٹس کے جعلی لائسنسوں سے متعلق رپورٹ نے PIA کے مستقبل پر ایک سوال اٹھا دیا ہے وہیں دوسری طرف عمران خان کے بیان نے پاکستان کی شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر شدید تحفظات پیدا کیے ہیں۔

ہمارے اوپر جب بھی سلیکٹڈ نازل ہوا تب تب یہی ہوا۔ ایک سلیکٹڈ کہا کرتا تھا کہ میں ضیا شہید کا مشن پورا کروں گا تو دوسرے نے اس ملک کے ایک لاکھ شہریوں کے قاتل دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو شہید قرار دے دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply