علم سے رشتہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔
Today a reader , tomorrow a leader
لائبریریاں قوم کی ترقی کی ضامن ہیں۔
کتاب کی رفاقت کردار کی لیاقت کا باعث ہوتی ہے۔

اوپر درج وہ اقوال ہیں جو اکثر و بیشتر ہمیں سکولوں، کالجوں اور جامعات کے در و دیوار پر بڑے لش پش انداز میں لکھے ملتے ہیں۔ کتاب کی افادیت بیان کرتے ایسے کئی جملے اور مضامین ہمارے درسی نصاب کا بھی حصہ ہیں۔ لوگ اس طرح کے کلمات فیسبک اور واٹس ایپ سٹیٹس پر بھی پورے خشوع و خضوع سے لگاتے ہیں۔ ان اقوال کو پڑھ کے یہ تاثر ملتا ہے کہ بس کتاب تھامنے کی دیر ہے، کتاب تھامتے ہی بندہ دنیا کی ایسی کی تیسی کر دے گا۔ میرے خیال میں کتاب کی حمد کرتے یہ قول نہایت بے کار اور گھسے پٹے ہیں۔

ان اقوال نے صفحے اور دیواریں کالی کرنے کے سوا کوئی کار خیر نہیں کیا۔ کتاب سے بے زاری اور کتاب پڑھنے والوں سے نفرت جوں کی توں برقرار ہے۔ غلط فہمی کا یہ عالم ہے کہ کتاب پڑھنے والے کو خبطی اور پاگل سمجھا جاتا ہے۔ میری نسل یعنی موجودہ نوجوان نسل کا تو کتاب سے اینٹ کتے کا بیر ہے۔ ادھر کسی نوجوان نے کتاب دیکھی، ادھر وہ یوں فرار ہوا جیسے ڈریکولا روشنی کو دیکھتے ہی رفو چکر ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں کسی نوجوان کو کتاب پڑھنے کا مفت مشورہ دیا جائے تو بجائے عمل کرنے کے وہ ایک ہی سوال پوچھتا ہے : کتاب کیوں پڑھی جائے؟کتاب پڑھنے کا آخر فائدہ کیا ہے؟

یہ دو سوال ایسے ہیں کہ نوجوان نسل کو ان کا جواب مل نہیں رہا اور کتاب پڑھنے والے ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو یہ خوش خبری سنائی جائے کہ کتابیں پڑھنے سے بندے کو شعور آتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ پیاری دنیا کے نظام اور اولاد آدم کے کرتوتوں کا پتا چلتا ہے تو سجیلے جوان جواب میں یہ سوال داغتے ہیں کہ شعور اور علم ہمیں کیا فائدہ دے گا؟

ہم شعور اور علم کا مستقبل میں کیا کریں گے؟ جن کے پاس یہ سب ہے، انہیں کیا فیض پہنچ رہا ہے؟ جواب میں نوجوانوں کو بتیسی نکال کر بتایا جاتا ہے کہ دیکھو! مغربی اقوام کس قدر کتاب دوست ہیں۔ وہ اسی علم دوستی کی بنا پر ترقی و خوشحالی کے زینے پھلانگتی جا رہی ہیں۔ وہ عظیم لوگ تو لیٹرین میں قضائے حاجت کے وقت بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ ”مغربی دلیل“ بھی نوجوان نسل کے سر کے دس فٹ اوپر سے فراٹے بھرتے گزر جاتی ہے۔ درحقیقت یہ نسل عوام کو جاہل بنانے کے ریاستی پروپیگنڈے کی انتہائی صورت ہے۔ ہماری ریاست نے عوام کو اللہ میاں کی گائے بنانے کا جو بیج بویا تھا، وہ آج تناور درخت بن چکا ہے۔ موجودہ نسل کو کتاب اور علم کی طرف راغب کرنا حقیقی معنوں میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

نوجوان نسل کے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جھوٹے افسانے، طویل ناول، بے معنی خاکے اور ادب پڑھنے کا آخر فائدہ کیا ہے۔ ان کی تشویش کافی حد تک درست بھی ہے۔ ان کی عقل واقعی ان سب چیزوں کی افادیت نہیں سمجھ پاتی۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں ادیب اور شاعر حضرات بے وقعت اور تنگ دست ہیں تو خود بخود کتابوں سے بد ظن ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ سوچتے ہیں کہ آخر کتابیں پڑھنے والوں نے معاشرے کو دیا کیا ہے؟ ساری ترقی تو سائنس کی وجہ سے ہوئی ہے۔

لیکن جو نام نہاد اور بورنگ سائنسی مضامین انھیں سکول کالج میں پڑھائے بلکہ رٹوائے جاتے ہیں، انھیں پڑھ کے وہ سائنس سے بھی کنی کترانے لگتے ہیں۔ تعلیمی نصاب نے نوجوانوں کے لیے سائنس کو نوکری بنا دیا ہے۔ طلبا نوکری کی طرح سائنس کی ضرورت کو سمجھتے تو ہیں مگر اس میں دل نہیں لگا پاتے۔ اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح اسے گھسیٹتے رہتے ہیں۔

اس المیے سے نمٹنے کا طریقہ کیا ہے؟ نوجوان نسل کو کتاب کی طرف کیسے مائل کیا جائے؟ اس مسئلے کا واحد حل ہے کہ انھیں وہ پڑھایا جائے جس میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں اور جو موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ نوجوانوں کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ مرزا غالب کو آم پسند تھے یا سر سید کے اخلاق اچھے تھے یا منٹو نے طوائف کے بارے میں کیا کہا ہے۔ لیکن معمولی تربیت کی جائے تو انھیں اس میں ضرور دلچسپی ہو سکتی ہے کہ ایلن مسک کا سپیس مشن کامیاب رہا کہ نہیں؟ برمودا ٹرائے اینگل کی حقیقت کیا ہے؟ بلیک ہول کیا بلا ہے؟ موبائل میں اینڈرائڈ کے علاوہ کوئی نیا آپریٹنگ سسٹم بھی آیا ہے کہ نہیں؟ کیا مستقبل میں ٹیلی پورٹیشن ممکن ہو جائے گی؟ ان سب چیزوں میں نوجوانوں کی دلچسپی ہو سکتی ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں، یہ سب سائنس دنیا کو فائدہ دے رہی ہے۔ مگر بے بسوں کی طرح چھاتی پیٹنے کو جی چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں سائنسی ماحول بالکل نہیں ہے۔ اور یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سکول کالج سائنس کے نام پر محض رٹے بازی کرواتے ہیں۔

سائنس کلچر کو فروغ دینے کا پہلا طریقہ ہے کہ ملک میں سائنسی رسالے متعارف کروائے جائیں۔ فی الوقت ملک عزیز میں ڈھیروں ادبی میگزین اور ڈائجسٹ تو ہیں مگر سائنسی میگزین کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ گوگل پر چیک کر لیں، پیارے ملک میں کسی ایک سائنسی میگزین کا سراغ نہیں ملے گا۔ بالفرض کوئی سائنسی میگزین چھپتا بھی ہے تو عوام اس سے متعلق لا علم ہیں۔ اور عام آدمی کی ایسے رسالے تک رسائی نہیں ہے۔

سائنسی رسالے نوجوان نسل کو سائنسی طریقے سے سوچنا سکھاتے ہیں۔ ملک میں سائنسی ماحول پیدا کر کے توہمات کو اڑن چھو کر سکتے ہیں۔ ایسے رسالوں کی زبان عام فہم ہونی چاہیے اور لفاظی سے احتیاط کی جائے تاکہ ہر فرد آسانی سے سمجھ پائے۔ ایسے رسالے ہی ملک میں لکھنے پڑھنے کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ کچھ عرصے تک رسالوں کا تھوڑا سا مطالعہ کر لیا جائے تو قاری خود بخود کتابوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ انگریزی میں سائنس کے موضوع پر ان گنت کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔

کارل سیگن، سٹیفن ہاکنگ، پال ہف مین اور مائیکل بروکس وغیرہ کی کتابیں نوجوانوں کی دلچسپی کا مرکز ہو سکتی ہیں۔ مزید براں سائنس فکشن نوجوانوں پر سحر طاری کر کے سائنس میں ان کی دلچسپی بڑھا سکتا ہے۔ سینکڑوں سائنس فکشن لکھاریوں کی ہزاروں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ انہی کتابوں کا ترجمہ کر کے پیارے وطن کے نوجوانوں کے لیے دستیابی آسان کی جائے۔ بہت سے درد دل رکھنے والے دانشور عوام کی اصلاح میں لگے ہوئے ہیں۔ انھیں اس طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔ ایک دفعہ سائنس کی مدد سے نوجوانوں کا رشتہ کتاب سے جوڑ دیا جائے ؛ پھر دھیرے دھیرے وہ فلسفے، ادب، عمرانیات، سیاست، تاریخ وغیرہ میں بھی دلچسپی لینے لگیں گے۔

جو لوگ کتابیں پڑھنا فضول کام سمجھتے ہیں اور کتاب پڑھتے وقت اکتا جاتے ہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ اب تک ان کا غلط کتابوں سے واسطہ رہا ہے۔ جو کتابیں انھوں نے پڑھی ہیں، وہ ان کے لیے تھیں ہی نہیں۔ ہر کتاب ہر شخص کے لیے نہیں ہوتی۔ جس موضوع میں دلچسپی ہو، صرف اسی موضوع کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کسی اداکار یا کھلاڑی کے فین ہیں تو اس کی آپ بیتی یا سوانح عمری پڑھ لیں۔ رومانس پسند ہے تو رومانوی ناول پڑھیں۔ طبیعات اور خلا میں دلچسپی ہے تو فزکس کے لکھاریوں کو پڑھیں۔

قدیم انسانوں کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو علم الانسان کے ماہرین کو پڑھیں۔ ویڈیو گیمنگ میں دلچسپی ہے تو اس سے متعلق معلومات تلاش کر کے پڑھیں۔ پالتو جانوروں کے شوقین ہیں تو ان پر کی گئی سائنسی تحقیق کا مطالعہ کریں۔ کسی شے میں دلچسپی نہیں ہے تو یہ سوچیں کہ آپ کا زیادہ تر وقت کیا سوچتے ہوئے گزرتا ہے۔ جس موضوع پر آپ دن رات سوچتے ہیں، اس سے متعلق پڑھنا شروع کر دیں۔ بالفرض آپ سارا دن پیسے کمانے اور بڑا آدمی بننے کے بارے میں سوچتے ہیں تو مختلف موٹیویشنل لکھاریوں کو پڑھیں۔ اور سیکھنے کی کوشش کریں کہ اپنی شخصیت کو کس طرح بڑا بنایا جا سکتا ہے۔ غرض پڑھنے اور سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ علم سے شادی رچا لیں چاہے گھر داماد ہی کیوں نا بننا پڑے۔ علم سے رشتہ داری ہی ہماری اگلی نسلوں کے معاشی، سماجی اور دیگر مسائل حل کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply