بلوچستان: آوازیں تو اٹھتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔ 2017 ء کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 نفوس پر ہے۔ وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے مگر افسوس یو، این عالمی ادارے کے سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے پوری دنیا پر یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کے ریونیو میں ایک بڑا حصہ بلوچستان دیتا ہے ساتھ ساتھ بلوچستان کے وسائل کو کس بیدردی کے ساتھ کسی یتیم کی جائیداد کی طرح لوٹا جا رہا ہے۔

اس وقت صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت ہے جو کہ پی ٹی آئی کی حمایتی و اتحادی ہے باوجود اس کے پاکستان کے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو خاص خاطر میں نہیں لایا گیا بلکہ ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ملنے والے بلوچستان کا حصہ مزید کم کر دیا گیا ہے جب نا انصافیاں حد سے بڑھ جائیں گی تو آوازیں اٹھیں گی۔

ایک طرف تقریباً 1 کروڑ 23 ہزار نفوس کی آبادی کے اس یتیم صوبہ بلوچستان کے تقریباً 60 فیصد سے زائد علاقے ایسے ہیں جہاں اس دور میں بھی تیز انٹرنیٹ یعنی 3 g اور 4 جی کی سہولت نہیں دوسری طرف ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں آئن لائن کلاسز کے اجراء کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس کے بعد بلوچستان کے طلباء کے مستقبل پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ انٹرنیٹ نہ ہونے اور بلوچستان کی جامعات میں آن لائن کلاسز کے اجراء پر طلباء تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری تھا کہ 24 جون کو کوئٹہ میں پر امن احتجاجی مظاہرے میں شریک طلباء و طالبات کو کوئٹہ پولیس اور حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ کہہ کر گرفتار کیا گیا کہ یہ دفع 144 کی خلاف ورزی ہے اور کرونا کے ایس او پیز نظر انداز ہو رہے ہیں آوازیں اٹھیں کہ گزشتہ دنوں پی اے پی کی ایک ریلی ان کے سربراہ کے خلاف نازیبا الفاظ کی ادائیگی پر نکالی گئی کیا وہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی نہیں تھی کیا وہاں کرونا ایس او پیز کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا۔

بات اگر صرف گرفتاری تک ہوتی تو قابل برداشت بھی تھا لیکن جس طرح طالبات کو گھسیٹ کر ان کی عزت و ناموس کے ساتھ ساتھ بلوچی روایات کی دھجیاں بکھیر دی گئی اس کے خلاف تو آوازیں اٹھیں گی اور ان احتجاجی مظاہروں کو اور بھی زیادہ تقویت ملے گی بات اس امر کی تھی کہ حکومت طلباء سے مذاکرات کرتی اور ان کو سہولیات میسر کرواتی تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھتے۔

آٹھ جون 2020 کو جب ملک میں ڈے فار مسنگ پرسن منایا جا رہا تھا حسیبہ کپکپاتے ہونٹوں، مغموم آنکھوں اور شدت کرب سے لرزتے بدن کے ساتھ ہاتھوں میں اپنے دو بھائیوں کی تصویریں لیے شکوہ کر رہی تھی کہ وہ دکھ میں ہے اس کا غم کرب عظیم ہے وہ گھر سے نکلتی ہے تو لوگوں کی نگاہیں اسے نشتر کی طرح چبھتی ہیں اس کے الفاظ میں تسلسل لہجے میں روانی نہ تھی بس گلہ تھا، گلہ اپنے ہی گھر ہی میں غیر محفوظ ہونے کا، گلہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہونے کا۔

حسیبہ کا ایک بھائی پہلے ہی اس اندھی جنگ کا شکار ہو چکا تھا اور اب وہ بلوچ مسنگ پرسن ڈے پر اس بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ اس کے باقی دونوں بھائی جو اسی سال فروری میں محبت کے عالمی دن کے موقع پر لاپتہ کر دیے گئے ان کا پتہ لگایا جائے اس دن جب پوری دنیا محبتوں کا جشن منا رہی تھی کسی دکھی ماں کے لال نامعلوم افراد کے ہاتھوں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیے گئے ہوں گے سردار اختر مینگل جن نکات کے ساتھ پی ٹی آئی کے حمایتی بنے ان میں سے ایک مسنگ پرسنز کی بازیابی کا مسئلہ بھی تھا لیکن حکومتی دو سالوں میں بازیابی کی بجائے مزید نامعلوم افراد کے ہاتھوں بلوچستان کے سپوت غائب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سردار اختر مینگل نے حکومت سے اتحاد ختم کر دیا ہے نجانے اس نامعلوم کا علم ہم پر کب نازل ہو گا اب تو دہائیاں بیت گئی ہیں تو جناب والا اس پہ آوازیں تو اٹھیں گی۔

26 مئی کی منحوس رات ایک ڈکیتی کی واردات نے بی بی ملک ناز کی زندگی ان سے چھین لی اور ساتھ اس کی بیٹی برمش کو زخمی اور ماں سے محروم بھی کر دیا برمش جس نے ابھی پوری طرح ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا رات کی تاریکی میں ایک اندھی گولی کا نشانہ بنی سوشل میڈیا پر اس کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی اپنی ماں کو پکارتی وہ معصوم بچی یہ نہیں جانتی تھی کہ جس اندھی گولی نے اسے زخمی کیا تھا وہ اس کی زیست پر ایسا زخم چھوڑ جائے گی جس کا بخت ہی ناسور بننا ہے، اس کی ماں ملک ناز شاید کہ اب اس کی پکار کبھی نہ سن پائے گی۔

اس واقعہ نے پورے بلوچستان بلکہ ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور پورا ملک چیخ پڑا اور پورے ملک میں برمش کو انصاف دو کی آوازیں گونج اٹھیں کچھ آوازیں یہ ڈیتھ اسکواڈ کی کارستانی ہے کہتی سنائی دیں لیکن آوازوں کا کیا ہے کہیں سے بھی کیسے بھی اٹھ سکتی ہیں۔
آوازیں تو اٹھیں گی سوالات تو ہوں گے
سزا تیرا پیشہ ہے مگر سر خم نہ ہوں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
منیر احمد رونجھا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply