زندگی لمحۂ موجود میں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹویٹر پر ایک خوبصورت ٹویٹ دیکھی:
Life is NOW

واقعی زندگی لمحۂ موجود کا نام ہے۔ ہم میں سے کئی لوگ ماضی کی ندامتوں اور مستقبل کے خدشات سے پریشان اپنے حال کو خراب کر لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقتاً ماضی کو بدلنا اور مستقبل کی درست پیش بینی کرنا شاید کسی کے بھی بس میں نہیں۔ جب زندگی موجودہ وقت کا نام ہے تو حال میں رہنا سیکھنا چاہیے۔ کچھ لوگوں کو یہ بات جلد سمجھ آ جاتی ہے، کچھ کو دیر سے۔ لیکن جتنا جلد سمجھ آ جائے، زندگی اتنا ہی آسان اور بہتر ہو سکتی ہے۔

ماضی کیا ہے؟ وہ جو گزر چکا اور ہم اسے بدلنے پر قادر نہیں۔ ہم سوچتے رہتے ہیں کہ کاش، ایسا ہو جاتا؛ یہ کرتے تو یہ ہو جاتا؛ ایسا کرنا چاہیے تھا؛ ایسا کرنے سے فلاں چیز، کامیابی، یا فلاں شخص کو حاصل کر لیتے وغیرہ۔ مجھے بھی بچپن کا ایک واقعہ جب یاد آتا تو پریشان اور اداس ہو جاتی تھی۔ گھر میں تین چوزے تھے۔ دو بڑے اور ایک منا سا۔ سردیوں کے دن تھے۔ وہ منا چوزہ دونوں بڑوں کے درمیان گھس کر سوتا تھا۔ ایک رات وہ بہت چیخا اور اگلی صبح مردہ پایا گیا۔

رات کو غالباً بڑے چوزوں یا ان میں سے کسی ایک نے اسے ساتھ گھس کر سونے نہ دیا اور وہ سخت سردی سے مر گیا۔ اس کے چیخنے سے گھر والے جاگ تو گئے لیکن سردی یا سستی کی وجہ سے کوئی بھی بستر سے نکل کر منے چوزے کو دیکھنے اور سردی سے بچانے کے لئے نہ اٹھا۔ یہ بات جب بھی یاد آتی تو سوچتی کہ کاش، میں سب سے کم عمر ہونے کے باوجود اٹھ کر اس معصوم بے زبان کو سردی اور موت سے بچا لیتی۔ لیکن جب سے یہ شعور آیا کہ ماضی کو بدلنا ناممکن ہے، تو اب دل کو سمجھا کر خود کو معاف کر دیا ہے۔ یہ تو خیر کوئی بڑا نقصان نہیں۔ لوگوں کی زندگی میں تو جانے کیسے کیسے صدمات آتے ہیں اور بہرحال جھیلنا پڑتے ہیں۔

کئی لوگ محبت میں ناکامی، اپنے محبوب/محبوبہ سے شادی نہ ہونے اور جدائی کے صدمے سے برسوں تک سسکتے رہتے ہیں۔ کئی لوگ کسی خاص نکتے سے آگے نہیں بڑھ پاتے

عمر کتنی منزلیں طے کر چکی
دل جہاں ٹھہرا تھا، ٹھہرا رہ گیا

”اے محبت، تیرے انجام پہ رونا آیا“ کے مصداق کئی لوگ محبت کے ناخوشگوار انجام پہ برسوں تک یا بعض اوقات تمام عمر دل گرفتہ رہتے ہیں۔ اور اسی دل گرفتگی کے سبب حال اور مستقبل کی ممکنہ خوشیوں سے بھی لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔ اس میں شاعری کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ اکثر ہم غمناک شاعری اور نغمات سن کر ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ اسی لئے المیہ شاعری اور نغمات اگر آپ کو پریشان کن ماضی کی یاد دلائے تو اس سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ان یادوں میں سوائے درد کے اور کچھ نہیں رکھا۔

یہ بجا ہے کہ ہم ماضی سے مکمل طور پر رشتہ ختم بھی نہیں کر سکتے لیکن اگر یہ حال اور مستقبل پر اثرانداز ہونے لگے اور آپ کو کسی ایک نکتے سے آگے نہ بڑھنے نہ دے تو یہ دروازہ جلد از جلد بند کر دینا بہتر ہو گا۔ وہ زنجیریں اور بیڑیاں جو آپ کو روکے اور پابند کیے رکھیں، انہیں ہمت اور شعوری کوشش کر کے کاٹ ڈالیں۔ اس غیر ضروری اور تکلیف دہ بوجھ سے نجات پا کر آپ خود کو ہلکا پھلکا اور گویا کسی غلامی سے آزاد محسوس کریں گے، جیسے پرندے کو پنجرے سے آزادی مل جائے۔

جب آپ کو کھلے آسمان میں اڑنے کا موقع ملے گا تو جانیں گے کہ یہ کتنا وسیع ہے۔ پھر آپ اس کی وسعتوں سے دل کھول کر لطف اندوز ہو سکیں گے۔ ذرا سوچیں کہ زندگی کا راستہ سامنے کھلا پڑا ہو اور آپ کے قدموں کی بیڑیاں آپ کو پابند کیے رکھیں۔ پھر وقت ہاتھ سے نکل جانے پر آپ کے پاس صرف ندامت رہ جائے گی۔ لیکن ماضی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اس بات کا احساس ہونا اور یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ آپ کہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ جب آپ کو پھنسے ہونے کا احساس ہو گا تبھی آزاد ہونے کی کوشش کریں گے۔

اگر ماضی میں آپ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو حوصلے سے کام لیتے ہوئے خود کو معاف کر دیں۔ ہم ڈراموں میں یہ مکالمہ سنتے ہیں : آگے بڑھ جاؤ۔ لیکن ڈراموں کے مکالمات کو سن کر بھول جاتے ہیں، جبکہ سیکھنے اور اپنی اصلاح کرنے کے لئے ان میں بہت سے اسباق ہوتے ہیں۔ آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ سو اگر آپ بھی زندگی میں کسی ایسے مقام پر رکے ہوئے ہیں تو قدم اٹھانے اور آگے بڑھ جانے کی ہمت خود میں پیدا کریں۔ دیکھیں تو سہی کہ آپ کو آگے کیا کچھ ملنے کو ہے۔ کیا کیا مواقع، نئے لوگ، اور خوشیاں آپ کے راستے میں آنے کو ہیں۔

مستقبل کیا ہے؟ وہ جو ہم میں سے کسی نے نہیں دیکھا اگرچہ کسی حد تک اس کی پیش گوئی کرنا ممکن ہے۔ ہم چھوٹے اور بڑے ہر طرح کے معاملات میں خوف و خدشات کا شکار رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات فضول اور جاہلانہ قسم کی باتیں خود سے فرض کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ مثلاً وہ انکار کر دے گا/گی؛ مجھے اس کا رشتہ نہیں ملے گا کیونکہ میں اس قابل نہیں ؛ ہمارے ایسے نصیب کہاں ؛ میں اس سے ہار جاؤں گا/گی کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ شاطر، ذہین، سینیئر، قابل، اور طاقتور ہے ؛ مجھے اس کاروبار میں کامیابی نہ ہو گی کیونکہ میرے پاس مارکیٹنگ کی یا مطلوبہ مہارت نہیں ہے ؛ جیب میں موجود رقم تھوڑے دن میں ختم ہو جائے گی، پھر کیا ہو گا وغیرہ۔ یہ اور اس طرح کے کئی اندیشے ہمیں نہ صرف پریشان کرتے بلکہ قدم اٹھانے سے ہی روکے رکھتے ہیں۔ فکر و پریشانی ہمیں سوچنے اور کچھ کرنے ہی نہیں دیتی۔

مستقبل کے تفکرات میں سے ایک بیٹی کی شادی بھی ہے جو کئی غریب اور متوسط طبقے کے والدین کی نہ صرف نیندیں حرام کرنے کا سبب بنتی بلکہ ان کے بالوں میں چاندی بھی اتار دیتی ہے۔ اب جاہلوں کو یہ کون سمجھائے کہ محض فکر میں گھلتے رہنے سے بیٹی کی شادی نہیں ہوتی؟ جو وقت ابھی آیا نہیں، اس کے بارے میں فکرمند اور سوچ سوچ کر پاگل ہوتے رہنا، چہ معنی دارد؟ اس سے مستقبل نہیں بدلتا۔ کوئی بھی معاملہ ہو، اس کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی اور اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ جب زندگی لمحۂ موجود کا نام ہے تو پھر حال سے لطف اٹھائیے۔ ماضی کی ندامتیں اور مستقبل کے تفکرات کا بوجھ اٹھائے کیوں اپنا حال خراب اور برباد کرتے ہیں؟ اور اگر ایسی ہی مستقبل کی فکر ستاتی ہے تو اپنے حال کو درست کریں تاکہ غلط کاموں کا نتیجہ آئندہ وقت میں نہ بھگتنا پڑے۔

خواہ مخواہ کی باتیں فرض کر کے اندیشوں میں گھرے رہنا صرف تکلیف دیتا ہے۔ اگر آپ کا آج مطمئن اور آسودہ ہے تو یہ کسی دولت سے کم نہیں۔ لیکن اس دولت سے بہرہ ور ہونے کے لئے آج کی اہمیت سے واقف ہونا ضروری ہے۔ لہذاٰ ماضی کی صرف حسین اور خوشگوار یادیں ساتھ رکھیں اور مستقبل کی فکر میں گھلنے کی بجائے کام کریں۔ آج کیا جانے والا کام آپ کو ماضی کی پشیمانی اور نادیدہ مستقبل کے اندیشوں دونوں سے محفوظ رکھے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply