حسن نثار کے بیٹوں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سال اپریل میں مشہور پاکستانی صحافی حسن نثار، جو جنگ گروپ اور جیو ٹی وی سے وابستہ ہیں، کے بیٹوں کی انتہائی غصہ اوردشنام سے بھرپور ویڈیو وائرل ہوئیں۔ گو چہرے مہرے اور حلیہ کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ حسن نثار جیسے خوش لباس اور صحتمند شخص کے بیٹے ہیں، مگر دو باتوں کی وجہ سے اس حقیقت کو قبول کرنے میں تامل نہیں ہوا۔ ایک تو ان کے شناختی کارڈزپہ درج کوائف اور دوسرے ان کے لب و لہجہ اور اسی انداز میں گالیاں جو اکثر حسن نثار بھی اپنی گفتگو کی رو میں ادا کرتے ہیں۔

غصہ اور بد کلامی جس کا اظہار پاکستان کے نامور صحافی اور دانشور ہونے کے ناتے حسن نثار صاحب اپنے کالمز اور ٹیلی ویژن شوزمیں ملک یا دنیا میں نا انصافی اور ظلم و زیادتی کے خلاف بطور احتجاج اپنا حق سمجھتے ہیں۔ چاہے باپ سے جتنی دوری سہی اولاد، بالخصوص بیٹے، لاشعوری طور پہ باپ کو اپنا رول ماڈل تصور کرتے ہیں۔ لہٰذا کوئی تعجب نہیں کہ ان کے بیٹوں نے بھی اپنے باپ کی ظلم و زیادتی کے رویہ کے خلاف اسی احتجاجی انداز کو اپنایا۔ البتہ یہ احتجاج اس ناروا اور ہتک آمیز سلوک کے خلاف تھا جس کامظاہرہ ان کے والد حسن نثار نے ان کے لڑکپن بلکہ اوائل جوانی تک مار پیٹ اور گالیوں کی صورت روا رکھا۔

کونین، شہپر اور اظفر، حسن نثار صاحب کی پہلی بیوی مرحومہ سعیدہ ہاشمی کے بطن سے ہیں، جو اعلی تعلیم یافتہ اور اپنے وقت کی جانی پہچانی اسکرپٹ رائٹر اور شاعرہ تھیں۔ شادی کے بعد وہ تین بیٹوں کی ماں بنیں۔ مگر اس شادی کا انجام طلاق پہ ہوا۔ جو بچوں کی زندگی میں ٹراما ثابت ہوئی۔

میرا اس مضمون کے لیے ان احتجاجی ویڈیوز کا انتخاب ہرگز کسی کی کردار کشی نہیں، خاص کر اس صورت میں کہ جب حسن نثارصاحب کی جانب سے اس سلسلے میں خاموشی برتی گئی ہے۔ تاہم ان کی اولادوں (دو جڑواں بعمر45) نے اپنے والد کے ہاتھوں جسمانی اور جذباتی گھریلو تشدد، ان کی بدزبانی، بد اخلاقی، گالم گلوچ، شراب نوشی اور بچپن میں والد کے شدید غصے کی وجہ سے اس مستقل شکنی دباؤ اور خوف کا تفصیلی ذکر کیا جو حسن نثار نے بیوی اور اولاد پہ روا رکھا۔

ویڈیو میں دو اولادیں (اظفر اور شہپر) ذہنی بیمار لگ رہی تھیں۔ اور ان کے بھائی کونین کے مطابق ان دونوں کو باقاعدہ نفسیاتی علاج اور تھراپی کی ضرورت ہے۔ شہپر کو اسکزوفرنیا ہے۔ جو کہتے ہیں ”مجھ پہ بلیک میجک کرکے جن ڈالے گئے ہیں۔“ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان میں نارمل انداز میں اظہارگفتگو کی صلاحیت عنقا تھی۔ ایک سال چھوٹے بھائی اظفر تو کسی قسم کے تاثرات سے عاری پورے وقت خاموش بیٹھے رہے۔ خود بظاہرنارمل کونین جنہوں نے معاشی مسائل کے باوجود بھائیوں کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی ہے، کی گفتگو میں شدید ٹراما، غصہ، تناؤ اور ڈیپریشن واضح ہے۔

انہوں نے خاندان اور پوری کمیونٹی کو مجرم قرار دیا جس نے اس تشدد آمیز رویہ کو چیلنج نہیں کیا۔ اور اس حد تک پہنچایا۔ اپنے غصہ کے متعلق کونین کا کہنا ہے۔ ”زندگی کے نشیب و فراز نے غصہ بھر دیا ہے۔“ انہوں نے اپنے والد کی اس بات پہ کہ اولاد نافرمان ہے یہ ہی کہا۔ ”اولاد نافرمان نہیں ہوتی بنائی جاتی ہے۔ یہ تو مکافات عمل ہے، کیکر کے پیڑ سے انگور نہیں نکلیں گے“ ۔

حسن نثار صاحب بالخصوس سیاست سے متعلق اپنی کھری بات کھردرے اور تلخ لہجہ میں کہنے میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ تاہم میں نے کچھ انٹرویوز ایسے بھی دیکھے ہیں جس سے ان کی ذاتی زندگی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً اپنے پڑھے لکھے مگرسخت گیر والد کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”جو پڑھے لکھے (والد) ہوتے ہیں وہ ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ ہمارے گھر میں بہت خوفناک ڈسپلن تھا۔ ہر کام گھڑی دیکھ کر ہوتا تھا۔ ۔ ۔ ان کی پسندیدہ گالی الوکے پٹھے تھی“ ۔

خود اپنے گھر چھوڑنے کو وجہ یہ بتائی کہ ”والدکی خواہش تھی کہ سول سرونٹ بن جاؤں مگر میں نے صاف انکار کر دیا“ ۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”میں طبعاً زندگی میں کسی کا بوس ہو سکتا ہوں نہ کوئی بوس برداشت کر سکتا ہوں“ ۔ اپنے والد کی مرضی کے برعکس خود ان کا شوق فلم رائیٹر بننا تھا اوراس شوق کی وجہ سے انہیں اپنے گھر چھوڑ کر اپنی شخصی آزادی کی قیمت ادا کرنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔

اپنی شادی کی ناکامی کے حوالے سے انہوں نے کہا ”میرے نزدیک جب ایک گھر ٹوٹتا ہے تو اس کا ذمہ دار مرد ہوتا ہے۔ و ہ کیپٹن ہوتا ہے۔“ اپنی پہلی بیوی سعیدہ ہاشمی کے متعلق انہوں نے کہا ”میں نے میں نے بارہ چودہ سال گزارے ہیں اس کے بارے میں بھونکتے ہوئے مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا“ ۔ انہوں نے طلاق کی وجوہات کے بارے میں کہا کہ ”وہ ایک اچھی بیوی تھیں مگر وہ اچھی ماں نہیں تھیں“ ۔ انہیں ان کی بے ترتیبی پسند نہیں تھی۔

جبکہ حسن نثار صاحب کی زندگی میں ڈسپلن ان کی بچپن میں والد کی ڈکٹیٹر کی حد تک منظم تربیت کا حصہ تھی۔ تاہم اب جبکہ ان کی اہلیہ اس دنیا میں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے نہیں رہیں تو اس معاملہ کو مزید بڑھانے کے بجائے اس خاموشی کو اختیار کیا جائے جو اپنے بیٹوں کی دشنام آلود اور غصے سے بھر پور ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد کی۔

شادیاں تو بہت سی ناکام ہوتی ہیں بلکہ اکثر جوڑے تو شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی ”خاموش طلاق“ کی صورت بے مہر اور تلخ بظاہر شادی شدہ زندگی گزار تے ہیں۔ اس تکلیف دہ صورتحال کا مظلوم ترین شکار بچے ہوتے ہیں۔ گو کہ ہر طلاق کا انجام بچوں کی اس سطح کی ذہنی بدحالی پہ نہیں ہوتا جو ہم حسن نثار کے بچوں کے کیس میں دیکھتے ہیں۔ مگر عموماً طلاق کے بچوں کی نفسیات اور اس کے دور رس اثرات سماجی علوم اور تحقیق میں اہمیت کی حامل رہے ہیں۔ اوراس اعتبار سے طلاق کو عموماً موت سے متشابہ سانحہ تصور کیا جاتا ہے۔

طلاق اور ٹراما سے متعلق موضوع کے حوالہ سے میں ضروری سمجھتی ہوں کہ تحقیق کی دنیا میں ہونے والی مشہور اور سب سے بڑی اسٹڈی کا ذکر کروں جسے ACEs یعنی (Adverse Childhood Experiences) کہا جاتا ہے یعنی بچپن میں ہونے والے تکلیف دہ تجربات۔ یہ تحقیق جو 17337 افراد پہ کی گئی تھی اور دو سال 1995 ء سے 1997 ء تک جاری رہی بتاتی ہے کہ ابتدائی زندگی (اٹھارہ سال تک کی عمر) کے تکلیف دہ تجربات بعد کی زندگی کی جسمانی اور ذہنی صحت پہ کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

ان میں جن تکلیف دہ تجربات کے متعلق سوالات پوچھے گئے ان کا تعلق جسمانی، جذباتی اور جنسی تشدد اور بے توجہی، گھر میں منشیات کا استعمال، والدین کی علیحدگی یا طلاق، گھریلو تشدد، ذہنی بیماری، ماؤں کی مار پیٹ، اور گھر کے کسی فرد کا جیل میں قید ہونا وغیرہ۔ ہر ایک ٹراما کا ایک نمبر شمار ہوتا ہے۔ ان تمام تجربات کے اسکور کو سوالات کی مدد سے معلوم کیا جاتا ہے۔ جتنے زیادہ بچپن کے ٹراماکے واقعات کو جھیلا ہوتا ہے اتنا ہی امکان ہوتا ہے کہ اس کے اثرات بعد کی زندگی میں منفی طور پہ جسمانی پہ ہوں گے۔ مثلاً اگر چارسے زیادہ اسکور ہے تو دل کی بیماری، کینسر، سٹروک، ذیابیطس؟ مٹاپے اور جوڑوں کا درد وغیرہ کا تناسب بہت بڑھ جاتا ہے۔

ان بیماریوں کے تناسب میں زیادتی کی وجہ ایک نو بالغ بڑھتی عمر کے دماغ پہ شدید اسٹرس کی وجہ سے ایڈرینل اورکورٹیسول کیمیکل کا اخراج ہوتا ہے جو بچوں میں شدید خوف اور اسٹرس کی علامات پیدا کرتے ہیں۔ مستقل اسٹریس ہارمنز کا اخراجان کیمیکلز پہ اثر انداز ہوتا ہے جو ہم میں مسرت کے جذبات پیدا کرتے ہیں یعنی ڈوپامین۔ یہی وجہ ہے کہ دکھ کی وجہ سے دماغ کو سن کرنے کے لیے یہ افراد منشیات، شراب نوشی اور سگریٹ نوشی جیسی عادات کو اپناتے ہیں اور یہی نہیں یہ اسٹریس ہمارے خلیوں کے ڈی این اے یاموروثیت پہ بھی منفی اثرات پیدا کرکے ذہنی دباؤ اور اسٹریس کو اگلی نسل میں بھی منتقل کر سکتا ہے۔

حسن نثار صاحب کی اولادوں میں ہم طلاق کے ٹراما اور اس سے وابستہ مزید ٹراما کے نتائج کو واضح طور بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا سوچا جاسکتا ہے کی آخر ان کی اولادوں کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ چونکہ وقت گزر گیا ہے اور نقصان کا ازالہ مشکل ہے۔ ذہنی بیماری، غربت، کم ہمتی، بے اعتمادی، بے وقعتی غصہ، انگزایئٹی اور ڈیپریشن شخصیت کا حصہ بن چکی ہیں۔

تاہم اب ضرورت ہے کہ فوری طور پہ ذہنی مجروح اولاد کا نفسیاتی علاج ہو۔ ان کی جسمانی صحت کو بھرپور توجہ سے بہتر کیاجائے۔ اسٹرس سے نپٹنے کی مشقیں بالخصوص mindfulness جو اس سلسلے میں بہت مفید ہے کو اپنایا جائے اور سائیکو تھرپی کی افادیت کو کسی طور پہ نظر انداز نہ کیا جائے۔

https://www.acesconnection.com/blog/the-developing-brain-and-adverse-childhood-experiences-aces

https://lynnfraserstillpoint.com/aces-adverse-childhood-experiences-score/

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply