یہاں پارسا بننا جتنا مشکل ہے دکھنا اتنا ہی آسان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر کی خواتین نے پابندی لگائی تو مردوں نے مجھے ان سے چھپ کر بلانا شروع کر دیا۔ مجھے توجہ چاہیے تھی کوئی بھی ہو۔ آنٹیاں نہ سہی انکل اور بھائی سہی۔ کچھ صرف مجھ سے باتیں کرتے کچھ گود میں بٹھا لیتے کچھ بہانے بہانے سے چھوتے۔ ایجڈ انکل ٹائپ زیادہ دیدہ دلیری دکھاتے تھے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیویوں سے چھپ کر تحفے بھی دیتے۔ مجھے ان کے پاس الجھن ہوتی مگر تحفے بھی توجہ کا ہی نعم البدل لگتے۔ مگر مجھے نوجوان لڑکوں کی توجہ زیادہ پسند تھی۔ وہ بہت کم ہاتھ لگاتے تھے بس باتوں سے ہی دل بہلاتے تھے۔

ان مردوں کا کہنا ہوتا تھا کہ وہ تو مجھے اپنی بیٹی بہن وغیرہ سمجھتے ہیں۔ میں نے تب ہی سیکھا کہ اگر کسی سے چھپ کے ملنا ہو تو ان رشتوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ ان کی ہی توجہ دیکھتے ہوئے میں نے کپڑوں کا انتخاب بھی بدل لیا۔ مجھے یہ تو پتا چل ہی گیا تھا کہ جب میرے کپڑے زیادہ فٹنگ والے ہوتے یا گلا زیادہ بڑا ہوتا تو ان کی توجہ بھی زیادہ ہوتی اور تعریفیں بھی زیادہ ملتیں۔ ہاں جب یہ ہوا کہ ایک دو انکلوں نے زیادہ پیش قدمی کی تو میں ڈر کے بھاگ آئی اور پھر پلٹ کے ان کے گھر نہیں گئی۔ عمر بڑھتی گئی تو اندازہ ہو ہی گیا کہ معاشرے میں اس قسم کے میل جول کو بہت غلط نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ میں نے کوشش کی کہ میں کسی ایک سے ہی محبت کروں اسی کی محبت اور توجہ میرے لیے کافی ہو۔

میں نے محلے کے گھروں میں آنا جانا کم کر دیا یہ سمجھ لیں کہ یہ کوئی تین سال کا عرصہ تھا یعنی بارہ سال کی عمر سے سولہ سال کی عمر کے آغاز تک۔ میں میٹرک میں آئی تھی۔ تب ہی محلے میں ایک نئی فیملی آئی ان کے گھر میں میاں بیوی اور دو لڑکے تھے۔ مجھے بڑا لڑکا ظہیر اچھا لگا وہ بھی آتے جاتے مجھے مسکرا مسکرا کر دیکھتا تھا۔ میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اس سے محبت کروں گی کچھ بھی کرنا پڑے اور اس کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزاروں گی۔

جہاں وہ ہوگا اس کی توجہ ہوگی۔ میں نے پکا فیصلہ کیا تھا کہ میں کبھی اپنے بچوں کو نظر انداز نہیں کروں گی۔ بہت بہت بہت ساری توجہ پیار اور شفقت دوں گی۔ میری راتیں ایک عام سی لڑکی کی طرح اس کے تصور میں گزرنے لگیں۔ بالکل بسمہ کی طرح۔ مگر میں اس معاملے میں بسمہ سے کم شرمیلی تھی اسی لیے بہت جلد ہی ظہیر کو ہمت ہوگئی کہ وہ مجھ سے بات شروع کرے سادہ سی بات چیت سے عشق و محبت تک کی باتوں کا فاصلہ جلد ہی طے ہوگیا۔

تقریباً ایک سال تک سب کچھ بہت اچھا تھا۔ میں بہت خوش تھی۔ مجھے خود اپنے رویئے میں بہت اچھی تبدیلی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی باتیں ادھر ادھر نہیں کہنی پڑتی تھیں۔ میرا دن یا تو ظہیر سے باتیں کرنے میں یا پھر اس کے بارے میں سوچنے اور مستقبل کے خواب بننے میں گزرتا۔ پھر ظہیر کی طرف سے رابطہ کم ہونے لگا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اس سے اتنی توجہ مانگتی ہوں جتنی دینا اس کے بس میں نہیں۔

وہ ہروقت مجھ سے بات نہیں کر سکتا۔ جبکہ میرا دل چاہتا تھا کہ میرا ذہن ہر وقت اس کی طرف رہے تاکہ گھر کے ماحول کی طرف میری توجہ ہی نہ جائے۔ سترہ سال کی عمر میں ہی میں نے اس سے شادی کا تقاضا شروع کر دیا میں چاہتی تھی کہ کسی طرح میں اس ماحول سے نکل جاؤں۔ ایک پرسکون گھر بناؤں جہاں سب ایک دوسرے کی فکر کرتے ہوں۔ اور یہ سب بہت جلدی ہو جائے۔ مجھ سے انتظار نہیں ہورہا تھا۔ مگر ظہیر کا کہنا تھا کہ وہ اتنی جلدی شادی نہیں کر سکتا وہ خود گریجویشن کے دوسرے سال میں تھا۔ میرا تقاضا بڑھتا گیا اور اس کا اجتناب، آخر ایک دن اس نے کہہ دیا۔

”دیکھو نازیہ تم کوئی ایسی حور پری نہیں ہو کہ میں تم سے شادی کرنے کے لیے اپنے گھر والوں سے لڑ جاؤں۔ شادی کے لیے میرا آئیڈیل ایک بہت خوبصورت اور باحیا لڑکی ہے تمہاری طرح لڑکوں سے دوستیاں کرنے والی لڑکی نہیں، شکل وکل تمہاری کوئی خاص نہیں گندے گندے کپڑے پہن کر تم لڑکوں کو متوجہ کرتی ہو، تمہیں کیا لگا کہ میں محلے میں نیا ہوں تو مجھے تمہاری حرکتیں پتا نہیں چلیں گی۔ تم سے تو بات ہی اس لیے شروع کی تھی کیونکہ تم سے رابطہ سب سے آسان تھا۔“

اس نے تو سچ بول دیا مگر یہ سچ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں اس رات سوئی ہی نہیں، صرف روتی رہی۔ مجھے اس بات پہ بالکل افسوس نہیں تھا کہ اس نے میری کردار کشی کی۔ دکھ تو اپنے خواب ٹوٹنے کا تھا ورنہ مجھے محلے کی باحیا کہلانے والی لڑکیوں کی حرکتیں بھی پتا تھیں۔ مجھے پتا تھا کہ ان میں سے پارسا شاید کوئی دو تین ہی تھیں۔ مگر وہ خود کو پارسا ثابت کرنے کے لیے عموماً پردے کا سہارا لیتی تھیں۔ بلکہ ان میں ایک دو تو باقاعدہ اپنے اپنے فرقے کی تبلیغی جماعت سے بھی وابستہ تھیں۔

میں نے سیکھ لیا کہ معاشرے میں پارسائی کا امیج بنانے کے لیے پارسا بننا ضروری نہیں بلکہ دکھنا کافی ہے۔ میں نے اپنی اسی ڈریسنگ کے اوپر بڑی سی چادر اوڑھنی شروع کردی۔ مگر میں اپنی اس پرسکون گھر کی خواہش کا کیا کرتی۔ جو کسی طرح ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ حالانکہ ظہیر کے احساس دلانے سے پہلی بار مجھے یہ تو پتا چل گیا کہ میں ایک عام سی شکل و صورت والی لڑکی ہوں۔ ظہیر کی طرف سے چوٹ کھانے کے بعد میں نے دو تین دفعہ اور سچے دل سے کوشش کی کہ کوئی پرخلوص لڑکا مل جائے۔ مگر یا تو لڑکا صرف وقت گزاری کر رہا ہوتا یا پھر اس کے گھر والوں کو میری جیسی بہو نہیں چاہیے ہوتی۔ حالانکہ وہ مجھ سے ملے بھی نہیں ہوتے تھے مگر خود ہی سمجھ لیتے تھے کہ اگر میں نے ان کے بیٹے سے دوستی کی ہے تو میں بدکردار ہی ہوں گی۔

میری ہر دفعہ سدھرنے کی کوشش ضائع گئی اور پھر میں نے سدھرنے کی کوشش ہی ترک کردی۔ میں بیک وقت کئی لڑکوں سے دوستی کرتی اور معاشرے میں عزت بنائے رکھنے کے لیے اور اپنی تسلی کے لیے مذہب اور پردے کا سہارا لیتی۔ مگر اس کے باوجود میرا ان لڑکوں سے تعلق ایک حد سے نہیں بڑھا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر بچے وچے کا مسئلہ ہوگیا تو میں کہاں جاؤں گی۔ مجھے واقعی سیدھی سادھی لڑکیوں سے چڑ ہونے لگی وہ جو واقعی پردہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کرتی تھیں جو مذہب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں کرتی تھیں۔

میں محفل میں بیٹھ کر ان پہ اعتراض کرتی ان کو مذہب سے دور ثابت کرنے کی کوشش کرتی ان کے پردے کو تنقید کا نشانہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی کہ یہ تھوڑا بہت بھی خود کو دکھا رہی ہیں تو مردوں کی توجہ لینے کے لیے۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ایسی لڑکیوں کی وجہ سے میری اہمیت کم ہو رہی ہے۔ میں نے اپنی ہر صلاحیت زبانی کلامی حد تک محدود کرلی۔ اور یہ فارمولا کامیاب بھی رہا، عموماً لوگ میری باتوں پہ یقین کر لیتے۔

میری عادتیں پختہ ہوتی چلی گئیں۔ میری عمر تقریباً 23 سال ہوچکی تھی۔ عمومی والدین کے برعکس ابھی تک مجھے اپنے والدین کی طرف سے شادی وغیرہ جیسے کسی ارادے کا اظہار ہوتا نظر نہیں آیا تھا۔ میں بلا وجہ گھر میں جھگڑے کرنے لگی۔ عموماً کہتی کہ میری شادی کردیں تو میری اس جہنم سے جان چھوٹے۔ شاید میری عمر کی وجہ سے یا میرے تقاضوں کی وجہ سے امی نے رشتے والی ایک خاتون کو میرے لیے بھی رشتہ دیکھنے کے لیے کہہ دیا۔ لڑکے والے آتے اور میرا پوسٹ مارٹم کر کے چلے جاتے۔

عموماً کا اعتراض ہوتا لڑکی کی عمر زیادہ ہے، کچھ کا کہنا ہوتا کہ ناک نقشہ مناسب نہیں ہمیں پیاری سی معصوم سی لڑکی چاہیے۔ کچھ کو میرے کارنامے پہلے سے پتا ہوتے۔ مزے کی بات یہ کہ پہلے سے پتا ہونے کے باوجود دعوت ٹھونسنے سب پہنچ جاتے تھے۔ پھر ایک دن رشتہ کرانے والی خاتون آئیں تو امی کو اشارہ کیا کہ مجھے دوسرے کمرے میں بھیج دیں۔ امی نے بہانے سے مجھے اٹھا دیا۔ میں نے بھی وہاں سے ہٹ جانا مناسب سمجھا کیونکہ میں جب تک رہتی وہ خاتون مطلب کی بات پہ نہیں آتیں۔ میں کمرے سے نکل کر دروازے کے ساتھ ہی کھڑی ہوگئی۔ امی والا کمرہ چھوٹا سا ہی تھا باہر صاف آواز آتی تھی۔

”ہاں اب بتاؤ شہناز“

”زبیدہ باجی ایک رشتہ آیا ہے رشتہ ہوجانے کی امید زیادہ ہے مگر ایک مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے میں کافی جگہوں سے بے عزتی بھی کروا چکی ہوں۔ مگر آپ کا بھی مسئلہ ہے۔ آپ کی لڑکی کے کارنامے اتنے مشہور ہیں کہ اب لوگ یہاں آتے ہوئے کتراتے ہیں۔“

” یہی تو مسئلہ ہے۔ ویسے بھی میری کوئی خاص اونچی اونچی فرمائشیں نہیں ہیں۔ باپ تو پیدا کر کے سمجھتا ہے ہر ذمہ داری سے الگ ہوگیا اب میں اکیلی تو سب نہیں کر سکتی ناں۔ بس جیسے تیسے کوئی رشتہ آئے تو میرے سر سے یہ بوجھ ہٹے اس لڑکی نے میرا جینا تک حرام کیا ہوا ہے۔“

پہلے سے سمجھنا کہ والدین کو آپ کی پروا نہیں یہ الگ بات ہوتی ہے مگر اتنے کھلے الفاظ میں کسی دوسرے کے سامنے بے زاری کا اظہار مجھے بہت تکلیف دے رہا تھا۔ مجھے اپنا حلق آنسوؤں سے کٹتا محسوس ہونے لگا۔

”اصل میں سننے میں آیا ہے کہ لڑکے میں کوئی مسئلہ ہے۔ ہے تو پیارا سا مگر شادی کے قابل نہیں ہے۔“
”آئے ہئے ہیجڑا ہے کیا“
”نہیں نہیں بولتا چالتا ٹھیک ہے بالکل مگر لڑکیوں میں دلچسپی نہیں۔“
”ارے تو شریف سیدھا ہوگا“

”نہیں زبیدہ باجی شریف اور سیدھے کا مسئلہ نہیں سننے میں آیا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ شہناز آپا کی پہلے سے دھیمی آواز اور پھس پھسا گئی ”اپنے جیسوں میں دلچسپی ہے۔“

”اے لو پھر گھر والے کیوں شادی پہ تلے بیٹھے ہیں۔“

” مجھ سے جو بات ہوئی تو اس کی ماں حاجرہ نے سختی سے تردید کردی ایسی کسی بھی افواہ کی۔ بلکہ وہ تو غصے میں مجھ سے لڑنے کو تیار تھی کہ اس کے خوبصورت گبرو بیٹے کے لیے میں نے ایسا کہا کیسے۔“

”ہمم۔ ہو سکتا ہے کہ ماں ٹھیک ہی کہہ رہی ہو۔ شہناز تم لے ہی آؤ ان لوگوں کو۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے میں تو سچی بے زار آ گئی ہوں اس لڑکی کے لچھنوں سے، باپ پہ گئی ہے پوری۔“

مجھے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا۔ ایسے بھی مرد ہوتے ہیں۔ اور اتنے لاکھوں کروڑوں صحیح مردوں میں سے میری قسمت میں یہ لکھا جا رہا تھا؟ پھر میں نے بھی سوچا کیا پتا واقعی افواہ ہو۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی مرد ہو اور اسے عورت میں دلچسپی نہ ہو۔ پھر مجھے خود پہ بھی اعتماد تھا کہ میں کسی بھی طرح اسے اپنی طرف متوجہ کر ہی لوں گی۔ میں پھر سے ایک پرسکون گھر کے لیے پر امید ہوگئی۔ رافع کے گھر والے آئے اور جیسے سب کچھ آناً فاناً ہوگیا۔

رافع مجھے پہلی دفع میں ہی اچھے لگے تھے ان کا رنگ اپنے باقی دونوں بھائیوں کی نسبت زیادہ صاف تھا چہرے پہ معصومیت محسوس ہوتی تھی۔ ان سے چھوٹا بھائی تو عموماً گھورتا تھا مگر جتنی دفع رافع سے سامنا ہوا وہ شرمائے شرمائے سے لگتے تھے۔ مجھ سے عمر میں پانچ سال بڑے تھے یعنی میں 24 کی ہوگئی تھی اور وہ 29 سال کے۔ واحد بھائی ان سے دوسال بڑے تھے پھر رافع اور پھر ان کے بعد زیبا باجی تھیں پھر باسط اور پھر سنیہ۔ باسط مجھ سے عمر میں ایک سال بڑا تھا۔ اور سنیہ چھ سال چھوٹی۔

رشتہ پکا ہوا تو میں نے بھی تہیہ کر لیا کہ اپنی سب بری عادتیں چھوڑ دوں گی۔ مگر مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ ان میں سے بہت سی بری عادتیں میری فطرت ثانیہ بن چکی ہیں اور اب مجھے بری لگتی ہی نہیں ہیں۔ ہاں اتنا اندازہ تھا کہ اب مجھے شوہر کا وفادار رہنا ہے۔ شکر بھی کیا کہ دوسروں کی نظر میں میں جیسی بھی سہی مگر میں نے خود کو اپنے شوہر کے لیے تو محفوظ ہی رکھا۔

شادی کی رات میں بہت خوش تھی۔ دل قابو میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ میں نے سوچ لیا تھا میں زیادہ نہیں شرماؤں گی وہ بھی شرمیلے میں بھی شرماتی تو تو بس۔ ۔ ۔

رافع کمرے میں آئے تو میں نے مسکرا کے ان کو دیکھا۔ وہ بھی مسکرائے مگر بہت کنفیوز مسکراہٹ تھی ان کی۔ مجھے صحیح طریقے سے گڑبڑ کا احساس ہوا کہ سب اچھا نہیں ہے۔

”آپ تھک گئی ہوں گی سو جائیں۔“

میں نے خود کو سنبھالا اور غلط فہمی دور کرنے کا سوچا۔ یہ بھی تو ہو سکتا تھا نا کہ مجھے غلط محسوس ہوا ہو وہ واقعی صرف شرما رہے ہوں۔

”شادی کی رات اتنی جلدی نیند کہاں آتی ہے۔“ میں نے کوشش کی کہ لہجہ شرمیلا بھی رہے اور رومینٹک بھی۔
”جی مگر مجھے اندازہ ہے دلہن بیچاری بہت تھکی ہوئی ہوتی ہے۔“
”تھکن اتارنے کے بھی کئی طریقے ہوتے ہیں ناں۔“ میں نے مزید معنی خیز لہجہ بنایا
رافع کی گھبراہٹ مزید واضح ہوگئی۔

”نازیہ میرا خیال ہے فی الحال ہم سوجاتے ہیں۔ ایک دو دن یہ شادی کا ہنگامہ کم ہو تو اس حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہیں۔“

انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کے تھپتھپایا۔ پہلی بار کسی مرد کا ہاتھ سرد نہ ہونے کے باوجود اتنا سرد لگا تھا۔ بہت غیر جذباتی لمس تھا۔

”ارے ہاں سوری یہ آپ کی منہ دکھائی۔“
انہوں نے جیب سے انگوٹھی نکال کے پہنا دی۔

اگلے دو تین دن عجیب ہی گزرے۔ خاندان کی لڑکیاں بلکہ سب ہی عورتیں مجھ سے معنی خیز مذاق کر رہی تھیں اور میں ان سے کترا رہی تھی۔ حالانکہ شادی سے پہلے تک اس قسم کے مذاق میں نے بہت انجوائے بھی کیے اور بہت کھل کے جواب بھی دیے۔ مگر اب ایسی مذاق پہ اندر گہرا سناٹا اتر رہا تھا۔ پتا نہیں کسی نے یہ محسوس کیا یا نہیں مگر میرے سامنے یہی اظہار کیا کہ انہیں میرا ردعمل فطری شرم لگ رہا ہے۔ کچھ خواتین کے سوالات کافی واضح رافع کی مردانگی کے حوالے سے ہی تھے۔ دل تو چاہا اپنی فطرت کے مطابق ٹھیک ٹھاک کرارا جواب دوں کہ خود آزما لیں۔ مگر سختی سے اپنی زبان روکی کہ سسرال کا معاملہ ہے اور میں نبھانے کا ارادہ کرکے آئی ہوں۔ اللہ اللہ کرکے یہ چند دن گزرے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔

سب مہمانوں کے جانے کے بعد صبح پہلا ناشتہ تھا جب صرف گھر والے ہی تھے۔ زیبا باجی بھی گھر چلی گئی تھیں۔ رافیعہ بھابھی کے دونوں بچے سو رہے تھے تو ٹیبل پہ صرف گھر کے بڑے ہی بیٹھے تھے۔ سنیہ کافی دن بعد کالج جا رہی تھی جلدی جلدی دو تین نوالے منہ میں رکھ کر باہر نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی رافع کے ابو نے رافع کو مخاطب کیا۔

”برخوردار دوا کھا رہے ہو ناں حکیم صاحب کی؟“
”جی ابو؟“ رافع کی چہرے سے اندازہ ہوا کہ یہ سوال ان کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ پھر شاید سمجھ آیا
”جی ابو۔“ انہوں نے آہستہ سے کہہ کر سر ہلا دیا۔
”بھئی بہو ہمارے یہ برخوردار کچھ بیمار ہیں ان کی دوا کا خیال اب تمہیں رکھنا ہے۔“
”ابو میں بالکل ٹھیک ہوں۔“ رافع کا لہجہ دھیما مگرمضبوط تھا۔

”آپ کچھ دیر چونچ بند کر کے بیٹھ سکتے ہیں برخوردار؟ آپ کی یہ بات مان لی ہوتی تو آج آپ کا گھر بسا نہ ہوتا۔ دوا کا فائدہ ہوا ہے تبھی یہ سب ممکن ہوا۔“ مجھے اب جاکے اندازہ ہوا کہ وہ کس دوا کی بات کر رہے ہیں۔ مگر شاید انہیں کوئی غلط فہمی تھی جو رافع ہی دور کر سکتے تھے مگر شاید ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ناشتے کے بعد ہم کمرے میں آئے تو میں نے سوچا اب بات صاف ہو جائے تو ہی بہتر ہے۔

”رافع ابو کس دوا کی بات کر رہے ہیں؟“

”کچھ نہیں بس کچھ عرصہ پہلے بخار کی وجہ سے ویک نیس ہوگئی تھی تو ابو نے حکیم سے خمیرہ ٹائپ کوئی دوا لا کر دی تھی۔“

”مگر اس کا شادی سے کیا تعلق۔ دیکھیں رافع پلیز، آپ مجھے ٹھیک سے بتا دیں۔ شادی سے پہلے بھی مجھے کچھ الٹی سیدھی باتیں سننے کو ملیں تھیں بہتر ہے آپ ہی سب بتا دیں کہ یہ سب مسئلہ ہے کیا؟“

”مجھے بتانے میں مسئلہ نہیں مگر تم سمجھ نہیں پاؤ گی اس لیے بتانے کا فائدہ نہیں۔“

”کیوں کیا کیمیائی کلیہ ہے یا ریاضی کی مساوات جو اتنی مشکل بات ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آئے گی؟ ویسے بھی آپ کی بیوی ہونے کے ناتے میرا یہ حق بنتا ہے کہ مجھے پتا ہو کہ آپ میرا حق زوجیت ادا کر سکتے ہیں یا نہیں۔“

رافع کچھ دیر خاموشی سے ہونٹ کاٹتے رہے پھر ایک گہرا سانس لے کے بولے۔

” نازیہ تم نے کیا سنا ہے وہ مجھے نہیں پتا مگر عموماً لوگوں کو لگتا ہے کہ میں شاید مرد نہیں ہوں مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے بس مجھے مخالف صنف میں کشش محسوس نہیں ہوتی۔“

”ایسا کیسے ہو سکتا ہے“ یہ بات میرے لیے بالکل انوکھی تھی اسی لیے جب شہناز آپا نے کہا تھا مجھے تب بھی یقین نہیں آیا تھا۔

”اسی لیے کہا تھا کہ تم نہیں سمجھ پاؤ گی۔ عموماً افراد کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے میرے جیسے افراد بہت کم ہوتے ہیں مگر ہوتے ہیں۔ اسی لیے میں شادی ہی نہیں کرنا چاہتا تھا میں نے کئی بار بہت واضح انداز میں منع بھی کیا، ابو سے پٹا بھی ہوں، عاق کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں“

”پھر میری زندگی برباد کیوں کی“ میری آواز کانپ گئی

”نازیہ میں بہت شرمندہ ہوں میں مجبور کر دیا گیا تھا۔ امی نے ابو کے دباؤ میں آکر مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے شادی نہیں کی تو وہ کچھ کھا کے مر جائیں گی۔ مجھے پتا تھا کہ یہ صرف دھمکی ہے مگر مجھ سے زبردستی منوانے کے لیے وہ چوہے مار زہر کی گولی ہاتھ میں نکال کے لے آئی تھیں کہ یا تو میں ہاں کروں یا پھر وہ یہ گولی نگل لیں گی۔ بعد میں امی نے رو کر مجھے منایا بھی اور یہ بھی بتا دیا کہ ابو نے انہیں دھمکی دی تھی کہ کسی طرح مجھے منائیں ورنہ ابو انہیں طلاق دے کر میرے ساتھ گھر سے نکال دیں گے۔“ رافع کے چہرے پہ واضح شرمندگی تھی۔

”آپ نے علاج کی کوشش نہیں کی؟“

”بہت دفعہ کی۔ شروع میں، میں خود بھی اسے بیماری سمجھتا تھا، حکیموں کے پاس گیا، جنسی بیماریوں کے ڈاکٹر کے پاس گیا، پیر فقیروں سے تعویز لیے اس سے پہلے کہ گھر والوں کو پتا چلے میں اپنے طور پہ مسئلہ حل کر لینا چاہتا تھا۔ کئی ہزار برباد بھی کیے۔ مگر فائدہ رتی برابر نہیں ہوا۔ جتنی دفعہ اچھے ڈاکٹرز کے پاس گیا ان سب نے مجھے یہی بتایا کہ یہ کوئی بیماری نہیں اور اگر میں نے حکیموں اور ان جعلی سرٹیفکیٹ والے ڈاکٹروں کی دوائیں مزید کھائیں تو میرا ہی نقصان ہوگا۔ ایک ڈاکٹر نے مجھے پوری تفصیل سے سائنسی حوالے سے سمجھایا تو مجھے اپنا مسئلہ سمجھ آیا تب سے میں نے اس مسئلے کے لیے کسی بھی قسم کی دوا کھانی چھوڑ دی۔“

میں بے یقینی کی کیفیت میں رافع کو دیکھ رہی تھی۔ مجھے بالکل یقین نہیں آیا جو انہوں نے مجھے بتایا تھا۔ میں نے سوچا شاید ان کا کبھی کسی لڑکی سے اتنا قریبی تعلق نہ رہا ہو کہ انہیں اندازہ ہوتا۔ میں نے اپنے طور پہ کوشش کرنے کا سوچا۔ مجھے یقین تھا کہ میں کامیاب ہو جاؤں گی۔ میں نے اپنے پرانے حربے آزمانے کا ارادہ کیا۔ اپنی اداؤں اور ہوش ربا لباس کو ہتھیار بنانے کا ٹھان لیا۔ مجھے شروع شروع میں تھوڑی جھجک ہوئی کیونکہ رافع تو کیا توجہ دیتے مگر سسر صاحب اور باسط کی نظریں میرے ساتھ ساتھ گردش کرنے لگیں۔

مگر مردوں کو ان کی حد میں کیسے رکھنا ہے مجھے یہ بھی آتا تھا۔ اگر میں رافع کی توجہ پانے میں کامیاب ہوجاتی تو باقی سب ثانوی تھا۔ مگر دن مہینوں میں بدلتے رہے اور رافع کی طرف سے کوئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آئی۔ عورت ہونے کے باوجود میں نے انتہائی حد تک کوشش کی مگر ان کی توجہ پانے میں ناکام رہی۔ کبھی کبھی خیال آتا کہ شاید وہ کسی اور کو پسند کرتے ہوں اسی لیے مجھے اس اذیت میں رکھا ہوا ہے کہ میں خود ہی ان کا پیچھا چھوڑ دوں مگر ان کا سرد لمس اس بات کی تردید کردیتا تھا۔

میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ ساس کیا اب سب ہی رشتہ دار خواتین بار بارخوش خبری کا پوچھنے لگی تھیں۔ کبھی کبھی جھنجھلا کر خود کو کوستی کہ اس سے تو اچھا تھا کہ پہلے ہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر خود ہی اس سوچ پہ خود کو لعنت کرتی۔

ایک دن دوپہر سے ہی بجلی بند تھی کافی دیر تک تو کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوا سب سمجھتے رہے کہ معمول کی لوڈشیڈنگ ہے مگر جب کئی گھنٹے گزر گئے تو پریشانی شروع ہوئی، چاروں مرد ہی اپنی اپنی جابز پہ تھے کہ پتا کرکے آتے کہ مسئلہ کیا ہے۔ شام ڈھلے ان کے آنے کے بعد بھی کچھ دیر تو ان لوگوں کے کپڑے وغیرہ تبدیل کرنے میں لگ گئے پھر اندھیرا بڑھا اور برابر کے گھروں میں روشنی دیکھی تو پتا چلا صرف ہمارے گھر میں فالٹ ہے میں اوپر کمرے میں تھی جب رافع نے بتایا کہ گھر کی لائن خراب ہے وہ اور واحد بھائی بجلی والوں کو بلانے جا رہے ہیں۔

میں نے دروازہ بھیڑ دیا اور لیٹ گئی۔ کمرے کا گیس لیمپ کئی دن سے خراب تھا کئی دفع رافع اور باسط کو کہہ چکی تھی کہ جسے بھی ٹائم ملے وہ ٹھیک کردے مگر کسی نہ کسی وجہ سے اس کا ٹھیک ہونا رہ ہی جاتا تھا۔ اب کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ بس دروازے اور کھڑکیوں کے کناروں سے دوسرے گھروں کی ہلکی ہلکی روشنی نظر آ رہی تھی مگر کمرے کے اندھیرے پہ ان سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ میری شاید لیٹے لیٹے آنکھ لگ گئی کہ ایک دم دروازہ بند ہونے کی آواز پہ میری آنکھ کھل گئی۔ شاید رافع واپس آئے تھے۔ مجھے آواز سے اندازہ ہوا کہ انہوں نے کنڈی بھی لگا دی ہے۔

”رافع کیا ہوا لائٹ ٹھیک نہیں ہوئی“ میں نے پوچھا۔
”موم بتی لے آتے ناں، اب ساری رات اندھیرے میں رہنا پڑے گا“

انہوں نے ششش کہتے ہوئے میرے ہونٹوں پہ انگلی رکھی۔ ان کی توجہ کی ترسی ہوئی اس پیش قدمی پہ میں کچھ سوچ ہی نہیں پائی۔ میں بہت خوش تھی کہ آخر میں کامیاب ہوگئی۔

میں دل ہی دل میں اپنی کامیابی کا جشن منا رہی تھی کہ لائٹ آ گئی اور مجھے ایسا لگا کہ مجھے کسی نے آسمان سے اٹھا کر پاتال میں پھینک دیا ہو۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس سیریز کے دیگر حصےگھر کی بہو گھر کی عزت نہیں کیا؟ایک صرف بات کر کے بھی بد چلن دوسرا ریپ کر کے بھی پاکیزہ؟
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 79 posts and counting.See all posts by absar-fatima

One thought on “یہاں پارسا بننا جتنا مشکل ہے دکھنا اتنا ہی آسان

  • 03/07/2020 at 7:06 pm
    Permalink

    ہمارے معاشرے میں کئی عورتیں نازیہ جیسی دوغلی زندگی گزارنے پر مجبور کر دی جاتی ہیں ۔ رافع کے گھر والوں جیسے بے حس اور بدکردار لوگ بہت سے ہوتے ہیں ۔جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنی نام نہاد عزت کی حفاظت کے لئے نازیہ جیسی لڑکیوں کی بلی چڑھا دیتے ہیں ۔
    ابصار کی تحریر کی یہ خاصیت مجھے بہت پسند آئی کہ معاشرتی بدعات اور ناسوروں پر بہت ہی عمدہ طریقے سے لکھ رہی ہیں ۔اللہ تعالی زور قلم اور زیادہ بڑھائے ۔میری طرف سے ڈھیروں داد اور نیک خواہشات ۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *