نئی نسل کی تخلیقی صلاحیت اور جنگی جنون کے شعلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر ضرور دیکھتی ہیں۔ ماضی کی تاریخ میں اگر خرابیاں ہیں، انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ تو پھر ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ مستقبل کو بہتر سے بہتر بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کے کام کیے جاتے ہیں۔ جنگ عظیم اول اور دوئم کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ یورپی اقوام سے ماضی میں جو جنگی جرائم سرزد ہوئے تھے ان سے سبق سیکھا گیا اور گزشتہ 75 سالوں میں اپنے تمام اختلافات بھلا کر ہر شعبہ ہائے زندگی میں اتنی ترقی کی کہ ماضی کی تمام غلطیوں کا ازالہ ہو گیا۔

لیکن کچھ اقوام ایسی ہوتی ہیں جو اپنے ماضی کی بھیانک غلطیوں سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھتی ہیں اور وہ روش اختیار کرتی ہیں جو عوام الناس کے مفاد کے خلاف ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم کا شمار بھی ان ہی اقوام میں ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ریاست، حکومت اور ریاستی اداروں کا جبر اب بھی عوام پر جاری ہے۔

ماضی کے وہ کردار جنہوں نے انسانیت کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں عوام پر مسلط کیے جا رہے ہیں۔ قومی سلامتی اور ملکی سیکورٹی کے نام پر عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر بٹھایا جا رہا ہے کی لاکھوں انسانوں کے قاتل جنگجو آج بھی تمھارے ہیرو ہیں۔ خطرناک ہتھیار تک ان ہی حملہ آوروں کے نام پر بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً غزنوی میزائل، غوری راکٹ، ابدالی میزائل۔ ان جنگجو حملہ آوروں کے کارنامے گنوانے میں، میڈیا، مذہبی عناصر، تنگ ذہن ماہرین تعلیم، مورخ، تاریخ دان سبھی ان کا ساتھ دیتے ہیں۔

نصاب تعلیم چاہے وہ پرائمری سطح کا ہو یا یونیورسٹی لیول کا ۔ حکومتوں، مقتدر اداروں اور ماہرین تعلیم کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ طالب علموں کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ کر دیا جائے کہ اسلام کی ترویج میں ان جنگجو سپاہ سالاروں کا کردار نہایت شاندار رہا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

آئیے ذرا ان نام نہاد اسلامی ہیروز کے کردار پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔

ہمارا سب سے محبوب تاریخی ہیرو سلطان محمود غزنوی ہے جو ایک افغانی حملہ آور تھا۔ اس کا باپ سبکتگین بھی ایک ترک غلام سپاہ سالار تھا جس نے غزنوی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ محمود غزنوی نومبر 971 عیسوی میں غزنی میں پیدا ہوا۔ اپنے باپ کی وفات کے بعد 27 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ حسب روایت ایک بھائی کو ساتھ ملایا اور بڑے بھائی کو جو پہلے ہی تخت نشین تھا قتل کر کے تخت پر قبضہ کر لیا اور سلطنت غزنی کا مالک بن گیا۔

تخت نشین ہوتے ہی محمود نے نومبر 1001 میں شمالی ہندوستان کا رخ کیا۔ اور راجہ جے پال کو شکست دے کر بیشتر ہندوستانی ریاستوں مثلاً قنوج، گوالیار، کالنجر، متھرا، لاہور، کشمیر، اور ملتان پر قبضہ کر لیا۔ محمود غزنوی نے سب سے آخری حملہ ریاست گجرات پر سنہ 1025 عیسوی میں کیا اور سومناتھ کے مندر پر حملہ کر کے اسے لوٹ لیا۔ بے شمار دولت جس میں سونا چاندی، جواہرات، اور دو لاکھ دینار شامل ہیں، ہاتھ لگے۔ مشہور تاریخ دان رچرڈ ایم ایٹن اور رومیلا تھاپر کا کہنا ہے کہ تاریخ میں محمود غزنوی کے سومناتھ کے مندر پر 17 حملوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ کسی جہاد کے لئے ہندوستان آیا تھا۔ اس کا مقصد صرف ہندوستان کی دولت کو لوٹنا تھا۔ جو وہ لوٹ کر غزنی لے گیا۔ اور کچھ اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بنانے اور کرائے کے فوجیوں پر خرچ کر دی۔

اسی طرح محمد بن قاسم بنو امیہ دور کا ایک عربی سپہ سالار تھا۔ جو سندھ کو فتح کر کے مسلمانوں اور پاکستانیوں کا ہیرو بن گیا۔ محمد بن قاسم موجودہ سندھ کی سب سے زیادہ متنازع شخصیت ہے۔ محمد بن قاسم حجاج بن یوسف جیسے ظالم اور جابر شخص کا داماد بھی تھا 711 عیسوی میں سندھ پر حملہ آور ہوا اور راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ اور ملتان پر قبضہ کر لیا۔

ہمارا تیسرا جہادی ہیرو ایک پشتون افغانی احمد شاہ ابدالی ہے۔ یہ ایک بے رحم جنگجو سپہ سالار تھا جس نے درانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ احمد شاہ افغانستان کے شہر ہرات میں 1722 عیسوی میں پیدا ہوا۔ 1748 سے 1767 تک ابدالی نے ہندوستان پر 8 حملے کیے۔ دلی کو تاراج کیا اور نادر شاہ درانی کے دلی میں قتل عام اور کوہ نور ہیرا، تخت طاؤس اور بے شمار دولت لوٹنے کے بعد جو کچھ باقی بچ گیا تھا وہ اس حملہ آور کی بھینٹ چڑھ گیا۔ احمد شاہ ابدالی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پاکستانی فوج نے اپنے ایک شارٹ رینج بیلاسٹک میزائل کا نام ابدالی 1 رکھا۔ میزائل کا نام رکھنے سے پہلے کم از کم ابدالی کی تاریخ ہی پڑھ لی جاتی تو بہتر ہوتا۔

قارئین لوٹ مار کی تو یہ چند مثالیں تھیں ورنہ ہندوستان میں مسلمانوں کا یہ 800 سالہ دور ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ چاہے وہ ایبک ہوں۔ غزنوی یا غوری ہوں، تغلق، خلجی، یا لودھی ہوں یا پھر نادر شاہ اور ابدالی جیسے حکمران ہوں۔

اگر ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں کہ کیا ہمارے نظام تعلیم کو جدیدیت اور حقیقت پسندی پر استوار کیا گیا ہے؟

کیا ہمارے ماہرین تعلیم اور تاریخ دانوں نے طالب علموں کو مغرب کی ایجادات اور سائنس و ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی دی ہے۔ کیا انہیں بتایا گیا ہے کہ انسانیت کے اصل ہیرو کون ہیں۔ کیا ہمارے بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ ایڈیسن کون تھا اور اس نے بجلی کا بلب اور دیگر بے شمار ایجادات کیں تھیں۔ جس کی وجہ سے آج پوری دنیا تاریکیوں سے نکل کر روشنی میں آئی۔ گراہم بیل کون تھا جس کی بدولت آپ ٹیلی فون، سیل فون، اور انٹر نیٹ کی سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

ریل کا نظام کس نے قائم کیا تھا۔ میڈیکل سائنس میں نت نئی ایجادات، مثلاً پینسیلین، اینٹی بایوٹک ادویات، اور دیگر ویکسین جس کی ایجاد نے دنیا کے لاکھوں انسانوں کی جانیں بچائیں۔ یہ سب مغرب کی جدید تعلیم اور تحقیق کا کمال ہے۔ ریاست اور عوام نے تو واحد مسلمان پاکستانی نوبل انعام یافتہ سائنس دان کو بھی محض مذہب کی بنیاد پر اس کے اعزازات سے محروم کر دیا۔

کیا ہمارے دقیانوسی، فرسودہ، مذہبی اور روایتی نظام تعلیم میں کبھی انسانیت کے ان حقیقی ہیروز کا نام آئے گا؟ ہماری نئی نسل کب تک پارکوں، کھیل کے میدانوں، اور تعلیم گاہوں میں نصب کیے ہوئے غوری، غزنوی، اور ابدالی میزائلوں، ٹینکوں اور دیگر ہتھیاروں کے ماڈلز سے کھیلتی رہے گی اور جنگی جنون ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھسم کرتا رہے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply