حکومت کو بیل آؤٹ نہیں ملے گا، اپوزیشن تماشا دیکھے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا ٹرمپ کو لے بیٹھا ہے۔ ٹرمپ اکانومی جو آسمانوں کی طرف جا رہی تھی۔ اب منہ کے بل زمین سے لگی پڑی ہے۔ چین سے تجارتی میچ لگا کر امریکہ ”میں اب بھی پہلوان ہوں“ گانا چاہ رہا تھا۔ وہ گیت بھی پورا سر نہیں پکڑ سکا۔

چین کو نکرے لگانے کے لیے بھارت مہان میں ہوا بھری گئی تھی۔ ہمارا بھارت مہان چینیوں سے چپیڑیں (چمانٹ) کھا کر اب ایسے پرسکون ہے جیسے بدمعاش تو وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ البتہ روس سے تازہ اسلحہ ڈیل کر کے، روسیوں کو تین ارب ڈالر پکڑا کر پرانے کچرا روسی طیارے لے کر امریکہ کو ضرور کھجلی لگا دی ہے۔

ٹرمپ کے لیے واحد اچھی خبر یہ ہے کہ جون میں امریکی بیروزگاروں کی تعداد میں بہت بڑی کمی ہوئی ہے۔ کرونا کی وجہ سے گھر بیٹھے امریکی دوبارہ کام سے لگے ہیں۔ یہ خوشخبری کتنی دیر رہتی ہے۔ اس کا بہت انحصار کرونا کی دوسری یا پہلی ہی جاری لہر پر ہو گا۔

ٹرمپ کو الیکشن جیتنا ہے۔ اس کے لیے ووٹر کو دکھانے کے لیے لے دے کر اب افغانستان ہی بچتا۔ یا پھر وہ پہلے چین کو خطرہ بتائے پھر اسے نیچے لگا کر دکھائے۔ چین کے ساتھ کچھ عمل کرنا سوچ تو سکتے ہونا ممکن نہیں ہے۔ گھوم پھر کر افغانستان ہی رہ جاتا ہے۔

افغانستان پر امریکیوں کی آنیاں جانیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ دوحہ میں ہوئے امن معاہدے پر عمل درآمد کو امریکی بھاگے پھر رہے ہیں۔ سیکرٹری آف سٹیٹ مائک پومپیو نے افغان صدر اشرف غنی کو تڑیاں لگائیں کہ معاہدے پر عمل کرو ورنہ ایک ارب ڈالر امداد روک دوں گا۔

اس تڑی کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ اشرف غنی نے طالبان کے خلاف نئے آپریشن کا اعلان کر دیا۔ اس کو دیکھ کر امریکی میڈیا نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ افغانستان کی امداد پینٹاگان سے آتی ہے۔ پومپیو تڑیاں دیتا رہا۔ پینٹاگان نے امداد نہیں روکی۔ اشرف غنی شیر ہو گیا۔ اب امریکی سینیٹ اس سب کی تحقیق کر رہی ہے کہ یہ کیسے ہوا۔

پس منظر میں ہوئی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ امریکی سنٹ کام کمانڈر جنرل مکینزی کا ایک بیان آتا ہے۔ القاعدہ ہو گی تو ہم بھی ہوں گے۔ ان کی موجودگی زیرو ہو جائے گی تو ہماری تعداد بھی زیرو ہو جائے گی۔ ہم افغانستان میں پھر نہیں رکیں گے۔ بظاہر یو ایس سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، افغان امن معاہدے اور طالبان کے خلاف یہ بیان، امن معاہدے کی حمایت میں تھا۔

جہاں مامتا وہاں ڈالڈا کے آفاقی اصول کے تحت جب بھی بات افغانستان کی ہوگی تو ہم بھی پھر وہیں کہیں ہوں گے۔ دور ہوں گے تو بھی پاس آ جائیں گے۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ الیکشن سے پہلے وہ افغانستان کی جنگ سمیٹ لے۔ اس خزاں یعنی ستمبر اکتوبر میں امریکی فوجیوں کی تعداد چار ہزار کرنے کا پہلے ہی اعلان ہو چکا ہے۔ ان چار ہزار کو بھی رخصت کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

امریکیوں کو اب پاکستان کا فیصلہ کن تعاون درکار ہے۔ ہمیں جو درکار ہے وہ میڈم نورجہاں پہلے ہی گا گئی ہیں کہ مینوں نوٹ وخا میرا موڈ بنے (مجھے نوٹ دکھا میرا موڈ بنے ) ۔

کتنے نوٹ درکار ہیں۔ ہم کو کہاں کہاں پیسہ درکار ہے۔ کس کس شکنجے میں ہماری لات بانہہ پھنسی ہوئی ہے۔ اس کا سارا حساب اصولاً تو وفاقی حکومت کو پتہ ہونا چاہیے تھا۔ حکومت کی قیادت کپتان کے ہاتھ میں ہے جسے بہت فخر بہت پیار بہت مان سے لایا اور لگایا گیا تھا۔ کپتان کی کل اہلیت صلاحیت سوچ سائنس شاعری ادب سیاست وغیرہ اک ایسے سول کی نکلی ہے، جسے اعزازی صوبیدار میجر لگا دیا گیا ہو۔ یہ بوجھ بھی اک کمپنی اب اپنے کندھوں پر اٹھا کر پھرتی ہے۔ پوچھ تک نہیں سکتی کہ یہ ہمیں کیوں اٹھوایا ہوا ہے۔

اب حکومت جب کسی جوگی نہیں ہے۔ تو سفارت معیشت کا سارا حساب حوالدار بشیر نے ہی لگانا ہے۔ یہ حساب یہ بہت اچھا لگائے گا۔ جہاں جہاں اسے رولا لگتا ہے وہ سب یہ مانگے گا۔

ہمیں نیا اسلحہ چاہیے، بھارت کو ہماری کمر سے اتارو، سستی انرجی تیل بجلی گیس سب کا کہے گا، قرضے معاف کرو، نئے قرضے بھی دو، پاکستان میں بڑے بڑے منصوبے لگاؤ۔ ایف اے ٹی ایف والوں کی بزتی کرو کہ بھاگ جائیں ہمیں نہ چھیڑیں۔ حافظ سعید کو فخر ایشیا و ہند قرار دلوائیں، اچھا نہیں؟ تو پھر ان پر پابندیاں ختم کرو۔

ہم نے ٹیکس کم لگانا ہے، ہم سے نہیں اکٹھا ہوتا، آئی ایم ایف سے اجازت لے کر دو، ہم نے گاڑیاں پلاٹ خریدنے ہیں پیسوں کا نہ پوچھنا ہے نہ بتانا ہے کہ کدھر سے آئے۔ آئی ایم ایف بھی ضد نہ کرے۔

یہ سب اندازے ہیں کہ یہی ہمارے موٹے موٹے رولے ہیں۔ جن کو حل کرنے کو ہم کبھی امریکہ کبھی چین کبھی سعودیوں کی جانب دیکھ دیکھ کر پکارتے ہیں کہ ہم پھر پھنس گئے ہیں ہمیں نکالو۔

اس بار زلمے خلیل زاد کے ساتھ آئی ڈی ایف سی کے ہیڈ آدم بوہلر بھی پاکستان آئے تھے۔ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فائنانس کارپوریشن امریکیوں نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ کا جواب دینے کو قائم کی ہے۔ سی پیک پراجیکٹ کا فیز ون ساٹھ ارب ڈالر کا تھا۔ آئی ڈی ایف سی اکسٹھ ارب ڈالر لے کر میدان میں کودی ہے۔ لیکن اسے امریکی پرائیویٹ سیکٹر اور جاپان آسٹریلیا کا آسرا ہے۔

آدم بوہلر دوحہ میں طالبان کے ساتھ۔ تاشقند میں سنٹرل ایشیا کے پانچ ملکی اتحاد کے ساتھ، کابل میں اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات میں مصروف رہے۔ ریجنل کنیکٹیویٹی کی بات کرتے رہے۔ تجارت ترقی وغیرہ کے خواب بیچے نوٹ دکھائے۔

یہ پاکستان بھی آئے یہاں عبدالرزاق داؤد سے ملے، کامرس سیکرٹری سے ملے، اور سرمایہ کاری بورڈ کے بزرگ سے ملے۔ ہمیں بتایا کہ آئی ڈی ایف سی کے پاس ہمارے ریجن کے لیے فوری تین ارب ڈالر ہیں۔ پاکستان اس میں سے جتنا چاہے جتنا بنتا ہے لے سکتا ہے۔

اک ظالم پاکستانی ماہر سفارتکاری کا تبصرہ تھا کہ پاکستان میں آدم بوہلر انہی سے ملے جو پہلے ہی پرو امریکہ سمجھے جاتے ہیں۔ رزاق داؤد چین مخالف بیانات دیتے رہتے ہیں۔

امریکہ چین نہیں ہے۔ اس کے پاس ہمیں دینے کو فوری طور پر کچھ نہیں ہے۔ صرف وعدے ہیں۔ امریکی حکومت براہ راست سرمایہ کاری تک نہیں کر سکتی۔ امریکی کارپوریشن کرتی ہیں۔ پاکستان میں آئی پی پی کے جن منصوبوں کے خلاف تحقیق ہو رہی، جن کے بارے یہ تک کہہ دیا گیا کہ ان سے بیس برس میں لیا گیا ناجائز منافع واپس لیا جائے گا۔ ان پاور پراجیکٹس میں اکثر امریکہ سرمائے سے بنے ہیں۔ چینی پاور پراجیکٹس پر فائنانشل ٹائم ایک رپورٹ چھاپ چکا ہے کہ پاکستان چین سے کہہ رہا ہے کہ تین ارب ڈالر زیادہ چارج کیے گئے ہیں۔ ان کی مالیت کم کی جائے۔

ہماری ان ننھی منی خواہشات کو دیکھتے ہوئے۔ نہ امریکی اور نہ ہی چینی کبھی یہاں پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہوں گے جب تک ان کو صاف موت ہی نہ دکھائی دے رہی ہو۔

طالبان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اہم منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ اندرونی کشمکش کا بھی شکار ہیں۔ ایسے میں پاکستان ان کی ترجیحات میں سب سے اوپر ہر گز نہیں ہے۔ زلمے خلیل زاد اپنی آخری ٹرم گزار رہے ہیں۔ ٹرمپ جیت بھی گیا تو ان کی واپسی ممکن نہیں ہے۔

پاکستان اپوزیشن بہت غور بہت صبر کے ساتھ حالات کو دیکھ رہی ہے۔ معاشی بیل آؤٹ کی کوشش کے نتائج پر نظر رکھ رہی ہے۔ پیسے آ گئے تو اس کو بھی جمہوریت ووٹ کی عزت وغیرہ یاد آ جائے گی۔ ورنہ بیٹھی ہے تصور درباناں کیے ہوئے۔

ویسے اس بیل آؤٹ کی امریکہ میں بھی اتنی حمایت دستیاب نہیں جتنی مخالفت ہے۔ ٹرمپ کے الیکشن تک پاکستان کو اگر واضح سپورٹ نہ ملی تو حکومت معیشت شدید مشکلات میں گھر جائیں گی۔ اپوزیشن تب بھی دور بیٹھی تماشا ہی دیکھے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 381 posts and counting.See all posts by wisi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *