5 جولائی 77:خوش گمانیوں کا سفرِ ناتمام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موضوع اس کالم کا کچھ اور سوچ رکھا تھا۔اتوارکی صبح اُٹھا تو جانے کیوں یاد آگیا کہ آج پانچ جولائی ہے۔ یہ دن 1977میں بھی آیا تھا۔زندگی کے کئی برس اس کے اثرات سے نبردآزما ہونے میں خرچ ہوگئے۔اپنے تئیں جو ’’مزاحمت‘‘ برپا کی تھی اس کے حوالے سے خود کو ’’ہیرو‘‘ تصور کرنے کی علت بھی پال رکھی تھی۔عمر کے آخری حصے میں داخل ہوا تو دیانت داری سے اس نتیجے پر پہنچا کہ جھک ماری تھی۔خواہ مخواہ زندگی کو اذیت میں مبتلا رکھا۔

5جولائی 1977کے روز جو ہوا وہ اتنا ہی برا ہوتا تو دورِ حاضر کی نوجوان نسل کی بھرپور محبتوں کی بدولت وزیر اعظم کے منصب پر بیٹھے عمران خان صاحب حال ہی میں قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر اسامہ بن لادن کو ’’شہید‘‘نہ پکارتے۔

ٹی وی سکرینوں پرRatingsکے شیر ہوئے محبانِ وطن نہایت درد مندی سے ’’جمہوریت‘‘ کو ’’اچھی حکومت‘‘ کی راہ میں کھڑی بنیادی رکاوٹ کے طورپر پیش نہ کررہے ہوتے۔یوٹیوب پر بہت ہی ’’باخبر‘‘ نظر آنے والے چسکہ لیتے ہوئے یہ اشارے نہ دے رہے ہوتے کہ ’’اِن ہائوس تبدیلی‘‘ یقینا ہوسکتی ہے۔اس کے ذریعے مگر صدر اور وزیر اعظم ایک دوسرے کی جگہ لے سکتے ہیں۔عارف علوی کی جگہ عمران خان صاحب بیٹھ گئے تو بالآخر ملک کو ایسا صدر بھی نصیب ہوسکتا ہے جو ہر حوالے سے آئینی طورپر ’’منتخب‘‘ ٹھہرے گا۔ اس کے اختیارات مگر جنرل ضیائ،غلام اسحاق خان،فاروق لغاری اور جنرل مشرف کے تصرف میں آئے اختیارات سے بھی کہیں زیادہ ہوں گے۔ ’’ارطغرل‘‘ کے بنائے ذہن کی بدولت ہمارا ’’دیدہ ور‘‘ بھی ترکی کے اردوان جیسا ’’سلطان‘‘ ہوجائے گا۔

5جولائی 1977 اگرچہ مجھے ’’خوش گمانی‘‘ کی حقیقت سمجھانے کے لئے یاد آتا محسوس ہوا۔ اس دن ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد ضیاء الحق نے قوم سے جو خطاب فرمایا تھا اسے میں نے تین ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر سنا تھا جو نہ صرف عمر میں مجھ سے کئی برس بڑے بلکہ شدید پڑھے لکھے افراد بھی تھے۔ ملکی اور غیر ملکی تاریخ کی بابت انہوں نے کئی موٹی موٹی کتابیں پڑھنے کے بعد چند خیالات بھی اپنالئے تھے جنہیں وہ ٹھوس دلائل کے ساتھ بیان کرنے کی قوت سے مالا مال تھے۔

ان سب کی متفقہ رائے تھی کہ جنرل ضیاء نے ذوالفقا علی بھٹو کے ’’ایما‘‘ پر فوجی بغاوت کا ’’ڈرامہ رچایا ہے‘‘۔ مارشل لاء کے خوف سے 1977کے انتخابات میں ہوئی ’’دھاندلی‘‘ کے خلاف جو تحریک ابھری تھی اب دم توڑ دے گی۔ 90دنوں بعد نئے انتخابات ہوں گے۔بھٹو صاحب ’’نوجماعتوں میں بکھری اپوزیشن‘‘ کے خلاف ایک بار پھر انتخابات میں کامیاب ہوں گے۔انتخابات کے شفاف اور منصفانہ ہونے کی بابت کوئی سوال اٹھانے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہے گی۔

مذکورہ تقریر ہو جانے کے بعد میں نے جان بوجھ کر راولپنڈی جاکر وہاں کی گلیوں میں رپورٹر کی طرح چند گھنٹے گزارے۔ان کی اکثریت بھی وہی سوچ رہی تھی جو میرے ہمراہ بیٹھے ’’دانشوروں‘‘ نے جنرل ضیاء کا خطاب سننے کے فوری بعد سوچا تھا۔میرا دل مگر وسوسوں سے بھرارہا۔ دماغ نے یہ قبول کرنے سے انکار کردیا کہ اقتدار کا کھیل تاریخی ڈراموں کے لئے لکھے ’’سکرپٹس‘‘کی طرح رچایا جاسکتاہے۔

’’عالم‘‘ میں لیکن کبھی بھی نہیں رہا۔ ان دنوں تو جوانی والی لاعلمی بھی طاری تھی۔ اپنے دل میں جمع ہوئے سوالات کو لوگوں کے سامنے اٹھانے کی جرأت ہی نہ ہوئی۔ اس کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کی تارا مسیح کے ہاتھوں پھانسی دیکھی۔ میری عمر کے گیارہ برس جنرل ضیاء کے متعارف کردہ نظام کی نذر ہوگئے۔سبق بالآخر یہ سیکھاکہ ’’خوش گمانی‘‘ سے گریز کیا جائے۔ ’’شک شبہ‘‘ مگر خواب دیکھنے والے مجھ احمق کی جبلت کا حصہ نہ بن پایا۔

آٹھ سال کے طویل مارشل لاء کے بعد جنرل ضیاء نے 1985میں ’’غیر جماعتی‘‘ انتخابات کروائے۔ مرحوم محمد خان جونیجو اس کے ذریعے وزیراعظم ’’نامزد‘‘ ہوئے۔نظر بظاہر ان کی حکومت مستحکم تھی۔اس کے خلاف ایسے جلسے اور پرتشدد مظاہرے نہیں ہوئے جو مارچ 1977کے انتخابات کے بعد ملک کے تمام بڑے شہروں میں ہوئے تھے۔اس کے باوجود مئی 1988میں اس حکومت کو گھر بھیج دیا گیا۔اسے گھر بھیج دینے کے بعد جنرل ضیاء یہ فیصلہ نہ کر پائے کہ ’’یہ تو ہوگیا۔اب کیا؟‘‘اسی کنفیوژن میں اگست 1988والا فضائی حادثہ ہوگیا۔

اس حادثے کی بدولت جنرل ضیاء اس دنیا میں نہ رہے تو سپریم کورٹ میں ’’اچانک‘‘ جونیجو حکومت کی برطرفی کے خلاف دائر ہوئی درخواست کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوگئی۔ میں علی الصبح اُٹھ کر اسلام آباد سے راولپنڈی اس سماعت کو سننے جاتا ۔سماعت کے دوران عزت مآب ججوں کی جانب سے ایسے سوالات اٹھائے گئے جنہیں سن کر اکثر لوگوں نے طے کرلیا کہ جونیجو حکومت بحال کردی جائے گی۔

جونیجو مرحوم ان دنوں اسلام آباد کے سیکٹرE-7 میں حامد ناصر چٹھہ کے زیر استعمال گھر میں رہا کرتے تھے۔ان کی حکومت کی معطلی کے بعد جتنے دن جنرل ضیاء زندہ رہے اس گھر میں شاذہی کوئی سیاست دان جونیجو صاحب سے ملنے وہاں آتا۔میں ’’تاریخ‘‘ مرتب کرنے کے گماں میں وہاں تقریباََ روز ہی جاتا تھا۔ سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو اس مکان کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں۔جونیجو صاحب کی ’’بدن بولی‘‘ بھی پراسرار اعتماد کا مجسم اظہار نظر آنے لگی۔بالآخر جو فیصلہ آیا اس نے جونیجو حکومت بحال نہ کی۔ان کی برطرفی کو ’’غیر آئینی‘‘ ضرور ٹھہرایا مگر ساتھ ہی اصرار یہ بھی کیا کہ نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔اس کے لئے انتخابی مہم زور شور سے جاری ہے۔’’عوام کو لہٰذا اپنی رائے‘‘ دینے کا موقعہ فراہم کرناچاہیے۔

جونیجو صاحب مذکورہ فیصلے کا اعلان ہونے سے قبل وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر واپسی کے لئے تیار نظر آرہے تھے۔ 1988کے انتخابات کے دوران مگر وہ ہی نہیں ان کے ’’سرپرست‘‘ پیرپگاڑا بھی اپنی ’’آبائی نشستوں‘‘ سے ہارگئے۔غلام مصطفیٰ جتوئی بھی شکست سے دو چار ہوئے۔ نواز شریف کا ’’کلہ‘‘ مگر اب بھی مضبوط نظر آیا۔اس کے بعد جو ہوا وہ حالیہ تاریخ ہے۔اسے دہرانے سے کیا حاصل۔

5جولائی 2020کی صبح اُٹھ کر لکھے اس کالم کا اصل موضوع ویسے بھی ’’خوش گمانی‘‘ ہے جس سے گریز کا فیصلہ شعوری طورپر میں نے 1977کے آخری ایام ہی میں کرلیا تھا۔اس فیصلے کو مگر اپنی خواب دیکھنے والی طبیعت کا حصہ نہ بناپایا۔ جون ایلیا والی ’’عمر گزاردی گئی‘‘تو روزانہ کی بنیاد پر خود کو یاد دلاتا رہتا ہوں کہ ’’خوش گمانی‘‘ سے گریز لازمی ہے۔اسی باعث گزشتہ برس کے ’’اکتوبر-نومبر‘‘ میں ’’اِن ہائوس تبدیلی‘‘کے امکانات کی بابت بارہا اس کالم میں سوال اُٹھاتارہا۔

گزشتہ کئی دنوں سے اب ’’مائنس ون‘‘ والی گردان شروع ہوگئی ہے۔وزیر اعظم صاحب نے قومی اسمبلی سے بجٹ پاس ہونے کے بعد بذاتِ خود اس کا ذکر کیا۔ان کی تقریر نے ’مائنس ون‘‘ کے تصور کو جھٹلانے کے بجائے اسے قابل غور بنادیا۔

سیاست کے بار ے میں ہمارے اذہان کو صاف رکھنے کے لئے راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر بھی قدرت نے ہمیں عطا کررکھے ہیں۔انہوں نے کمال فراست سے اعلان فرمادیا ہے کہ ’’مائنس‘‘ کی بات چلی تو ’’مائنس تھری‘‘ ہوگا۔آسان لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ انہوںنے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ایک نہیں تین جائیں گے‘‘۔

اس فقرے پر غور کریں توسوال اٹھتا ہے کہ ’’ایک‘‘ تو ہوگئے عمران خان صاحب۔ باقی ’’دو‘‘ کون ہیں۔اشارہ اگر نواز شریف کی جانب ہے تو وہ ’’حیف ہے اس قوم پر…‘‘ والے فیصلے کی بابت تاحیات مائنس ہوچکے ہیں۔قومی اسمبلی کی کسی نشست کے لئے انتخاب لڑنے کے ’’اہل‘‘بھی شمار نہیں ہوں گے۔آصف علی زرداری اپنی صحت کے ہاتھوں واقعتا عملی سیاست سے تقریباََ ریٹائر‘‘ ہوچکے۔ غالباََ اشارہ شہباز شریف صاحب کی جانب تھا۔

’’تیسرا‘‘ کون ہے؟ اس سوال کا جواب میں ابھی تک ڈھونڈ نہیں پایا۔شاید بلاول بھٹو زرداری کاذکر ہوا ہے۔مریم نواز صاحبہ تو ہونہیں سکتیں کیونکہ اپنے والد کی طرح وہ بھی فی الوقت ’’انتخابی گیم‘‘ سے باہرچکی ہیں۔

دریں اثناء احتساب عدالت کے ایک جج-ارشد ملک- کی فراغت ہوگئی ہے۔یہ فراغت بھی چند ’’خوش گمانیوں‘‘ کو فروغ دے رہی ہیں۔میں نے 1977کے آخری ایام میں ’’خوش گمانی‘‘ سے گریز کا فیصلہ کیا تھا۔ غالباََ وہ وقت آگیا ہے کہ میں ثابت قدمی سے اس فیصلے کو اپنی جبلت کا حصہ بنائوں۔ ’’مائنس ون‘‘ کے بجائے بقراطِ عصر کے ’’مائنس تھری‘‘ پر غور کروں۔ بقراطِ عصر جیسی فراست مگر کہاں سے لائوں؟

بشکریہ روززنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *