ماسڑ نورعالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ 2016 کی بات ہے میلبورن یونیورسٹی میں سکالر شپ پر داخلہ ہو گیا تھا اور پاکستان سے کافی طلبا طالبات یہاں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ انہی سٹوڈنٹس میں ایک ریاض علی بھی تھا، کچھ لو گوں نے یونیورسٹی کی فراہم کردہ رہائش حاصل کر لی تھی اور کچھ نے دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس رہنا مناسب سمجھا۔ میں نے بھی یونیورسٹی کی فراہم کردہ رہائش لے لی اور وہاں پر اپنا کمرہ سیٹ کر لیا۔ ریاض کا کمرہ میرے کمرے کے بالکل ساتھ تھا۔ اس لیے اکثر اس سے ملاقات رہتی تھی۔ میں نے اس کو کافی خاموش اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان پایا، وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ شناسائی مزید ہوئی اور ہم دوست بن گئے۔

2016 سرد شامیں ہم واک کر کے، کافی پی کے یا دریا کے کنارے بیٹھ کے گزرتے۔ ایسی ہی ایک شام میں نے ریاض سے پوچھا، ہم سب کی زندگی میں کبھی نہ کبھی کوئی ایسا لمحہ یا موڑ آتا ہے جو ہماری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے کیا تمہاری زندگی میں کوئی ایسا لمحہ گزرا۔ اس نے نہایت پیار سے کہا کہ ہاں، زندگی ایک ڈگر پر چل رہی تھی کہ کچھ لمحوں کے مجموعہ نے وقت کے دھارے کو بدل دیا۔

یہی کوئی لگ بھگ دس برس پہلے کی بات ہے میں اپنے شہر کے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میرے والدین مجھے کسی پرائیویٹ سکول میں نہیں پڑھا سکتے تھے۔ کلاس کے جو استاد تھے وہ بس سرسری سا پڑھاتے اور دن گزارتے جاتے۔ نور عالم صاحب ہمارے کلاس ٹیچر تھے اور اکثر بچوں کو تلقین فرماتے تھے کہ پرائیویٹ ٹیوشن کا کتنا فائدہ ہوتا ہے۔ اور ان کے پاس تعلیم حاصل کرنے سے کیسے کامیابی ان کے قدم چوم لیتی ہے۔ کیوں کہ میں فیس ادا نہیں کر سکتا تھا اس لئے اسکول میں جو پڑھایا جاتا وہ پڑھ کے گزارا کرتا تھا۔ لیکن نہ تو کلاس ٹیسٹ میں اچھے نمبر آتے تھے اور نہ ہی سہ ماہی امتحان میں کوئی اچھی کارکردگی ہوتی۔ نہم جماعت کی بری کارکردگی کے بعد میں نے اپنے والد کو کہا کہ میں نے مزید نہیں پڑھنا چاہتا، کچھ کام سیکھ لوں گا اس اسکول کا فائدہ نہیں ہو رہا۔

میرے والد صاحب میرے ساتھ ایک دن اسکول آئے اور دفتر سے پتہ کیا کہ ماسٹر نور عالم کا فارغ وقت کون سا ہوتا ہے؟ ماسٹر نور عالم سے بچے کی تعلیم سے متعلق ملنا چاہتا ہوں۔ ان کو بتایا گیا کہ وہ ایک بجے کے قریب ہوں فارغ ہوں گے۔ اگر انتظار کر سکتے تو کر لیں یا کل آجائیں۔ میرے والد صاحب جو کہ اس دن کی چھٹی لے کر آئے تھے۔ وہاں برآمدے میں بیٹھ کے انتظار کرنے لگے۔

ماسٹر نور عالم نے نائب قاصد کو کہہ کر میرے والد کو ایک بجے کے قریب بلوایا۔ میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ میں ایک سرکاری دفتر میں مالی کا کام کرتا ہوں۔ باغ میں لگائے گئے ہر پودے کی دیکھ بھال میری ذمہ داری کا حصہ ہے۔ جب بھی کوئی پھول کھلتا ہے تو اس کے ساتھ میرا دل گھل اٹھتا ہے۔ اور پودے کے مرجھانے سے دل بیٹھ جاتا ہے۔ اس لئے جب کوئی پھول مرجھانے لگے تو میں اس میں زندگی واپس لانے کے لیے دل و جان سے کوشش کرتا ہوں۔

میرے والد نے تفصیل بتاتے ہوئے ماسٹر نور عالم کو اپنے کام سے آگاہ کیا۔ تو آپ یہ سب بتانے اسکول میں تشریف لائے۔ ماسٹر نور عالم نے قدرے بے نیازی سے جواب دیا۔ جناب کچھ گزارش کرنا تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ آپ اپنے شاگردوں کے بارے میں بھی ایسے ہی ہوں گے ان کی کامیابی آپ کے دل و دماغ کو باغ باغ کر دیتی ہوگی۔ اور ان کی ناکامی آپ کی روح تک کو ہلا دیتی ہوں گی۔ میرے والد نے نہایت مودبانہ لہجے میں کہا۔ ماسٹر نور عالم نے آ گے سے کچھ نہ کہا اور میرے والد کو دیکھنے لگے۔

میرے والد نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جناب ہم لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں کہ اپنے بچوں کی کارکردگی کا موازنہ کر سکیں اور پھر آ کے آپ سے ملاقات کریں اور ان وجوہات پر غور و خوض کر سکیں جن کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ اور نہ ہم ٹیوشن فیس دے سکتے ہیں۔ ماسٹر صاحب میری گزارش ہے کہ آپ میری اس کمی کی سزا میرے بیٹے کو نہ دیں۔ میرا بیٹا تعلیم چھوڑنے کی باتیں کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو میری یہ آس ٹوٹ جائے گی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مجھے اپنے کسی کام پہ رکھ لیں میں ساری زندگی آپ کی خدمت کرنے کو تیار ہوں بس میری امید نہ ٹوٹنے دیں۔ کیونکہ جب آپ ان بچوں کی پھول کی طرح نگہداشت کرتے ہیں تو ان کی مہک ہم غریبوں کے خاندانوں کو معطر کر دیتی ہے۔

صاحب ہم غریب لوگوں کی زندگی کی ایک اس ہوتی ہے کہ ہم نہ سہی ہماری اولاد پڑھ لکھ کر زندگی میں ترقی کرے۔ بڑے افسروں کے بچوں کو کوٹے مل جاتے ہیں، امیر لوگ اپنے بچوں کو بھاری فیس دے کے اعلی سکولوں میں بھیج دیتے ہیں لیکن ہماری آس امید یہی سرکاری سکول ہیں۔ مجھے نظر آ رہا ہے میرا بیٹا آ گاہی کے اس دور میں صرف سمت کے نہ ہونے کی وجہ سے مرجھا جائے گا۔ آپ کی مہربانی ہوگی ان کی ایسی تربیت کریں کہ ہر مشکل وقت کا مقابلہ کرسکے ان کو ایسی سمت دیں، جو کہ ان کو بلندی پر لے جائے آپ ہی کے ہاتھ میں ہم سب غریبوں کی امید ہے۔ اس کو ٹوٹنے نہ دیں ورنہ اس معاشرے میں ہمارے جینے کی جو کچھ وجہ رہ گئی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔ کیوں کہ صرف سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں ہمارے بچوں کو آگے تک نہیں لے جا سکیں گے۔ ۔ ان میں کچھ ایسا ہونا چاہیے کہ جب ان کا مقابلہ اعلی سکول کے بچوں سے ہو تو یہ مقابلہ کر سکیں۔

نجانے ان باتوں کا کیا اثر ہوا، کہ وہ دن اور آج کا دن ماسٹر نور عالم نے اپنے ہر شاگرد کو اپنا پھول سمجھا اور ہمیں وقت سے وہ شناسائی کروائی کہ ہمیں تعلیم اور عملی زندگی کی ہر مشکل کو عبور کرنے میں کامیابی ملی۔ اس دن کے بعد ماسٹر نور عالم سکول میں چھٹی کے بعد بھی ان کو طلبا کو مفت میں پڑھاتے جو فیس نہیں دے سکتے تھے۔ وہ ہمیں تقریری مقابلوں میں لے کر جاتے ہیں تقریر کا تلفظ اور اس کا انداز بیان سکھاتے۔

کھیلوں میں لازمی حصہ دلواتے اور ہر بچے کے لیے کسی نہ کسی کھیل میں حصہ لینا لازمی ہوتا۔ ہم کبھی ناکام ہوتے ہیں تو ہمیں بیٹھ کے ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور پھر ہم وہ غلطیاں کبھی نہ دہراتے۔ انہوں نے ہم میں وہ خود اعتمادی پیدا کی کہ خود کو کبھی کسی سے کم نہ سمجھا۔ ہم میں کامیاب ہونے کی وہ لگن لگا دی کہ ہم نے پھر پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا اور میں نے ایف ایس سی میں بھی اسکالرشپ حاصل کیا، لاہور کے بڑے معروف تعلیمی ادارے سے گریجویشن کی اور اس میں بھی مکمل سکالرشپ حاصل کیا۔ آج کل میلبورن میں بیٹھا اپنا ماسٹرز مکمل کر رہا ہوں۔ میں اکثر سوچتا ہوں، کہ ماسٹر نور عالم ایک استاد تھا جس نے مجھ جیسے جانے کتنے لوگوں کی زندگی کو بدل دیا۔ اور اگر ہر سرکاری اسکول کا ایک استاد اپنی ہر ایک کلاس کو اپنا باغ گلشن سمجھے اور ان کو جا فشانی سے ایک سمت دے تو نچلے طبقے کے بچے بھی بڑے بڑے میدانوں میں نہ صرف ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی زندگی کو سنوار سکتے ہیں۔ صرف ایک استاد صرف ایک کلاس۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *