سلطانہ ڈاکو اور برصغیر کے چند مشہور ’لٹیروں‘ کی داستانِ حیات

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یُل برینر، ورجینیا نارتھ

Getty Images
’دی لانگ ڈیول‘ کے مرکزی کردار، سلطانہ کے روپ میں ہالی وڈ اداکار یُل برینر اور چمپا کے کردار میں ورجینیا نارتھ کی ایک تصویر

امیروں کا مال لوٹنا اور غریبوں میں تقسیم کرنے کا ذکر ہو تو 14ویں صدی کا ایک کردار ‘رابن ہڈ’ یاد آتا ہے جو اپنے ساتھیوں سمیت برطانوی کاﺅنٹی ناٹنگھم شائر میں شیروڈ کے جنگلات میں رہتا تھا۔

وہ ایک عام شہری تھا لیکن ناٹنگھم کے بدقماش شیرف نے اس کی زمین زبردستی چھین لی تھی جس کی وجہ سے وہ ڈاکے ڈالنے لگا تھا۔

اس کے بارے میں کئی ناول لکھے گئے اور بہت سے فلمیں بنیں مگر پھر بھی اس کے بارے میں یہ بحث موجود ہے کہ وہ حقیقی زندگی میں وجود رکھتا بھی تھا یا نہیں۔

تاہم ایسا ہی ایک کردار ہندوستان میں بھی گزرا ہے جو روایت کے مطابق امیروں کو لوٹتا تھا اور غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ یہ کردار تھا سلطانہ (یا سلطانا) ڈاکو جسے 96 سال پہلے آج ہی کے دن 7 جولائی 1924 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

سلطانہ ڈاکو کے عقیدے کے متعلق کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ بیشتر لوگوں کے نزدیک وہ مسلمان تھا جبکہ چند مؤرخین نے اسے ہندو عقیدے کا پیرو کار بتایا ہے کیوں کہ وہ بھاتو قوم سے تعلق رکھتا تھا جو عقیدے کے لحاظ سے ہندو تھی۔

سلطانہ اور اس کے گروہ کے لوگ ضلع مراد آباد کے رہنے والے تھے اور سب کے سب جرائم پیشہ تھے۔ سلطانہ اور اس کے گروہ کے افراد مختلف جرائم میں سزا کے طور پر یو پی کے علاقے نجیب آباد میں پتھر گڑھ کے قلعے میں قید کیے گئے تھے مگر آہستہ آہستہ یہ افراد قید سے فرار ہونے لگے اور انھوں نے بھاتو قوم ہی کے ایک شخص بالم کند کی قیادت میں چوری چکاری کی وارداتیں شروع کر دیں۔

بالم کند ایک دن اپنے زعم میں مالوف خان نامی ایک بہادر پٹھان سے الجھ بیٹھا اور اس کی گولی کا نشانہ بن گیا جس کے بعد اس گروہ کی قیادت سلطانہ کے ہاتھ میں آگئی۔

سلطانہ ابتدا میں چھوٹی موٹی چوری چکاری کرتا تھا۔ اردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار اور اپنے زمانے کے مشہور پولیس آفیسر ظفر عمر اسے ایک مرتبہ گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس پر انھیں پانچ ہزار روپے کا انعام ملا۔

ظفر عمر کی صاحبزادی حمیدہ اختر حسین رائے پوری نے اپنی کتاب ‘نایاب ہیں ہم’ میں لکھا ہے کہ ظفر عمر نے سلطانہ کو ایک دوبدو مقابلے میں گرفتار کیا تھا۔

اس وقت سلطانہ پر سوائے چوری چکاری کے قتل کا کوئی الزام نہ تھا اس لیے اسے محض چار سال کی قید بامشقت سزا سنائی گئی۔ ظفر عمر نے اس کی گرفتار پر ملنے والی رقم اپنے سپاہیوں اور علاقے کے لوگوں میں تقسیم کر دی تھی۔ بعدازاں ظفر عمر نے اردو میں کئی جاسوسی ناول تحریر کیے جن میں پہلا ناول ‘نیلی چھتری’ تھا اور اس کی کہانی کا محور سلطانہ ڈاکو ہی تھا۔

Sultana Daku
سلطانا ڈاکو کی حراست میں تصویر

سلطانہ کا ‘طریقہ واردات’

رہائی کے بعد سلطانہ نے اپنے گروہ کو ازسرنو منظم کیا۔ اس نے نجیب آباد اور ساہن پور کے سرکردہ لوگوں سے رابطے استوار کیے اور اپنے قابل اعتماد مخبروں کا جال بچھا کر ڈاکے مارنے شروع کر دیے۔ اسے اپنے مخبروں کے ذریعے مالدار آسامیوں کی خبر ملتی۔

سلطانہ ہر ڈاکے کی منصوبہ بندی بڑی احتیاط کے ساتھ کرتا اور ہمیشہ کامیاب لوٹتا۔ اپنے زمانے کے مشہور شکاری جِم کاربٹ نے بھی اپنی کئی تحریروں میں سلطانہ کا ذکر کیا ہے۔ ظفر عمر کے مطابق سلطانہ ڈاکو بڑے نڈر طریقے سے ڈاکا ڈالتا تھا اور ہمیشہ پہلے سے لوگوں کو مطلع کر دیتا تھا کہ مابدولت تشریف لانے والے ہیں۔

ڈاکے کے دوران وہ خون بہانے سے حتیٰ المقدور گریز کرتا لیکن اگر کوئی شکار مزاحمت کرتا اور اسے یا اس کے ساتھیوں کی جان لینے کی کوشش کرتا تو وہ ان کو قتل کرنے سے دریغ نہ کرتا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ وہ اپنے مقتولین یا مخالفین کے ہاتھ کی تین انگلیاں بھی کاٹ ڈالتا۔ امیر ساہوکاروں اور زمینداروں کے ہاتھوں ستائے ہوئے غریب عوام اس کی درازی عمر کی دعائیں مانگتے اور وہ بھی جس علاقے سے مال لوٹتا وہیں کے ضرورت مندوں میں تقسیم کروا دیتا۔

ڈاکو پکڑنے کے لیے انگریز پولیس افسر کی طلبی

سلطانہ کی ڈکیتیوں اور داد و دہش کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا، مگر انگریزوں کی حکومت تھی اور وہ یہ صورتحال زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ پہلے تو انھوں نے ہندوستانی پولیس کے ذریعے سلطانہ کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی مگر سلطانہ کے مخبروں اور غریب دیہاتیوں کی مدد کے باعث وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔

بالآخر انگریزوں نے سلطانہ ڈاکو کی گرفتاری کے لیے برطانیہ سے فریڈی ینگ نامی ایک تجربہ کار انگریز پولیس افسر کو انڈیا بلانے کا فیصلہ کیا۔ فریڈی ینگ نے ہندوستان پہنچ کر سلطان کی تمام وارداتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا اور ان واقعات کی تفصیل معلوم کی جب سلطانہ اور اس کے گروہ کے افراد پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے صاف بچ نکلے تھے۔

فریڈی ینگ کو یہ نتیجہ نکالنے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ سلطانہ کی کامیابی کا راز اس کے مخبروں کا جال ہے جو محکمہ پولیس تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ یہ بھی جان گیا کہ منوہر لال نامی ایک پولیس افسر سلطانہ کا خاص آدمی ہے جو سلطانہ کی گرفتاری کی ہر کوشش کی خبر اس تک پہنچا دیتا ہے اور اس سے قبل کہ پولیس سلطانہ کے ٹھکانے تک پہنچتے وہ اپنے بچاﺅ کی تدبیر کر لیتا ہے۔

 colonel wood, captain freddy young and jim corbet
کرنل وڈ، کپتان فریڈی ینگ اور جِم کاربٹ ضلع بجنور میں بطخ کے شکار کے دوران دوپہر کا کھانا کھا رہے ہیں۔ یہ تصویر اسی زمانے میں کھینچی گئی جب سلطانا کی تلاش جاری تھی

فریڈی ینگ نے سلطانہ کو گرفتار کرنے کے لیے بڑی ذہانت سے منصوبہ سازی کی۔ سب سے پہلے تو اس نے منوہر لال کا تبادلہ ایک دور دراز کے علاقے میں کر دیا، پھر نجیب آباد کے عمائدین کی مدد سے سلطانہ کے ایک قابل اعتماد شخص منشی عبدالرزاق کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا۔ سلطانہ منشی عبدالرزاق پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتا تھا۔

سلطانہ کی جائے پناہ نجیب آباد کے نواح میں واقع جنگل تھا جسے کجلی بن کہا جاتا تھا۔ یہ جنگل انتہائی گھنا اور درندوں سے بھرا ہوا تھا مگر سلطانہ اس جنگل کے چپے چپے سے واقف تھا۔ اس کی کمین گاہ جنگل کے ایسے گھنے علاقے میں تھی جہاں دن کے اوقات میں بھی سورج کی روشنی نہیں پہنچتی تھی۔ سلطانہ بھیس بدلنے کا بھی ماہر تھا اور اس کے چھریرے بدن کی وجہ سے اسے دیکھنے والا کوئی شخص بھی نہیں جان پاتا تھا کہ یہ سلطانہ ہوسکتا ہے۔

فریڈی ینگ نے منشی عبدالرزاق کی اطلاعات کی بنیاد پر سلطانہ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ منشی عبدالرزاق ایک جانب سلطانہ سے رابطے میں تھا اور دوسری طرف اس کی نقل و حرکت کی اطلاع فریڈی ینگ تک پہنچا رہا تھا۔

ایک دن منشی نے سلطانہ کو ایک ایسے مقام پر بلایا جہاں پولیس پہلے سے ہی چھپی ہوئی تھی۔ سلطانہ جونہی منشی کے بچھائے ہوئے جال تک پہنچا تو سیموئل پیرس نامی ایک انگریز افسر نے اسے اپنے ساتھیوں کی مدد سے قابو کر لیا۔ سلطانہ نے پہلے فائر کرنا چاہا مگر پولیس اس کی رائفل چھیننے میں کامیاب ہوگئی۔

اب اس نے بھاگنا چاہا مگر ایک کانسٹیبل نے اس کے پیروں پر رائفل کا بٹ مار کر اسے گرا دیا اور یوں سلطانہ گرفتار ہو گیا۔ آپریشن کی نگرانی فریڈی ینگ کر رہے تھے جنھیں اس کارنامے کے بعد ترقی دے کر بھوپال کا آئی جی جیل خانہ جات بنا دیا گیا۔

فریڈی ینگ سلطانہ کو گرفتار کر کے آگرہ جیل لے آئے جہاں اس پر مقدمہ چلا اور سلطانہ سمیت 13 افراد کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سلطانہ کے بہت سے ساتھیوں کو عمر قید اور کالا پانی کی سزا بھی سنائی گئی۔ سات جولائی 1924 کو سلطانہ کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا مگر امرا پر اس کی دہشت اور عوام میں اس کی داد و دہش کے چرچے ایک عرصہ تک جاری رہے۔

The Long Duel - film poster
سلطانا ڈاکو پر بننے والی لالی وڈ فلم (دائیں) اور انگریزی فلم ‘دی لانگ ڈیول’ کے پوسٹر

ڈاکو اور اسے پکڑنے والے پولیس افسر کی دوستی

سلطانہ انگریزوں سے شدید نفرت کرتا تھا۔ کہتے ہیں اسی نفرت کی وجہ سے وہ اپنے کتے کو رائے بہادر کہہ کر بلاتا تھا۔ یہ ایک اعزازی خطاب تھا جو انگریز سرکار کی جانب سے ان کے وفادار ہندوستانیوں کو دیا جاتا تھا۔

سلطانہ کے گھوڑے کا نام چیتک تھا۔ جم کاربٹ نے لکھا ہے کہ جس زمانے میں سلطانہ پر مقدمہ چلایا جا رہا تھا اس کی دوستی فریڈی ینگ سے ہوگئی۔ فریڈی ینگ جو سلطانہ کی گرفتاری کا باعث بنا تھا، سلطانہ کے واقعات سے اتنا متاثر ہوگیا کہ اس نے سلطانہ کو معافی کی درخواست تیار کرنے میں مدد دی مگر یہ درخواست مسترد ہوگئی۔

سلطانہ نے فریڈی ینگ سے درخواست کی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے سات سالہ بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے۔ فریڈی ینگ نے سلطانہ کی خواہش کا احترام کیا اور سلطانہ کی سزائے موت کے بعد اس کے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلینڈ بھیج دیا اور بعدازاں وہ انڈیا واپس آیا اور آئی سی ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد محکمہ پولیس کا اعلیٰ افسر بنا، جہاں سے وہ انسپکٹر جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوا۔

سلطانہ سنیما میں۔۔۔

سلطانہ اپنی زندگی ہی میں ایک اساطیری کردار بن چکا تھا۔ عوام اس سے محبت کرتے اور اس کے کردار کی خوبیوں نے ادیبوں اور قلم سازوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور اس کے بارے میں ہالی وڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ، تینوں فلمی مراکز میں فلمیں بنیں۔

ہالی وڈ میں اس کے بارے میں بننے والی فلم کا نام ‘دی لانگ ڈیول’ تھا جس میں سلطانہ کا کردار یُل برینر نے ادا کیا تھا۔

پاکستان میں اس کے کردار پر1975 میں پنجابی زبان میں فلم بنائی گئی جس میں سلطانہ کا کردار اداکار سدھیر نے ادا کیا تھا۔

سلطانہ کے کردار پر سجیت صراف نے دی کنفیشن آف سلطانہ ڈاکو (سلطانہ ڈاکو کا اعترافی بیان) کے نام سے ایک ناول بھی تحریر کیا۔


مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14570 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp