وزیر اعظم سرفروش، افسر شاہ اور ٹرمپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم سرفروش کے فون کی گھنٹی بجی تو افسر شاہ نے کہا ”صدر ٹرمپ نے اپنے طے شدہ وقت پر فون کیا ہے سر۔ اس کی جرات نہیں ہوئی کہ آپ کو ایک منٹ بھی انتظار کروائے۔ “ وزیراعظم سرفروش نے فاخرانہ انداز میں سر ہلایا اور یہ کہتے ہوئے فون کا چونگا اٹھا لیا کہ ”دیکھو میں کیسے اس کی جیب ڈھیلی کرتا ہوں“۔

”دیکھو سرفروش۔ آج سینیٹر متمار نے بتایا ہے کہ تمہارے ملک میں امریکیوں کو بے دردی سے مارا جا رہا ہے۔ سی آئے سے میں نے تصدیق کر لی ہے کہ واقعی ایسا ہو رہا ہے۔ جب تک ڈانلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے کسی کو جرات نہیں ہونی چاہیے کہ امریکیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ “ ڈانلڈ ٹرمپ کی غصہ بھری آواز بلند ہوئی۔

سرفروش: ”امریکیوں کو مارنے کے لیے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں؟ “
ٹرمپ: میڈیا میں بھی اس کی تشہیر بھی کی جا رہی ہے۔ یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ میں پاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔ ایاٹا کی گرے لسٹ میں تم پہلے ہی ہو، اب میں تمہیں بلیک لسٹ میں ڈالوں گا۔

سرفروش: ایاٹا؟ میڈیا کا مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔ میں ٹی وی پر صرف عینک والا جن دیکھتا ہوں۔ میڈیا کے بارے میں تو افسر شاہ ہی بتا سکتا ہے۔
افسر شاہ: مسٹر پریزیڈنٹ، کون سے امریکیوں کو کیمیکل سے مارنے کی تشہیر کی جا رہی ہے؟ ایسا تو یہاں کچھ نہیں ہے۔ سی آئی اے سے دوبارہ پوچھ لیں، خبر کسی ڈرون سے سنی ہے یا میڈیا پر دیکھی ہے؟

ٹرمپ: ہمیں بے وقوف مت سمجھو۔ مجھے بتایا جا چکا ہے کہ تمہارے میڈیا پر سال میں دو تین مرتبہ ایک بڑی تشہری مہم چلتی ہے کہ فلاں فلاں چینی کیمیکل سے امریکیوں کو مارو۔ اور میں ڈرون کی خبروں پر، فیک سٹریم میڈیا کے مقابلے میں زیادہ بھروسا کرتا ہوں۔

افسر شاہ: کون سے امریکی؟ ایسا تو کچھ نہیں چلتا یہاں۔ ہم ایک نہایت امن پسند قوم ہیں۔

ٹرمپ: کون سے امریکی؟ سنڈی! میں نے خود کئی اشتہار گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے دیکھے ہیں جن میں تلقین کی جاتی ہے کہ کیمیکل چھڑکو اور امریکی سنڈی کا صفایا کرو۔ ایسی کوئی بھی حرکت کرنے سے پہلے پاکستانیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ سنڈی لاپر میری پسندیدہ گلوکارہ ہے۔ سنڈی مارگولی دنیا کی سب سے اچھی ماڈل ہے۔ سنڈی ولیم سے اچھی کوئی اداکارہ نہیں ہے۔ ایسے ہی چار درجن دیگر سنڈیاں میری بیسٹ فرینڈ لسٹ اور وش لسٹ میں موجود ہیں۔ تم نے کسی سنڈی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں تمہیں ایاٹا کی بلیک لسٹ میں ڈال دوں گا۔ اس کے علاوہ امریکیوں پر نسل پرستانہ حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ تم ہمیں تحقیر سے سفید تیلا کہتے ہو اور کیمیکل چھڑک کر مارنے کی بات کرتے ہو؟ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ہمیں تیلا یا تنکا وغیرہ کہے۔

افسر شاہ: لیکن سفید تیلا تو ایک کیڑا ہے۔

ٹرمپ: کیا کہا؟ سفید تیلا ایک کیڑا ہے؟ تم ہمیں ایک سفید کیڑا کہتے ہو؟ دیکھو امریکہ میں بعض لوگ دوسروں کو بھنگا یعنی واسپ کہتے ہیں جو وائٹ اینگلو سیکسن پرسن کا مخفف ہے، تو یہ ان کا حق ہے۔ آپس میں امریکی ایک دوسرے کو جو مرضی کہیں۔ لیکن کوئی غیر ملکی ہمیں کیڑا کہنے کی جرات تو کر کے دیکھے۔

افسر شاہ: امریکی سنڈی بھی کیڑا ہے جو کپاس اور شاید چاول اور مٹر وغیرہ کو لگتا ہے اور فصل کے تحفظ کے لیے اسے مارنا پڑتا ہے۔

ٹرمپ: کیڑا؟ کپاس؟ دیکھو جب امریکہ میں بہترین کپاس پیدا ہوتی ہے تو تم کپاس کیوں اگاتے ہو؟ امریکی کسان سے درآمد کرو۔ کیا تم امریکی کسان کو بھوکا مارنا چاہتے ہو؟ امریکی کپاس درآمد کرو۔ پہلے تم نے امریکی گندم درآمد کی تھی تو امریکی نائب صدر نے تمہارا بہت مان بڑھایا تھا۔

وزیر اعظم سرفروش: مسٹر پریزیڈنٹ۔ پچھلی مرتبہ صدر ایوب امریکی دورے کی دعوت کی توقع کر رہے تھے لیکن آپ نے ان کی بجائے بشیر ساربان کو امریکہ کے دورے کی دعوت دے ڈالی۔

دیکھو مسٹر سرفروش۔ ہم نے غور کیا تھا کہ بشیر ساربان کی امریکہ کے لیے خدمات کو امریکی قوم زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
افسر شاہ: مسٹر پریزیڈنٹ۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ سفید تیلے کو سرخ تیلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ امید ہے کہ پھر آپ کو اسے مارنے پر اعتراض نہیں ہو گا۔

ٹرمپ: مجھے پتہ تھا کہ تم ایک فون کال پر ہی سیدھے ہو جاؤ گے۔ اعتراض کیسا، ہم تمہاری امداد دگنی کر دیں گے۔ سرخوں کو مارنے کے لیے امریکہ نے تاریخی طور پر اربوں کھربوں ڈالر دیے ہیں۔ وہ امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے بدترین دشمن ہیں۔ لیکن سنڈی کے متعلق تم نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ میں تمہارے ملک کا نام ایاٹا کی بلیک لسٹ میں ڈالوں گا۔

افسر شاہ: مسٹر پریزیڈنٹ۔ کیا یہ درست ہے کہ آپ کا دفتر اور رہائش وائٹ ہاؤس میں ہیں؟
ٹرمپ: ہاں یہ درست ہے۔ کبھی آنا تمہیں سیر کرواؤں گا۔ اوباما نے تو اجاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اب میں نے خوب چونا لگایا ہے تو چمکنے لگا ہے۔

افسر شاہ: سر تو پھر پاکستان کو وائٹ لسٹ میں ڈالیں۔ بلیک لسٹ تو کریملن والوں کی ہے۔ لسٹ سمیت کریملن سارے کا سارا کالا ہے۔

ٹرمپ: بات تو تمہاری ٹھیک ہے مسٹر افسر شاہ۔ حاسدوں نے مجھے ہٹ دھرم مشہور کر رکھا ہے ورنہ مجھ سے کوئی دلیل سے بات کرے تو فوراً مان جاتا ہوں۔ ٹھیک ہے، ہم پاکستان کو وائٹ لسٹ کر دیں گے۔ لیکن ٹالو نہیں، تم نے سنڈی کے متعلق کیا فیصلہ کیا ہے؟

وزیر اعظم سرفروش: ہم اس کا نام روسی سنڈی رکھ سکتے ہیں تاکہ عوام کو پتہ چل جائے کہ روسی اپنے ایجنٹ بھیج کر ان کی فصلیں برباد کر رہے ہیں۔ لیکن کئی دہائیوں سے لوگوں کو اس کا نام امریکی سنڈی پتہ ہے۔ انہیں دوبارہ تعلیم دینے کے لیے فنڈنگ درکار ہو گی۔ آپ تشریف لائیں تو میں خود آپ کی گاڑی چلا کر اسلام آباد دکھاؤں گا اور اسی دوران ہم یہ بات بھی کر لیں گے کہ امریکہ ہمیں کتنے پیسے دے سکتا ہے۔

ٹرمپ: میں ابھی مائک پومپیو یا جو بھی ان دنوں سی آئی اے کا ڈائریکٹر ہے، اسے کہتا ہوں کہ ان دونوں پراجیکٹس کے لیے فنڈنگ جاری کرے۔ یہ امریکی قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اس میں تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی ہے۔
وزیر اعظم سرفروش: بہت شکریہ مسٹر پریزیڈنٹ۔ امید ہے کہ ہم ایسے مفید مذاکرات جاری رکھیں گے۔ لیٹ اس میک امیریکا گریٹ اگین۔ امریکی سنڈی مردہ باد۔ میرا مطلب ہے روسی سنڈی مردہ باد۔

کال بند ہو گئی۔ افسر شاہ صاحب نے کرسی سے اٹھ کر وزیراعظم سرفروش کو سلام کیا اور کہا ”واقعی وزیراعظم، آپ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ آپ نے امریکی صدر سے اسی کی سطح پر بات کی اور گزشتہ حکمرانوں کی طرح وطن عزیز کے وقار کو خاک میں نہیں ملایا۔ جس نے بھی کال سنی ہو گی یہی کہے گا کہ آپ کا اور صدر ٹرمپ کا لیول ایک ہے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1296 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *