ہندوستان، شادی اور جنسی تعلق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: صلاح الدین

ہندوستان میں جنسی تعلقات کے بارے میں رویے بہت تبدیل ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں شادی کے کچھ عرصے بعد زیادہ تر مردوں کی اپنی بیویوں میں جنسی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔

انگریزی میگزین ’انڈیا ٹوڈے‘ کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جسمانی خواہشات کے بارے میں لوگوں کے رویے میں کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ جائزے کے مطابق اس دور میں مرد اپنی بیویوں میں دلچسپی کم لیتے ہیں اور خواتین بھی اپنی خواہشات سے بے پروائی اور کام کاج میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کے جائزے کے مطابق 50 فیصد مردوں کو اپنی بیویوں سے ہم بستری میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ تقریباً تیس فیصد مردوں کا کہنا ہے کہ ان کی بیویو‎ں میں جنسی خواہشات کے بارے میں سرد مہری پائی جاتی ہے۔ جبکہ 64 فیصد مردووں نے بتایا کہ ان کی خواتین ہم بستری سے پہلے ا کثر سر میں درد کا بہانہ کرتی ہیں۔

سروے کے مطابق 40 فیصد لوگ اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کر تے ہوئے بوریت محسوس کرتے ہیں۔ تقریبا10 فیصد اکثر اوقات اور پانچ فیصد ہمیشہ ہی بیزاری محسوس کرتے ہیں۔ جب کہ 37 فی صد ایسے بھی ہیں جنہیں کبھی بوریت محسوس نہیں ہوتی۔

ایک تہائی شادی شدہ جوڑے ہی اورل سیکس کا لطف اٹھاتے ہیں۔ 47  فیصد مرد مباشرت کے دوران بیویوں کے اوپر رہنا پسند کرتے ہیں جبکہ 21 فیصد بیویوں کو اوپر رکھنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ باقی ہر طرح کے طریقوں کو آزمانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سروے کے مطابق بیویوں میں جنسی عدم دلچسپی کی وجہ مرد یہ بتاتے ہیں کہ ان کی بیویاں ہم بستری میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور اس سے بچنے کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشتی ہیں۔

بعض کا کہنا تھا کہ خواتین سیکس میں تجربات کرنے سے ناپسندیدگی اور گریز کا اظہار کرتی ہیں اور جسمانی تعلقات کے بارے میں اکثر سرد مہری کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کے سبب مرد افسردگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس کے جواب میں خواتین کو یہ شکایت تھی کہ مردوں کے لیے سیکس صرف ان کی جنسی عمل کی تکمیل ہے اور ان کا کام تین منٹ میں تمام ہو جاتا ہے جب کہ عورتیں رومان میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کے لیے جنسی عمل بتدریج اور ایک سست رفتار عمل ہے۔

سروے کے مطابق خواتین نے مردوں کے اس الزام کو بھی مسترد کیا ہے کہ وہ سیکس میں تجربات سے گھبراتی ہیں۔

سیکس کے بارے میں دنیا کی ہر زبان میں شاعرانہ تصورات ہیں۔ جسمانی تعلقات کو روحانیت اورازلی رشتےسے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس دور میں جسمانی تعلقات ایک وقتی ضرورت بن کر رہ گۓ ہیں۔ لوگ مادہ پرستی پر زیادہ دھیان دیتے ہیں اور نتیجتاً انسیت، محبت، شفقت اور چاہت کے جذبات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔

کئی بار مرد و عورت کے درمیان انا بھی ان کے رشتوں کے پھلنے پھولنے میں رخنہ ڈالتی ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ جسمانی خواہشات مر جاتی ہیں۔ جنسی خواہش ہوتی ہے تو دوستی کے نام پر دوسروں سے بھی رشتے قائم ہو جاتے ہیں۔ سروے کے مطابق مرد عام طور پر اس کے لیے اپنی سابق گرل فرینڈز کا سہارا لیتے ہیں یا پھر بازار کا رخ کرتے ہیں۔ جب کہ بیویاں خاموش رہتی ہیں رشتے برقرار رہتے لیکن درمیان میں ایک خلاء سا آ جاتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ہم بستری کب اور کس جگہ پسند ہے ؟ تقریبا ساٹھ فیصد نے کہا کہ رات کے وقت اور بیڈروم میں، اٹھارہ فیصد نے کہا کہ کسی بھی وقت کہیں بھی، تیرہ فیصد کا جواب تھا صرف چھٹی کے دن اور آٹھ فیصد نے کہا کہ وہ سیکس صبح کے وقت پسند کرتے ہیں۔

سروے کے مطابق چوبیس فیصد افراد کو جنسی زندگی میں سب سے زیادہ شریک حیات سے بے وفائی کا اندیشہ رہتا ہے جبکہ سترہ فیصد کو جنسی بیماری کا ڈر رہتا ہے۔ تیرہ فیصد کو سرعت انزال سے اور نو فیصد کو نامرد ثابت ہونے کا ڈر رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد چون فیصد لوگوں کے سیکس میں کمی آجاتی ہے اور چوبیس فیصد لوگ شادی سے قبل ہی جسمانی تعلقات کا تجربہ کر چکے ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ نامرد ہونے کی صورت میں کیا وہ اپنی محبوبہ یا بیوی کو کسی اور کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے ترغیب دیں گے؟ اکثر نے انکار میں جواب دیا تاہم اٹھارہ فیصد کا جواب اثبات میں تھا۔ سروے کے مطابق سیکس کے لیے سات فیصد لوگ اپنی بیویوں اور گرل فرینڈز کا دوسرے سے تبادلہ کرتے ہیں اور تقریبا بیس فیصد ہم جنسی میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ عورت اور مرد کے جنسی تعلق کی قدیم ترین مصوری کا سب سے بڑا ذخیرہ شاید ہندوستان میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14757 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Leave a Reply